Voice of Asia News

قرآن کی پیروی،سعادت کی عملی ضمانت:تحریر: سید محمد کوثر شمسی

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنی مخلوق کی ہدایت و سعادت کا جامع آئین بنا کر نازل فرمایا اس مقدس کلام کا کوئی لفظ اور نہ ہی کوئی حرف زائد ہے اور نہ ہی بے معنی ہے، اس کی مقدس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اپنے بندوں کو عقیدہ و عمل کی ہم آہنگی و یکجہتی کا حکم دیا ہے اور قول و فعل کی یک رنگی کا تاکیدی دستور صادر فرمایا ہے تاکہ دنیا و آخرت دونوں زندگیاں کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں، اگر اس مطلب کو اس طرح بیان کیا جائے تو بیجانہ ہو گا کہ دنیا ظاہر ہے اور آخرت باطن، اور اللہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق ظاہر و باطن دونوں میں سعادت مند ہو لہٰذا ضروری ہے کہ ظاہر و باطن میں یکسانیت پیدا کی جائے اور دنیا و آخرت کی سعادتوں کے حصول کو یقینی بنایا جائے، قرآن مجید کی پیروی سعادت کی یقینی ضمانت ہے اس میں اللہ نے اپنی وحدانیت، اپنے نبیؐ کی نبوت (ختم نبوت) اور اپنے اولیاء آئمہ معصومین علیہم السلام کی امامت اور ولایت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات و دستورات پر کامل عمل کرنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص ابدی سعادت کا خواہشمند ہو تو اس کے لیے راستہ بہت آسان اور وسیع ہے کہ جو حقیقی منزل تک پہنچاتا ہے قرآن مجید کی کسی ایک سورت یا آیت کے کسی ایک حرف کا انکار کفر ہے جو شخص قرآنی تعلیمات پر عمل نہ کرے اس کی دنیا بھی تباہ اور وہ آخرت میں بھی خسارہ ہو گا، اگر ہم اپنی بصیرت کی آنکھیں کھول کر دیکھیں تو یہ حقیقت واضح طور پر دکھائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی صلاح و فلاح چاہتا ہے اسے اپنی مخلوق کی سعادت و خوشحالی اور کامیابی وفوز عظیم مطلوب ہے۔ اس نے جو احکام صادر فرمائے اور جو تعلیمات دیں وہ سب بنی نوع انسان کی بہتری و بھلائی کے لیے ہیں۔ قرآنی تعلیمات کی جامع صورت دیکھ کر اس مقدس کتاب الٰہی کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت زبان و دل اور آنکھوں کی عبادت ہے اور اس سے روح کو سکون ملتا ہے لیکن اس مقدس و پاکیزہ آئین الٰہی میں مذکورہ دستورات پر عمل کئے بغیر سعادت کا حصول ممکن نہیں، اس عظیم کتاب کی سب سے بڑی صفت و خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسان کی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی تمام راہیں مذکور ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کی خالقیت و رحمانیت کے تذکرہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو آسمانوں و زمین کی ہر نعمت سے نوازا ہے ، وجود و ہستی کی نعمت کی بقاء کا سامان عطا کیا ہے اور بحر وبر کے تمام وسائل حضرت انسان کے لیے اس کے مسخر و تابع کر دیئے ہیں تاکہ وہ جو چاہے اور جہاں چاہے اپنی زندگی کی سعادت مندی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدام عمل میں لائے، موجودات کی صورت میں مادی نعمتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ معنوی و روحانی سلسلہ ہائے ہدایت قائم کر ے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو حقیقی معنی میں فطرت سلیمہ کی عظمتوں سے بہرہ ور ہونے کی راہ دکھا دی ہے، اگرچہ عصر حاضرکی علمی و سائنسی تحقیقات نے انسان کے وجود میں پائی جانے والی عظیم کائنات کے اسرار و رموز واضح کر دیئے ہیں اور پوشیدہ حقائق کو آشکار کر دیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے صدیوں پہلے اپنی نبی ؐ پر وحی کے ذریعے ان حقائق کو بیان کر دیا اور وجود و موجود سب کی اصل و اساس اور معارف و اسرار سے آگاہی دلا دی، یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنی قدرت کاملہ کے ذریعے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر پوری کائنات کی قوتیں اس کے دست تسخیر میں دے دیں، یہ سب اس لیے کیا کہ انسان پورے اختیار کے ساتھ اپنی تخلیق کے حقیقی و اعلیٰ مقصد کی تکمیل کے سفر میں کامیاب ہو سکے۔ قرآنی تعلیمات و دستورات کی پیروی سے نہ صرف یہ کہ دنیا و آخرت کی کامیاب کی ضمانت ملتی ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں رضائے پروردگار سے بہرہ ور ہونے کی اُمید پوری ہو جاتی ہے اللہ کی اس مقدس کتاب میں وہ تمام بنیادی اصول ذکر کر دیئے گئے جن میں انسان کی وجودی قوتوں سے استفادہ کی راہیں کھل جاتی ہیں اور پھر اسے زندگی کے تمام مرحلوں میں نور اور روشنی میں روشنی نظر آتی ہے، یہاں یہ بات قابل ذکر و لائق توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس کتاب کی جو صفات بیان فرمائی ہیں ان میں ایک یہ کہ وہ ’’نور‘‘ ہے تو جسے اللہ تعالیٰ نور قرار دے تو اس کی پیروی کرنے والا انسان کس طرح ظلمت و تاریکی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اللہ نے اس نورانی سرچشۂ ہدایت میں جو تعلیمات ذکر کی ہیں وہ سب کی سب نور کی حامل ہیں اور نورانیت عطا کرنے والی ہیں خدا کی عنایات میں سے ایک عظیم عنایت ہم امت محمدیؐ کے لیے یہ ہے کہ اس مقدس کتاب کو قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کی ہدایت و سعادت کا سرچشمہ بنا کر بھیجا گیا ہے کہ اس کے بعد نہ تو کوئی کتاب نازل ہو گی اور نہ ہی کوئی صحیفہ اُترے گا، اللہ نے اس عظیم کتاب کی صورت میں ہمیں جو تحفہ عطا فرمایا ہے اس احسان پر اس کا جس قدر شکر ادا کریں کم ہے قرآن کی عظمت و رفعت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس کے ہر حکم پر عمل کیا جائے اور اس سے نورانی استفادہ کرتے ہوئے اس کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے میں تمام تر وجودی قوتیں بروئے کار لائی جائیں اس کی پیروی کرنے والے خوش نصیبوں کے حالات اور سیرت و کردار کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دنیا میں کسی قدر عزت و اقبال سے نوازا اور انہیں آخرت کی عظیم نعمتوں اور ابدی سعادتوں کی بشارتیں دیں، آج بھی اگر کوئی خوش نصیب اس مقدس و عظیم آئین سعادت پر عمل کرے تو نہ صرف یہ کہ اس کی انفرادی زندگی خوشیوں سے مالا مال ہو گی بلکہ اس کی معاشرتی حیات بھی نورانیت کی حقیقی عظمت سے بہرہ ور اور لطف اندوز ہو گی۔
shamsi46@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے