Voice of Asia News

وضو، غسل اور تیمم کے فوائد:تحریر: سید محمد کوثر شمسی

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وضو کے دو فائدے واضح اور روشن ہیں۔ ایک پاکیزگی اور صفائی کا فائدہ دوسرے اخلاقی اور معنوی فائدہ۔شب و روز میں پانچ بار یا کم ازکم تین بار چہرے اور ہاتھوں کو دھونا انسان کے جسم کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ سر اور پیروں کی کھال پر مسح کرنے سے یہ اعضا بھی پاک و صاف رہتے ہیں اسی طرح اخلاقی اور معنوی لحاظ سے بھی چونکہ یہ کام قربتِ خدا کیلئے ہوتا ہے جو تربیتی لحاظ سے موثر ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سر سے لے کر پاؤں تک تیری اطاعت و بندگی میں حاضر ہوں،لہٰذا اسی اخلاقی و معنوی فلسفہ کی تائید ہوتی ہے۔ وضوکا حکم اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ اس سے عبادت کا آغاز ہوتا ہے کیونکہ جس وقت بندہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور اس سے مناجات کرتا ہے تو اس وقت پاک ہونا چاہیے اور اس کے احکام پر عمل کرنا چاہیے اور گندگی اور نجاست سے دور رہے۔ اس کے علاوہ وضو کرنے سے انسان کے چہرے سے نیند اور تھکن کے آثار دور ہو جاتے ہیں اور انسان کا دل خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو کر نورِ پاکیزگی حاصل کرے۔ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انسان کے مجنب ہونے پر اسلام نے غسل کا حکم کیوں دیا ہے۔ مجنب ہونے کی صورت میں تمام بدن کو دھونا یعنی غسل کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے؟ اس سوال کا ایک مختصر جواب ہے اور دوسراتفصیلی۔ مختصر جواب یہ ہے کہ مجنب ہونے کا اثر بدن کے تمام اعضاء پر بھی ہوتا ہے جو سست پڑ جاتے ہیں۔دانشوروں کی تحقیق کے مطابق انسان کے بدن میں دو طرح کے نباتاتی اعصاب ہوتے ہیں جن سے بدن کا سارا نظام کنٹرول ہوتا ہے۔ ’’سمپاتھٹیک‘‘ اور ’’پیرا سمپا تھٹیک اعصاب‘‘ ۔یہی بدن کے تمام نظام کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔بدن ’’سمپاتھٹیک اعصاب‘‘ کا کردار بدن کے نظام میں تیزی پیدا کرنا ہے اور ’’پیرا سمپاتھٹیک اعصاب‘‘ کا کردار بدن میں سستی پیدا کرنا ہے۔ دراصل ان دونوں کا کام گاڑی میں ریس اور بریک کی طرح ہے اس سے بدن میں توازن قائم رہتا ہے۔ کبھی بدن میں ایسے حادثات پیش آتے ہیں جن سے یہ توازن ختم ہو جاتا ہے انہیں میں سے ایک مسئلہ اوج لذت جنسی ہے اس موقع پر ’’اعصاب پیرا سمپاتھٹیک‘‘ سمپاتھٹیک اعصاب‘‘ پر غلبہ کر لیتے ہیں اور انسان کا توازن منفی صورت میں بگڑ جاتا ہے۔ االبتہ غسل کا فائدہ اسی چیز میں منحصر نہیں بلکہ غسل ان کے علاوہ ایک طرح کی عبادت بھی ہے جس کے اخلاقی اثر کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جنابت پوری بدن سے باہر نکلتی ہے لہٰذا پورے بدن کو پانی سے دھونا یعنی غسل کرنا واجب ہے۔ غسل جنابت کا وجوب بدن کو پاک و صاف رکھنے کیلئے ایک اسلامی حکم ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے مل جائیں گے جو پاکیزگی اور صفائی کا خیال نہیں کرتے لیکن اس اسلامی حکم کی بنا پر وہ گاہ بہ گاہ اپنے بدن کی گندگی کو دور کرتے ہیں اور اپنے بدن کو پاک و صاف رکھتے ہیں اور یہ چیز گزشتہ زمانہ سے مخصوص نہیں ہے کہ لوگ گزشتہ زمانہ میں مدتوں بعدنہایا کرتے تھے بلکہ آج کل کے زمانہ میں بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو بعض وجوہات کی بنا پر صفائی کا بالکل خیال نہیں رکھتے (البتہ اسلام کا یہ حکم ایک عام قانون ہے، یہاں تک کہ جن لوگوں نے ابھی اپنے بدن کو دھویا ہو ان کو بھی شامل ہے یعنی اگر نہانے کے بعد مجنب ہو جائے تو بھی غسل کرنا واجب ہے۔ فلسفہ تیممکیا ہے؟بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مٹی پر ہاتھ مارنے اور ان کو پیشانی اور ہاتھوں پر ملنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اکثر مٹی گندی ہوتی ہے اور اس سے جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے : الف: اخلاقی فائدہ: تیمم ایک عبادت ہے اس میں حقیقی عبادت کی عکاسی پائی جاتی ہے کیونکہ انسان حکم خدا کے پیش نظر اپنے شریف ترین عضو یعنی پیشانی پر مٹی بھرا ہاتھ پھیرتا ہے تاکہ خدا کے سامنے اپنی تواضع اور انکساری کا اظہار کر سکے یعنی میری پیشانی اور میرے ہاتھ تیرے سامنے تواضع و انکساری کی آخری حد پر ہیں اور پھر انسان نماز یا دوسری ان عبادتوں میں مشغول ہو جاتا ہے جن میں وضو یا غسل کی شرط ہوتی ہے اس بناء پر انسان کے اندر تواضع و انکساری، بندگی اور شکر گزاری کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ ب: حفظان صحت کا فائدہ: آج کل یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مٹی میں بہت سے جراثیم پائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ بہت سی گندگیاں دور ہوتی ہیں یہ جراثیم جن کا کام آلودہ کرنے والے مواد کا تجزیہ اور طرح طرح کی بدبو کو ختم کرتا ہے زیادہ تر زمین کی سطح پر معمولی سی گہرائی میں جہاں سے ہوا اور سورج کی روشنی سے بخوبی فائدہ اٹھا سکیں بکثرت پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے جب مردہ جانور کی لاشیں زمین میں دفن کر دی جاتی ہیں اور اسی طرح دوسری چیزیں جو گندگی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں زمین پر پڑی ہوں تو کچھ عرصہ بعد ان کے بدن کے اجزاء بکھر جاتے ہیں اور جراثیم کی وجہ سے وہ بدبو کا مرکز نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ یہ طے ہے کہ اگر زمین میں یہ خاصیت نہ پائی جاتی تو کرہِ زمین تھوڑی ہی مدت میں بدبو کے ڈھیروں میں بدل جاتا۔ اصولی طور پر مٹی انٹی بیوٹک (جراثیم کش)، اثر رکھتی ہے جو جراثیم مارنے کے لیے بہترین چیز ہے۔ اس بنا پر پاک مٹی نہ صرف آلودہ نہیں ہے بلکہ آلودگی کو ختم کرنے والی ہے اور اس لحاظ سے ایک حد تک پانی کا کام کر سکتی ہے،اس فرق کے ساتھ کہ پانی جراثیم کو بہا لے جاتا ہے اور مٹی جراثیم کو مار ڈالتی ہے لیکن توجہ رہے کہ تیمم کی مٹی مکمل طور پر پاک و صاف۔ تیمم کے لیے زمین کی سطحی مٹی لی جائے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہو اور جس میں جراثیم کو مارنے والی بیکٹری پائی جاتی ہوں، اگر اس طرح کی پاک و پاکیزہ مٹی سے تیممکیا جائے تو یہ تاثیر رکھتی ہے اور اس میں ذرا بھی نقصان نہیں ہے۔ روح کی پاکیزگی کے لیے احکام وضو، غسل اور تیمم بیان ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے