Voice of Asia News

تھر میں موت کا رقص ::تحریر: جمال احمد

صوبہ سندھ کا صحرائی ضلع تھرپارکر 27 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی اس وقت 13 لاکھ سے زائد ہے۔ جس کا صدر مقام مٹھی ہے۔پہلے مٹھی، ننگر پارکر، چھاچھرو، ڈویپلو چار تحصیلیں تھیں۔ اب اسلام کوٹ اور ڈھالی کو بھی تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس میں 2300 رجسٹرڈ گاؤں ہیں۔غیر رجسٹرڈ کی بھی کافی تعداد ہے۔ ہر طرف ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے دیکھے جا سکتے ہیں ننگر پارکر کے کچھ علاقے پہاڑی بھی ہیں میدانی علاقہ بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کا علاقہ راجستھان ہے جس کے شہر جیسلمیر اور باڑ میر سرحد پر لگتے ہیں اس کا بڑے ریگستانوں میں شمار ہوتا ہے۔ سندھ کا صحرائی سرحدی ضلع تھرپارکر ان دنوں خشک سالی کے سبب قحط سے دو چار ہے۔ کئی ماہ سے مال مویشیوں کے ہزاروں کی تعداد میں مرنے پر حکومت سندھ، پی ڈیم ایم اے، انتظامیہ، محکمہ خوراک، محکمہ ریلیف اور محکمہ صحت نے مجرمانہ بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا، بتدریج قوت مدافعت میں کمی، بروقت صاف پانی، غذائی اجناس اور مطلوبہ علاج معالجے کی سہولتیں میسر نہ آنے کے سبب مختلف بیماریوں نے بھی غلبہ پانا شروع کیا اور انسان ان کی لپیٹ میں آتے چلے گئے۔ بزرگ پہلے سے بیمار افراد، حاملہ مائیں اور شیر خوار بچے خاص طور پر متاثر ہوئے اور اب تک سینکڑوں افراد القمہ اجل بن چکے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد نوزائیدہ اور شیر خوار بچے شامل ہے جبکہ جانوروں میں منہ کھر سمیت مختلف بیماریاں پھیلنے کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں جانور بھی مر چکے ہیں جن میں بھیڑیں، بکریاں، گائیں، بھینسیں اور اُونٹ شامل ہیں۔ اب جانور ہی نہیں انسانوں کی اموات کا دائرہ ضلع عمر کوٹ، اچھڑوتھر کہلانے والے ضلع سانگھڑ کے علاقوں اور تھر سے ملحقہ بدین ٹھٹھہ اور سجاول کے دیہات تک بھی پھیل چکا ہے۔ سانحہ تھر جہاں پاکستانی ارباب اقتدار و اختیار کی بے حسی اور بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت، قیدی معیشت اور معاشی بربادی کا شاخسانہ ہے، وہیں پاکستان میں بسنے والی نسلوں کے درمیان سوچ، فکر، رہن سہن اور طرزِ زندگی کا تضاد بھی واضح کر رہا ہے۔ ایک نسل کے منہ میں سونے کا چمچہ، مٹھی میں اقتدار ، سرشت میں حکمرانی، زبان پر ’’خدمت‘‘ کا نعرہ ہے تو دوسری نسل کے ہاتھ میں کشکول، آنکھ میں حسرت، چہرے پر دکھ، دل میں سوال اور کسک ہے۔ سانحہ تھر اسی فرق کی عکاسی ہے۔
صحرائے تھر آج جس امتحان سے گزر رہا ہے یہاں یہ سلسلہ تو کئی برسوں سے جاری ہے۔ قحط سالی، تپتی دھوپ اور کچی جھونپڑیوں میں زندگی گزارنے والے تھر کے باسیوں کیلئے نئی بات نہیں وہ تو اس صورتحال سے تقریباً دو چار ہی رہتے ہیں لیکن المیہ تو یہ ہے کہ 70 سالوں میں کوئی بھی حکومت ان کیلئے پالیسی ہی نہیں بنا سکی اور تھر کے عوام کی حالت ایسی ہی رہی جیسی پاکستان بننے سے قبل تھی۔
مٹھی سمیت صحرائے تھر کے مختلف علاقوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 13 لاکھ سے زائد افراد بھوک، پیاس اور بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے تھر کے مکین اناج کے دانے دانے کو ترس رہے ہیں اور ملک کے دوسرے حصوں میں لوگ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تھر میں بھوک کے ستائے عوام اور بیماریوں کے ہاتھوں مرتے معصوم بچوں کو دیکھا جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں اربوں روپے سے جلسے کرنے والوں کو یہ توفیق نہ ہو سکی کہ اپنے پہلو میں بھوک و افلاس کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارنے والے بچوں، بڑوں، عورتوں اور مردوں کی بھی خبر لے لی جائے۔ کاش سندھ حکومت کی آنکھیں وقت پر کھل جاتیں تو معصوم اور بے گناہ بچوں کا ایسا قتل عام نہ ہوتا۔یہی نہیں ہمارے نکتہ نظر کے مطابق اس غفلت میں وفاقی حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔ وفاقی حکومت اگر کراچی کے حالات پر نظر رکھ سکتی ہے اور یہاں قیام امن کے لیے ٹارگٹڈ کارروائیوں کی نگرانی بھی کر سکتا ہے تو اسے اندرون سندھ میں تھر کے بے آسرا لوگوں کی خبر بھی ہونی چاہیے تھی۔ اس لیے سندھ کی صوبائی حکومت ہو یاوہاں کی سیاست پر قابض پیپلزپارٹی یا پھر وفاق میں جمہوریت کے نام پر برسر اقتدار مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھر میں پیدا ہونے والی بد ترین صورتحال کے سبھی ذمہ دار ہیں اور یہ ایسا جرم ہے جس کی تلافی صرف اور صرف یہاں کے عوام کو ہنگامی بنیادوں پر قحط سالی کے اثرات سے نجات دلا کر ہی کی جا سکتی ہے لیکن جس قسم کے حالات ہیں اور امدادی سرگرمیوں کی جو رفتار ہے اس کے باعث بظاہر دکھائی نہیں دے رہا کہ قحط سالی کے مارے تھرکے عوام کو جلد ریلیف مل سکے اور ان کے بچوں کی زندگیوں کا فوری تحفظ ممکن ہو۔
گزشتہ کئی ماہ میں بھوک اور بیماری سے بلکتے انسانوں کا مسکن، معصوم بچوں اور جوانوں کا مقتل بن چکا ہے۔ تھر میں قحط سے ایک پوری نسل تباہ ہو چکی ہے۔ پانی کی ایک بوند اور اناج کے ایک دانے کو ترستے لوگوں کو دیکھ کر ایک مردہ ضمیر شخص کے رونگٹے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تھر صرف ایک چٹیل صحرا ہی نہیں یہ تو ایک حوالے سے پوری دنیا میں اپنی منفرد پہچان کے ساتھ پاکستان کا حسن بھی ہے۔یہاں ہریالی اور سبزا نہ سہی یہاں خوشحالی اور آسودگی نہ سہی لیکن ایک چیز ہے جو باقی پوری دنیا میں ناپید ہوتی جارہی ہے اور وہ ہے امن و سکون۔ تھر کے باسیوں کی زندگی یونہی گزر جاتی ہے وہ لوگ پیدائش سے موت تک کا سفر ننگے بدن ہی طے کر لینے کے عادی ہوتے ہیں۔ خوراک و دیگر سہولیات کا ان کو خیال ہی نہیں آتا۔رہی بات موجودہ قحط اور بدحالی کی تو یہ ہمارے حکمرانوں اور مراعات یافتہ طبقے کے دل و دماغ کے بند دریچوں پر عذاب خداوندی کی دستک ہے۔وہ لوگ بے چارے نہ جانے کتنی مدت سے تڑپ تڑپ کر مرنے والوں کو بغیر غسل دیئے دفنا رہے ہیں۔ اگر ان کے پاس اپنے پیاروں کی لاشوں کو غسل دینے کے لیے پانی ہوتا تو وہ اسے بھلا مرنے ہی کیوں دیتے۔ ذرا سوچئے بھوک اور پیاس سے مرنے والے کی تدفین کے لیے پانی کا بندوبست کہاں سے ہو گا اگر پانی ہوتا تو وہ مرتا کیوں۔ تھر ایک ایسا صحرا ہے جہاں زندگی سے بھی قیمتی شے پانی ہے اور یہ سندھ کی عظیم دھرتی ہے سے جڑا ہے جسے صوفیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس دیس میں ہونے والے جلسوں میں ہر طرف رقص تھا ’’سرور تھا‘‘ مستی تھی۔سیاست و حکومت کے ان داتاؤں نے اپنے حواریوں اور طاقت کے پچاریوں کے لیے ایک میلہ سجا رکھا تھا پورا سندھ اور پورا ملک ان رنگینیوں میں گم تھا۔جب زعماء حکومت اور عوام کے نمائندے ناچ ناچ کر اپنی ثقافت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے عین اسی وقت تھر کے لق و دق صحرا میں موت بھی رقصاں تھی۔ہر طرف بھوک ناچتی پھر رہی تھی، بیماریوں میں جکڑے نیم مردہ لوگ اپنے نحیف اجسام کا بوجھ اٹھانے سے بھی قاصر تھے اور ہمارے حکمران ان کی مشکلات سے غافل اپنے اذہان میں ان صحرائی باشندوں کو صف انسانی سے خارج کر چکے ہیں۔کسی وفاقی یا صوبائی حکومت یا مقامی ادارے نے ان کی کسمپرسی کی خبر نہ لی۔
تھر کے باسی آج حکومتی بے حسی کی عملی تصویر بنے بھوکے پیاسے اپنی زندگی سے تلخ ایام گزار رہے ہیں۔ذرا اس ماں کے کرب کا تو اندازہ لگائیں جس نے خالی پیٹ تھپکیاں اور جھوٹے دلاسے دے کر اپنے بچوں کو سلایا، بھوک سے بلکتے، پیاس سے سسکتے لخت جگر کو کس درد سے شہر خاموشاں کی طرف روانہ کیا ہو گا، لیکن ہمیں ان کے زخموں کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ ہی نہیں ہے۔آج تھر میں لوگ زندہ تو ہیں لیکن زندگی کیلئے ترس رہے ہیں۔ حالات بتا رہے ہیں کہ انہیں تو خوشیوں کیلئے بھی صدیاں چاہئیں، وہاں زندگی اشکبار ہے، اپنے بچوں کو دیکھ کر خوشی سے سرشار ہونے والی مائیں آج ان کیلئے لاشے دیکھ کر غمگین ہیں، جو مائیں اپنے عزیزاز جاں بچوں کو اپنی گود میں جھولا جھلاتی تھیں وہ جھولے اب بے مقصد جھول رہے ہیں اور ماؤں کی پتھرائی آنکھوں میں لمبا سکوت ہے، کسی کی پلکیں بھیگی ہیں اور کسی کا رخسار خم ہے، ہر کہانی دکھ کی الگ داستان اور غم کی بھاری سل ہے،یہ مائیں اپنے بچوں کو سینے سے چمٹا کر ملنے والے سکون کو کبھی بھلا پائیں گی اور نہ ہی اپنی گود کی گرمی میں انہیں سلا سکیں گی، کل جہاں زندگی رقصاں تھی، آج وہاں ہر لمحہ بھاری ہے، خدا کی بستیوں میں اک سکوت مرگ طاری ہے، کہیں لاشے، کہیں ماتم اور کہیں آہ وزاری ہے، جہاں ہر طرف خوشیاں بکھرتی اور دل مچلتے تھے، اب وہاں کفن میں لپٹی ویرانی چھائی ہے، منتشر زندگی، سوگوار فضا، تعفن زدہ ہوا، پھٹی آنکھیں، چاک گریبان، یہی ہے آنسوؤں، آہوں اورسسکیوں میں ڈوبا پاکستان، یہی ہے صحرائے تھر جہاں پیدا ہونے والے بچے غذائی کمزوری اور نقاہت کا شکار اور ’’زندہ انسانوں‘‘ کو پکار رہے ہیں۔
اگر چند برسوں میں ایسے مواقع بھی آئے ہیں کہ تھر میں 400 سینٹی میٹر سے زائد بارش ہوئی اور نکاسی آب کے نظام کے راستے میں حائل تجاوزات کی وجہ سے مٹھی شہر بڑے تالاب کی صورت اختیار کر گیا لیکن عام طور پر ا س سے نصف بارشیں ہی ہوتی ہیں لیکن جب اچھی بارشیں ہو جاتی ہیں تو کھیتوں، ریت کے ٹیلوں، پہاڑوں پر ہی نہیں چھتوں پر بھی سبزہ اُگ آتا ہے۔ پورا علاقہ گل و گلزار اور سرسبز و شاداب ہو جاتا ہے۔ غلہ بانی اور محدود زراعت پر یہاں کی آبادی کے بڑے حصے کا انحصار ہے لیکن بارشیں نہ ہوں تو روزگار کا یہ ذریعہ بھی محدود تر ہو جاتا ہے۔ خشک سالی اور قحط کی صورت سے مال مویشی بڑی تعداد میں مر جاتے ہیں۔ یہاں بھیڑیں خصوصاً لاکھوں کی تعداد میں پالی جاتی ہیں۔ یہاں مور، ہرن، بارہ سینگھے اور دیگر جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔ سانپوں کی بھی بہتات ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سنسکریت کے لفظ تھل کی بگڑی ہوئی شکل سے تھر کا لفظ بن ہے جس کے معنی ہیں خشک زمین، لفظ جل (پانی) کا متضاد تھل ہے۔ دونوں کو ملا کر جل تھل استعمال ہوتاہے۔ کسی زمانے میں سمندر کے راستے تبدیل کرنے سے یہ ریگستان وجود میں آیا ہو گا۔ اربوں ٹن کالا سونا (کوئلہ) توانائی کے قومی بحران کے خاتمے کیلئے منصوبے شروع کرنے کی باتیں ابھی گزشتہ دہائی سے شروع ہوئی ہیں لیکن سنگ مرمر، جپسم، نمک سمیت دیگر معدنیات سے بھی ننگر پارکر سمیت دیگر علاقے مالا مال ہیں۔قیمتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کا خزانہ بھی ہر طرف پھیلا ہوا ہے جو ادویہ سازی میں کام آتے ہیں۔ یہاں 90فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے جہاں ہموار جگہ ہو وہاں جھونپڑی (چونروں) پر مشتمل گاؤں دیکھا جا سکتا ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹرز کے سوا چند ہی دیگر قصبات ہیں اب مٹھی سے کم از کم تحصیل ہیں کوارٹر اور دیگر کچھ قصبات تک پختہ (جیسی بھی ہیں) سڑکیں موجود ہیں۔ 1970 کی دہائی تک صورتحال یہ تھی کہ عمرکوٹ سے آگے چند کلو میٹر پر واقع قلعے تک سڑک تھی اور مٹھی تک بھی باقی راستہ ریت ہی ریت تھا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے صرف پرانے بھاری فوجی ٹرک چلتے تھے۔انسان، سازوسامان اور مویشی سب اس میں جاتے تھے۔ اب شہروں تک بسیں بھی چلتی ہیں اور بڑی تعداد میں جو چھوٹے قصبے اور گاؤں ہیں وہاں کیلئے یہ فوجی ٹرک (چیچڑے) ہی ہر طرح کی ٹرانسپورٹ کا ذریعہ ہیں۔
اگر بارشیں نہ ہوں تو یہی علاقوں میں خصوصاً گرمیوں میں دن رات ریت کے بگولے اڑتے ہیں اور چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں اب بھی بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ جبکہ گزشتہ دو عشروں کا ہی حکومتوں اور انتظامیہ کا حساب کتاب جمع کیا جائے تو تعلیم، صحت سمیت لازمی سہولتوں کی فراہمی بچوں اور حاملہ ماؤں کی دیکھ بھال مختلف شعبوں میں اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔کاغذی طور پر بڑی سہولتیں دستیاب ہیں تحصیلوں اور نچلی سطح پر ہسپتالوں، سکولوں کی عمارتیں موجود ہیں لیکن تعلیم اور صحت کی سہولتیں خوردبین سے تلاش کرنا پڑیں گی۔ بعض عمارتیں بھی برسوں سے ادھوری پڑی ہیں اور زیادہ کمیشن دینے والے من پسند یاسرکاری پارٹی کے بااثر افراد اعلیٰ افسران کے رشتے دار ٹھیکیدار کروڑوں روپے وصول کر کے چلے گئے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پانی اس ریگستانی علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ زیر زمین پانی کھارا ہے۔ کہیں کہیں میٹھے پانی کے کنویں بھی ہیں جن سے پانی لینے کے لیے خواتین میلوں سفر کرتی ہیں۔ چند شہروں میں واٹر سپلائی سسٹم ہے مگر اس پر کوئی اعتبار نہیں سب سے پہلے چھور چھاؤنی کے لیے پانی کی لائن بچھائی گئی تھی۔ کچھ اور علاقوں میں واٹر سپلائی لائنیں بچھائی گئیں مگر پانی ان سے بھی کم ہی ملتاہے۔ اب تھرکول پروجیکٹ کے لیے بھی وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ رینی کینال کی تعمیر کی بازگشت کئی ادوار میں سنائی دیتی آرہی ہے مگر عملاًکام برائے نام ہو رہا ہے۔ کسی زمانے میں رینی ندی (دریا) برہم پتر اور ستلج دریا سے نکل کر چولستان سے اوباڑو، میرپور ماتھیلو، گھوٹکی سے ہوتا ہوا سانگھڑ، کھپرو، عمر کوٹ، اسلام کوٹ، ننگر پارکر سے ہوتاہوا رن کچھ میں گرتا تھا مگر انگریزوں کے دور میں جب سکھر بیراج کی تعمیر شروع ہوئی تو اس کا رخ تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اگر رینی ندی ہوتی تو اس کے ذریعے سپلائی پانی کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔
رینی کینال کی کھدائی کے لیے نیسپاک نے فزیبلٹی رپورٹ اور پی سی IIجنوری 1996 میں حکومت سندھ کو پیش کر دی تھی اس وقت کے حساب سے اس پر 10.7 بلین کی لاگت کا تخمینہ تھا جو شاید اب 10گنا سے بھی زیادہ ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گدو بیراج سے ملا کروڈریگولیٹر تعمیر کر دیا جائے تو اس سے سیلاب بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح 1989 میں ایل بی او ڈی کے پانی کے بارے میں سکیم کی فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی گئی۔ماہرین کا خیال ہے کہ جھڈو کے قریب سے اس کا رخ تھر کی طرف موڑ دیا جائے تو یہ پانی تھر کی زمینوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
تھر میں پختہ تالاب بھی بہت محدود ہیں اس لیے بارشوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی بھی گنجائش محدود ہے اور زیادہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ دیہی آبادیوں میں تو لوگوں نے ترائیاں (کچے تالاب) بنا رکھے ہیں جن کی گنجائش کم ہوتی ہے اور ان سے پانی ضائع بھی ہو جاتا ہے۔جب بارشیں کم ہوتی یا بالکل نہیں ہوتیں تو کنوؤں کا پانی سوکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ میٹھے پانی کے کنوئیں سینکڑوں فٹ گہرے ہیں۔ زیادہ تر اونٹوں کے ذریعے پانی کھینچا جاتا ہے۔ خشک سالی میں جب پانی کا استعمال بہت بڑھ جاتا ہے تو کنوؤں کا پانی بھی کھارا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں یہی صورتحال ہے ایسے میں جب چارہ نہ ملنے کے سبب مویشی بھیڑ بکریاں مر رہی ہوں، انسانوں کو غذا نہ مل رہی ہو، بدترین مہنگائی مسلط کر دی گئی ہو تو تھر سے لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو جاتی ہے اور بیراج کے علاقوں میں آکر محنت مزدوری کر کے گزارا کرتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ 1960 کی دہائی سے کچھ وقفے سے تھر میں خشک سالی اور قحط سالی پیدا ہوتی رہی ہے کبھی زیادہ ہوتی ہے اور کبھی کم۔ پھر گندم کی کٹائی کے موسم میں کپاس کی چنئی کے آغاز پر تھر سے لوگ مزدوری کیلئے بڑی تعداد میں بیراج کے علاقوں میں آتے ہیں لیکن ان خاندانوں کے لوگ پیچھے بھی رہتے ہیں۔ طبی سہولتوں کا پہلے ہی شدید فقدان ہے۔ لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کے لیے مالی وسائل نہ ہوں تو وہ حاملہ خواتین کے یے مناسب غذا کا کیسے انتظام کریں گے۔اس لیے ماؤں کی کمزوری کے باعث بچے بھی کمزور اور قوت مدافعت سے محروم پیدا ہو رہے ہیں جن کو فوری نمونیہ اور بخار، دماغی بخار جکڑ لیتا ہے اور وہ تیزی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ زندگی اور موت تو قادر مطلق رب العالمین کے ہاتھ میں ہے لیکن ماؤں میں غذائی کمی کے باعث قبل از وقت کمزور پیدا ہونے والے بچے جن کو دودھ بھی میسر نہیں آسکتا اور نمونیہ اور بخار کی صورت میں علاج ی صحیح سہولت نہیں مل سکتی زیادہ تر وہی لقمہ اجل بن رہے ہیں اور اس میں حکومت، سرکاری اداروں اور انتظامیہ کا بڑا دخل ہے۔
تھر میں کوئی درجن بھر معروف این جی اوز بھی کام کرتی ہیں اور خصوصاً بچوں اور خواتین کی بہبود کے مختلف پروجیکٹس کے حوالے سے گزشتہ عشروں میں اربوں کے عالمی اداروں کے فنڈز ٹھکانے لگا چکی ہیں۔ وہ اس مشکل کے وقت کہیں نظر نہیں آرہیں۔ ان کے منصوبے بھی معلوم نہیں کہاں گئے حالانکہ ان کو بڑے بڑے بقراط قسم کے لوگ چلا رہے ہیں۔ فلاحی کاموں کی آڑ میں جپسم اور دیگر قیمتی معدنیات کے اونے پونے ٹھیکے لینے والے کراچی، حیدرآباد میں پر تعیش زندگی گزارنے والے بڑے پڑھے لکھے دانشور بھی لا پتہ ہیں۔ تھر میں کاروبار عام طور پر ہندو، سیٹھوں اور چند مسلمان وڈیروں تک محدود ہے۔ خوراک اور استعمال کی اشیاء یہی چند خاندان پہنچاتے ہیں اور من مانے دام وصول کرتے ہیں۔ 80 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اس وقت جہاں بھوک اور بیماریوں سے تنگ بوڑھے بچے خواتین قافلوں کی صورت میں نقل مکانی کر رہے ہیں وہیں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مٹھی جیسے شہر میں مختلف مذہبی، سماجی اور فلاحی جماعتوں تنظیموں اداروں نے اشیائے خوراک خصوصاً پکے ہوئے کھانے کا جو انتظام کیا ہے سینکڑوں خواتین اور بچے کئی کئی میل کا سفر طے کر کے صرف دوپہر کا کھانا کھانے آتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے انہیں رات کا کھانا اور ناشتہ میسر آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس سے ان کی غربت اور بے بسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ارباب ٹھاکر اور دیگر ہندو مسلمان وڈیرے جہاں غریب ان پڑھ عوام کو غلام بنائے ہوئے ہیں وہیں پیر صاحب پگارا، مخدوم طالب المولیٰ اور مخدوم شاہ محمود قریشی کی گدیوں، پیر غلام رسول شاہ جیلانی کے مریدوں کی بڑی تعداد ہے۔ پیپلز پارٹی 1970 سے یہاں باہر سے لا کر اپنے امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے۔ ارباب بھی درمیان میں پی پی کے خلاب بھی کامیاب ہوتے رہے ہیں اور پی پی کی ٹکٹ پر بھی۔ اس طرح پیروں، وڈیروں اور ہندوؤں اور اعلیٰ ذات کے ٹھاکروں کی غلامی میں پسے ہوئے عوام کی زیادہ تر نمائندگی پی پی کے پاس ہی رہی ہے۔ ویسے تو تھرپارکر کے علاوہ گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد اور تھانہ بولان خان میں بھی ہندوؤں کی آبادی خاصی ہے لیکن تھرپارکر وہ ضلع ہے جس میں ہندو آبادی سب سے زیادہ ہے اور قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں تو 48 فیصد ووٹر ہندو ہیں لیکن یہاں غریب مسلمان اور اچھوت شیڈو کاسٹ کوہلی بھیل اور دیگر ہندوؤں میں غربت اور پسماندگی کی سطح برابر ہے۔ اگرچہ اب تھر کے قریب نوجوان بھی پڑھ لکھ رہے ہیں اور کالجوں، پروفیشنل کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پہنچ رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر شرح خواندگی بہت کم ہے اور ہر طرح کے معاشی وسائل اور سہولتوں پر مسلمان، ہندو، وڈیروں، سیٹھوں کا قبضہ ہے اور غربت اور پسماندگی یہاں کے عوام کا مقدر بنا دی گئی ہے۔
اس دوران ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف، پرویز مشرف، چوہدری شجاعت حسین، شوکت عزیز، آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف وفاق میں حکمران رہے اور سندھ میں ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفی جتوئی، سید غوث علی شاہ، قائم علی شاہ، آفتاب شعبان، جام صادق علی، عبداللہ شاہ، لیاقت جتوئی، علی احمد مہر، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مزے لوٹتے رہے لیکن تھر کے عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ قائم علی شاہ تیسری بار وزیراعلیٰ بنے تھے۔ ارباب غلام رحیم کا تعلق ہی ضلع تھرپارکر سے تھا اور وہ اس وقت چیئرمین ضلع کونسل تھرپارکر بھی رہے جبکہ میرپور خاص صدر مقام تھا اور موجودہ ضلع عمر کوٹ اور تھرپارکر (ریگستانی علاقے) کی ترقی اور یہاں کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ذرائع مواصلات کے نام پر اربوں روپے جاری ہوئے۔ سندھ ایمرڈزون ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سازدا) کا ادارہ تو بنایا ہی ریگستان اور کوہستان کی ترقی لیے تھا لیکن اس کے ہزاروں روپے ہڑپ کیے جاتے رہے یہاں کے مسائل کے مستقل حل کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ سرحدی ضلع میں غربت افلاس اور عوام کی محرومیاں دفاعی لحاظ سے خطرناک ہیں اس طرح سمگلرز اور جرائم پیشہ عناصر اور ملک کے خلاف مختلف پردوں میں کام کرنے والے گروہوں کو بھی اپنی جڑیں پھیلانے کا موقع ہے۔
تھر کے مختلف علاقوں میں عیسائی مشنری کے لوگ لوئر کاسٹ (نچلی ذات کے ہندو جنہیں برہمن اونچی ذات کے ہندو حقیر سمجھتے ہیں) افراد میں تبلیغی کام کرتے ہیں ان کو عیسائی بناتے ہیں اور سکول اور ہسپتالوں سمیت دیگر سہولتیں فراہم کرتے ہیں تو ہی معاشرے میں نچی ذات کی جگہ بہتر مرتبہ دلاتے ہیں اس لیے کئی گوٹھ عیسائی بن چکے ہیں۔اس طرح تھرپارکر میں قادیانی بھی سرگرم ہیں وہ بھی بہروپ بدل کر یہی کام کرتے ہیں۔ غریب پسے ہوئے مقروض مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو ترغیبات اور لالچ دے کرقادیانی بناتے ہیں۔ مٹھی میں ہسپتال کی آڑ میں ان کا بڑا مرکز قائم ہے۔
یہاں کے نام نہاد منتخب نمائندے اور وڈیرے بھیڑ بکریوں کی طرح عوام کو اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کے نام پر ہر سال کروڑوں روپے کھاتے ہیں مگر معدنیات کے ذخائر سے مالا مال اس علاقے اور یہاں کے باشندوں کے مستقل بنیاد پر مسائل حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ بھیڑ بکریاں اور گائے پالنا کھیتی باڑی محنت پر لوگوں کا معاشی انحصار ہے بارش کا پانی جمع کرنے کیلئے نہ تو آبی ذخیرے بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی بھیڑ بکریوں اور مویشوں کے علاج کے لیے ہسپتال میں نہ ہی مویشیوں کی بہتر نسل اور پرورش کے لیے رہنمائی اور وسائل فراہم کرنے کا انتظام ہے۔ محدود طورپر دستکاری بھی روزگار کا ذریعہ ہے یہاں روایتی ثقافتی اشیاء بڑ ی محنت سے نہایت اعلیٰ قسم کے معیار ی تیار ہوتی ہیں جو تاجر اور سیٹھ اور بعض دھوکہ باز اونے پونے خرید لیتے ہیں جو کراچی سمیت ملک کے اندر اور باہر بہت مہنگی فروخت ہوتی ہیں اور محنت اور عرق ریزی کرنے والی خواتین سمیت دستکاروں کو ایک عام مزدور کے برابر بھی مزدوری نہیں دی جاتی۔ حکومت کے ادارے ان بیش قیمت اشیاء کی مناسب قیمت دلانے کیلئے کوئی مدد نہیں کرتے۔ اس طرح تھر جو کئی حوالوں سے سونے کی کان ہے اسے لوٹنے کا چاروں طرف سے سلسلہ جاری ہے یا ملک بھر سے حکمران طبقات کے لوگوں اعلیٰ سول فوجی افسران اور مختلف خلیجی ریاستوں کے شہزادوں کو حکومت میں شامل بااثر افراد ارکان اسمبلی وڈیرے یہاں مدعو کرتے ہیں انہیں غیر قانونی طور پر ہرنوں، موروں اور دیگر جنگلی جانوروں کا شکار کراتے ہیں۔ان کی عیاشیوں کا سامان کرتے ہیں اور اس کے عوض اپنے سیاسی مالی مفادات حاصل کرتے ہیں اس پر ان کی وڈیرہ شاہی جاگیرداری اور گدیاں چل رہی ہیں۔ معلوم نہیں تھر کے غریب عوام کی غربت افلاس عزت نفس کا سودا کرنے کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟
سرحدی زیرو پوائنٹ سے موناباؤ اسٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے بھارت نے راجستھان کے ریگستان میں اندر نہر سالوں پہلے نکالی تھے جو اب بھی علاقے کو سیراب کر رہی ہے بہت اچھی حالت میں ایک شاہراہ گزرتی ہے یہاں معاشی اور معاشرتی ماحول ہمارے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہے۔ یہی نہیں بلکہ سرحدی محافظ آج بھی کئی علاقوں میں اونٹوں پر گشت کرتے ہیں تو اس نے بھارت کو سڑک کی سہولت حاصل ہے اور اس نے کئی فٹ بلند خاردار باڑ لگا کر طاقتور سرچ لائٹس ہماری طرف لگا رکھی ہیں اس طرح کئی لحاظ سے سکیورٹی کی صورتحال کو بھی بھارت نے بہت بہتر بنا رکھا ہے لیکن ہمارے ہاں ہر دور کے حکمرانوں کو لوٹ مار سے ہی دلچسپی رہی ہے۔ یہاں دشمن نے کس کس روپ میں اپنے جاسوسوں کا جال پھیلا رکھا ہے اور وہ کیا سازشیں کر رہے ہیں اس پر سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں بلکہ سیاستدانوں اعلیٰ افسران گٹھ جوڑ کر غریب محنت کشوں کا جس طرح استحصال کرتے ہیں اور خون نچوڑتے ہیں اور سرحدی فورسز کے اہلکار لوگوں سے جس طرح بدسلوکی کرتے اور مشکلات کھڑی کرتے ہیں اس سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی قومی مفادات کے حوالے سے نقصان دہ ہے یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔ تھر میں جہاں اور بہت سے مسائل ہیں وہیں عام طور پر کھا را اور آلودہ پانی پینے سے عام طور پر زیادہ بچے بزرگ خواتین بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔
پورا تھر سندھ کی ثقافت کی لازوال تصویر ہے۔ یہاں کی ہر چیز خوبصورت ہے خصوصاً یہاں کے لوگ سادہ بناوٹ سے دور اور سچے ہیں۔ اس لیے حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں سرمارئی، سرسارنگ اور دیگر سروں میں تھر کے مختلف علاقوں اس کے ریت کے ٹیلوں، راستوں پگڈنڈیوں، درختوں، گل پھولوں بارشوں کے بعد یہاں خوشگوار گل و گلزار ماحول ور خشک سالی میں یہاں کے عوام کی مشکلات کے علاوہ مسائل رسم و رواج، بولیوں سمیت ہر چیز کا ذکر ہے اور یہاں کے لوگوں کی سادگی سچے جذبے اور مٹھاس کو موضوع بنایا ہے۔سندھ کے حکمران شاہ عبدالطیف کا نام بہت لیتے ہیں مگر انہوں نے جو کچھ کہا ہے اپنے عمل سے اس کی نفی کرتے ہیں۔ تھر میں جس بڑے پیمانے پر مجرمانہ غفلت، لاپروائی اور ناجائز کمائی کی ہوس کی وجہ سے بچوں سمیت لوگ اور جانورمرے ہیں۔ اس پر ضرور شاہ عبدالطیف بھٹائی کی روح بھی تڑپ اٹھی ہو گی۔ جن ماؤں کی گودیں اجڑی ہیں جن کی مائیں اور باپ لقمہ اجل بنے ہیں ان کی آہوں فریادوں سے حکمرانوں کو ڈرنا چاہیے کیونکہ مظلوم کی فریاد اور عرش الٰہی کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔
عوام بہت قربانی دے چکے اب اشرافیہ اور امرا کو قربانی دینا ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے ایوان صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور خصوصاً حکومت کی کیبنٹ عوام کو خوراک کی فراہمی اور تن ڈھانپنے کے لیے زرعی ترقیاتی بینک کو موثر اور فعال بنا کر، پاکستان میں بنجر زمینوں کو سرسبز انقلاب میں تبدیل کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کریں کیونکہ اس وقت ملک جن حالات سے دو چار ہے ان میں ہر ذمہ دار شخص کی ذمہ داری دگنی ہو چکی ہے۔ یہ نئی بنیاد رکھنے کا وقت ہے لیکن شاید ہمارا باقاعدہ طبقہ ملک چلانے، یہاں کا نظام سنبھالنے اور حالات کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔
آئیے بارگاہ رب العزت میں سربسجود ہو کر دُعا کریں کہ یہ بچے، بوڑھے، مائیں، زندہ رہیں اور یہ بستیاں دوبارہ بسائیں۔ ان کی زندگی میں مزید کوئی دکھ نہ آئے اور مسکراہٹیں لوٹ آئیں۔ یہ لوگ مستقبل میں استحکام پاکستان کا باعث بنیں۔ اللہ پاک ہمیں ہر قسم کی آفات، خرافات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے اور ماضی کے خطا کاروں کی طرح ہمیں ذہنی، فکری اور عملی گندگیوں سے بچائے رکھے (آمین)۔ جب سوچوں کے قرطاس پر یہ دُعا نقش ہو جائے گی تو ہمارے حالات بدل جائیں گے وگرنہ خدانخواستہ اپنے حقوق سے محروم یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تو جس طرح بنگلہ دیش ہم سے جدا ہو، ایسے ہی اگر ملک کا کوئی اور حصہ بھی اپنوں کی سازش اور موقع پرستوں کا شکار ہوا تو ملک بچانا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ ابھی ’’سانحہ ہوا نہیں، سانحہ ہونے کو ہے۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے