Voice of Asia News

عقیدہ ختم نبوتؐ ہمارے ایمان کی اساس ہے :تحریر: جمال احمد

عقیدہ ختم نبوتؐ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اس پر ایمان لانااس طرح ہی ضروری ہے جس طرح اللہ تعالی کی واحدنیت اور حضرت محمد ؐکی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے۔سرورکائنات حضرت محمد ؐ کی نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔عقیدہ ختم نبوتؐ شریعت کی اساس اور بنیاد ہے۔ اس پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے ،عقیدہ ختم نبوتؐ پر ایمان اور اس کا تحفظ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے۔ قرآن مجید میں تقریباً 100 آیات اور 210 احادیث مبارکہ میں ختم نبوتؐ کا ذکر پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ عقیدہ ختم نبوتؐ اللہ تعالیٰ کا انسانیت پر ایک احسان عظیم ہے۔ مسلمانوں کا اجماعی عقید ہے کہ حضور سرور کائناتؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن کریم آخری آسمانی کتاب اور اُمت محمدیؐ آخری اُمت ہے۔اسلام کے اس عقیدے پر ہر مسلمان کا ہونا ضروری ہے ۔اُمت کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ ختم نبوتؐ کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،قادیانیت ،اسلام کے خلاف سازش اور نبوت محمدی کے خلاف بغاوت ہے۔
رسالتِ محمدیؐ کا امتیاز اور آپؐ کی نبوت کی اہم اور نمایاں ترین خصوصیت ہے۔ قرآن و سنت، تعاملِ اُمت، صحابہؓ و تابعین اور پوری اُمت کا اس امر پر اجماع ہے کہ رسول اکرمؐ کو ’’خاتم النبین‘‘ بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ آپؐ اللہ کے آخری نبی، قرآن ہدایت و راہنمائی کا آخری اور ابدی سرچشمہ اور یہ اُمت آخری اُمت ہے۔قرآن و سنت میں اس حوالے سے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ اُمت کا اس امر پر اجماع ہے کہ ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ پر ایمان ایک ناگزیر اور لازمی دینی تقاضا ہے جس کا منکر کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نبویؐ میں ختم نبوت کے حوالے سے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ چنانچہ ’’سورہ احزاب‘‘ میں پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ ’’ محمد ؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے پیغمبرؐ اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘ (سلسلہ نبوت و رسالت کو ختم کرنے والے ہیں)۔رسول اکرم حضرت محمدؐ پر سلسلہ نبوت و رسالت کے اختتام کی ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ آپؐ قیامت تک پوری انسانیت کیلئے نجات دہندہ اور ہادی و رہبر بنا کر بھیجے گئے۔
جب آپؐ کی ہمہ گیر شریعت، ختم نبوت اور آخری نبوت و رسالت کا اظہار قرآن کریمؐ کر رہا ہے، دین کی تکمیل اور شریعت کی ہمہ گیری اور منشور ہدایت ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے تو پھرکسی اور نبی کے تصور کا کیا جوازباتی رہ جاتا ہے؟ختم نبوتؐ دین کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ عقیدہ ختم نبوت پر ایمان اور اس کا تحفظ دین کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے۔اسلام کے اسی عقیدے پر ہر مسلمان کا ایمان ہونا ضروری ہے۔ اُمت کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ ختم نبوتؐ کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آپؐ کی حیات ظاہری سے لے کر آج تک سارے مسلمان اسی عقیدے پر قائم ہیں۔ قادیانت، اسلام کے خلاف سازش اور نبوت محمدیؐ کے خلاف بغاوت ہے۔ حضور سرور کائنات ؐ کی حیات ظاہری میں مسلمہ کذاب، اسود عنسی اور سجاح بنت حارث نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا مگر ذلت و رسوائی سے ہمکنار ہوئے۔ اُمت مسلمہ نے نبی دو عالم ؐ کو تمام تر عظمت و شان کے ساتھ تمام انبیائے کرام کا امام و سردار اور آخری نبی ؐ تسلیم کیا۔
سامراجی قوتوں نے حضور سرور کائنات ؐ کی عظمت و محبت کو مسلمانوں کے دلوں سے ختم کرنے کیلئے عقیدہ اجرائے نبوت کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مرزا قادیانی کو معاذ اللہ نبی کی صورت میں پیش کیا اور اس طرح سادہ لوح مسلمانوں کو صراط مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کی۔ لیکن صلحائے اُمت اور علماء و مشائخ نے متحد ہو کر ان باطل عقائد کی بیخ کنی کیلئے ہر محاذ پر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں دندان شکن جواب دیا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ختم نبوتؐ کا صحیح مفہوم اپنی تالیفات، تصانیف اور بیانات کے ذریعے واضح کر کے اُمت مسلمہ کی صحیح، فکری، علمی اور اعتقادی راہنمائی فرمائی۔ اور جھوٹے مدعیان نبوت کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنایا اور عملی جہاد کرتے ہوئے اس فتنے کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔
7 ستمبر کا دن تمام مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن ہے کہ اس دن منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے باالاتفاق غیر مسلم اقلیت قرار دے کر عقیدہ ختم نبوتؐ کو آئینی و دستوری تحفظ دیا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس تحریک میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔امام الانبیاء، سید المرسلین، سرور کائنات، پیغمبر آخر و اعظم، حضرت محمدؐ انسان کامل، انبیاء اور رسولوں کے امام اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام لے کر آئے اور بنی نوع انسان کی رہنمائی آپؐ کا منصب ٹھہرا، نہ صرف یہ بلکہ آپؐ کوجہانوں کیلئے کرہ ارض پر ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جب ہزاروں لاکھوں موذن اللہ کی توحید اور حضوراکرمؐ کی رسالت کا اعلان نہ کر رہے ہوں۔آپؐ کو خاتم الانبیاء اور سید المرسلین بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ آپؐ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا۔ آپؐ اللہ کے آخری نبی اور قیامت تک پوری انسانیت کے ہادی و رہبر ہیں۔ آپؐ کو دین کامل عطا کیا گیا۔ اب دین اسلام ہمیشہ کیلئے مکمل ہو گیا۔ یہ ایک کامل و مکمل ضابطہ حیات اور قرآن بنی نوع انسان کیلئے دائمی صحیفہ ہدایت ہے جس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔
رسول اکرمؐ کی پیغمبرانہ خصوصیات میں سب سے اہم اور نمایاں خصوصیت آپؐ کا امام الانبیاء، سید المرسلین اور خاتم النبین ہونا ہے، آپؐ کی دعوت، آپؐ کی شریعت، آپؐ کا پیغام اور دین اسلام آفاقی اور عالمگیر حیثیت کا حامل ہے۔ آپؐ بنی نوع آدم اور پورے عالم انس و جن کیلئے دائمی نمونہ عمل اور آخری نبی بنا کر مبعوث فرمائے گئے۔ آپؐ پر دین مبین کی تکمیل کر دی گئی۔ پوری انسانیت آپؐ کی امت اور آپؐ قیامت تک پوری انسانیت کیلئے ہادی و رہبر اور بشیر و نذیر بنا کر مبعوث فرمائے گئے۔
عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ، اس کے ایمان کا تقاضا اور آخرت میں شفاعتِ رسولؐ کا ذریعہ ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پرپورے دین کا انحصار ہے، اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ ہے، اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو دین محفوظ نہیں۔ قرآن کریم میں ایک سو سے زائد آیات اور ذخیرہ احادیث میں دو سو سے زائد احادیث نبویؐ اس عقیدے کا اثبات کر رہی ہیں۔ جن میں پوری تفصیل سے ختم نبوت کے ہر پہلو کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ قرون اولیٰ سے لے کر آج تک پوری اُمت مسلمہ کا اجماع چلا آرہا ہے کہ حضور اکرمْؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ کا تو یہ فتویٰ ہے کہ حضور خاتم الانبیاءؐ کے بعد مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

jamalahmad50000@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے