Voice of Asia News

اقوام متحدہ انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکام:تحریر : محمد قیصر چوہان

انسانی حقوق کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان کیونکہ جب انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا تو وہ رہن سہن کے طور طریقوں سے زیادہ آشنا نہیں تھا جوں جوں وقت گزرتا گیا اسے بہت سی چیزوں کا ادراک ہوا، دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا تصور پیدا ہوا اس طرح ایک منظم معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا۔ ریاست کا عام شہری ہونے کی حیثیت سے افراد پر جہاں ذمہ داریاں اور فرائض عائد ہوتے ہیں وہاں شہریوں کیلئے شہریت کے کچھ حقوق بھی متعین کئے گئے ہیں جب منظم معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی فرد کے حقوق کا احساس بھی پیدا ہوا اور جیسے جیسے معاشرتی زندگی میں فرد کی حیثیت نمایاں ہوتی رہی اس طرح انسانی حقوق کا تصور بھی نمایاں ہوتا رہا۔ حقوق معاشرتی زندگی کی وہ شرائط ہیں جن کے بغیر انسان اپنی شخصیت اُجاگر نہیں کر سکتا گویا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو ایسی سہولتیں فراہم کرے جس سے فرد اپنے مزاج اور صلاحیتوں کے مطابق اسے استعمال کر سکے، انسانی حقوق کو ریاست تسلیم کرتی ہے اور اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ انہیں نافذ کرے اور جب ان حقوق کو آئینی تحفظ مل جاتا ہے تو پھریہ بنیادی انسانی حقوق کی حیثیت اختیارکرتے ہیں یہ ساری کائنات اللہ کی تخلیق کردہ ہے خدا کی اس واحد تخلیق میں سب سے افضل انسان ہیں جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے آج صدیوں بعد جب انسان شعور کی ان منزلوں کو پہنچا ہے جہاں انسان اور انسانیت کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اقوام عالم نے انسانی حقوق کا نعرہ بلند کرنا شروع کیا ہے دنیا بھر میں بے شمار عالمی تنظیم وجود میں آئیں جو دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی سعی میں مصروف ہیں۔
دُنیا میں سب سے پہلے دین اسلام نے حقوق انسان کی بنیاد رکھی۔ دین اسلام نے چودہ سو سال قبل انسان کو نہ صرف انسانی حقوق کے تصور سے آشنا کیا بلکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی رحم کرنے کی تعلیم دی۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے تمام مخلوقات سے افضل ہے آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کو انسانیت کے اہم ترین منصب پر فائض کیا گیا۔ اسلامی معاشرہ ایک متوازن معاشرہ ہے اور اسلامی معاشرے میں والدین، اولاد، عورتوں،بچوں اور باہمی رشتوں کے درمیان حقوق کیلئے حقوق کا نہ صرف تعین کیا گیا ہے بلکہ افراد پر یہ ذمہ داری عائدکی گئی ہے کہ وہ احسن طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیں۔ انسانی حقوق میں سرفہرست زندگی کا تحفظ ہے اس لیے انسانی معاشرے میں انسانی حقوق فراہم کرنے کیلئے امن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسلام میں انسان کے جو حقوق ہیں وہ خدا کی طرف سے ودیت کردہ ہیں۔ دنیا کی کوئی مجلس قانون ساز اور حکومت ان کے اندر ردو بدل و ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہے اور نہ ہی ان انسانی حقوق کو واپس لینے یا منسوخ کر دینے کا کوئی حق کسی کو حاصل ہے۔ دین اسلام امن، سلامتی، بھائی چارے، رواداری، مذہبی ہم آہنگی، صبر و محبت اور فلاح و بہبود کا درس دیتا ہے۔ پیغمبر الزمان ؐ نے حجتہ الوداع کے موقع پر جو خطبہ ارشاد فرمایا تھا یہ خطبہ حقوق انسانی کا پہلا بین الاقوامی چارٹر تھا۔ انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام، وقار اور مساوات پر مبنی ہے۔ قرآن حکیم کی روح سے اللہ رب العزت نے نوع انسانی کو دیگر تمام مخلوقات پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔ حضور ؐ نے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا کہ ’’اے لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ کسی عربی کو غیر عرب پر اور کسی غیر عرب کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت حاصل ہے۔ سوائے تقویٰ کے۔‘‘ اس طرح اسلام نے تمام قسم کے امتیازات اور ذات پات، نسل، رنگ، جنس، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ہم پلہ قرار دیا خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، سفید ہوں یا سیاہ، مشرق میں ہوں یا مغرب میں، مرد ہو یا عورت اور چاہے وہ کسی بھی لسانی یا جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ حضورؐ کا یہ خطبہ انسان کا اولین اور ابدی منشور ہے جو کسی وقتی سیاسی مصلحت یا عارضی مقصد کے حصول کے لیے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی فلاح کیلئے جاری کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ خطہ حجتہ الوداع کو حقوق انسانی سے متعلق دیگر تمام دستاویزات پر فوقیت اور اولیت حاصل ہے۔
اسلام نے بنیادی طور پر انسان کو 6 حقوق فراہم کئے ہیں:
(1)جان کا تحفظ، (2)عزت و آبرو کا تحفظ، (3)مال کا تحفظ، (4)اولاد کا تحفظ،(5)روزگار کا تحفظ،(6)عقیدہ و مذہب کا تحفظ۔
یہ بنیادی حقوق ہیں جن کے ذریعہ انسان معاشرہ میں پر امن زندی گزار سکتا ہے۔ اولین چیز زندہ رہنے کا حق، اور انسانی جان کے احترام کا فرض ہے۔ اسلام نہ صرف یہ کہ کسی امتیاز رنگ و نسل کے بغیر تمام انسانوں کے درمیان مساوات کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اسے ایک اہم اصول حقیقت قرار دیتا ہے۔ اگر خطبہ حجتہ الوداع میں آنحضرتؐ کے بیان کردہ انسانی حقوق کو عالمی سطح پر آئینی حیثیت دی جائے اس کو نافذ العمل قرار دیتے ہوئے بروئے کار لایاجائے اور اس کی خلاف ورزی خلاف قانون قرار پائے تو دنیا سے ظلم و ستم ختم ہو جائے گا امن و امان کی فضاء میں ایسے پھول کھیلیں گے کہ اس کی خوشبو سے انسانی زندگی کے تمام گوشے مہک اٹھے گے۔ حجتہ الوداع کے اس خطبہ کو فقہی،شرعی اور اسلامی اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے کہ اس سے کئی احکام مستبط ہوتے ہیں۔ خطبہ حجتہ الوداع عالمی اور بین الاقوامی اعتبار سے بھی بے مثال ہے کہ اس میں انسانی حقوق کی بابت ایسے اہم اور ضروری ارشادات ہیں جو قانون دان و قانون ساز افراد کیلئے قانون مدون کرنے اور دستور وضع کرنے کے سلسلہ میں مشعل راہ اور منزل مقصود کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم پانچ سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہی اس میں متعدد ممالک کے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ انسان لقمہ اجل بن گئے۔ اس وقت پہلی جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والی لیگ آف نیشنز موجود تھی لیکن اس کا منشور اور تنظیم محض رسمی حیثیت رکھتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر دنیا بھر میں زبردست معاشی، سماجی تباہی کا احساس ہونے پر متعدد ممالک نے لیگ آف نیشنز کو نئے سرے سے منظم کرنے اور اس کے منشور اور ضابطوں کے زیادہ موثر اور قابل عمل بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس طرح اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدائی تیاریوں کے بعد اسی سلسلے میں 10دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی منشور منظور کیا۔ تمام ممالک نے اس منشور پر دستخط کئے۔ اس منشور میں انسانی حقوق کے معیارات کی نشاندہی کی گئی ہے انہیں قابل نفاذ بنانے کیلئے 1966 میں دو میثاق تیار کئے گئے۔ ایک میں انسان کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق اور دوسرے میں ان کے شہری اور سیاسی حقوق کی تشریح کی گئی۔ انسانی حقوق کا بین الاقوامی چارٹر ظلم ، نا انصافی، عدم مساوات سے عبارت پرانی دنیا سے انسانی عظمت، برابری اور احترام باہمی کے نئی دنیا میں داخل کرنے والی اہم ترین دستاویز ہے۔ دُنیا کے تمام ممالک کی حکومتوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخط کئے تھے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے 1948 میں انسانی برابری اور برابر حقوق کے بارے میں چارٹر تیار کیا مگر امریکا میں دس برس بعد تک عام خواتین اور سیاہ فام عوام کو ووٹ دینے کا حق نہیں دیا گیا۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف ہیں۔ کشمیر، فلسطین، بوسینا اور برما سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بد ترین مظالم پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے بد قسمتی سے اقوام متحدہ اپنے منشور پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہا ہے ، کشمیر اور فلسطین سمیت دیگر خطوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور خلاف و رزیوں کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ اپنے منشور کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا راستہ روک کر دنیا کو پر امن بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ممبر ممالک میں سے بھارت نے اپنے آئین میں انسانی حقوق کا بڑی اہمیت کے ساتھ تذکرہ کیا ہے اور اپنے ملک کے عوام کو چاہے وہ مسلمان، عیسائی، ہندو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں سب کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی جن کا بین الاقوامی تقاضا کرتے ہیں۔ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی بھارتی خاتون مینگا گاندھی کے کیس میں انڈین سپریم کورٹ نے اس کا پاسپورٹ ضبط کرنے کو اپنے آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے انسانی آزادی سلب کرنے کے متراد قرار دیا مگر جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے جو بھارت میں تیس کروڑ کی تعداد میں ہیں ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ احمد آباد گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو نریندر مودی نے قتل کرایا ، گودھرا ٹرین اور سمجھوتہ ایکسپریس میں معصوم مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔گائے ذبح کرنے اوراس کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو قتل کیاجا رہاہے۔ مکہ مسجد ، مالیگاؤں اور دیگر دہشت گردی کے واقعات میں ہندو انتہا پسندوں کے ملوث ہونے کے باوجود ہزاروں مسلمان ابھی تک ان ناکردہ جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ تعلیم میں انہیں سب سے پیچھے رکھا گیا ہے۔ اچھے سکولوں میں مسلمان بچوں کو داخلہ تک نہیں دیا جاتا۔ بلاوجہ گرفتاریوں کی وجہ سے جیلوں میں ان کی تعداد آبادی کے تناب سے سب سے زیادہ ہے۔ دفاتر، تعلیمی اداروں، شاہراہوں اور گلی محلوں میں مندر تعمیر کرنے کی تو آزادی ہے مگر مسجدوں میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ بابری مسجد سمیت سینکڑوں مساجد کو ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے شہید کر دیا گیا اور بہت سی تاریخی مساجد ایسی ہیں جہاں نمازوں کی ادائیگی کیلئے مسلمانوں کے ہی قتل عام کے منصوبے بناتے ہیں انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ اسی طرح اگر ہم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیں جہاں بھارت نے تقسیم ہند سے ہی اپنا غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے تو وہاں کی صورتحال بھی دل دہلا دینے کے مترادف ہے۔ انسانی حقوق کا تحفظ تو دور کی بات کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنا بھی بہت بڑا جرم ہے۔ یہاں پاسپورٹ ضبط کرنا تو دور کی بات، بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو پاسپورٹ دیا ہی نہیں جاتا۔ ہر گھر پر پہرہ ہے۔ ہر گلی کے کونے پر بھارتی فوجی یا سی آر بی ایف کا اہلکار کھڑا ہے۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف ہے۔ انسانی حقوق کا منشور بنانے والے اقوام متحدہ سے مظلوم کشمیری قوم سوال کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کے ممبر ممالک اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے مقبوضہ کشمیر میں ہر روز بڑھتے ہوئے بد ترین بھارتی مظالم پرخاموش کیوں ہیں؟ کیاانہیں یہاں ہونے والی قتل وغارت گری، اجتماعی قبریں، کشمیری نوجوانوں کا اغواء، فرضی جھڑپوں میں شہادتیں، خواتین کی عصمت دری اور املاک کی بربادی نظر نہیں آتی۔ آخر ان کی زبانیں کیوں خاموش ہیں؟ کیا مظلوم کشمیری یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ مشرق تیمور کا مسئلہ ہو تو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فی الفور حرکت میں آجاتے ہیں لیکن کشمیر جس کے بارے میں خود اقوام متحدہ قرار داد دیں پاس کر چکی ہے وہاں بھارت کے فوجی قبضہ کے خلاف کوئی بات تک کرنے کو تیار نہیں ہے۔
بھارت جو اپنے آپ کو ایک سیکولر ملک اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار کہلاتا ہے ’’مسلسل‘‘ بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بھارت میں اقلیتی قوموں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ تو عام ہے لیکن اس کی بد ترین مثال بھارت کے غاصبانہ قبضہ میں وادی کشمیر کے مسلمان ہیں جن پر گزشتہ 70 سالوں میں عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے27اکتوبر 1947 کو کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر کے تمام عالمی قوانین کی خلاف رزی کرتے ہوئے جبراً قبضہ جمالیا تھا اور اب اس ناجائز قبضہ کو برقرار رکھنے کیلئے 70 سالوں سے کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ 70سالوں میں بھارتی مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز نے تحریک جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے بد ترین تشدد اور ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 6 لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا ہے، وہ لاکھ کشمیریوں کو شدید زخمی، معذور کیا، تقریباً ایک لاکھ کشمیری خواتین کو بیوہ اور سوا دو لاکھ کشمیری بچے یتیم کر دیئے گئے ہیں۔ بھارتی مسلح افواج نے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کھا ہے اور ناجائز گرفتاریاں، ظلم و جبراد تشدد روزمرہ کا معمول ہے۔
کشمیر میں بھارتی افواج گزشتہ کئی برسوں سے جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے بزور طاقت ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ صرف پچھلے 27 برسوں میں 1990تا 2015 بھارتی مسلح افواج نے کشمیر میں جدوہد آزادی تحریک کو دبانے کیلئے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے ہی، انسانیت کا سرشرم سے جھک جاتا ہے کہ نہتے اور مظلوم کشمیر ی عوام، خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور 7 لاکھ بھارتی فوجیوں، ریاستی پولیس اور BSF کے مسلح اہلکاروں نے کشمیر کی حسین وادیوں میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا اس دوران ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا گیا اور ہزاروں نوجوانوں کو زندہ غائب کر دیا گیا۔
گزشتہ 3دہائیوں میں 3 لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ 90 ہزار وہ خواتین ہیں جنہیں بیوہ کی بدترین زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ ان خواتین کے شوہر لاپتہ ہیں وہ نا بیوہ کہلا سکتی ہیں اور نا ہی سہاگن اور وہ اپنے شوہروں کی تلاش میں اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ شاید وہ لوٹ آئیں۔ اڑھائی لاکھ بچوں کو یتیم کیا گیا جبکہ تقریباً سوا لاکھ کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی اور معذور کر دیا گیا اسی دوران تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ڈیڑھ لاکھ کے قریب شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
وادی کشمیر کو ’’وادی انگار‘‘ بنا کر ظلم کی نئی داستانیں رقم کی گئیں کشمیریوں کی ہنستی بستی بستیوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ اربوں روپے کے املاک نذر آتش کر دی گئیں، بھارت درندوں نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو جان بوجھ کر بے حرمتی کا نشانہ بنایا اور درگاہ حضرت بل، چرار شریف اور کئی دیگر مزارات اور تاریخی مساجد کو نذر آتش کر کے شہید کر دیا گیاجبکہ سینکڑوں مکانوں، دکانوں اور سکولوں کو نذر آتش کیا گیا۔بعض کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ افسوس کی تمام ظلم و ستم، بربریت او ر لاقانونیت کے باوجود عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی چمپئن خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں، آخر کیوں؟کیا اقوام متحدہ کا معیار مسلمانوں اور غیر مسلموں کیلئے علیحدہ علیحدہ ہے؟ کیا یورپ میں انسانی حقوق کے عالمی قوانین کا نفاذ ، بھارت، کشمیر اور اسرائیل میں نہیں ہوتا؟ آخر بھارتی درندوں کے خونی ہاتھوں میں زنجیر کون ڈالے گا؟ کشمیریوں کی پکار کون سنے گا؟ اور کشمیر میں ظلم و بربریت کا یہ خونی کھیل کب بند ہو گا؟
اسی طرح اسرائیل کی حکومت مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کر رہی ہے جبکہ امن کے علمبرداروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
برما جیسے اب میانمار کہا جاتا ہے بدھ مت کے پیرو کاروں کی سرزمین ہے، میانمار میں آج سے نہیں گزشتہ پانچ برسوں سے روہنگیا مسلمانوں پر جو ظلم و ستم جاری ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی جس کی وجہ واضح طور پر صرف یہی نظر آتی ہے کہ انہیں میانمار نے اب تک اپنا شہری تسلیم ہی نہیں کیا۔روہنگیا کی تعداد لگ بھگ 15 لاکھ ہے۔ 1982 کے برمی شہریت کے قانون کے مطابق یہ لوگ 1823 کے بعد برٹش انڈیا کے کسی علاقے سے یہاں آئے تھے، اس لیے یہ میانمار کے قدیم پیدائشی شہری نہیں ہیں۔ پانچ کروڑ آبادی والے ملک میانمار میں مسلم اقلیت کو اپنا شہری تسلیم نہ کرنا ہی مضحکہ خیز ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان مسلمانوں کو نہ تو سرکاری تعلیم کی سہولت مل سکتی ہے، نہ ہی گورنمنٹ ملازمت، انہیں عام باشندوں کی طرح آزادانہ گھومنے پھرنے کی بھی آزادی نہیں ہے۔ دنیا کے کسی مذہب نے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ نسل پرستی اور تعصب کا رویہ رکھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ہر مذہب میں انتہا پسند گروہ مخالفوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی مذہبی تعلیمات یہاں تک کہ بنیادی اقدار کو بھی پامال کرتے ہوئے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کا سب سے زیادہ افسوسناک اور فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ یہاں کی آبادی اور فوج کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے جس میں انسانوں کے علاوہ دیگر جانداروں کو بھی نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے اور اسے سخت گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ بدھ تعلیمات کے برعکس مسلمانوں پر ان کا بدترین ظلم و تشدد یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ حملہ آور اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات سے بالکل دور ہو چکے ہیں۔
میانمار کی درندہ صفت فوج اور امن کے درس کا لبادہ اوڑھے بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں بے بس و مجبور روہنگیا مسلمانوں کے بہیمانہ اجتماعی قتل عام کے مناظر نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انسانیت بھی شرم کے مارے اپنا منہ چھپائے اقوام عالم کے ضمیروں کو جگانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ اب تک 9 لاکھ سے زائد بد نصیب روہنگیا مسلمان اپنی جان بچانے کیلئے بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے مزید روہنگیا کے مسلمانوں کو روکنے کیلئے سرحدوں پر رکاوٹیں لگا دی ہیں جبکہ میانمار کی فوج نے سرحدی علاقوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں۔
ایسا ہرگز نہیں کہ برمی مسلمانوں کے قتل عام سے آنکھیں پھیرنے اور منہ موڑنے والوں کو درست صورتحال کا اندازہ نہیں ہے ، عالمی ٹھیکیدار اور ساہوکار سب کچھ جانتے ہیں، مگر بات وہی مسلم دشمنی والی ہے، کچھ اور نہ بن پڑا تو وہ اس قتل عام کو میانمار کا اندرونی معاملہ قرار دے ڈالا، ان کی نظر میں مسلم خون کی کوئی اہمیت ہی نہیں، یہی راگنی تو مسلم حقوق کو ہڑپ کرنے والی، بنگال کی قاتل، شیخ حسینہ واجد، گجرات کا قصائی، نریندر مودی الاپتا آرہا ہے اور یہی سوچ اب برما میں ڈائن کا روپ دھار لینے والی آنگ سان سوچی کی بھی ہے، جو امن عالم کا تاج سر پرسجائے، امن دشمن سرگرمیوں میں ملوث اپنی فوج اور بدھ بھگشوؤں کی سرپرستی کر رہی ہے، اسے اور اس کے ہمنواؤں کو جو ہم مسلمانوں کی اپنی ہی صفوں کے درمیان بڑی تعداد میں موجود ہیں، انہیں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا، کوئی کتنا ہی ہلاکو خان بنے، چنگیزیت پھیلائے جلد یا بدیر قدرت اس سے حساب لے لیتی ہے، برمی مسلمانوں کا المیہ شاید یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر کسی لابی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کسی فرقے کے پرچاری ہیں، ورنہ تو معاملات دگر ہوتے۔
کیا بدھا کی تہذیب یہی ہے جس کی پرچار آنگ سان سوچی، اس کے فوجی اور جنوبی بدھ بھکشو، برمی مسلم کمیونٹی کے ساتھ کر رہے ہیں؟ ہم نے تو بچپن سے پڑھا اور سنا کہ بدھا امن کی مالا جپتا تھا وہ ایک درخت کی امان میں بیٹھ کر امن و امان کا درس دیا کرتا تھا، پھر کیوں اس کے پیروکار اس کی تعلیمات سے یکسر مبرا، انسانیت کے دشمن بنے اپنے مرشد کی تعلیمات کی نفی کر کے، اس کی روح کو مضطرب کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، آنگ سان سوچی کی بغل میں دبا امن کا نوبل انعام اس کی عزت کے بجائے اب اس کی ذلت کاسبب بن چکا ہے، مگر وہ پھر بھی مطمئن ہے، اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا اس کی چنگیزیت پر اس کے بارے میں کیا رائے قائم کر رہی ہے، سوچی کے عمل کو اس کی بے شرمی و بے حسی کی انتہا ہی کہا جا سکتا ہے۔ امن کا نوبل انعام وصول کرنے والی سوچ وہ نام نہاد رہنما ہے جس کا من بد امنی کے رنگ سے میلا ہے، اسے ایوارڈ تفویض کرنے والوں کی بھی خیز جنہوں نے برما کی صورتحال سے آشنائی کے باوجود اپنی زبانوں پر تالا ڈال رکھا ہے، کوئی نہیں، جو سوچی سے سوال کر سکے کہ تمہیں امن کا نوبل انعام کیا اسی لیے دیا گیا تھا کہ تم قتل و غارت گری میں عالمی شہرت حاصل کرو۔پوری دُنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے ، اس حوالے سے سب سے افسوسناک کردار مسلم خصوصاً عرب ممالک کی حکومت کر رہی ہیں۔غیرت و حمیت سے عاری ان مسلم حکمرانوں میں اتنی بھی جرأت نہیں ہے کہ وہ پوچھ سکیں کہ آخر مسلمانوں کا خون کیوں بہایا جا رہا ہے؟ کیا مسلمان انسان نہیں ہیں؟ لیکن یہ سوال بھی کون کرے جب ہمارے اپنے ہی حکمران عالم کفر کے ایجنڈے پر چلتے ہوں اور اپنے اقتدارکیلئے اپنوں کو بھی مارنے سے نہ چوکتے ہوں تو پھر شکوہ کس سے کریں؟ فلسطین ہو یا کشمیر، شام ہویا چیچنیا، افغانستان ہو یا عراق، تیونس ہو یا میانمار کے مظلوم مسلمان، ہر جگہ مسلمانوں ہی کا خون بہہ رہا ہے، مسلمانوں ہی کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ عالم اسلام کے 57 ممالک سالہا سال سے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ پائے، زیادہ سے زیادہ اپنی اپنی پارلیمنٹ میں مذمتی قرار داد پاس کرالی اور ایک بیان دے دیا کہ ہم مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیں کسی اسلامی ملک میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ کہہ سکے کہ اگر تم باز نہ آئے تو پھر میدان جنگ میں فیصلہ ہو گا۔ کسی بھی اسلامی ملک نے یہ نہیں کہا کہ بھارت کشمیر میں 70 سال سے ظلم کر رہا ہے اورحق خوداردیت مانگنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے، روزنوجوانوں کو بھارتی فوج قتل کر رہی ہے۔ اسی طرح فلسطین میں اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ کیا ہوا ہے اورزبردستی فلسطینی بستیوں پر قبضہ کر رہا ہے جہاں مسلمانوں کو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں لیکن اس ظلم کے آگے کوئی نہیں بولتا، کوئی اسلامی فوج حرکت میں نہیں آتی۔ دین اسلام کے پیروکار سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم کو یاد کر رہے ہیں کہ کوئی تو مسلم حکمران اور اس ملک کا سپہ سالار ان غازی اور شہیدوں کا کردار ادا کرے گا مگر ہمارا مذہبی طبقہ بھول جاتا ہے کہ جو حکمران تعلیمی نصاب میں سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم کو برداشت نہ کرتے ہوں اور ان کے کارناموں اور جہادی زندگی کو نصاب سے نکال کر مغرب کو خوش کرتے ہوں، وہ مظلوم مسلمانوں کی مدد اور اُمت مسلمہ کے اتحاد کیلئے بھلا کیا کردار ادا کریں گے۔
مسلمانوں پرہونے والا ظلم وستم اقوام متحدہ آنکھیں بند کر دیکھ رہا ہے ایسے اداروں کو فوراً بند ہو جانا چاہیے جہاں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے شرمناک واقعات کی کھلی اجازت دے دی جائے اور جہاں کسی عیسائی، یہودی یا پھر کسی غیر مسلم کے جسم پر کوئی خراش بھی آئے تو اقوام متحدہ فوراً آنکھیں کھول کر بیدار ہو جاتا ہے اور افغانستان ، کویت، عراق پر حملوں کی اجازت دے دیتا ہے۔ ایسے اداروں کو بلا تفریق اور بلا رنگ و نسل انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف سراپا احتجاج بن جانا چاہیے مگر اقوام متحدہ صرف مسلمانوں کو کچلنے اور ان کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازشوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے