Voice of Asia News

محنت کشوں کو خوشحال بنائے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں میاں محمد سلیم اختر کا :انٹرویو: محمد قیصر چوہان

محنت کشوں کو خوشحال بنائے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں :انٹرویو: محمد قیصر چوہان
حکومت مزدور کی بنیادی تنخواہ مہنگائی کے تناسب سے30 ہزار روپے مقرر کرے
توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کے بانی اورآل پاکستان لیبر فیڈریشن پنجاب کے چےئرمین گولڈ میڈلسٹ میاں محمد سلیم اختر کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو

بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق تنظیم سازی ہرانسان کا بنیادی حق ہے اور آئین پاکستان بھی اس کی ضمانت دیتا ہے۔ پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں بھی مزدور تنظیموں نے بہت کردار ادا کیاتھا۔آزادی کے بعد آئینی اجازت ہونے کی وجہ سے تنظیمیں منظم ہوئیں، کچھ نئی تنظیمیں بنیں اور اس وقت سرکاری و نجی اداروں میں یونینز موجود ہیں۔ آئین نے یونین سازی کا حق تو دیا ہے لیکن اس حوالے سے قانون میں قدغن ہے اوراس کے قواعد و ضوابط بھی قائم کئے گئے ہیں کہ کن مقاصد کیلئے یونین بنائی جا سکتی ہے، کون سا ملازم بنا سکتا ہے اورکس کو یونین سازی کی اجازت نہیں ہے اور اس کے علاوہ ہڑتال کے حوالے سے بھی قانون میں ہدایات موجود ہیں، اگر اس کے مطابق ہڑتال کی جائے تو جائز ہے ورنہ قانون حرکت میںآتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ٹریڈ یونینز کی وجہ سے مزدوروں کے حقوق محفوظ ہیں لیکن اگر ٹریڈ یونینز نہ ہوں تو مزدوروں کا استحصال کیاجاتا ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے مطابق اداروں کی نجکاری کرنا پڑ رہی ہے جس پر یونینز سراپا احتجاج ہیں۔ اس حوالے سے یونینز اور حکومت کے درمیان تناؤ کی صورتحال ہے جبکہ ٹریڈ یونینز پرپابندی کے حوالے سے بھی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کے بانی اورآل پاکستان لیبر فیڈریشن پنجاب کے چےئرمین میاں محمد سلیم اختر سے ایک نشست کا اہتمام کیاہے۔ محنت کشوں کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کی جنگ جرأت، بہادری اور استقامت کے ساتھ لڑنے والے میاں محمد سلیم اخترنے اپنی زندگی ٹریڈ یونین اور مزدوروں کی خدمت کیلئے وقف کر رکھی ہے۔ وہ محنت کشوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور محنت کش طبقے کی صحت، پیشہ وارانہ تحفظ و سلامتی کے سلسلے میں قانون سازی کے حوالے سے بھی شعور اُجاگر کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ محنت کشوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور محنت کش طبقے کی صحت، پیشہ ورانہ تحفظ و سلامتی کے سلسلے میں قانون سازی کے حوالے سے بھی شعور اجاگر کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حیران کن قائدانہ صلاحیتوں کے مالک میاں محمد سلیم اختر اپنے مضبوط حوصلوں اور بے مثال کردارکے ذریعے حالات کے دھاروں کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ عاجزی اور انکساری ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ پاکستان اور محنت کشوں سے ان کی بے پناہ محبت ہر مصلحت سے بالاتر نظر آتی ہے بطور ٹریڈ یونین لیڈر ان کا کیریئر مزدوروں کے مفادات اور ان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے معرکہ آرائیوں سے بھرا پڑا ہے۔ گزشتہ دنوں ’’وائس آف ایشیاء‘‘ نے آل پاکستان لیبر فیڈریشن پنجاب کے چےئرمین میاں محمد سلیم اختر کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا اس دوران جو بات چیت ہوئی وہ قارئین کی خدمت میں حاضرہے۔
سوال: ہمارے معاشرے میں ٹریڈ یونین کرنا کانٹوں کی راہ پر چلنے کا نام ہے، آخر آپ نے اس کٹھن راستے کا انتخاب کیوں کیا؟
میاں محمد سلیم اختر: ہمارے معاشرے میں محنت کش کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا اور اس کے ساتھ شروع دن سے ہی امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ مزدور طبقے کی انتھک محنت کی بدولت ہی ملکی صنعتیں، کارخانے، انڈسٹریز چلتی ہیں۔ محنت کش طبقے کی وجہ سے ہی سرمایہ دار صنعت کار اور اس کے بچے خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں۔ مزدوروں کا استحصال دیکھ کر میں نے یہ فیصلہ کیا محنت کش طبقے کو سرمایہ دار، جاگیردار اور صنعت کے استحصال سے نجات دلائینگے اور یوں میں ٹریڈ یونین سے وابستہ ہوا۔ اس کے بعد انتظامیہ اور مخالف یونین کی طرف سے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ محنت کشوں کو ان کے حقوق دلانے کی جنگ لڑنے کے دوران قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے سے محنت کش طبقے کے حقوق دلانے کا میرا جذبہ مزید بڑھا۔ محنت کش طبقے کو اُن کے بنیادی حقوق دلانا میری زندگی کا نصب العین ہے لہٰذا میں زندگی کی آخری سانس تک مزدوروں کو اُن کے حقوق دلانے کی جدوجہد کرتا رہوں گا۔
سوال: پاکستان کے حکمرانوں نے محنت کش طبقے کیلئے اب تک جو اقدامات کئے ہیں آپ ان سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: پاکستان کے حکمرانوں نے شروع دن سے ہی محنت کش طبقے کو خوشحال بنانے کے سہانے خواب دکھا کر اپنی سیاست چمکائی اور محنت کشوں کو بدحال بلکہ فاقہ کشی کا شکار کیا ہے۔ پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں کی پالیسیاں ٹریڈ یونین اورمزدوروں کے حق میں کبھی نہیں رہیں۔ ان حکومتوں نے نیشنل و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تنخواہیں ڈبل کر دی ان کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جبکہ نجی شعبے کا جو 80 فیصد محنت کش طبقہ ہے اس کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ پاکستان میں حکمران طبقہ صنعتی بقاء و استحکام اور مزدوروں کے حقوق سے پہلوتہی کرتے ہوئے صرف لوٹ مار میں مصروف عمل ہے۔ محنت کش طبقے کے حقوق کے تحفظ کا پر چار کرنے والی سیاسی جماعتیں جب اقتدار میں آتی ہیں تو محنت کشوں کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے اوربعض سیاسی جماعتوں کی پالیساں دراصل مزدور دشمن ہیں۔
سوال: بین الاقوامی انسانی حقوق کا آئین اور پاکستان کا آئین ٹریڈ یونین کے حوالے سے کیا کہتا ہے؟
میاں محمد سلیم اختر: بین الاقوامی انسانی حقوق کا چارٹر اور آئین پاکستان کا آرٹیکل 17 ہرشخص کو تنظیم سازی کا حق دیتا ہے لہٰذا کسی کو اس سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ آئین کے مطابق پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو ٹریڈ یونین بنانے کا حق حاصل ہے۔ سرکاری اداروں میں صرف ایسوسی ایشن بنائی جا سکتی ہے اور سول سرونٹس نہ تو ایسوسی ایشن بنا سکتے ہیں نہ ہی ٹریڈ یونین۔ آئین کا آرٹیکل 17 ایسوسی ایشن بنانے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس حوالے سے قانون سازی میں قدغن ہے اور حکومت انہیں کسی حد تک روک سکتی ہے۔ 1964 کا گورنمنٹ سرونٹ کنڈکٹ رول ہے جس میں ایسوسی ایشن سازی کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔جب ملک میں جمہوریت، سسٹم کی بہتری کے عمل کی بات کی جائے توتنظیم سازی اور سیاسی عمل بہت ضروری ہے۔ جمہوری ملک اورمعاشرے میں تنظیم سازی بہت اہمیت رکھتی ہے اور ٹریڈ یونینز جمہوری اداروں کی نرسری کا کام کرتی ہیں۔ جہاں تنظیم سازی کا حق نہیں رہتا وہاں جمہوریت کا بھی کوئی جواز نہیں ہوتا اور نہ ہی وہاں جمہوریت کی بات کی جاتی ہے اس لیے میرے نزدیک یونین سازی کے حق کے حوالے سے کوئی دورائے نہیں ہے یہ سب کا بنیادی انسانی حق ہے۔ پاکستان میں ایسے بہت سارے ادارے ہیں جہاں یونین سازی کی اجازت نہیں ہے یونین سے خطرہ ان عوامل کو ہے جو مزدوروں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ مزدور اپنے استحصال پر چپ رہے، تقسیم در تقسیم ہو جائے اورپھر سرمایہ داروں کی حکمرانی آسان اوردیر پا ہو جائے۔یونینز کام کی جگہ پر تحفظ، کم از کم تنخواہ پر عملدرآمد، مستقل ملازمت، ٹرانسپورٹ و دیگرمسائل کے حل کے حوالے سے کام کررہی ہیں ٹریڈ یونینز کو قابل لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ کسی بھی محکمے میں نقصان کا الزام یونین پر لگا دیا جاتا ہے جبکہ انتظامیہ بری الذمہ ہوجاتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ٹریڈ یونینز مل بیٹھیں، نجکاری کے خلاف جوائنٹ پلیٹ فارم پر ایک موقف اختیار کریں اور اپنے نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، عوامی مسائل اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے متحد ہوجائیں۔ ٹریڈ یونینز جمہوری ادارے ہیں لیکن نیو لبرل ازم کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں این جی اوز کو سپورٹ کیا جانے لگا اور ان عوامل کی وجہ سے آزاد ٹریڈ یونینز کو نقصان پہنچاہے۔ ہمارے ملک میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور لوگوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ جاگیردارانہ نظام ہے اور اس نظام کی وجہ سے مزدور اپنے حقوق سے محروم ہے۔ جاگیردار اور سرمایہ دار یونین سازی کے خلاف ہیں کیونکہ جہاں مزدور مضبوط ہوتا ہے وہ اپنی بات منوا لیتا ہے لیکن اگر یونین نہ ہو تو سرمایہ دار اپنی من مانی کرتا ہے اور مزدور کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جاگیردار یونین نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لیبرقوانین کو نظرانداز کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ جہاں یونین نہیں ہے وہاں مزدوروں کی تنخواہ کم ہے، صحت کی سہولیات نہیں ہیں، جان کا تحفظ نہیں ہے، وہاں چائلڈ لیبر بھی ہے اور مزدوروں پر ظلم بھی ڈھائے جاتے ہیں لیکن جہاں یونین موجود ہے وہاں کس حد تک محنت کش کو ریلیف ملتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں محنت کش کوبرابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا اور اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ مزدور اگر کوئی احتجاج کرتا ہے تو ریاست کے ادارے اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن اگر سرمایہ دار احتجاج کریں تو حکومت خود ان سے مذاکرات کیلئے رابطہ کرتی ہے۔ افسوس ہے کہ ملک بھر میں لیبر قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جبکہ اپنے حق کیلئے احتجاج کرنے والے کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ بہت سارے اداروں میں مزدور کو بہت کم اجرت دی جاتی ہے اور بغیر حفاظتی انتظامات اور سہولیات کے مزدوروں سے دن رات کام لیا جاتا ہے جو باعث افسوس ہے، حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ یہ باعث افسوس ہے کہ جب بھی مزدور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو اس پر بلیک میلنگ کا الزام لگا کر منفی پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے تاکہ شکوک شہبات پیدا کئے جاسکیں۔ آئین کے آرٹیکل ILO,17-A کنونشن اور جی ایس پی پلس سٹیٹس کی وجہ سے حکومت کی یہ عالمی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں کو یونین سازی کا حق دے لیکن اگر حکومت یہ حق نہیں دیتی تو اقوام متحدہ کا ڈکلیئریشن کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ٹریڈ یونین قومی وحدت پیدا کرتی ہے اور مزدور رنگ، نسل، مذہب و لسانیت سے بالاتر ہو کر اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں۔ افسوس ہے کہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مزدوروں کے مسائل سننے کیلئے کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی، اراکین اسمبلی اپنی تنخواہ تو دگنی کر لیتے ہیں لیکن مزدور کہاں جائیں؟ لیبر قوانین عملدرآمد کرواناحکومت کی ذمہ داری ہے، لاکھوں مالکان ہیں جبکہ لیبر انسپکٹر صرف 569 ہیں لہٰذا ایسے حالات میں عملدرآمد کیسے کروایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیںآج ورکروں کا ملک میں جتنی بری صورتحال ہے وہ نہ تو ماضی کے فوجی اور جمہوری حکومتوں میں ہوا ہے کیونکہ اس وقت ملک میں پانچ لیبر قوانین(انڈسٹریل ریلشنز ایکٹ) نافذ العمل ہیں جس سے عدالتیں ، وکلاء اور لیبر لیڈران سب کنفیوز ہے۔ اور آج تک موجودہ جمہوری گورنمنٹ نے سہ فریقی لیبر کانفرنس جو کہ دور میں ہوا کرتی تھی نہیں بلایا جس کی وجہ سے لیبر لاز میں مختلف ابہام پایا جاتا ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک یونین یا فیڈریشن کے بنیادی فوائد کیا ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: یونین اورفیڈریشن ایک ایسا جمہوری ادارہ اور تنظیم ہے جس میں جدید علوم محنت کش طبقات میں اعلیٰ کارکردگی ، سماجی تحفظ، تحفظ ملازمت، صنعتی امن و ترقی، مسائل کا باہم گفت و شنید سے حل، آجر واجیر کے مابین بہتر تعلقات، کارکردگی میں اضافہ، شعورمیں بیداری اور منظم ہونے کے فوائد ہیں۔
سوال: آپ کے خیال میں ٹریڈ یونین رہنماؤں میں کس طرح کی صلاحیتیں ہونی چاہئیں؟
میاں محمد سلیم اختر: ٹریڈ یونین رہنمایالیڈرکو صاف گو، نڈر، بے باک اور اچھی خوبیوں کامالک ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بات کرنے میں یہ تاثر ہونا چاہیے کہ وہ ورکروں کو منظم کر سکیں۔
سوال: مالکان کا کہنا ہے کہ یونین کا قیام درست نہیں آپ کیا کہیں گے؟
میاں محمد سلیم اختر:مالکان کبھی بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کا سرمایہ کم ہو، اسی لیے اُن کی یہ کوشش ہے کہ کم سے کم اجرت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کما سکے جبکہ اس کے برعکس یونین کی یہ کوشش ہے کہ مالکان اور محنت کشوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکے تاکہ دونوں جانب توازن ہو اور آجر و اجیر کے درمیان معاملات گفت و شنید کے ذریعے حل ہوں تاکہ صنعتی امن برقرار رہے۔
سوال: ILO کا پاکستان میں کیا کردار ہے؟
میاں محمد سلیم اختر: عالی ادارہ محنت (ILO)پوری دنیا میں محنت کشوں کے فلاح و بہبود اور ٹیکنیکل ادارہ ہے اور ILO کے منشور میں شامل ہے کہ ILO for all لیکن بد قسمتی سے بعض نام نہاد لیڈر مزدور کے اس اہم ادارے کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ جس سے ملک میں دیگر فیڈریشنوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور یہ ان کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے اور ہماری تنظیم نے ہر فورم پراس امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
سوال: محنت کشوں کے وہ کون سے اہم مسائل ہیں جو حل طلب ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: پاکستان میں ایسے بہت سے ورکرز ہیں جو یونین کے حق سے محروم ہیں(CBA) کا تناسب بھی انتہائی کم ہے اور ملک کے بیشتر ورکرز EOBI اور سوشل سکیورٹی کے نیٹ میں Cover نہیں ہیں لہٰذا تمام ورکروں کو EOBI اور سوشل سکیورٹی میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے۔یہ کہ اس ملک میں 3% مزدور آرگنائز تھے مگر سرمایہ دار کے جبر کے نتیجے میں یہ 1% رہ گیا ہے وہ بھی مالکان کے ظلم و بربریت سے آزادنہ ٹریڈ یونین نہیں کرسکتے۔
سوال: سرکاری ملازمین کی گروپ لائف انشورنس جو کہ ملازمین کی تنخواہوں سے سکیل کے حساب سے کٹوتی کی جاتی ہے ،کیا وہ ریٹائر منٹ کے بعد ملازمین کو ملتی ہے؟
میاں محمد سلیم اختر: اگر کوئی ملازم دورا ن ڈیوٹی وفات پاتا ہے تو اس کا معاوضہ اس کے لواحقین کو ادا کیا جاتاہے۔ ہمارا مطالبہ حکومت سے یہ ہے کہ ملازمین کی ریٹائرمنٹ پر ان کی گروپ انشورنس ادا کی جانی چاہے۔اس سلسلے میں بلوچستان کی حکومت ملازمین کی ریٹائرمنٹ پر ان کی گروپ انشورنس ادا کرتی ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ مرکز اور باقی صوبے بھی اس پر عمل کریں۔ہماری فیڈریشن ان قریب اس حوالے سے ایک رٹ سُپریم کورٹ میں دائر کرنے والی ہے۔
سوال: ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
میاں محمد سلیم اختر: ملازمت پیشہ خواتین کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بالخصوص پرائیویٹ سیکٹر میں ان کی تنخواہیں مرد کارکنان کے مقابلے میں نہایت کم ہوتی ہیں، جاب سکیورٹی نہ ہونے کے برابرہے، آنے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے شدید مشکلات کا شکاررہتی ہیں جس کی ایک وجہ ٹریڈ یونین میں نمائندگی کا نہ ہونا بھی ہے۔
سوال: آپ کی تنظیم نے مزدوروں کے مسائل حل کرانے میں اب تک کیا اقدامات کئے ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: آل پاکستان لیبر فیڈریشن نے محنت کشوں کی فلاح و بہبوداور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اقدامات کئے ہیں۔ہم نے محنت کش طبقے کے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے اورکر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی لیبر قوانین ILOکنونشنز، UDHR اور دیگر لیبر قوانین پر عملدرآمد کرانے کیلئے جدوجہد کی ہے، محنت کشوں کیلئے بہتر روزگار (Decent Work)، صحت و سلامتی، حق تنظیم سازی، اجتماعی سوادا کاری سے متعلق بنیادی آگاہی اوربہت سے غیر منظم محنت کشوں کو منظم کیا ہے جس سے کافی محنت کشوں کے مسائل میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ملک میں ورکروں کے بچوں کو PHD تک کی تعلیم بذریعہ سکالر شپ منظور کروایا۔ ویلفےئر اداروں میں پرائیویٹ سیکٹر کے ورکروں کے بچوں کو ملازمتوں میں 25%کوٹہ رکھوایا۔ میرج گرانٹ 30ہزار سے بڑھا کر کے ایک لاکھ روپے کروایا۔ ڈیتھ گرانٹ کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ کرایا۔ چار وں صوبوں بمعہ اسلام آباد میں ایک ایک میڈیکل کالج منظور کرایا جہاں پر 50% ورکروں کے بچے مفت تعلیم حاصل کرینگے۔
سوال: مزدوروں کیلئے کم ازکم اجرت جو حکومت مقرر کرتی ہے وہ ملتی بھی ہے یا نہیں اور اگر مل جائے تو کیا وہ ضروریات بھی پوری کرتی ہے؟
میاں محمد سلیم اختر: بعض اداروں میں حکومت وقت کی طرف سے مقرر کردہ کم سے کم اجرت نہیں ملتی مثلاً سکیورٹی ادارے، پرائیویٹ، ہسپتال، اخبارات، پرائیویٹ ٹیچرز، زرعی ورکرز اور دیگر پرائیویٹ اداروں کے ورکرز خصوصاً فی میل سٹاف اور یقیناًاس غیر معقول تنخواہ سے ضروریات زندگی پوری نہیں ہوتی۔
سوال: مزدور مسائل کس طرح حل کئے جا سکتے ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: جب تک ورکر تحریک سے ورکروں کے بھیس میں چھپے مالکان، ٹھیکیداران اور مختلف محکموں کے افسران نہیں نکالے جاتے اس وقت تک مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ دیکھیں ILO کی گورننگ باڈی میں پچھلے Tenure میں ایک MBBS پروفیشنل لیڈی ڈاکٹر پاکستان کے ورکروں کی نمائندگی کر رہی تھی اور اب جو صاحب نمائندگی کر رہے ہیں اس کے متعلق بھی سوالیہ نشان بنا ہے کہ وہ ورکر ہے یا نہیں کوئی یہ معلوم تو کرے۔ محنت کشوں کیلئے اسمبلی میں مخصوص سیٹیں ہونی چاہئیں اور ہرمعاملے پر مشاورت سہ فریقی (آجر، اجیر اور حکومت کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹی) کے ذریعے کانفرنس کا انعقاد ہونا ضروری ہے۔ اس وقت مزدوروں سے متعلق 70 سے زیادہ قوانین ہیں جن کا علم عام اور ان پڑھ مزدوروں کو نہیں ان تمام قوانین کو جامع شکل دے کر کم سے کم چھ قوانین میں ضم کیا جائے گا تاکہ مزدور نمائندے اور عام مزدور بھی اپنے فرائض اور حقوق سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا یہ خاصہ ہے کہ وہ کم از کم اخراجات میں زیادہ منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اگر مزدوروں کو حصہ دار بنایا جائے تو وہ زیادہ محنت اور اعلیٰ کارکردگی سے پیداوار میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔ صنعت کی ترقی ہو گی ملکی معیشت بھی مضبوط ہو گی اور محنت کش بھی خوشحال و آسودہ ہوں گے۔
سوال: آپ کے خیال میں ٹریڈ یونین کی بحالی کس طرح ممکن ہے؟
میاں محمد سلیم اختر:ٹریڈ یونین میں سوچ و فکر اور نظریہ ختم ہو رہا ہے جب تک صحیح معنوں میں ورکروں کی نمائندگی ورکروں کے پاس نہیں آتی اس وقت تک ٹریڈ یونینزکی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑائی کے ساتھ ساتھ ٹریڈ یونینز میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے اور ٹریڈ یونین تحریک کا دائرہ کر بڑھانا ہو گا۔
سوال: نجکاری کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: ملک میں سرمایہ داروں کی حکومت ہے جو اداروں کو بہتر کرنے اور ان میں اصلاحات لانے کے بجائے ان کی نجکاری کر رہے ہیں۔ پہلے واپڈا کی نجکاری کی کوشش کی گئی لیکن یونین نے اس پر احتجاج کیا، اگر یونین نہ ہوتی تو اب تک واپڈا کی بھی نجکاری ہو چکی ہوتی۔ اسی طرح پی آئی اے کی نجکاری ہے۔ میرے نزدیک اداروں کی نجکاری کا تجربہ پاکستان میں ناکام ہو چکا ہے، یہ سرمایہ داروں کی یونین کے خلاف سازش ہے کیونکہ جس بھی ادارے کی نجکاری ہوئی وہاں مزدوروں کا استحصال ہوا اور سرمایہ دار مضبوط ہوئے۔
سوال: پاکستان میں بہت سے ادارے اور محکمے محنت کش طبقے کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں آپ ان کی کارکردگی سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: اگر حکومت کی پالیسی مزدور دوست ہو گی تو یہ ادارے لوگوں کے آنسو پونچھنے کے قابل رہیں گے، فی الوقت تو حکومت کی تمام تر پالیسیاں اورمحنت کش طبقے کے حقوق کیلئے سرگرم ادارے سرمایہ داروں کے حق میں ہیں۔ کتنا افسوس ہے کہ آج ہم یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہیں کہ آئی آر او میں بہتر ترامیم کر دو جب یہ ترمیم آتی ہے تو پہلے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے جب ہم غلام تھے اور انگریز کا جو ٹریڈ یونین ایکٹ تھا آزادی کے70سال بعد دیکھیں تو وہ آج سے بہتر محسوس ہوتا ہے اور یہ مزدوروں کے حق میں تھا۔ یہ ادارے تو صنعتکاروں کے ایڈوائزر ہیں انہیں تحفظ دیتے ہیں مزدوروں کو کارخانوں سے نکلوانے، انہیں حقوق سے محروم کرنے میں ان کا بھی کردار ہے۔
سوال: سوشل سیکورٹی کی انتظامیہ کروڑوں روپے کا بجٹ مزدوروں پر خرچ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے سوشل سیکورٹی کے اقدامات سے محنت کش طبقے کو کس حد تک فائدہ پہنچتا ہے؟
میاں محمد سلیم اختر:سوشل سیکورٹی میں کچھ بہتری ضروری پیدا ہوئی ہے ادویہ اور علاج کی سہولتیں بڑھی ہیں لیکن پوری دنیا میں سوشل سیکورٹی کا جو تصور ہے اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں برائے نام ہے محنت کشوں کے جو مسائل اور پریشانیاں ہیں ان کے حوالے سے انہیں کوئی خاطر خواہ مدد نہیں ملتی۔ اگرکسی کارخانے میں 1200 مزدور کام کرتے ہیں لیکن سوشل سیکورٹی کے ادارے کے افسران کی ملی بھگت سے چند مزدوروں کی بھی رجسٹریشن نہیں ہوتی۔ جب کہ لیبر ویلفیئر فنڈ نے لیبر ویلفیئر اسامیوں کو بھی سوشل سیکورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ میں رجسٹریشن سے نتھی کر دیا ہے جب ان میں اجرا نہیں ہو گا وہ ورکرز ویلفیئرفنڈ اور صوبوں میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کو موت پر گرانٹ، جہیز گرانٹ، اسکالر شپ جیسی ویلفیئر اسکیموں کے لیے درخواست نہیں دے سکے گا۔ سوشل سیکورٹی کے ادارے اورصنعتوں کی انتظامیہ کی ملی بھگت کے نتیجے میں مزدورنقصان اٹھاتا ہے۔ علاج سے محروم رہتا ہے اسے بی ٹی فارم نہیں ملتا۔ اور اسے پنشن اولڈ ایج سے نہیں ملتی ملک بھر کی مزدور فیڈریشنوں کا یہ متفقہ مطالبہ رہا ہے کہ سوشل سیکورٹی کی اگر رجسٹریشن 100 فیصد نہیں ہو سکتی تو اس میں ہر سال اضافہ تو ہونا چاہیے 80 فیصد تک رجسٹریشن کرنی چاہیے کیونکہ آجر اتنا طاقتور ہے کہ آپ اس سے مکمل قانون پر عمل نہیں کرا سکتے۔
سوال: پاکستان میں ٹریڈ یونین بے بسی کی تصویر نظر آتی ہے کیایہ قوانین کی وجہ سے ہے یا پھر لیبر لیڈر اس کے ذمہ دار ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: ہر پیشے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں میں نہیں کہتا کہ سب لیبر لیڈر فرشتے ہیں ہر طرح کے افراد ہیں۔ جو برے ہیں ورکر کسی وقت بھی ان کا محاسبہ کر سکتے ہیں ان کے پلے کچھ نہیں ہے۔ پاکستان میں قومی ملکیت کے ادارے ٹریڈ یونین میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے لیکن جتنے اداروں کی نجکاری کی گئی ہے اس میں آجر نے سب سے پہلے کام یہ کیا کہ سب پرانے لوگوں کو نکال دیا اور ٹریڈ یونین کو توڑ دیا اور کنٹریکٹ کے مزدوروں کے ذریعے اسے چلا رہے ہیں پھر یہ بھی ہوا کہ ان اداروں سے حکومت کو جو اربوں کا ٹیکس ملتا تھا وہ ایک فیصد تک رہ گیا۔ طاقتور ٹریڈ یونین قومی ملکیت کے اداروں میں تھیں لیکن نجکاری نے ٹریڈ یونیز کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ہماری بہت بڑی صنعت ٹیکسٹائل ہے۔ اس پوری صنعت میں گروپ سسٹم اور ٹھیکیداری سسٹم رائج ہے وہاں یونین بنا نہیں سکتے چھوٹے چھوٹے اداروں میں پہلے ہی یونینز نہیں تھیں اس طرح حکومت کی سرپرستی میں ٹریڈ یونیز کو کمزور کر دیا گیا ہے جو ٹریڈ یونین کچھ کام کرتی رہیں ان کی اپنی لیڈری اور اثرو رسوخ سے کچھ ٹریڈ یونیز بنیں لیکن حکومت کی پالیسی ٹریڈ یونیز کے حق میں نہیں ہے۔
سوال: مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بتائیں کہ اس وقت پاکستان میں محنت کش طبقہ کس حال میں زندگی گزار رہا ہے؟
میاں محمد سلیم اختر:ہمارے ملک کا محنت کش طبقہ ظلم کی چکی میں پس رہا ہے اور آئے روز افراط زر کی وجہ سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے محنت کش کی قوت خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے دوسری افسوس ناک بات یہ ہے کہ فیکٹریوں پر اس قدر زیادہ ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں کہ فیکٹری مالکان فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اس میں بہتری پیدا کرنے اور ملک کو ترقی دینے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کوشش کرنا ہو گی اور اگر اس میں کوئی بہتری پیدا نہیں کی گئی تو ہم اپنے ملک اور محنت کش کی حالت کو تبدیل نہیں کر سکیں گے یہاں جو بھی حکومت برسر اقتدار آئی ہے وہ محنت کشوں کے ہی ووٹوں سے برسر اقتدار آئی ہے۔لیکن اقتدار میں آکر مزدور طبقے کو بھول جاتی ہے۔ ہمارے ہاں برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں نے مزدور دشمن پالیسیاں مرتب کیں جن کی وجہ سے محنت کش طبقہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔
سوال: پاکستان میں برسراقتدار میں آنے والی حکومتیں مزدوروں کی بنیادی تنخواہیں مقرر کرنے کے اعلانات کرتی ہیں، آپ یہ بتائیں کہ کیا ان پر عمل بھی ہوتا ہے یا پھر یہ محض اعلانات ہی ہوتے ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر:اس کا اطلاق صرف اعلانات تک ہوتا ہے۔ ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے جو اس پر عمل کرائے۔ اس پر عمل کرانے کی حکومت کی نیت بھی نہیں ہوتی 100میں سے ایک ادارہ ایسا ہو گا جہاں ٹریڈ یونین مضبوط ہے، وہ اپنے بل بوتے پر سودے بازی کی قوت سے ضرور یہ دلا دے گی لیکن 80فیصد لوگوں کو یہ تنخواہ نہیں ملے گی جہاں لوگوں کو تقرری کا لیٹر نہ ملے، اگر کسی کارخانے میں 1200 آدمی کام کرتے ہیں تو سوشل سیکورٹی میں مشکل سے 200 رجسٹرڈ ہوتے ہیں ، اولڈ ایج کے ادارے میں جب اتنے بھی رجسٹرڈ نہیں ہیں تو کیا کریں۔ آج پاکستان بھر کی تمام لیبر فیڈریشنوں کا یہ متفقہ مطالبہ ہے کہ تقرر نامے دلا دیں لیکن کوئی نہیں دلاتا۔
سوال: حکومت نے جب محنت کش طبقے کی بنیادی تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا تو میں نے اس حوالے سے صنعتکاروں کے نمائندوں سے بات کی تھی ان کا موقف تھا کہ15 ہزار روپے کی کم از کم تنخواہ پر عمل سے کارخانوں میں پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔ اگر حکومت مزدوروں کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو کارخانوں میں فیئر پرائس شاپس کھولے؟
میاں محمد سلیم اختر: ملک بھر کے لیبر لیڈرز اور محنت کشوں کو 15 ہزار کی بنیادی تنخواہ قبول نہیں ہے۔ یہ کوئی تنخواہ ہے۔ یہ تو مسخرہ پن ہے۔ مزدوروں کے ساتھ مذاق ہے اس مہنگائی کے دو میں15 ہزار بنیادی تنخواہ مزدور کی توہین ہے۔ میاں بیوی اور دوو بچوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فیملی بھی مہنگائی کے اس دور میں اس تنخواہ پر گزارا نہیں کر سکتی۔ بد قسمتی کی بات تو یہ ہے کہ سرمایہ دار مزدور کو 15ہزار بنیادی تنخواہ بھی دینے کو تیار نہیں ہے۔
سوال: بطور ایک ٹریڈ یونین لیڈر آپ محنت کش طبقے کی بھلائی کیلئے حکومت سے کیا مطالبہ کریں گے؟
میاں محمد سلیم اختر: میں چاہتا ہوں کہ حکومت محنت کشوں کو ان کا حق دے جو نہیں مل رہا اس مہنگائی میں محنت کشوں کو دو ٹائم کھانے کو نہیں مل رہا حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث مہنگائی میں دو سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کیلئے ملک سے مہنگائی ، بے روزگاری ، دہشت گردی اور مزدور کش قوانین کا خاتمہ لازمی ہے ملک کے صنعتی ادارے حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے ساٹھ فیصد بند ہو چکے ہیں ۔ ملک سے مہنگائی ، بے روزگاری کو فوراً ختم کیا جائے۔ محنت کشوں کو فوری ریلیف دیا جائے ۔ محنت کش طبقہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے جبرو استحصال کاسب سے زیادہ شکار ہے لہٰذابلا امتیاز تمام غیر ہنر مند محنت کشوں کارکنوں کی کم از کم تنخواہ30ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے اور افراط زر سے منسلک کیا جائے محنت کشوں کے اوقات کار میں کمی کی جائے اور ان کیلئے رہائشی کالونیاں تعمیر کی جائیں، 60سال سے زائد عمر کے شہریوں کو کم از کم15ہزار روپے ماہانہ بڑھاپا الاؤنس دیا جائے بنیادی ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ بند کیا جائے۔ بجلی، گیس، پٹرول، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ بنیادی استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی جائے۔
سوال: آپ کے نزدیک جاگیردار اور صنعت کار ملک کی ترقی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟
میاں محمد سلیم اختر: اگر غیر جانبداری سے اس کا تجزیہ کیا جائے تو صنعت کار ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ صنعت کار کا ذہن انڈسٹری لگانے کی طرف مرکوز ہوتاہے اور جب ایک انڈسٹری لگائی جاتی ہے تو کئی خاندانوں کو روزگار ملتا ہے،جس سے بے روزگاری کم ہوتی ہے اور لوگوں میں خوشحالی آتی ہے اس کے برعکس جو جاگیردار ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ غلہ اگاتے ہیں جس سے ہمارے ملک کے عوام مستفید ہوتے ہیں لیکن وہ ایک ٹریکٹر اور تھریشر کے ذریعے تقریباً چھ سات آدمیوں کی مدد سے چند دنوں میں کام ختم کر دیتے ہیں اس کے بعد وہی لوگ دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں لیکن صنعت کاری ایک مستقل عمل ہے جس میں آئے روز محنت کشوں کی تعداد بڑھتی ہے اس لئے حکومت کوچاہیے کہ وہ انڈسٹری لگانے کی طرف بھرپور توجہ دے تاکہ ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے۔
سوال: صنعتی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی صحت اور سلامتی کے سلسلے میں حکومت اور صنعتوں کی انتظامیہ کی طرف سے جو اقدامات کئے جاتے ہیں آپ ان پر کیا تبصرہ کریں گے؟
میاں محمد سلیم اختر: بد قسمتی سے محنت کشوں کی صحت و سلامتی کے حوالے سے پرائیویٹ سیکٹر میں جواقدامات کئے جاتے ہیں وہ برائے نام ہوتے ہیں۔ اگر اقدامات اچھے ہوتے توماضی میں گڈانی ، کراچی اور لاہور میں محنت کش زندہ نہ جلتے۔ مالکان لیبر قوانین کی سرعام دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے منافع میں اضافے کیلئے محنت کشوں کا شدید استحصال کررہے ہیں۔ تاہم محنت کش ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں تو ملازمت سے برطرفی کے علاوہ دہشت گردی ایکٹ جیسے اوچھے ہتھکنڈوں کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی سنوائی کسی عدالت میں نہیں ہوتی۔پاکستان میں پیشہ وارانہ صحت و سلامتی کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جس کے پیچھے وہ لبرل معاشی پالیسیاں بھی ہیں جنہوں نے بڑے محفوظ اداروں کو چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں میں تبدیل کر دیا ہے جو نہ صرف رہائشی علاقوں میں قائم ہو جاتی ہیں جن میں کنٹریکٹ اور ٹھیکہ داری سسٹم کوخوب پروان چڑھایا جا رہا ہے اور نتیجے کے طور میں محنت کشوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیبرقوانین کی کھلے عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں یوں بھی پاکستان میں 1934 کے فیکٹری ایکٹ کے تحت ملازمت کے قواعد:
(Occupation Rule 1963 Hazardous) کے علاوہ صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کوئی الگ سے آزاد قانون نہیں بنایا گیا یعنی محنت کشوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کیلئے حکومتی ادارے، مالکان اور پولیس سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں لیبر ڈپارٹمنٹ جسے لیبر یعنی محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بنایا گیا ہے مکمل طور پر مالکان کو تحفظ رفراہم کر رہا ہے البتہ محنت کشوں پر مزید شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی لہٰذا بڑے سانحات کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام فیکٹریوں کو رجسٹرڈ کیا جائے لیبر انسپکشن کو موثر طریقے سے یقینی بنایا جائے مزدوروں کو یونین سازی کا حق دیا جائے صحت و سلامتی کو یقینی بنایا جائے، رہائشی علاقوں سے فیکٹریوں کو صنعتی علاقوں میں منتقل کیا جائے۔
سوال: ماضی میں بعض صنعتی یونٹس میں ہونے والے سانحات کے بعد مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے آپ حکومت کو کیا تجاویز یں گے؟
میاں محمد سلیم اختر:سانحات سے بچنے کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کرنی چاہیں کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں لیبر رجسٹریشن ونگ قائم کریں تاکہ ملک بھر میں کام کرنے والے مزدوروں کا کمپیوٹرائز ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کرنے کے بعد حکومت انہیں سمارٹ لیبر رجسٹریشن کارڈ جاری کرے اس کارڈ میں مزدوروں کے کوائف کا اندراج ہواور اس کارڈ کی بدولت انہیں مختلف سہولیات فراہم کیں جائیں۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ تمام صوبائی وزراء اعلیٰ کو ہدایات جاری کریں کہ وہ اپنے اپنے صوبوں کے محکمہ محنت میں لیبر رجسٹریشن ونگ قائم کریں اس ونگ کا سربراہ گریڈ 20 کا آفیسر ہو۔ اس ونگ کے تحت چاروں صوبوں کے ہر ضلع میں لیبر رجسٹریشن آفیسر کا تقرر کیا جائے لیبر رجسٹریشن افسران محکمہ محنت کے افسران کے ساتھ مل کر فیکٹریوں اور ملز کے دورے کریں اور وہاں کام کرنے والے افسران اور مزدوروں کے کوائف جمع کئے جائیں اور پھر ان کی جسٹریشن کی جائے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی جائیں کہ وہ مزدوروں کی رجسٹریشن کیلئے صنعتی اور کاروباری اداروں کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کریں اور رجسٹریشن کا طریقہ کار ان کی مشاورت سے تشکیل دیا جائے اس رجسٹریشن کے ذریعے مختلف پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے تاکہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں ان افراد کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجا سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صحت تحفظ ، سلامتی اور ماحولیات کے شعبے کو محکمہ محنت، صنعت کاروں اور مزدور لیڈروں نے اپنے اپنے طور پر نظر انداز کیا ہوا ہے۔اس کی اہمیت و افادیت اور اس کے مضر اثرات پر کبھی سنجیدگی سے تدارک کیلئے کوئی نتیجہ خیز کارروائی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تمام ٹریڈ یونیز لیڈروں کوچاہیے کہ وہ متحد ہو کر ’’صحت، پیشہ ورانہ تحفظ سلامتی ایکٹ‘‘ کا مسودہ تیار کریں اور اس مسودہ قانون کو پارلیمنٹ اور سینٹ سے منظور کرانے کی کوشش کریں۔ محنت کش منظم ہو کر ہی اپنے مسائل حل کروا سکتے ہیں۔
سوال: دیکھنے میں آیا ہے کہ مزدور رہنما اپنے ادارے کے وسائل کو بڑھانے کی بجائے اپنی قیادت کو برقرار رکھنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور ان کا یہ رویہ نا تو ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں سودمند ثابت ہوتاہے اور نہ ہی ورکروں کے مفاد میں آپ کا اس ضمن میں کیا خیال ہے؟
میاں محمد سلیم اختر: اس میں کوئی شک نہیں کہ مزدور تنظیموں کے علاوہ سیاست میں بھی ایسی دوہری شخصیات گھس آئی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک اورمزدوروں کو بھی نقصان ہو رہا ہے میرا ایمان ہے کہ اگر مزدور تنظیمیں اپنی قیادت کے ساتھ اپنے اداروں کی نیک نامی اس کی خوشحال اور وسائل بڑھانے پر دیانتداری محنت اورلگن سے اپنی توانائیاں صرف کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ادارے کی خوشحالی کے ساتھ مزدوروں کا تحفظ اور اس کے حالات کار اس کے تابناک مستقبل کی ضمانت نہ بن سکیں۔
سوال: کیا کوئی ایسا فورم ہے جو محنت کشوں اور صنعت کاروں کو ایک ساتھ بٹھا کر ان کے مسائل حل کرانے میں کردار ادا کر سکے؟
میاں محمد سلیم اختر: اس حوالے سے ایک فورم بنا ہے جس کا نام ورکرز ایمپلائرز بائی لیٹرل کونسل آف پاکستان (ویبکوپ) ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ادارہ بنا ہے جو آجر اور اجیر کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ جس کا مقصد صنعتوں کو تباہی سے بچانا ہے اور محنت کش طبقہ کے مسائل آپس میں افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کرانا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ویبکوپ میں چند مفاد پرست لوگوں کے آنے سے ویبکوپ اپنے اصل کام سے ہٹ گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آجر و اجیر کے موثر کردار سے صنعتوں کو فروغ ملے گا اور مزدوروں کو روزگار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ آجر و اجیر صنعتی شعبہ کیلئے لازم و ملزوم ہیں اور ان کا اشتراک عمل ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ویبکوپ کو محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ و سلامتی کیلئے قانون سازی کے لیے سفارشات و مسودات کی تیاری کے ساتھ ساتھ ملک کے معاشی، تجارتی اور صنعتی مسائل پر پالیسی سازی، صنعتوں و سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مزید واقع کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سوال: پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن اس کے باوجود زرعی اجناس کی قلت دیکھنے میں آتی ہے آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
میاں محمد سلیم اختر: ملک میں اگر زرعی اجناس کی پیداوار نہ ہوتی تو ہمارا پورا نظام بیٹھ چکا ہوتا۔ ہم زراعت کی وجہ سے ہی چل رہے ہیں ہم صنعتی ملک تو کبھی تھے ہی نہیں۔ زرعی اجناس میں اضافے کی بہت گنجائش ہے لیکن زرعی اجناس کی اسمگلنگ کوئی روکنے والا نہیں۔ مارکیٹنگ کا نظام نہیں۔ ذخیرہ اندوزی ہے۔زرعی تحقیق کادائرہ کار بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: پاکستان گزشتہ چند برسوں سے توانائی کے بحران کا شکار ہے اس بحران سے نجات کس طرح ممکن ہے؟
میاں محمد سلیم اختر:پاکستان جیسے زرعی اور ترقی پذیر ملک کیلئے نئے آبی ذخائر بہت ہی ضروری ہیں۔ نئے ڈیموں کی تعمیر سے جہاں پر زراعت کیلئے خشک اور بنجر زمینوں کی سیرابی کیلئے پانی مہیا ہو گا اورزرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا وہیں پر نئے ڈیم بجلی کی پیداوار میں اہم کردار ادا کر کے لوڈشیڈنگ کے عذاب سے ملک کی عوام کو نجات دلائیں گے اور زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ صنعت میں انقلابی ترقی ہو گی ۔اگرنئے آبی ذخائر بن جاتے تو آج قوم آئی ایم ایف کی مقرو ض اور غلام نہ ہوتی اور ملک میں غربت کا نام و نشان نہ ہوتا سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور پاکستان کو خوشحال بنانے کیلئے نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے ۔
سوال: آپ اپنے محنت کش بھائیوں کو کیا پیغام دیں گے؟
میاں محمد سلیم اختر: میرا اپنے محنت کش بھائیوں کو یہی پیغام ہے کہ آپ جہاں بھی کام کرتے ہیں اپنے اپنے اداروں میں محنت اور ایمان داری سے اپنا کام سر انجام دیں اور تنظیم سازی پر توجہ دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے