Voice of Asia News

معاشی ترقی کیلئے پاکستان کو جاپان سے تجارت بڑھانا ہو گی بلوچستان کوئٹہ جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم شاہ کا ’’وائس آف ایشیا ‘‘ کو خصوصی انٹرویو

چڑھتے سورج کی سرزمین جاپان تعمیر و ترقی اور ٹیکنالوجی میں دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ایک ایسی قوم جس نے عالمی جنگ کا سامنا کیا۔ اس پر پہلی بار ایٹم بم استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں بدترین تباہی رونما ہوئی لیکن کچھ ہی برسوں میں جاپانی قوم نے نہ صرف ایٹم بم سے تباہ ناگا ساکی اور ہیرو شیما کے کھنڈرات کو دوبارہ تعمیر کا شاہکار بنا لیا بلکہ ترقی کی شاہراہ پر اس تیزرفتاری سے گامزن ہوئے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ جاپان نے ثابت کر دیا جس قوم میں جذبہ زندہ ہو اسے ایٹم بم سے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مقیم جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم شاہ سے ہماری گفتگو کا مقصد اسی بے مثال، جفاکش، صابر، مخلص اور انتھک محنتی قوم کے متعلق جاننا تھا۔ سید ندیم شاہ صاحب2000 سے بلوچستان میں جاپان کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔سید ندیم شاہ کو جاپان اور پاکستان کے مابین دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرنے، کوئٹہ میں جاپانی شہریوں کی مدد اور بلوچستان میں جاپانی کلچر کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کرنے کے صلے میں جاپان کی حکومت نے غیر ملکیوں کو دیا جانے والا سب سے بڑا سول ایوارڈ ’’دی آرڈر آف رائزنگ سن‘‘ سے نوازا ہے۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’ ‘‘ نے دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف اور پاک جاپان دوستی کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے سید ندیم شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ اس دوران ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: آپ کو جاپان کا اعزازی قونصل جنرل کب بنایا گیا تھا؟
سید ندیم شاہ: جاپان کی حکومت نے مجھے 2000ء میں پاکستان میں اپنا پہلا اعزازی قونصل جنرل بنایا تھا۔ جو میرے لیے بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔
سوال: جاپانی حکومت نے کن خدمات کے عوض آپ کو اپنا اعزازی قونصل جنرل بنایا؟
سید ندیم شاہ: میں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 1990 میں پاک جاپان فرینڈ شپ سوسائٹی بنائی تھی اور بلوچستان کے مشکل ترین حالات میں پاکستان اور جاپان کے اقتصادی تعلقات اور دوستی کے رشتہ کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ میرے اس جذبے اور کام کو دیکھنے کے بعد جاپان کی حکومت نے مجھے اعزازی قونصل جنرل بنایاتھا۔ مجھ سے پہلے پاکستان میں جاپان کا کوئی بھی اعزازی قونصل جنرل نہیں تھا۔ مجھے جاپانی حکومت نے 2000ء میں اس اعزاز سے نوازا تھا۔ جو میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بعدازاں لاہور اور پھر پشاور میں جاپان کی حکومت نے اپنے اعزازی قونصل جنرل بنائے۔
سوال: جاپان کا اعزازی قونصل جنرل بننے کے بعد آپ کے اہداف کیا تھے؟
سید ندیم شاہ: میرا مقصد پاکستان اور جاپان کے درمیان دوستی کے رشتے اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ میں نے جاپانی حکومت کے تعاون سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل کئے ہیں۔
سوال: جاپان نے بلوچستان میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کون سے پراجیکٹ مکمل کئے ہیں؟
سید ندیم شاہ: جاپان نے کاؤنٹرر ویلیو فنڈز کے طریقہ کار کے تحت بلوچستان کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل کئے۔ غریب فشر مین کو زندگی کی بنیادی ضروری اشیاء کے لیے جاپان حکومت نے 800 ملین روپے کاؤنٹر ویلیو فنڈز کے ذریعے پسنی فش ہاربر ڈیپارٹمنٹ کو ٹرانسفر کئے۔ اسی طرح بلوچستان میں غریبوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے 200 سکول تعمیر کئے گئے۔ صحت اور زراعت کے شعبوں میں بھی کام کیاگیا۔ ساڑھے تین سو کے قریب بلڈوزر بھی دیئے گئے۔ بلوچستان میں چونکہ بارشیں کم ہوتی ہیں اس لیے وہاں پر پانی زمین کے کافی نیچے ہے۔ اس لیے وہاں پر ڈرلنگ کے لیے 22 سے زائد ڈرلنگ مشینیں دی گئیں۔ بولان میڈیکل کالج کی بھی امداد کی گئی۔
سوال: کیا جاپان نے بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی کوئی کام کیا ہے اور پاک جاپان تعلقات پر بھی روشنی ڈالیں؟
سید ندیم شاہ: جاپان پاکستان کا دیرینہ اور مخلص ترین دوست ہے۔ جاپانی حکومت اور عوام پاکستان سے بے پناہ پیار کرتے ہیں۔ جاپان نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ دیتا رہے گا۔ جاپان اور پاکستان کی دوستی کو 65 ہو چکے ہیں۔ اس لیے رواں برس 2017ء کو پاک جاپان دوستی کی65 ویں تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ پاک جاپان دوستی سمندر سے گہری اور پہاڑوں سے بلند ہے۔ جاپان نے پاکستان کی بے پناہ امداد کی ہے۔ تعلیم کے فروغ اور امن کے قیام کیلئے جاپانی حکومت نے پاکستان کی بے پناہ مدد کی ہے۔ متوسط علاقوں میں غریب عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے بھی جاپان نے پاکستان میں کافی کام کیا ہے۔ فیصل آباد میں جاپانی حکومت نے اربوں روپے کے فنڈز سے وہاں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر دیئے ہیں۔ فیصل آباد کے بعد لاہور کے مضافاتی علاقوں میں بھی جاپانی حکومت نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں توانائی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپانی حکومت نے پاور سیکٹر میں بھی پاکستان کی بہت زیادہ مدد کی ہے۔ جاپان کی حکومت نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کیلئے سولر انجری پراجیکٹ متعارف کرایا ہے۔ سولر انجری کا پراجیکٹ شاندار طریقے سے چل رہا ہے اس سولر انرجی سسٹم کی سپلائی آن گریڈ ہے۔ سولر انرجی کا پراجیکٹ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور پلاننگ کمیشن کے ساتھ جاپانی انجینئرز کا پاک جاپان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوہاٹ ٹنل کا منصوبہ بھی جاپان حکومت اور انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ جاپانی حکومت نے لاہورمیں 150 سے زائد ٹیوب ویل لگائے ہیں۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں اور مزید لگائے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد شہر میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے تین بلین سے زا ئد رقم خرچ کی گئی ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد اور تھر میں بھی لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جاپان کی حکومت نے پاکستان کی حکومت کو اب تک 13 ارب ڈالر کی امداد دی ہے جس میں 80 فیصد لون اور 20 فیصد گرانٹ شامل ہے۔
سوال: جاپان کا مشن کیا ہے؟
سید ندیم شاہ: جاپان دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کے مشن پر گامزن ہے۔ جاپان کی حکومت نے غریب ممالک میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اربوں، کھربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ جاپان کا مشن دنیا بھر میں امن کو فروغ دینا ہے اور وہ اس مشن کو پورا کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے اور اس پر بھاری رقم خرچ کر رہا ہے۔ جاپان کی حکومت جب بھی کسی ملک کو امداد فراہم کرتا ہے تو وہ اس ملک کو فقیر یا حقیر نہیں سمجھتا بلکہ وہ دوست سمجھتا ہے۔کیونکہ ایک ہاتھ امداد دینے والا اور دوسرا ہاتھ استعمال کرنے والا ہوتا ہے۔ جاپان کی حکومت اپنے عوام کے ٹیکس سے غریب ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے مکمل کرتی ہے۔ جاپان کی حکومت مختلف طریقوں سے امداد کرتی ہے ایک پراجیکٹ صرف اور صرف این جی اوز کیلئے ہوتا ہے۔ دوسرا گرانٹ سسٹم کا ہے جاپان کی حکومت جو رقم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہے۔ اس کو بہت محتاط انداز سے مانیٹر بھی کرتی ہے۔ کیونکہ جاپانی حکومت اس بارے میں اپنی پارلیمنٹ کو جوابدا ہے۔
سوال: یورپی ممالک پاکستانی طلباء کو اسکالر شپ دیتے ہیں اس سے غریب طلباء کی مدد ہو جاتی ہے اور ان ممالک کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیا جاپان بھی ایسی سہولت فراہم کرتا ہے؟
سید ندیم شاہ: جی ہاں! جاپان کی حکومت پاکستانی طلباء کو اسکالر شپ دیتی ہے کیونکہ جاپان کا مشن دنیا بھر میں امن کو فروغ دینا ہے اور یہ مشن تعلیم کو فروغ دے کر آسانی کے ساتھ پورا کیا جا سکتا ہے۔ جاپان کے لوگ جنگ سے نفرت کرتے ہیں اورامن سے محبت کرتے ہیں۔
سوال: پاکستان اور جاپان کے مابین تجارت کی کیا صورتحال ہے اور اس میں کس حد تک اضافہ ہو رہا ہے؟
سید ندیم شاہ: جاپان کے مالی سال 2015 کے مطابق پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 2 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ پاکستان میں جاپان کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری کا حجم 74 ملین ڈالر ہے۔پاکستان کی حکومت جاپان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے کر اپنی معیشت مضبوط بنا سکتی ہے۔ پاکستان اور جاپان کے مابین اس وقت جو ٹریڈ پالیسی ہے وہ ان بیلنس ہے اگر پاکستان کی حکومت جاپان جیسے ترقی یافتہ ترین ملک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنائے اور صنعت، تعلیم، صحت، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھائے تو پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ جاپان سے کافی چیزیں پاکستان آرہی ہیں لیکن پاکستان سے چیزیں جاپان نہیں جا رہی لہٰذا پاک جاپان ٹریڈ پالیسی بیلنس کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جاپانی لوگ پاکستان کا آم بہت پسند کرتے ہیں ۔جاپان کی آٹو موبیل کمپنیاں مستقبل میں پاکستان میں وسیع سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کچھ کمپنیاں اس شعبے میں کام کر بھی رہی ہیں۔پاکستان جاپان بزنس فورم بنا ہوا ہے جس کا ہیڈ کواٹر کراچی میں ہے اس فورم کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے اقدامات کرے اور دونوں ملکوں کی حکومتوں کو تجارت بڑھانے کے حوالے سے تجاویز دے۔ اس کے علاوہ (جیٹ رو) جاپان ایکسٹنل ٹریڈ آرگنائزیشن جو جاپان کا سرکاری ادارہ ہے اس کا آفس بھی کراچی میں موجود ہے یہ آرگنائزیشن تجارتی بنیادوں پر بزنس مینوں کو معلومات فراہم کرتا ہے یہ مختلف سیمنارز منعقد کراتی ہے۔ جیٹ رو کے بارے میں پاکستان کے چھوٹے تاجروں کو معلومات ناکافی ہیں اس گیپ کو فل کرنا بہت ہی ضروری ہے۔
سوال: کیا آپ حکومت پاکستان کی طرف سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مطمئن ہیں؟
سید ندیم شاہ: میں موجودہ حالات میں پاکستان اور جاپان کے مابین ہونے والی تجارت کی صورتحال سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔ پاکستان کو ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ٹریڈ پالیسی کو مضبوط اور فروغ دے کر ہی پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو معاشی ترقی کیلئے جاپان کو رول ماڈل بنانا ہو گا۔ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے ہماری حکومت کو سب سے پہلے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانا ہو گا۔سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ صنعتی یونٹوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے حکومت کو امن قائم کر کے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانا ہو گا اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ حکومت ٹریڈ پالیسی کو مضبوط بنائے۔
سوال: 2012کو پاکستان اور جاپان کی دوستی کا ساٹھواں سال کے طور پر منایا گیا تھاتو اس حوالے سے جاپانی سفات خانے اور جاپانی قونصل خانہ نے کیا تقریبات منعقد کیں تھیں؟
سید ندیم شاہ: 2012میں پاکستان اور جاپان نے دوستی کے 60 سال مکمل کئے ہیں۔ اس کو منانے کے لیے جاپانی سفارت خانہ اور جاپانی قونصل خانہ نے خصوصی اہتمام کیا تھا۔ جاپانی کیلنڈروں کی نمائش منعقد کی گئی تھی۔ ان کیلنڈروں کے ذریعے پاکستانی عوام کو جاپانی ثقافت اور طرزِ زندگی سمجھنے میں مدد ملی اور جدید پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے بھی واقفیت حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ مہاتما گوتم بدھ کے حوالے سے ایک خصوصی لیکچر بھی منعقد ہواتھا۔ ’’ایکے بانا‘‘ کی نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ جاپان فیسٹیول کا انعقاد کیا گیاتھا۔ آرٹس کونسل، کراچی میں دو روزہ جاپانی فیسٹیول میں پاکستانی عوام نے بھرپور شرکت کی۔ جاپانی پھولوں کی سجاوٹ کے فن کو ’’ایکے بانا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان پھولوں کی نمائش لگائی گئی تھی۔ درختوں کو ایک خاص طریقہ سے کاٹ کر چھوٹا کرنے کو ’’بونسائی‘‘ کہا جاتا ہے اس کو دیکھنے اور بنانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ’’ایکے بانا‘‘ کے ذریعے پھولوں کی زیب و آرائش کرنا بھی سکھائی گئی۔ جاپانی کھانے سے متعلق آگہی کا بھی ایک پروگرام پیش کیا گیا۔اس کے علاوہ جوڈو، کراٹے، اور گامی، جاپانی کیلی گرافی اور جاپانی موسیقی کو بھی پیش کیا گیا اس کے ساتھ جاپانی ویڈیو گیمز کے بھی اسٹال لگائے گئے تھے۔ جاپان پر کوئز مقابلہ بھی منعقد ہوا تھا۔ مضمون نویسی کے مقابلے میں طلباء نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ مشہور جاپانی سمورائی کلچر کے حوالے سے (Bushido) کے اصولوں پر بھی بات کی گئی۔دو روزہ اس فیسٹیول کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ کراچی میں قائم تمام جاپانی ثقافتی تنظیموں نے مل کر اس فیسٹیول میں شرکت کی۔ اس فیسٹیول میں مقامی کھانوں کے اسٹالز سے سجی فوڈ اسٹریٹ بھی لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنی رہی۔ ’’ہائیکو مشاعرہ‘‘ بھی منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں شہر کراچی کے نامور شعرائے کرام نے جاپان کی معروف شعری صنف ’’ہائیکو‘‘ میں اپنی شعری صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ اسی مہینے جاپانی زبان سیکھنے والے طلباء کا تقریری مقابلہ بھی ہوا اس میں طلباء جاپانی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہمدرد پبلک سکول کے ساتھ مدینتہ الحکما میں جاپانی ثقافت سے آگہی کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں بچوں کو جاپان کی طرز تعلیم اور جاپانی زبان کے حوالے سے معلومات دی گئیں تھیں۔جاپانی زبان کے اساتذہ اور طلباء کے لیے جاپانی فلم شو کا انعقاد کیا گیا جس کو حاضرین نے بے حد پسند کیا۔اس کے علاوہ جاپانی فلم فیسٹیول بھی منعقد کیا گیا جس میں عہد حاضر کے جاپان کی عکاسی پر مبنی فیچر فلمیں اور ڈاکیومنٹریز پیش کی گئیں۔ فلم بینوں کے لیے یہ فیسٹیول ایک منفرد ایونٹ ثابت ہو ا۔ جاپان میں چھوٹی لڑکیوں کادن گڑیوں کی سجاوٹ کے ساتھ منایاجاتا ہے۔ اس روایت کو کراچی میں قائم جاپانی قونصلیٹ کا کلچر سینٹر نے برقرار رکھا۔ جاپانی ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے شائقین کے لیے یہ پروگرام بھی اہمیت کا حامل تھا۔ ان تمام سرگرمیوں سے پاکستان اور جاپان کے مابین سفارتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
سوال: جاپان پر ایٹم بم کے استعمال کی تاریخی ٹریجڈی کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
سید ندیم شاہ: دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تو یہ نہ صرف جاپانی قوم بلکہ دنیا کے لیے ایک ناقابل فراموش سانحہ ہے۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی پر 1945 میں دو ایٹم بم گرائے گئے تھے جس کے نتیجے میں 270000 معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔ تابکاری کے اثرات سے بے شمار لوگ معذور ہو گئے۔ مضر اثرات کئی سالوں تک رہے۔ اس ٹریجڈی آف وار سے دنیا کو سبق سیکھنا چاہیے کہ ایٹم دوبارہ نسل انسانی کی تباہی کیلئے استعمال نہ ہو۔ ایٹمی حملوں کے بعد جاپانی لوگ جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کرنے لگے ہیں۔
سوال: ایٹم بم سے تباہ ہونے والی قوم کی وہ کیا خصوصیات تھیں جس نے تعمیر نو میں مدد کی؟
سید ندیم شاہ: جاپانی قوم کے کردار نے انہیں دوبارہ زندگی دی، جاپانی نہایت جفاکش ، صابر اور مخلص لوگ ہیں۔ ان خوبیوں کے ساتھ ان کو لیڈر شپ ایسی ملی جس نے وہ پالیسیاں بنائیں جن کی وجہ سے ایٹم بم سے تباہ شدہ قوم کو دنیا کے لیے مثال بننے کا موقع ملا گورنمنٹ اور عوام دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا۔ گورنمنٹ نے پالیسیاں بنائیں مثلاً 1960 میں وزیراعظم اکیتا نے ڈبل انکم اسکیم شروع کی جس کے تحت پانچ سالوں میں حکومتی اقدامات پر عملددرآمد سے تنخواہ دوگنی ہو جاتی۔ اس طرح سے جاپانی لیڈر شپ نے قوم کو ایک ہدف دیا۔ ایک خواب دیا۔ گورنمنٹ کے یہ ٹارگٹ پانچ کی بجائے تین سال میں حاصل ہو گئے۔ اسی طرح ایک اور اقدام اولمپک گیمز کا انعقاد تھا 1964 اور 1970 میں اوساکا ورلڈ ایکسپو نے جاپانی معیشت کی تعمیر نو میں بہت مدد کی۔ اولمپک گیمز سے محض دس دن پہلے 550 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن ٹوکیو اور اوساکا کے درمیان بچھا لی گئی تھی۔ جاپانی لیڈرز نے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کی طرف توجہ دی سیکورٹی کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی گئی۔ اس کے بعد ترقی کے لیے ضروری اجزا مثلاً الیکٹر سٹی کی پیداوار عوام کو پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مختصراً یہ کہ گورنمنٹ نے ایک اچھا فریم آف ورک بنایا اور لوگوں نے ایمانداری سے اس پر عملدرآمد کیا۔ جاپانیوں کی ترقی کا راز ان کی اجتماعی سوچ، سچ بولنے کی عادت اور انتھک محنت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ایٹم بم کے حملوں کے بعد جاپانیوں نے بہت سخت محنت کی۔ تعمیر نو کیلئے جو قرض لیا اس کو درستگی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ جاپان آج اتنی ترقی کر چکا ہے کہ وہ کئی ممالک کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کرنے کے علاوہ کئی ممالک کو قرض بھی دے رہا ہے جاپان نے عالمی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے بھی فنڈز دیئے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کی بھی مدد کی ہے۔ اقوام متحدہ کے فلاحی کاموں میں بھی جاپان نے امداد کی ہے۔
سوال:: ہیرو شیما اور ناگاساکی اب کیسے نظر آتے ہیں؟
سید ندیم شاہ: یہ ہیروشیما اور ناگاساکی نہایت خوبصورت اور بالکل نئے بنا دیئے گئے ہیں البتہ ایٹم بم سے تباہ شدہ ایک عمارت کو میوزیم بنایا گیا ہے جس میں تباہی کی یادگاروں کے ساتھ جاپان کی بہترین مینوفیکچرڈ اشیاء بھی نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ یہاں ہر سال ایک امن کی تقریب منعقد کی جاتی ہے میموریل پارک بنایا گیا ہے۔ میوزیم میں نئی نسل کے لیے اس تاریخی سانحہ پر ڈسکشنز پروگرام کئے جاتے ہیں۔ انہیں فلمیں اور سی ڈیز دکھائی جاتی ہیں۔ جاپان کی نوجوان نسل اس سانحے سے پوری طرح آگاہ ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک جاپان کی ترقی کا راز کیا ہے؟
سید ندیم شاہ: میں سمجھتا ہوں کہ جاپان نے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کو فروغ دے کر ترقی حاصل کی ہے۔جاپان میں خواندگی کی شرح 99.9 فیصد ہے۔ دراصل جاپان نے 1868 میں اپنے دروازے بیرونی دنیا کے لیے کھول دیئے اور پہلی مرتبہ ماڈرن حکومت تشکیل پائی اس سے پہلے جاپان کے قبائلی نظام میں بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں رکھاجاتا تھا ماڈرن maji حکومت نے ہر فرد کے لیے تعلیم لازمی قرار دی۔ تعلیمی نصاب فرد کوبہتر انداز میں سوچنے سمجھنے کے لیے تیار کرتا تھا۔ تعلیم عام کرنے سے یہ فائدہ ہوا کہ دنیا میں جب ٹیکنالوجی کا دور شروع ہوا تو جاپان اس کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ ٹیچرز کو اچھی تنخواہیں اور معاشرے میں مقام دیاجاتا ہے۔ اسی لیے امریکن بھی جاپان میں خوشی خوشی پڑھانے آتے ہیں۔ ٹیکنالوجسٹس کو بہت زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ ان اقدامات نے جاپان کو تعلیم و ٹیکنالوجی میں صف اوّل میں کھڑا کر دیا۔ جاپانی لوگ جانتے ہیں تعلیم ایک میرٹ ہے۔ اگر ایک کسان کا لڑکا تعلیمی اہلیت رکھتا ہے تو وہ بھی اسی جاب کا اہل ہے جو ایک منسٹر کا بیٹا کر سکتا ہے۔
سوال: آپ جاپان کی موجودہ حکومت کی خاص پالیسیوں پر روشنی کی ڈالیں؟
سید ندیم شاہ: جاپانی حکومت کی اولین ترجیح عوام کو سیکورٹی فراہم کرنا ہے۔ اس کے لیے تمام اقدامات کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان کے لیے بوڑھے افراد کی نگہداشت ایک چیلنج ہے۔ دراصل 1945 میں سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد جاپان میں بے بی بوم آیا۔ جنگ کے بعد بہت لوگ جاپان آئے بچے ہوئے اور آبادی بڑھی۔ بعد میں اگرچہ حکومتی پالیسیوں سے برتھ ریٹ کنٹرول کر لیا گیا مگر پچاس کی دہائی والی نسل اب 60 سال سے زائد عمر ہے اور ان کی تعداد خاصی ہے حکومت ان کے لیے پنشن سمیت بہت سی سہولیات کا انتظام کررہی ہے۔ بوڑھوں کے لیے پبلک پلیسز، اسٹیشنز، ایئرپورٹس وغیرہ پر خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اسٹیشن پر بوڑھے افراد کو ریسیو کرنے کے لیے سٹاف موجود ہوتا ہے جو انہیں وھیل چیئر اور لفٹ وغیرہ کی مدد سے ان کی مطلوبہ ٹرین میں سوار کرا دیتا ہے۔ جہاں وہ پہنچیں گے ان کے لیے ایسے ہی انتظامات ہوں گے۔
سوال: آپ جاپانیوں کی اچھی صحت کا راز کیا ہے؟
سید ندیم شاہ: طویل عمرکی اوسط میں جاپان دنیا میں نمبر ون ہے۔ جاپان میں مردوں کی اوسط عمر 80 سال ہے اور عورتوں کی 86 سال ہے۔ جاپانیوں کی طویل عمر اور اچھی صحت کا راز غذائی عادات ہیں جاپانی کھانوں میں زیادہ چکنائی استعمال نہیں کرتے۔ بوائلڈ اور بیکڈ کھانا پسند کیا جاتا ہے تازہ اجزاء سبزی اور مچھلی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے جاپانی سرزمین بہت زرخیز ہے۔ چار مختلف موسم ہیں جن میں بے شمار مختلف سبزیاں ہوتی ہیں پانی کے ذخیروں کی کمی نہیں، مچھلی وافر ہوتی ہے۔ یہ تمام اشیاء مناسب دام میں مہیا ہوتی ہیں اس کے علاوہ جاپان میں گرین ٹی کا بہت استعمال ہے۔ یہ صحت کے لیے بہت اچھی ہے مجموعی طور پر بھی جاپانی قوم ہیلتھ کانشئس ہے۔ لوگ موٹاپے سے بچتے ہیں اوورایٹنگ اور ڈرنکنگ سے گریز کرتے ہیں۔ ایکسرسائز کرتے ہیں۔ جاپان میں یہ اصول رائج ہے کہ اچھی صحت کے لیے80 فیصد کھاؤ۔ یعنی پیٹ بھر کر نہیں کھانا چاہیے۔
سوال: پاکستان اور جاپان کے لوگوں میں آپ کو کیا مماثلت نظر آتی ہے؟
سید ندیم شاہ: دونوں ممالک میں لوگ بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں محنت کر رہے ہیں۔دونوں ممالک کے نوجوان نسل کافی ذہین ہے اور ان میں آگے بڑھنے کی لگن اور جستجو ہے۔
سوال: جاپان اور پاکستان کے معاشرے میں آپ کو بنیادی فرق کیا لگتاہے؟
سید ندیم شاہ: جاپانی معاشرہ بہت منظم اور مربوط ہے۔ جاپانی معاشرے میں ہم آہنگی اور اجتماعی سوچ نظر آتی ہے جاپانی قوم سچ بولتی ہے جھوٹ سے نفرت کرتی ہے۔ جبکہ پاکستانی معاشرے میں مجھے نفسا نفسی اور انفرادی سوچ محسوس ہوتی ہے عمومی طور پر پاکستانی معاشرہ جینٹل ہے لیکن ڈرائیور سے لے کر افسر تک ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی سوچتا ہے۔ قومی سوچ کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: چین نے نئی تجارتی گزرگاہوں کی پالیسی کس طرح ترتیب دی ہے اورپاک چین اکنامک کوریڈور کی تعمیر کا پس منظر اور مقاصد کیاہیں؟
سید ندیم شاہ: چین کی تجارت ایک جانب تو مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے ساتھ ہے دوسری چین نے یورپی یونین کے ممبرممالک کے ساتھ بھی قریبی تجارتی تعلقات استوار کررکھے ہیں، یورپی یونین کے ساتھ تجارت کیلئے چین نے وسطیٰ ایشیائی ممالک کے راستے ایک ہائی وے تعمیر کی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی تجارت کر سکے گا۔ مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے ساتھ تجارت میں چین کو کئی طرح کی مشکلات درپیش تھیں، چین کے جاپان، فلپائن، کوریا اور مشرق بعید کے دیگر کئی ممالک کے ساتھ تنازعات موجود ہیں، اس صورتحال میں چین اپنی تجارت کے لیے محفوظ ترین راستے کے تلاش میں تھا جو گوادر کی صورت میں اسے مل گیا ہے۔ اس لیے چین نے گوادر پورٹ کا انتظام سنبھالنے اور اکنامک کوریڈور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین میں اب تک ہونے والی ترقی کا مرکز اس کا مشرقی علاقہ رہا جبکہ سنگیانگ سمیت پاکستان سے ملحقہ چین کا مغربی حصہ ابھی تک پسماندہ اور ترقی کے لحاظ سے بہت پیچھے ہے دوسری جانب چین کی تمام تر بحری تجارت سٹیٹ آف مالا کا کے راستے ہو رہی ہے، سٹیٹ آف مالاکا دراصل ایک بہت ہی تنگ بحری گزرگاہ ہے جہاں ایک وقت میں ایک بحری جہاز ہی گزر سکتاہے، چین زیادہ تر خام تیل مشرق وسطیٰ کے ممالک سے درآمد کرتا ہے اور چین میں برآمد کئے جانے والے تیل کا 70 سے 80 فیصدحصہ اسی راستے سے آتا ہے، مشرقی وسطیٰ سے اس بحری راستے کے ذریعے سامان کی ترسیل میں بہت زیادہ وقت لگتاہے، مشرق وسطیٰ سے کارگو چین تک پہنچانے میں لگ بھگ 4 سے 5 ہفتے لگ جاتے ہیں پھر چین کے مشرق ساحلوں پر پہنچنے والے کارگو کو مغربی چین تک پہنچانے کیلئے مزید وقت درکار ہوتاہے جبکہ یہی کارگو پاکستان کے راستے چین تک ایک ہفتے میں پہنچ سکتا ہے اس طرح کارگو کی ترسیل میں نہ صرف وقت بلکہ اخراجات میں نمایاں بچت ہو سکتی ہے، دوسری جانب کسی عالمی طاقت کے ساتھ تنازعے کی صورت میں سٹیٹ آف مالاکا کے روٹ کے بند ہونے کے خدشات بھی موجود رہتے ہیں جبکہ چین پاکستان کے راستے آسانی اور کسی خدشے کے بغیر اپنا سامان تجارت منگوا سکتا ہے، اسی وجہ سے چین نے گوادر بندرگاہ کاانتظام سنبھالنے اور اکنامک کوریڈورتعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سوال: گوادر پورٹ کی ڈویلپمنٹ سے خطے کی تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
سید ندیم شاہ: گوادر پورٹ کی اہمیت کاجائزہ لینے کیلئے پہلے ہمیں دیگر پورٹس اورخطے کی تجارت کا جائزہ لینا ہو گا، اس خطے کا سب سے مصروف ترین پورٹ دبئی ہے، یہ دنیا کا نواں مصروف ترین پورٹ ہے، جس پر سالانہ 131 ملین ٹن کارگو کی ہنڈ لنگ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ بھی ہے کہ دبئی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے کارگو لانا پڑتا ہے یعنی بڑے بحری جہازوں کو گہرے سمندر میں لنگر انداز کر کے اس پرکارگو چھوٹے جہازوں پرمنتقل کیاجاتاہے اورپھریہ چھوٹے جہاز دبئی پورٹ پر لنگر انداز ہو کر کارگو اتارتے ہیں، دوسری جانب چین ہے، لیکن چین کی تمام بندرگاہیں اس کے مشرقی حصے میں واقع ہیں، چین کے مشرقی علاقے میں تقریباً 200 پورٹس موجود ہیں جہاں اس کا معروف شنگھائی پورٹ بھی ہے جس کودنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے لیکن بڑھتی ہوئی تجارت کیلئے چین کی ان بندرگاہوں میں مزید کارگوہینڈل کرنے کی استعداد نہیں، یہ بندرگاہیں پہلے ہی بہت زیادہ مصروف ہیں، جس کی وجہ سے چین کو مزید بندرگاہوں کی ضرورت ہے، ان بندرگاہوں کے راستے آنے والے کارگو کو چین کے بقیہ تمام علاقوں میں ترسیل کیاجاتا ہے، چین کے مغربی علاقے کا فاصلہ بہت زیادہ ہے اس لیے مشرقی علاقے سے کارگو مغربی صوبوں تک بھیجنے میں وقت بھی زیادہ لگتاہے اور اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔گوادر پورٹ چین کو ایک بہترین متبادل روٹ فراہم کرتا ہے۔
سوال: پاک چین اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ کی تعمیر سے کتنی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے؟
سید ندیم شاہ: گوادر پورٹ اور پاک چین اکنامک کوریڈور بہت بڑے منصوبے ہیں،ان منصوبوں کی تعمیر اور ترقی کے اثرات پورے خطے کی تجارت پر مرتب ہوں گے، یہ منصوبے صرفپاکستان اور چین کی تجارت تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ افغانستان، وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے علاوہ ایران، دبئی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی تجارت پر بھی ان منصوبوں کے اثرات ہوں گے۔ البتہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، اس منصوبے سے پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی، پاکستان کے تمام علاقوں میں معاشی ترقی ہو گی، مقامی افراد کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی نصیب ہوگی اور پاکستان اقتصادیات کے ایک سنہری دور میں داخل ہو جائے گا۔ اس منصوبے پر صحیح معنوں میں عملدرآمد ہو گیا تو پاکستان میں اقتصادی انقلاب آئے گا۔
سوال: پاک چین اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں میں کس حد تک اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کا پاکستان کو کتنا فائدہ ہو گا؟
سید ندیم شاہ: چین کے تمام مغربی صوبوں کے سارے سامان تجارت کی ترسیل ان بندرگاہوں کے ذریعے کی جاتی ہے جو چین کے مشرق میں واقع ہیں، چین اپنی ضرورت کا 80 فیصد تیل مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس کے علاوہ افریقہ کے ساتھ تجارت بھی چین کی انہی بندرگاہوں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس روٹ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے چین کے مغربی صوبوں تک سامان تجارت کی ترسیل کیلئے 6 سے 7 ہفتے یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے جبکہ اس پر اخراجات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں، اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد گوادر پورٹ کے راستے چین کا یہی سامان تجارت ایک ہفتے میں منزل مقصود تک پہنچایا جا سکے گا جس سے چین کو اربوں ڈالر کی بچت ہو گی، چین کی بیرونی تجارت بہت زیادہ ہے، اگرچین کی مجموعی بیروی تجارت میں سے 20 فیصد تجارت بھی گوادر اور اقتصادی راہداری کے روٹ کے ذریعے ہونے کی صورت میں پاکستان کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہو گا، چین کے علاوہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ کوئی سمندر نہیں لگتا، یہ لینڈ لاک ممالک ہیں اور ان ممالک کی زیادہ تر تجارت گوادر کے راستے ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ روس بھی اپنا سامان تجارت اس راستے کے ذریعے منگوا سکتا ہے بالخصوص سردیوں کے موسم میں روس کی کئی بندرگاہیں سمندر منجمد ہونے کی وجہ سے بند ہوجاتی ہیں، اس موسم میں روس کا بیشتر سامان تجارت گوادر پورٹ کے ذریعے ترسیل کیا جا سکتاہے۔
سوال: چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ کوکس طرح زیادہ فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے؟
سید ندیم شاہ: حکومت کو چاہیے کہ وہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ منصوبوں کی تعمیر اس طرح کرے کہ اس سے ملک کے تمام صوبوں کے عوام کویکساں فائدہ پہنچے حکومت کوشش کرے کہ ان منصوبوں کی تعمیر اس طرح کرے کہ ملک کے پسماندہ علاقے ترقی کے عمل میں شریک ہو سکیں، پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیاں شروع ہو سکیں اور لوگوں کا معیار زندگی بہترہو سکے، پاک چین اکنامک کوریڈور اور گوادر پورٹ قومی منصوبے ہیں اور ان کا فائدہ بھی مساوی طور پر تمام صوبوں کے عوام کو ہوناچاہیے، کسی ایک صوبے کو زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے، ان صوبوں کی تعمیر سے جب ملک کے تمام صوبوں کے عوام کو فائدہ ہو گا تو اس کے قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا اور پورے ملک میں عوام کامعیار زندگی بہتر ہوگا۔
سوال: کچھ ممالک نے گوادر پورٹ کی ترقی اور اکنامک کوریڈور کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی ہیں اس صورتحال میں حکومت کی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟
سید ندیم شاہ: اقتصادی ترقی ہرملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے تمام ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی بیرونی تجارت میں اضافہ ہو، گوادر پورٹ کی تعمیر اور ترقی سے نہ صرف چین بلکہ روس اور وسطیٰ ایشیائی ممالک تک سامان تجارت کی ترسیل اس پورٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، یورپی ممالک بھی اپنی تجارت اس راستے کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ معاشی طور پر مضبوط ہونا ہر ملک کا حق ہے لیکن بد قسمتی سے جب پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ہونے کا موقع میسر آرہا ہے تو ان حالات میں دشمن ممالک نے پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے ضامن منصوبے پاک چین اکنامک کوریڈور کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت اور پاک فوج کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کردشمن کا مقابلہ کریں۔ پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے دشمن ممالک کالا باغ ڈیم کی طرح پاک چین اکنامک کوریڈور منصوبے کو بھی سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اکنامک کوریڈور منصوبے پر ناچاقی قومی مفاد میں نہیں ہے اس لیے حکومت، افواج پاکستان، تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں اور اکنامک کوریڈور کی تعمیر کویقینی بنائیں۔
سوال: موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں آپ پاکستانی عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
سید ندیم شاہ: میں پاکستان کی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ ملک کے وسیع ترمفاد میں پاکستان کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اسلام امن رواداری اور انسانیت کا مذہب ہے ہمارے دین کے روشن خیال اقدار کی اساس قرآن کے احکامات اور ہمارے بزرگوں کی شاندار روایات ہیں جوامن و آشتی اور اعتدال پسندی کو فروغ دیتی ہیں عوام یہ عزم کریں کہ وہ روشن خیال اور میانہ روی کا راستہ اختیار کریں گے اور اقوام عالم اور مختلف تہذیبوں اور تقافتوں کے درمیان باہمی مفاہمت اور احترام کو فروغ دیں گے کیونکہ ہم امن پسند لوگ ہیں ہماری خواہش ہے کہ ہم عزت وقار، خوشحالی اور ترقی کی بنیادوں پر اپنی زندگی بسر کریں اور ان مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہیں تاکہ پاکستان میں امن و استحکام کی فضا پیدا ہو جس سے عوام کی سماجی اور معاشرتی ترقی ہو۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو پہچانیں اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کو اولیت دیں کیونکہ موجودہ حالات میں ملک کو قومی یکجہتی کی بڑی اشد ضرورت ہے اور عوام کو شرپسندی، دہشت گردی اور منفی سیاست سے دوسروں کے عزائم کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ عوام کو پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ میں پاکستان عوام کو پیغام دوں گا کہ وہ جاپانی قوم کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں اور پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ جاپان کی ترقی کو رول ماڈل بنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے