Voice of Asia News

نماز اور جدید میڈیکل سائنس:تحریر: سید محمد کوثر شمسی

ہاتھوں کا کانوں تک اٹھانا
جدید تحقیقات کے مطابق ہم نماز میں ہاتھ کانوں اٹھاتے ہیں تو بازؤں، گردن کے پٹھوں اور شانوں کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے دل کے مریض کیلئے تو ایسی ورزش بے حد مفید ثابت ہوتی ہے جو کہ نماز پڑھنے سے خودبخود ہو جاتی ہے یہ ورزش عام حالات میں فالج کے خطرات سے بھی مکمل محفوظ رکھتی ہے۔

نماز میں قیام کرنا
نماز میں قیام سے دل کا بھار ہلکا ہو جاتا ہے کیونکہ وزن دونوں پاؤں پر متوازن پڑتا ہے اور آنکھیں سجدہ پر لگی رہنے سے بھی دل کی یکسوئی سہل ہو جاتی ہے انسان میں قوت مدافعت اور اعصاب میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔
نماز میں رکوع کرنا
رکوع میں کمر درد یا ایسے مریض جن کے حرام مغز میں ورم پیدا ہو گیا ہو بہت جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں نیز رکوع سے گردوں میں پتھری بننے کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور اگر پتھری بن گئی ہو تو رکوع کی حرکت سے بہت جلد نکل جاتی ہے رکوع کے عمل سے معدہ اور آنتوں کی خرابیاں اور پیٹ کے عضلات کا ڈھیلا پن ختم ہو جاتا ہے۔
نماز میں قومہ
رکوع کی حالت میں پالائی نصف بند جھبٹکے کی وجہ سے زیادہ خون پمپ ہوتا ہے اس طرح دوبارہ حالت قیام میں آجانے سے چہرہ اور سر کا دوران خون جو حالت رکوع میں بڑھ گیا قومہ میں نارمل ہو جاتا ہے جس سے شریانوں میں لچک کی استعداد بڑھنے سے ہائی بلڈپریشر اور فالج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
نماز میں سجدہ
جب نمازی سجدہ کرتا ہے تو اس کے دماغ کی طرف خون زیادہ ہو جاتا ہے جسم کی کسی بھی پوزیشن میں خون دماغ کی طرف زیادہ نہیں جاتا صرف سجدہ کی حالت میں دماغ، دماغی اعصاب اور سر کے دیگر حصوں کی طرف خون متوازن ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دماغ اور نگاہ بہتر ہو جاتے ہیں۔
نماز میں جلسہ کرنا
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا گھٹنوں اور پنڈلیوں کو مضبوط بناتا ہے اس کے علاوہ رانوں میں جو پٹھے اللہ تعالیٰ نے نسل بڑھوتری کیلئے بنائے ہیں ان کو خاص قوت حاصل ہو جاتی ہے جس سے مردانہ اور زنانہ کمزوریوں دور ہو جاتی ہیں تاکہ انسان دماغی اور جسمانی اعتبار سے صحت مند پیدا ہو۔
نما ز میں سلام پھیرنا
نماز کے اختتام پر ہم سلام پھیرتے ہیں اس عمل سے گردن کے عضلات کو طاقت ملتی ہے اور انسان ہشاش بشاش اور توانا رہتا ہے نیز سینہ ہنسلی کا ڈھیلا پن ختم ہو جاتا ہے۔ ان تمام باتوں کا باتوں کا فائدہ اس وقت پہنچتا ہے جب ہم نماز پوری توجہ دلجمعی پورے آداب اور سنت کے مطابق ادا کریں۔
shamsi46@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے