Voice of Asia News

تعلیم،ایمانداری اوراجتماعی سوچ جاپان کی ترقی کے راز:تحریر: محمد قیصر چوہان

چڑھتے سورج کی سرزمین جاپان مشرق ایشیا میں واقع ہے۔ جاپان براعظم ایشیا کے انتہائی مشرق میں تقریباً تین ہزار جزائر کے ایک لمبے سلسلے پر مشتمل ہے جو کہ شمال سے جنوب کی طرف پھیلا ہوا ہے۔سورج دیوتا کا دیس جاپان دنیا کے ان چند ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے جو تیسری دنیا کے ممالک میں بسنے والے افراد کیلئے انتہائی کشش رکھتا ہے جس کی سالانہ فی کس آمدنی چالیس ہزار ڈالر سے زائد ہے جبکہ بہترین آب و ہوا، انسانی حقوق کی پاسداری، شریف النفس اور غیر ملکیوں سے محبت کرنے والے عوام، جبکہ روزگار کے وافر ذرائع میسر ہونے کے سبب جاپان رہائش، ملازمت اور کاروبار کیلئے بہترین ملک ہے لیکن اتنی سب خصوصیات کے باوجود جاپان پہنچنا اور یہاں سیٹل ہونا ایک انتہائی مشکل امر ہے تاہم اس کے باوجود ایک اندازے کے مطابق اس وقت جاپان میں بیس لاکھ غیر ملکی آباد ہیں اور وہ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں تاہم اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی میزبانی کرنا اور ان کو وہ تمام وسائل فراہم کرنا جو ایک عام جاپانی کو میسر ہیں کیلئے جاپانی حکومت نے بہترین انتظامات کئے ہیں۔یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ جاپان بہت ترقی یافتہ ملک ہے۔ لوگ سو فیصد تعلیم یافتہ ہیں ہر طرف صاف ستھرا ماحول ہے۔ دیہات میں یکساں ترقی ہے۔ شہروں کی طرح دیہات میں بھی بڑی بڑی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ زراعت کا نظام جدید ہے۔ چنانچہ جاپان کی اقتصادی حالت بہت مضبوط ہے۔ لوگ مطالعے کے شوقین ہیں۔ فکشن سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں ایک دور میں وہاں فیملی سسٹم بہت مضبوط تھا تاہم مغربی اثرات کے تحت اب کمزور پڑنے لگا ہے۔ شادی عموماً مرضی کی ہوتی ہے زندگی بہت زیادہ مصروف ہے۔ ہر طبقے کو تمام سہولتیں میسر ہیں، جرائم کی شرح کم ہے قومی مفادات ہر شخص کے پیش نظر ہیں۔ طرزِ حکومت جمہوریت ہے، بادشاہ کی حیثیت علامتی ہے لیکن اس کا احترام برقرار ہے، استاد اور ڈاکٹر کا احترام بھی بہت زیادہ ہے۔
جاپان کی ترقی کی بنیاد ان کی اپنی زبان سے محبت اور تعلیم پر استوار ہے۔ جاپان نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دیو مالائی پرندے ققنس جیسا جنم لیا ہے ۔ ققنس وہ پرندہ ہے جو راکھ سے دوبارہ جنم لیتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپانی شہروں ناگاسائی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم پھینک کر تباہی کا وہ کھیل کھیلا جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک دیکھے گئے۔ اس وجہ سے جاپان کی زمین تو کھنڈر بنی ہی تھی جاپانی ماؤں کی کوکھ سے پیدا ہونے والے بچے بھی اپاہج ہوتے تھے۔ ان حالات میں جس چیز نے جاپان کو حیات نو سے نوازا وہ تعلیم تھی۔ تعلیم کے بل بوتے پر جاپان نے ترقی کی وہ منازل طے کیں کہ دنیا حیران رہ گئی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے دیکھا کہ وہ جاپان جسے امریکا دینا کے نقشے سے مٹا دینا چاہتا تھا اس کی گونج دنیا کے کونے کونے میں گونجنے لگی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جب دنیا کے کم و بیش تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جاپانی الیکٹرونکس اور گاڑیاں نظر آنے لگیں۔
جاپان کے پہلے وزیراعظم آری نوری موری نے 1885 میں کہا تھا ’’ جاپان میں تعلیم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ایسے لوگ تیار کئے جائیں جو فنون اور سائنسز کی تیکنیکس سے بہرہ ور ہوں بلکہ اس کا مقصد ایسے افراد تیارکرنا ہے جو ریاست کو درکار ہوں۔ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق جاپان کا شہر ٹوئیو ایمانداری میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پرہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب اس تربیت کانتیجہ ہے جو سکول جانے والے بچوں کو ان کی ابتدائی جماعتوں کے دوران دی جاتی ہے۔ جاپان میں پہلی جماعت سے لے کر تیسری جماعت تک بچوں کو ایک مضمون پڑھایا جاتا ہے جس میں انہیں روزمرہ کے معاملات اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ کی اخلاقیات سکھائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کا ذہن ایک خالی سلیٹ کی طرح ہوتا ہے اس پر جو نقش ہو جائے وہ ساری عمر اس کے ساتھ رہتا ہے۔ جب چھوٹی عمر میں بچے کو اخلاقیات کا درس یوں دیا جائے کہ یہاس کی شخصیت کا حصہ بن جائے تو آگے جا کر یہی بچہ قوم کا حقیقی فخر ثابت ہوتا ہے۔ جاپان کے ہر علاقے میں سکولوں کی سطح پر (انٹرنیشنل سکولز چھوڑ کر) یکساں نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم رائج ہے۔ سکول تک کی تعلیم مفت ہے بلکہ طالب علموں کو پک اینڈ ڈراپ اور دوپہر کے وقت کھانے پینے کی کچھ سہولت بھی دی جاتی ہے۔ تمام طلباء اور طالبات کے لیے تیراکی، موسیقی اور امورِ خانہ داری خصوصاً کوکنگ وغیرہ کی تعلیم بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ جاپان میں ہر بچہ اپنا دانت صاف کرنے والا برش بھی سکول ساتھ لے کر جاتا ہے سکول میں کھانے پینے کے بعد ان سے دانت صاف کرائے جاتے ہیں اپنے بچپن سے ہی ان کو اپنی صحت کا خیال رکھنے والا بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے جاپانیوں کی اوسط اقوام سے زیادہ ہے اور وہ زیادہ عمر تک مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے کر ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔لہٰذا تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے زور پر جاپان نے اقتصادی بحرانوں پر قابو پایا ہے اس نے زلزلوں کے خطرات کو قابو میں کیا ہے۔
گو کہ جاپانی دنیا کی امیر ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں مگر ان کے گھر میں کام کاج کے لیے نوکر اور خادم کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ ماں باپ ہی بچوں اور گھر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جاپانی بچے روزانہ اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر 15 منٹ کیلئے اپنے سکول کی جھاڑ پھونک اور صفائی ستھرائی کرتے ہیں اس مشق کا مقصد انہیں اخلاقی طور پر متواضع بنانا اور عملی طور پر صفائی پسند بنانا ہوتا ہے اس حوالے سے جاپان میں سکول کے بچے اور اساتذہ میں کوئی فرق نہیں اگربچے گھر میں ماں باپ کو اپنے ہاتھوں سے کام کرتے دیکھتے ہیں تو سکول میں یہی مشق وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر سکول کی صفائی کی صورت میں کرتے ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جاپان میں تعلیم کی کامیابی کا راز تین نکات میں پنہاں ہے۔ ایک تعلیم کا مقصد کردار کی تعمیر ہے دوم تعمیری شعبوں میں تعلیم و تخلیق اورسوم شراکت داری کے ذریعے تعلیم۔ جاپان میں بیک وقت تین قسم کے رسم الخط رائج ہیں۔ ہیرا گانا، کاتا کانا اور کانجی رسم الخط۔ ہیرا گانا خالص جاپانی رسم الخط ہے اور اس کے چون (54) حروف تہجی ہیں۔ کانجی رسم الخط تصویر ہے جو چینی زبان سے آیا ہے۔ اس میں کم و بیش چھے ہزار کانجیاں (تصویریں) مروج ہیں۔
ہر ملک کی طرح جاپان میں بھی فنونِ لطیفہ اور ادب کی سرکاری سطح پر سرپرستی ہوتی ہے اور متعلقہ منسٹری اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی بعض تنظیمیں یا نیم سرکاری ادارے کلچر کو فروغ دینے اور محفوظ رکھنے کیلئے خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔جاپان میں اظہارِ رائے پر کوئی پابندی نہیں۔ وہاں فرد کی آزادی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے ۔جاپانی عام لوگوں سے بھی محبت سے ملتے ہیں۔ یہ ان کی تہذیب کا ایک خاص انداز ہے۔ استاد کے معاملے میں جب احترام کا جذبہ بھی شامل ہو جاتا ہے تو جھکنے کے انداز میں اخلاص کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ جاپانی لوگ بعض معاملات میں بہت حساس ہیں اور بہت جلد ان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے ہیں۔ انگریزی زبان جاپانیوں کا کمپلیکس نہیں۔ جاپانی زبان ہر سطح پر قابل ترجیح ہے ۔ تمام علوم جاپانی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ جاپانی زبان پر وہ قوم فخرکرتی ہے تمام ٹیلی ویژن نشریات اور ادھر ادھر آویزاں تمام بینر ز جاپانی زبان میں ہوتے ہیں۔
جاپان میں گاڑیوں، ریسٹورنٹس اور بند مقامات پر موبائل فون استعمال نہیں کیا جاتا۔ جاپان میں سائلنٹ موڈ پر لگے موبائل کو ایک خاص نام دیا جاتا ہے جس کا مطلب اخلاق پر لگا ہونا بنتا ہے اور ٹیلی فون سائلنٹ موڈ جس کو جاپانی میں Mannermode کہتے ہیں۔ اس سے انہیں کام کے دوران انتشار توجہ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے اور وہ دل جمعی سے کام کر کے ترقی کے عمل میں حصے دار بنتے ہیں۔
کفایت شعاری ایک ایسی عادت ہے جس کی تائید ہمیں ہمارے مذہب میں کی گئی ہے لیکن اس کی روح کے مطابق اس پرعمل جاپانی قوم کرتی ہے۔ جاپان میں اگر آپ کسی کھلی دعوت پر چلے جائیں وہاں پربھی یہی دیکھیں گے کہ لوگ اپنی پلیٹوں میں ضرورت کے مطابق ہی کھانا ڈالتے ہیں۔ پلیٹوں میں کھانا بچا چھوڑنا جاپانیوں کی عادت نہیں ہے۔ اس طرح جاپانی لوگ رزق کی قدر کرتے ہیں۔انسان کی انفرادی زندگی ہو یا قوموں کی اجتماعی حیات کامیابی اور ترقی انہیں کا مقدر بنتی ہے جو وقت کی قدر کرتے ہیں۔ جاپانی وقت کی قدر کے حوالے سے کسی دوسری ترقی یافتہ قوم سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان کے ہاں وقت کی پابندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جاپان میں سال بھر گاڑیوں کی اوسط تاخیر صرف 7 سیکنڈ تک ہوتی ہے۔جاپان کی بے مثال ترقی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ذات کے بارے میں نہیں صرف اپنے ملک و قوم کے لئے سوچتے ہیں۔ ان کا ایک ایک لمحہ اجتماعی ترقی کے حصول میں گزرتا ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی بدولت جاپان کا شہر ٹوکیو آج ایمانداری میں دنیا بھر میں سر فہرست اور جاپانی قوم اقوام عالم میں پہلے نمبر پر ہے۔ جاپان ایک ایسی قوم ہے جس نے سیکھا اور سکھایا ہے اور بھی وہ یہ کہ آگے کیسے پڑھا جاتا ہے۔ آج جاپانی قوم ٹیکنالوجی کے میدان میں ناقابل تسخیر ہے۔
جاپان میں روایتی طور پر زیادہ تر بدھ مت اور اس کے بعد شنتومت کے ماننے والے آباد ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد عیسائی مشنریوں نے بھی خاصی تبلیغ کی ہے اور کچھ جاپانیوں کو اپنی طرف مائل کیا ہے۔ اسی طرح ایک محدود تعداد اسلامی تعلیمات کو قبول کرنے والوں کی بھی ہے لیکن عمومی طور پر جاپانی لوگ مذہب کے ساتھ زیادہ گہرائی سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ جاپان میں مذہبی آزادی تو بہت ہے وہاں مسلمان مسجدیں اور عیسائی گرجے تعمیر کرتے ہیں۔ بدھ مت اور شنتومت ماننے والوں کے اپنے اپنے مندر اور مذہبی مقامات ہیں لیکن جاپانیوں میں مذہب کی روح کچھ زیادہ گہرائی میں نظر نہیں آتی۔ وہ کلچرل سطح پر مختلف دنوں میں مختلف مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔
جاپانیوں نے غالب اور مغلوب دونوں حیثیتوں سے جنگ کی ہولناک تباہیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ایٹم بم گرا کر جاپان کی کمر توڑ کے رکھ دی لیکن اس وقت کی جاپانی قوم نے اس ہولناک تباہی کو اپنے راہِ عمل متعین کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس وقت کی نسل نے غربت اور افلاس میں ڈوبے ہوئے جاپان کو سخت محنت سے باہر نکالا اور ترقی کی راہوں پر گامزن کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جاپان دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک بن گیا۔ یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اسی تباہی سے پہلے بھی جاپانی خاصے ترقی یافتہ تھے۔ ان کا اپنا بحری بیڑا تھا، بعد میں سخت محنت کے نتیجے میں وہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔ اس میں امریکہ کے سر پرستانہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے ایٹم بم گرانے کے بعد جاپانیوں کی ہر طرح سے مدد بھی کی اور انہیں سائنسی اور تکنیکی راہنمائی فراہم کر کے اس قابل بنایا کہ وہ ہر اعتبار سے ترقی یافتہ بن سکیں۔ جاپانیوں کی موجودہ نسل بھی اگرچہ محنتی ہے تاہم یہ کہنامبالغے سے خالی ہو گا کہ حقیقت میں موجودہ نسل اپنے پیشروؤں کی محنت اور مشقت کا پھل کھا رہی ہے۔ جاپانیوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے متمدن زندگی کو بے حد جدید خطوط پر استوار کر رکھا ہے۔ ان کا انفراسٹرکچر زبردست ہے۔ سڑکیں، پل، عمارات سب کچھ جدید تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر اور روزمرہ ضروریات کو پوری کرنے والی طرح طرح کی مشینیں ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ اب تو روبوٹ بھی تیار کئے جاتے ہیں لیکن جہاں تک ان کی تہذیبی، ثقافتی اور معاشرتی زندگی کا تعلق ہے اس میں ابھی تک وہ اپنی بہت سی روایات کے پابند ہیں۔ ان کا ایک داخلی دائرہ ہے جس میں عموماً گائی جن (غیر ملکی افراد) داخل نہیں ہو سکتے۔ وہ کسی اور بنیاد پر انسانی تفریق کے قائل نہیں لیکن جن (جاپانی باشندے) اور گائی جن (غیر ملکی باشندے) میں ضرورفرق روا رکھتے ہیں۔ ا ن کی تہذیبی روایات مذہبی روایات سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ جاپانیوں کا روایتی لباس تو کمیونو ہے جو لمبا گاؤن نما ہوتا ہے تاہم اب دیہات اور شہروں ہر جگہ میں مغربی لباس پتلون اور شرٹ رائج ہے۔ خوراک کے حوالے سے جاپان میں گندم اور گندم کی روٹی آپ کو شاید ہی دکھائی دے گی۔ وہ لوگ زیادہ تر چاول کھاتے ہیں۔ جاپانی چاول پاکستانی چاولوں سے بہت مختلف ہیں۔ حجم اور ذائقہ دونوں سطحوں پر، حجم میں وہ خاصے بڑے ہیں جاپانی پھل کو کھاکی کہتے ہیں۔ وہاخ خربوزہ، سیب اور سبزیاں بہت ہیں اور لوگ شوق سے کھاتے ہیں۔
جاپان کے ہرشہر میں کتابوں اور رسالوں کی بڑی بڑی دکانیں ہیں۔ ہر کتب خانے پر لاتعداد لوگ جن میں ہر عمر و جنس کے لوگ شامل ہیں۔ کتابوں کی ورق گردانی کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات تو کتب خانے پر لائبریری کا گمان ہوتا ہے۔ سوفیصد کتابیں جاپانی زبان میں ملیں گی۔ ان لوگوں کی یہ بات بہت پسند آئی کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانیوں نے جب پے درپے حملوں کے بعد اپنے آپ کوسنبھالا دیا تو دھڑا دھڑ سارے علوم کو اپنی زبان میں منتقل کر لیا تاکہ وہ علوم میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ اسی وجہ سے آج ہر شعبے میں ایسی لاجواب اور بے مثال ترقی کی ہے کہ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک بھی جاپان کے سامنے بونے نظر آتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ کسی بھی معاشرے میں تمام افراد کے وسائل یکساں نہیں ہوتے اور ہر ایک کے ذرائع آمدن میں فرق ہوتا ہے تاہم امیر اور غریب کا فرق ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ امیر کی رسائی میں سب کچھ ہو اور غریب اپنے روز مرہ اخراجات بھی پورے نہ کر سکتا ہو۔ جاپان میں ہر شخص زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل ہے۔ اگرچہ جاپان دنیا کا مہنگا ترین ملک ہے پھر بھی وہاں کے عوام اپنی روزمرہ ضروریات بطریق احسن پوری کر لیتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی وہاں فی گھنٹہ کم سے کم ایک ہزارین کا معاوضہ مقرر ہے۔ ایسی صورت میں پیشہ کوئی بھی ہو بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت حاصل رہتی ہے۔ قیمتوں میں بھی آئے روز تبدیلی نہیں ہوتی اور حکومت کا پرائس کنٹرول کا نظام بہت موثر ہے۔ بحیثیت مجموعی جاپان میں عام آدمی باعزت زندگی گزار سکتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے