Voice of Asia News

جھُریوں سے پچنے کے لیے پانی پینا ضروری

لاہور(وائس آف ایشیا)چہرے کی جھُریوں کے خلاف کوئی کریم اور دوا اتنی موثر ثابت نہیں ہو سکتی جتنا کہ زیادہ سے زیادہ پانی پینے کا عمل ہے۔عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کے چہرے پر جُھریوں کے اُبھرنے کا عمل فطری ہے۔ تاہم ان جُھریوں کو بہت زیادہ نمایاں نظر آنے سے روکنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں جرمنی کے صارفین کے تحفظ سے متعلق ایک معروف جریدے ’ٹیسٹ‘ کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں چند دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک صحت مند زندگی جس میں کافی نیند لینا، روزانہ کم از کم ڈیڑھ لیٹر پانی پینا وغیرہ چہرے کی جھُریوں سے بچنے کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل عوامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی اور دھوپ کی الٹرا وائلٹ روشنی جلد کو گہرے نقصانات پہنچاتی ہے اور ان کی وجہ سے چہرے کی جلد کی لوج اور چہرے کی رونق ختم ہو جاتی ہے۔

غذا کا عمل دخل

صحت بخش غذا جلد کو خوبصورت بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ وٹامن سے بھرپور غذائی اجزا، پھل اور سبزی چہرے کی جھُریوں کو نمایاں نہیں ہونے دیتے۔ ماہرین کے مطابق متوازن غذا کا استعمال اور کافی مقدار میں پانی پینا نہ صرف تندرست رہنے کے لیے بلکہ خوشنما نظر آنے کے بنیادی اُصول ہیں۔پھل اور سبزیوں کا استعمال: صحت بھی اچھی چہرہ بھی تروتازہ

جلد کی مناسب دیکھ بھال

جلد کی حفاظت کے لیے عموماً کریم یا لوشن وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد کو صاف رکھنے، اسے نکھارنے اور جُھریوں وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے دستیاب کریمیں اور لوشن وغیرہ کیمیائی اجزاء سے تیار کیے جاتے ہیں اس لیے ان کے ضمنی اثرات ضرور ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جلد کی دیکھ بھال کے لیے دستیاب مصنوعات زیادہ تر گندم، سلسیفی ہیں۔ ان دونوں اجزاء میں Allantoin یا ایک بلوری شے جو جنین کی جھلی میں پائی جاتی ہے، شامل ہوتی ہے۔

ماہرین جلد کا کہنا ہے کہ قدرتی تیل جیسے کہ ارگنڈی، بادام اور جوجوبا جلد کو اضافی رطوبت فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ سارے نسخے ناکام ہو جائیں تو hyaluronic acid یا حیاتیاتی کیمیا، جسے رجاجی تیزاب بھی کہا جاتا ہے کا استعمال جلد کی رطوبت کو برقرار رکھنے اور خاص کیسوں میں اسے جلد میں انجکٹ کرنے کے کام آتا ہے۔

چہرے کو جُھریوں اور داغ دھبوں سے بچانے کے لیے خواتین بہت سے طریقے بروئے کار لاتی ہیں

جرمن جریدے Test نے 9 اینٹی ایجننگ کریموں کا تجربہ 270 خواتین پر چار ہفتوں تک کیا۔ ان خواتین کے چہرے کے ایک طرف چار ہفتوں تک صبح اور شام ان کریموں کو لگایا گیا جبکہ چہرے کی دوسری طرف نارمل موئسچرائزنگ کریم لگائی گئی۔ چہرے کے اطراف کی کریم لگانے سے پہلے اور بعد دونوں حالت میں تصویریں بنائی گئیں اور اُن کا موازنہ کیا گیا۔ نتیجے سے ظاہر ہوا کہ اینٹی ایجننگ یا چہرے کو جُھریوں اور بڑھاپے کے اثرات سے بچانے والی کریموں کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے