Voice of Asia News

پیپل کے کرشمے:تحریر : محمد سعید جاوید (ٹھٹھہ)

پیپل کا درخت نیم، کیکر، آم اور جامن کے درختوں کی طرح ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ اس کے پتے پان کے پتوں سے ملتے جلتے، سیدھی طرف سے چمکدار اور ہرے ہوتے ہیں اور ان پر رگیں ہوتی ہیں۔ اس میں فالسہ کے برابر پھل لگتے ہیں جو ’’پپلیاں‘‘ کہلاتے ہیں۔تنے اور شاخوں کی کھال سفید ہوتی ہے۔ پکنے کے بعد پھلوں کا رنگ انجیر کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے مختلف نام اس طرح سے ہیں

 

:
اُردو۔۔۔پیپل
پنجابی۔۔۔پیپل
عربی۔۔۔شجرالمرتعش
فارسی۔۔۔شجرلرزاں
سنسکرت۔۔۔چھلادگنا
انگریزی۔۔۔فائکس رلیجوسا
ہندی۔۔۔پمپلا
بنگلہ۔۔۔آشوت
ماہیئت
برگد کی پیڑ کی طرح یہ پیڑ یعنی پیپل بھی بڑی لمبی عمر پاتا ہے۔ دو سال عمر بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر کے پیپل کے درخت دیکھے گئے ہیں اور اب تک موجود ہیں۔ بھارت کے شہر دہلی میں جمناگھاٹ کے قریب قدسیہ باغ میں پیپل کا ایک بہت پرانا پیڑ ہے بڑا اتنا اور اونچا۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ شہنشاہ ہمایوں کے وقت سے ہے۔ ہندوستان سے پہلے کی بات ہے۔ اب معلوم نہیں کہ وہ پیپل کا۔ صبح کو جمناگھاٹ پر اشنان کرنے والے ہندو پیپل کے اس پیڑ پر جمنا جل یعنی جمنا کا پانی چھڑکتے تھے۔ چراغ جلاتے تھے۔ اس کے تنے سے پھولوں کے ہار لٹکاتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ہندو اس کی پوجا کرتے تھے۔ تلسی اور برگد کی طرح پیپل کا پیڑ ہندوؤں کی نظر میں مقدس ہے وہ اسے پوجیہ دیوتا سمجھتے ہیں۔ ویدوں اور پراچین سنسکرت پشتکوں میں بھی پیپل کا نام اور ذکر آتا ہے۔ پیپل کے بارے میں ایک دیدک منتر یہ ہے
’’مولم برہما۔ توجاوشنو۔ شاکھا شاکھا مہشیورا۔ پترانی دیوتا سروا ورائش راج نمو سوئے۔‘‘
ترجمہ: ’’اس کی جڑ برہما ہے۔ چھال وشنو بھگوان۔ ٹہنیاں شیو جی مہا راج اور ہر پتا دیوتا۔ ایسے درختوں کے راجہ کو نمسکار ہو۔‘‘
یہ پیڑ قدیم زمانہ سے ہندوستان میں اپنے خواص و افعال کی وجہ سے بڑا مشہور ہے اور اس اعتبار سے پیپل کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔
مزاج
بعض اطبا و حکما کے نزدیک پیپل مزاجاً اور طبقاً گرم خشک ہے اور بعض اسے دوسرے درجے میں سرد خشک سمجھتے ہیں۔ پت جھڑ کے موسم میں پیپل کے پتے بھی جھڑ جاتے ہیں۔ لیکن پھاگن میں اس کی شاخوں سے سرخ رنگ کو نپلیں نکلتی ہیں جو ریشم کی مانند نرم اور ملائم ہوتی ہیں اور بڑی خوشنما لگتی ہیں اور یہی کونپلیں بعد میں بڑھ کر سبز پتے بن جاتی ہیں جنہیں توڑنے سے دودھ سا رس نکلتا ہے۔ پیپل کا درخت اس اعتبار سے بھی مضبوط سمجھا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں زمین میں بڑی دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں۔
پھنسیوں کیلئے
اگر پیپل کے نرم و نازک پتوں کو گھی سے چپڑ کر گرم کر کے پھوڑے پھنسیوں پر باندھ دیا جائے تو وہ بہت جلد پک کر پھوٹ جاتے ہیں اور اسی کے باندھنے سے مواد نکل کر جلد اچھے ہو جاتے ہیں۔
اکسیر ملیریا متلی و پیاس
پیپل کی چھال پاؤسیر لے کر جلائیں جب اس میں دھواں نہ رہے تو ایک سیر پانی میں ڈال کر بجھائیں اور اس پانی کو ایک کوری ٹھلیا میں سرد ہونے کیلئے رکھ چھوڑیں۔ ملیریا بخار میں جب مریض کو بار بار قیئیں آتی ہوں۔ متلی ستاتی ہو، مریض بار بار پانی مانگتا ہوں یا ہیضہ میں مریض پیاس اور قے کی شدت سے نڈھال ہو تو اس پانی کو پلانے سے بہت جلد سکون ہو جاتا ہے۔ قے رک جاتی ہے اور پیاس بجھ جاتی ہے۔
قبض
پیپل کے پتے سایہ میں خشک کریں اور باریک پیس کر قدرے گلقند کے ساتھ جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنالیں۔ رات کو ایک گولی دودھ سے کھا لیا کریں۔ قبض دور ہو جائے گی۔
پیپل کا پھل سایہ میں خشک کر کے اس میں برابر وزن دیسی کھانڈ ملا کر سفوف بنا لیں رات کو دودھ کے ساتھ 2ماشہ استعمال کریں صبح کو قبض ٹوٹ جائے گا۔
پیٹ کے کیڑے
پیپل کے پتوں کو خشک کر کے سفوف بنائیں اور اس میں گڑ ملا کر گولیاں بنا لیں۔ وہ گولیاں عرق سونف سے کھلائیں۔ پیٹ کے کیڑے ہلاک ہو جائیں گے۔
دماغی کمزوری
پیپل کی کونپلیں حسب ضرورت سایہ میں خشک کریں اور سفوف بنا کر کسی ڈبیہ میں سنبھال رکھیں۔ 4ماشہ سفوف لے کر پاؤ بھر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھا پانی باقی رہ جائے تو چھان کر اس میں کھانڈ اور دودھ ملا کر چائے کی طرح پئیں۔ دماغی کمزوری کیلئے اکسیر ہے۔
saeedjawed10@yahoo.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے