Voice of Asia News

ہینڈی کرافٹس کی سمگلنگ,پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان:تحریر: جمال احمد

پاکستانی ’’ہینڈی کرافٹس‘‘ کی بڑی پیمانے پرسمگلنگ کے ذریعے قومی خزانے کو سالانہ ایک ارب روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں تیار کی جانے والی دستی مصنوعات جن میں ہاتھ کی کڑھائی والے سوٹ، شالیں، ہار بندے، جوتے، پرس، ٹوپیاں، اجرک، تلواریں، چاقوؤں کے دستے، پتھر اور مٹی کے برتن، مختلف شوپیس، جن میں لائٹ، لیمپ، گلدان، ایش ٹرے اور دیگر اشیاشامل ہیں پہلے مسقط اور ایران منتقل کی جاتی ہے اور بعدازاں انہیں دبئی کی منڈی میں جمع کر دیا جاتا ہے۔ پھر وہاں سے دستکاری کے ان اعلیٰ نمونوں کو دنیا بھر کے ممالک میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ متعلقہ اداروں کی غفلت اور چشم پوشی کے سبب اس غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد ملک کو قیمتی زرمبادلہ سے محروم کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سمگل کی گئی ان نفیس اور قیمتی ہینڈی کرافٹس پر دبئی پہنچنے کے بعد’’میڈ اِن‘‘ بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان کی مہریں لگا دی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک جانب تو ان اشیا کو پاکستان سے سمگل کر کے ملک کو ڈیوٹی سے محروم کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف دستکاری کے ان نادر نمونوں سے پاکستان کے بجائے دیگر ملکوں کا نام روشن کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہینڈی کرافٹس کا مجموعی بزنس 300 بلین ڈالر کا ہے، تاہم اس میں پاکستان کا حصہ صرف 5 سے 6 بلین ڈالر ہے جو کہ قانونی طور پر ہینڈی کرافٹس کی ایکسپورٹ سے مل رہا ہے ایکسپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں تیار کی جانے والی دستی مصنوعات (ہینڈی کرافٹس) کی تقریباً نصف سے زائد تعداد بیرون ملک سمگل کی جارہی ہے۔ اس دھندے میں پوری ایک بین الاقوامی مافیا ملوث ہے۔ جس میں بھارت سمیت خلیجی ممالک کے تاجر، پاکستانی کھیپی اور چند ایکسپورٹرز بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی دھندے میں اب اس قدر وسعت آگئی ہے کہ بیرون ملک کے تاجر یہ اشیا منگوانے کیلئے پاکستانی کھیپیوں کو زیادہ سے زیادہ رقم کا لالچ دے رہے ہیں۔جبکہ ذاتی مفاد کیلئے یہ کھیپی ملک کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملکی مصنوعات کی قانونی طریقے سے ایکسپورٹ بڑھانے اور سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان(TDAP) کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی مصنوعات کی پیداوار اور ان کی بیرون ملک ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے اقدامات کرے اور ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرے جو پاکستانی مصنوعات کو بیرون ملک منڈیوں میں ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔
ادارے کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کی مالی مشکلات سمیت دیگر مسائل کے حل میں بھی مدد فراہم کرے۔ تاہم ہینڈی کرافٹس کی سمگلنگ میں ملوث عناصر اس ادارے کے قوانین کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہینڈی کرافٹس کی سمگلنگ تین طریقوں سے کی جارہی ہے۔ اول یہ کہ ان مصنوعات کو ملک بھرخصوصاً دیہی علاقوں سے سستے داموں خرید کر ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے اور پھر انہیں بیرون ملک سمگل کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی مصنوعات کی ایران منتقلی کے لئے بلوچستان کے سرحدی علاقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ سمگلروں کے کارندے ساکر ان اور تافتان سمیت دیگر پہاڑی اور بیابانی علاقوں سے یہ اشیا ایران لے کرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے بھی یہ مال مسقط سمگل کیا جاتا ہے۔ ایران اور مسقط پہنچائی جانے والی اشیامقامی منڈیوں کی طلب کے مطابق وہاں چھوڑ کر بقیہ مال دبئی کی بڑی منڈی میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ یہی کام کھیپئے اور بعض ایکسپورٹرز بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان طریقہ کچھ مختلف ہے۔وہ کاغذات میں متعلقہ اداروں کو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ صرف ایک آئٹم لے کر جارہے ہیں لیکن ایک آئٹم کی آڑ میں وہ دیگر کئی چیزیں بھی بیرون ملک لے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک کھیپی یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہاتھ کڑھائی کے سوٹ لے کر جا رہا ہے ۔لیکن وہ اس کھیپ میں ایسے جوتے بھی لے جاتا ہے جن پر دیہی خواتین گھروں میں بیل بوٹے بٹاتی ہیں یا ان پر موتی اور نگ جڑے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موتیوں کے ہار، بندے، چوڑیاں، ٹوپیاں، پرس اور دیگر اشیا بھی اس کھیپ کی آڑ میں دبئی یا مسقط کی منڈیوں میں منتقل کر دی جاتی ہیں۔ اس طرح یہ قیمتی سامان ڈیوٹی ادا کئے بغیر دنیا بھر کی منڈیوں میں پہنچا دیا جاتا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستانی ہینڈی کرافٹس کی بیرون ملک کی منڈیوں میں بہت ڈیمانڈ ہے اس لیے ان کی سمگلنگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ سمگلنگ پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کریں اور ان قیمتی اشیا کی قانونی طور پر ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائیں تاکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکے اور ہینڈی کرافٹس بنانے والے گھریلو مزدوروں کو بھی ان کی محنت کے حساب سے معاوضہ ملے۔ ذرائع کے مطابق ہینڈی کرافٹس کی سمگلنگ کاایک طریقہ تھوڑا پیچیدہ ہے اس میں پہلے تو کام قانونی طریقے سے شروع کیا جاتا ہے تاہم بعد میں اسے غیر قانونی بنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان سے ہر سال درجنوں افراد خلیجی ممالک میں لگنے والے میلوں یا نجی سطح پر منعقد کئے جانے والے فیسٹیولز میں شرکت کیلئے یہاں سے دستی مصنوعات لے کر جاتے ہیں، وہاں جانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی ثقافت کو اُجاگر کرنے والے سٹالز لگائے جائیں اور ان سٹالز پر پاکستان کی مختلف علاقوں کی روایتی ثقافتی اشیا کو نمائش کے لیے رکھ کر غیر ملکیوں کو راغب کیا جائے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہاتھوں سے بنائی جانے والی اشیا اپنی مثال آپ ہوتی ہیں۔ بیرون ملک فیسٹیول کیلئے ملک بھر سے دستی مصنوعات جمع کر کے لیجائی جاتی ہیں اور انہیں اسٹالز پر رکھ کر آئندہ کے لیے مزید آرڈرز لئے جاتے ہیں۔ تاہم نمونے کے طور پرلئے جانے والی اشیا کو فروخت کرنے اور غیر ملکی تاجروں کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ اشیا ڈیوٹی کے بغیر لے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔لیکن بعض پروموٹر اور ایکسپورٹر یہ کام کرتے ہیں کہ ایک تو وہ ایسی اشیا مقدار سے زائد لے جاتے ہیں اور پھر پابندی کے باوجود انہیں وہاں فروخت کر کے آجاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی میں ہینڈی کرافٹس کی بہت مانگ ہے۔ کیونکہ وہاں دنیا بھر سے بڑی تعداد میں سیاح اور تاجر آتے ہیں اور یہاں سے کسی بھی قسم کا سامان دنیا کی کسی بھی منڈی میں بآسانی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دستکاری کے نمونموں کی کھپت یورپی اور امریکی سیاحوں کے سبب بحرین اور کویت کی منڈیوں میں بھی بہت زیادہ ہے، ذرائع کے مطابق اس وقت سمگلنگ مافیا کا ایک منظم نیٹ ورک ملک میں فعال ہے۔چونکہ پاکستان کے مختلف اشیا تیار کرتے ہیں۔ اس لیے اس نیٹ و رک سے وابستہ افراد ایسے کاریگروں کو سامان فراہم کر کے سستے داموں یہ اشیا بنواتے ہیں، جن میں ہاتھ کی کڑھائی کے زنانہ سوٹ، موتیو کے ہار، بندے، انگوٹھیاں، ٹوپیاں، چادریں، شالیں، اجرک، تلواریں اور چاقوؤں کے دستے، پتھر اور مٹی سے بنے ہوئے برتن اور مختلف شوپیس، جن میں لائٹ ،لیمپ، گلدان، ایشن ٹرے اور دیگر چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ان اشیا پر ماہر کاریگر ہاتھ سے پھول بوٹے بنا کر ان میں خوبصورت رنگ بھرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان، چنیوٹ اور راجن پور میں بننے والی مصنوعات دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں کیونکہ یہ اشیا اپنی خوبصورتی اور بناوٹ کے اعتبار سے انتہائی منفرد اور نفیس ہوتی ہیں، لیکن سمگل کئے جانے کے باعث ان ہنر مندوں کے ان شاہکاروں پر بھارت اور دیگر ممالک کی مہریں لگا دی جاتی ہیں۔جس سے بیرون ملک پاکستان کا امیج بن ہی نہیں پاتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں علاقائی سطح پر قائم چیمبرز کے اراکین کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے ان قیمتی اور منفرد چیزوں کی سمگلنگ کو ختم کر کے انہیں قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجا جائے،تاکہ ملک کو بھی فائدہ ہو اور ہینڈی کرافٹس تیار کرنے والے کاریگروں کو بھی ان کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے۔ موجودہ صورتحال میں کاریگروں کو ان کی بنائی ہوئی چیز کی مجموعی قیمت کا 3 فیصد بھی نہیں ملتا۔یہاں 50 روپے میں خریدا گیا ہار دبئی یا مسقط میں کئی ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ اس طرح گھروں میں جو خواتین کڑھائی والے سوٹ تیار کرتی ہیں وہ بمشکل 200سے 300روپے میں خریدے جاتے ہیں اور بیرون ملک ان کی بھاری قیمت وصول کی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں تیار کی جانے والی ہینڈی کرافٹس کی مختلف قسمیں ہیں۔ جن میں لکڑی سے بنائے گئے برتن، شوپیس اور فرنیچر شامل ہیں جن پر ہاتھوں سے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ براس میٹل ہینڈی کرافٹس میں لوہے، پیتل اور تانبے سے خوبصورت شوپیس اور دیگر اشیا بنائی جاتی ہیں جن کی تیاری کے تمام مراحل میں کوئی مشین استعمال نہیں کی جاتی۔ ٹیکسٹائل ہینڈی کرافٹس میں کڑھائی والے کپڑے، ٹوپیاں، اجرک، پھول دار چادریں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لیدر ہینڈی کرافٹس میں پرس، ٹوپیاں، جیکٹس سمیت دیگر اشیا شامل ہیں ۔ان میں تھر کی شالیں اور کارپٹس بھی شامل ہیں۔ جبکہ ملتان، راجن پور اور چنیوٹ میں تیار کیا جانے والا بون ورک اور کیمل لیدر ورک اپنی مثال آپ ہے۔ جس میں اونٹ کی کھال اور ہڈیوں سے خوبصورت شوپیس بنائے جاتے ہیں۔
jamalahmad50000@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے