Voice of Asia News

بھارت میں ہندو لڑکیوں کا قبول اسلام اور مسلمانوں سے شادیاں

لاہور(وائس آف ایشیا) بھارت میں سینکڑوں ہندو لڑکیوں نے سماجی اور اخلاقی گراوٹ سے گھبرا کراسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیا ہے۔ ’’نیچ ذات‘‘ سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں لڑکیوں نے مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی چننے کے لئے دینی شخصیات کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ یوں بھارت کے مختلف طبقوں میں ہندوئوں کی پیدا کردہ اونچ نیچ کے باعث لڑکے باعزت زندگی گزارنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں جبکہ لڑکیوں نے سماجی ظلم، ناروا سلوک اور اونچ نیچ سے نجات کا راستہ مسلمان ہونے میں تلاش کیا ہے۔ظاہر ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ ہندوؤں سے تو شادیاں نہیں کر سکتیں، اس لیے مسلمان ہی کو جیون ساتھی بنانا پڑتا ہے۔ آر ایس ایس اس پر سیخ پا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں نے اسے طالبان کے اثرات اور مالی مدد کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ہندوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے عراقی طالبان پیسہ پھینک رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ محبت کی شادی نہیں بلکہ ’جہادی شادی ‘ہے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

آر ایس ایس کے دباؤ پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ‘‘ نے جنوبی ریاست کیرالہ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام اور مسلمانوں سے شادیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جس میں کم ا ز کم 86 لڑکیوں کو ان کے گھروں سے اٹھانے کے بعد بند کمرے میں گھنٹوں تفتیش کی گئی، مگر مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ انہیں کسی سوال کا جواب توقع کے مطابق نہ ملا۔ اس کے باوجود مسلمان لڑکیوں کو اٹھانے اور پوچھ گچھ کرنے کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔

کس لڑکی نے کس مسلمان لڑکے سے شادی کی اور کیوں؟ شادی سے پہلے کوئی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں؟ شادی سے پہلے لڑکے نے کبھی طالبان کا ذکر کیا تھا یا کبھی کسی انتہا پسندانہ سرگرمی کی بات کی؟، کسی عبادت گاہ میں جانے کا مشورہ دیا تھا؟ یہ اور ایسے لاتعداد سوالات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔ ان معصوم لڑکیوں سے سینکڑوں ناقابل یقین اور ناقابل قبول سوالات کئے جا رہے ہیں۔ پھر یہ سوال کہ شادی سے پہلے بلیک میل تو نہیں کیا؟۔ ہندو لڑکیوں کے مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں سے شادی کو آر ایس ایس نے لو جہاد قرار دے دیا ہے۔ آر ایس ایس نے اس پر پابندی عائد کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ یہی جماعت اپنی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے ذریعے 2010ء میں نریندر مودی کو برسر اقتدار لانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

بی جے پی نے برسر اقتدار آنے کے بعد پورے ملک میں سیکولر ازم کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ہندو ازم کے سوا وہاں کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ یہی آر ایس ایس اب ہندو عورتوں کے قبول اسلام کو ’’لو جہاد ‘‘کا نام دے کر سپریم کورٹ کو گمراہ کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا ایک اور موقع پولیس کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ نیشنل ایجنسی اور پولیس کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب کیرالہ کی تمام ہی لڑکیوں نے ان کی رائے کو مسترد کر دیا۔ ان کی مرضی کے جوابات نہ دیے۔ پولیس نے 9 لڑکیوں کے اکاؤنٹس میں بیرون ملک سے بھیجے گئے پیسوں کا ’’سراغ‘‘ لگا لیا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر میں بیرون ملک مقیم رشتے دار سرمایہ بجھوا رہے ہیں، مگر بھارت میں یہ بھی جرم ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ایک عورت کے اکاؤنٹ میں عراق کے ایک سکول سے کچھ پیسے بھیجے گئے ہیں۔ جبکہ دوسری عورت کے شوہر نے کیرالہ کے گاؤں میں ایک اسلامی ویڈیو شیئر کی ہے۔ کیرالہ انڈیا کی واحد ریاست ہے جہاں کیمونزم طاقتور ہے۔ نیچی ذات کے لوگوں کو کیمونزم ہی نجات کا واحد ذریعہ نظر آ رہا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی محض 13 فیصد ہے۔ اس بارے میں کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کے وفاقی رکن اسمبلی ایم بی راجیش نے آر ایس ایس کے تمام بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس ہندوؤں اور مسلمانوں کی شادیوں کو جبری بندھن قرار دے رہی ہیں۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہے۔

اس کا مقصد اگلے آنے والے انتخابات میں مودی کو کامیاب کرانا ہے لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ آج سے 60 سال قبل بھارتی جنتا پارٹی کی بنیاد بننے والی آر ایس ایس سیکولر ازم پر یقین نہیں رکھتی وہ بھارت کو بنیادی طور پر ہندوؤں کا ملک سمجھتی ہے حالانکہ ہندوؤں سے پہلے یہاں آریائی قوم آباد تھی۔ گوتم بدھ بھی اسی میں آباد تھے اور یہ ملک بھی انہی کا تھا تو پھر بھارت ان کا کیسے ہو گیا؟

اس وقت 1 ارب 32 کروڑ بھارتی شہریوں میں سے 17 کروڑ مسلمان ہیں اور ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن 17 کروڑ ہونے کے باوجود بکھرے ہوئے مسلمان اکثریتی ہندوؤں کے تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مذبح خانے بند کروا دئیے گئے اور گائے لیجانے کے جرم میں کئی مسلمانوں کو ان کے گھر میں زندہ جلا دیا گیا، جو بچے انہیں درختوں سے باندھ کر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ گائے کی نقل و حمل کرنے والے ٹرک بھی نذر آتش کر دئیے گئے۔

شواہد کی بنیاد پر کیرالہ ہائیکورٹ نے ان شادیوں کو کسی قسم کی سازش اور انتہا پسندی سے پاک قرار دیتے ہوئے محض محبت کی شادی قرار دیا۔ مگر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے شفیق جہان نامی آدمی پر داعش کے لیے بندے بھرتی کر نے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دراصل عاخلہ نامی 24 سالہ عورت نے اسلام قبول کرتے ہوئے حادیہ نام رکھا اور پھر شفیق کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی۔ ہائیکورٹ نے عورت کی مرضی کیخلاف اس کو اس کے باپ کے گھر بھیج دیا۔ تاہم اس نے پولیس کو دونوں میاں بیوی کیخلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں بھارتی سپریم کور ٹ نے 24 سالہ حادیہ کو گواہی کے لیے نئی دہلی طلب کر لیا ہے۔ ان سطور کے منظر عام پر آنے تک وہ چیف جسٹس کے سامنے اپنی گواہی دے گی۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے اس کے شوہر کا بیان لینے سے انکار کر دیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے رہنما کپیل سبل نے اس واقعہ پر اظہار حیرت کیا ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کسی لڑکی کی شادی کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ وہ شفیق جہان کے وکیل بھی ہیں۔ 26 سالہ شفیق جہان کے مطابق ان دونوں میں سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا۔ وہ اومان کی ایک دوا ساز فیکٹری میں ملازم ہے۔ ان دونوں کی سوشل میڈیا پر ہی محبت ہوئی اور پھر عاخلہ نے اسلام قبول کر لیا۔ ابھی شادی کو 48 گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ظالم سماج آ ٹپکا۔ اس کے باپ نے پولیس کو جبری شادی کی شکایت کر دی اور ان کی پیار محبت کی معمولی سی کہانی سپریم کورٹ تک کی بڑی قانونی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔