Voice of Asia News

عوامی احتجاج کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں120 سے زیادہ شہر ی قتل

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے 2010 کے عوامی احتجاج کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں120 سے زیادہ شہریوں کے قتل پر ریاستی حکومت سے کول کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے بارے جواب طلب کر لیا ہے ۔2010میں ہوئی شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کیلئے سابق حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے کول کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے عدالت عالیہ نے حکومت کو3ہفتوں کے اندر اپنے اعتراضات پیش کرنے کا وقت دیا ہے۔ شہری ہلاکتوں کی جانچ کیلئے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے جسٹس ر کول کی سربراہی میں یک نفری کمیشن نامزد کیا تھا،جنہوں نے گزشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتہ میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو ان ہلاکتوں سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی،تاہم اس رپورٹ کو حکومت نے بعد میں منظر عام پر نہیں لایا۔غیر سرکاری انجمن جموں کشمیر پیپلز فورم نے اس سلسلے میں ریاستی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا،اور عوامی مفاد عامہ کے تحت ایک درخواست پیش کی،جس میں اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ بدھ کو ہائی کورٹ کے دویژن بینچ میں کیس کی شنوائی کے دوران جسٹس محمد یعقوب میر اور جسٹس علی محمد ماگرے نے ریاست کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بشیر احمد ڈار کے ذریعے 3ہفتوں میں اپنے اعتراضات پیش کرنے کی ہدایت دی۔اس سے قبل ایڈوکیٹ ڈار نے اس موقعہ پر کہایک نفری کمیشن کی رپورٹ فی الوقت محکمہ انتظامی عمومی ( جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ) ،پولیس ہیڈ کوارٹر،انسپکٹر جنرل آف پولیس سی آئی ڈی اور ڈپٹی کمشنر سرینگر کی مشاورت کے ساتھ تحت معینہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس ( ر کول کی سفارشی رپورٹ کی عمل آوری کو حتمی شکل دینے کیلئے کافی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرنسپل سیکریٹری ( داخلہ ) کی سربراہی میں منعقدہ میٹنگ کے دوران اس کا جائزہ بھی لیا گیا،جبکہ اس میٹنگ میں ریاستی پولیس کے سربراہ اور دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔ڈار نے اپنی پیش کردہ دلیل میں کہابعض چیزوں کا ابھی بھی انتظار ہے،تاکہ اس رپورٹ کو حتمی جانچ پر پہنچا یاجاسکے۔اس سلسلے میں پیپلز فورم کے جنرل سیکریٹری ایم ایم شجاع کی طرف سے یہ عوامی مفاد عامہ میں درخواست ایڈوکیٹ شفقت نذیر نے دائر کی ہے۔ عدالت عالیہ میں پیش کی گئی درخواست میں کہا گیاتھا کہ کافی عرصہ کے بعد کمیشن نے رپورٹ سرکار کو پیش کی،جبکہ میڈیا رپورٹوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں ذمہ داریوں کی نشاندہی کے علاوہ2010کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق ہوئے نوجوانوں کے متاثرہ کنبوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے