Voice of Asia News

لیگ اسپن باؤلنگ کے فن کو نئی جہت عطا کرنا چاہتا ہوں یاسر شاہ کا ’’وائس آف ایشیا‘‘ کو خصوصی انٹرویو محمد قیصرچوہان

نوجوان کھلاڑی کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں اور پاکستان کرکٹ کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں پر کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے ماضی میں تو کرکٹ صرف بڑے شہروں تک ہی محدود تھی لیکن گزشتہ چند برسوں میں کرکٹ ملک کے چھوٹے شہروں بلکہ گاؤں تک پہنچ چکی ہے اب چھوٹے شہروں اور گاؤں کے کھلاڑی بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس دکھا کر پاکستان کرکٹ ٹیم شامل ہو کر ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک نام 2مئی 1986 کو ضلع صوابی کے ایک چھوٹے سے گاؤں گوہاٹی میں پیدا ہونے والے یاسر شاہ کا بھی ہے جس کی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا اور انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف شاندار کارکردگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک میچ ونر باؤلر مل گیا ہے۔یاسر شاہ نے ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو 14ستمبر 2011 کو زمبابوے کے خلاف ہرارے کے مقام پر کیا تھا اور اولین میچ میں 2 وکٹیں حاصل کیں تھیں جبکہ انہوں نے ٹونٹی 20 انٹرنیشنل ڈیبیو بھی زمبابوے ہی کے خلاف ہرارے کے مقام پر کیا تھا لیکن وہ وکٹ سے محروم رہے تھے ۔ یاسرشاہ نے ٹیسٹ ڈیبیو متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کیا اور اولین ٹیسٹ میچ میں 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔یاسر شاہ اب تک21 ٹیسٹ میچوں میں119 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک صدی بعد سب سے کم ٹیسٹ میچ کھیل کر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر بن گئے ہیں۔ یاسر شاہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سوئی ناردن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ قبل ازیں وہ صوابی، مردان، ایبٹ آباد ریجن، خیبرپختونخوا پروینس ، کسٹمز، پاکستان انڈر 19، پاکستان اے کی طرف سے کھیل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہامنواچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’ ‘‘ نے قومی کرکٹ ٹیم کے باصلاحیت نوجوان لیگ اسپنر یاسر شاہ سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ایک ملاقات کی جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے اور کرکٹ کھیلنے کا شوق کسے دیکھ کر پیدا ہوا؟
یاسر شاہ: میرا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا کے چھوٹے سے شہر صوابی سے تقریباً سات کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے گاؤں گوہاٹی سے ہے۔میرے والد محترم کا نام سید خاکی شاہ ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک کسان ہیں۔ ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں اور میرا نمبر چھٹا ہے۔ کرکٹ کھیلنے کاآغاز پانچ برس کی عمر میں کیا تھا۔ٹینس بال سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا تھا۔ گاؤں کی کرکٹ ٹیم میں بطور فاسٹ باؤلر کھیلتا تھا۔ چونکہ اچھا فیلڈر تھا اس لیے وکٹ کیپنگ بھی کیا کرتا تھا۔ میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول گوہاٹی سے حاصل کی۔ ہمارے سکول میں کرکٹ ٹیم تھی جس میں بڑی کلاس کے لڑکے کھیلتے تھے۔ میں نے سکول ٹیم میں شمولیت کی بڑی کوشش کی لیکن سکول کی کرکٹ ٹیم نے مجھے کھلانے سے انکار کر دیا۔ تو میں نے وہ سکول چھوڑ کر گورنمنٹ ہائی سکول سیری میں داخلہ لے لیا۔ بد قسمتی سے وہاں بھی مجھے کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور کھیلنے کی جدوجہد میں مصروف رہا۔ پھر بالآخر میری محنت رنگ لے آئی اور مجھے اپنے سکول کی طرف سے نواکلی سکول کے خلاف میچ کھیلنے کا موقع مل گیا اور یوں میں نے اس میچ میں 40رنز بنائے اور اپنی لیگ بریک باؤلنگ سے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مجھے اس کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا تھا اور یوں میں نے ہارڈ بال سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔میرے بڑے بھائی مطیع اللہ نے میری بہت حوصلہ افزائی کی وہ عموماً مجھے گراؤنڈ میں لے جاتے اور مجھے ایک اچھا کھلاڑی بنانے کیلئے میرے اوپر سخت محنت کرتے تھے بڑے بھائی نے میرے اندر کرکٹر بننے کے جنون کو پروان چڑھایا انہوں نے مجھے فائیٹر کرکٹ کلب صوابی میں داخلہ لے کر دیا تھا۔میں نے کلب میں کافی محنت کی جس کے نتیجہ میں جلد ہی مجھے کلب لیول پر میچ کھیلنے کا موقع مل گیا اور یوں میں نے 1998 میں اپنے کیریئر کا پہلا میچ فائیٹر کرکٹ کلب کی طرف سے زیدا کرکٹ کلب کے خلاف کھیلا میں نے اس میچ میں 3 وکٹیں حاصل کیں اور ساتھ 32 رنز ناٹ آؤٹ بنائے پھر اس کے بعد میں نے کلب کرکٹ میں اپنی عمدہ کارکردگی کی بدولت اپنا ایک نام بنا لیا تھا میں کرکٹ کھیلنے کے جنون میں 100 کلو میٹر کی مسافت طے کر کے کرکٹ کھیلنے پشاور جایا کرتا تھا۔پھر میں نے صوابی کے سب سے مشہور صوابی کرکٹ کلب کو جوائن کر لیا۔ جہاں پر میری باؤلنگ کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ اس کلب میں میرے ساتھ جنید خان اور آج کل آسٹریلیا کی طرف سے کھیلنے والے فواد احمد بھی کھیلتے تھے۔ 2000 کے سیزن میں مردان کی طرف سے انڈر 19 گریڈ ٹو کے 6 میچز میں 32 وکٹیں حاصل کیں اور بہترین باؤلر قرار پایا جبکہ اس سے پہلے پاکستان انڈر 15 کے 20 لڑکوں میں میرا نام آیا تھا مگر بد قسمتی سے ان فٹ ہو گیا جس کی وجہ سے میں کھیل نہ سکا جبکہ اس کے بعد 2000 کے سیزن میں مردان کی طرف سے قائداعظم ٹرافی گریڈ ٹو کھیلا اور چار میچوں میں 26 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد 2001 کے سیزن میں انڈر 19 گریڈ ٹو کے 4 میچوں میں 25 وکٹیں حاصل کر کے بہترین باؤلر قرار پایا اسی عمدہ پرفارمنس کی وجہ سے میرا نام ریجنل کرکٹ اکیڈمی پشاور میں آیا میں نے اس اکیڈمی میں جا کر کافی محنت کی ہمارے کوچ نے بہت زیادہ محنت کروائی اور قدم قدم پر میری رہنمائی کی اس کے بعد پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کیلئے اوپن ٹرائلز میں شرکت کی اور اپنی عمدہ باؤلنگ کی بدولت میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے منتخب ہوا اور میں نے سری لنکا انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے خلاف ہوم سیریز میں اپنا ڈیبیو شیخوپورہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کیا اور اپنے پہلے میچ میں 24رنز ناٹ آؤٹ بنائے اور 9اوورز میں 38 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسرا میچ قذافی اسٹیڈیم میں لاہور میں کھیلا اور 7اوورز میں 28رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی تھی۔
سوال: کیا آپ کے خاندان میں آپ سے پہلے بھی کوئی کرکٹ کھیلتا تھا جس نے آپ کو متاثر کیا ہو؟
یاسر شاہ: میرے بڑے بھائی مطیع اللہ بڑے اچھے کرکٹر تھے وہ صرف کلب کرکٹ ہی کھیل سکے ہیں ان کی خواہش تھی کہ میں اچھی کرکٹ کھیلوں اور قومی ٹیم تک رسائی حاصل کروں۔
سوال: والدین کرکٹ کھیلنے سے منع تو کرتے ہی ہوں گے کہ اس سے پڑھائی متاثر ہوتی ہے؟
یاسر شاہ: میرے والد محترم سید خاکی شاہ چونکہ بنیادی طور پر کسان ہیں اس لیے ان کی خواہش یہی تھی کہ یاسر پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ جب میں اپنے گاؤں میں ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلا کرتا تھا تو ابو ہمیشہ مجھے پڑھائی کرنے اور فارغ وقت میں کھیتی باڑی کرنے کی تلقین کرتے تھے ۔ ابو کرکٹ کے کھیل کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے کزن طارق شاہ نے ایک مرتبہ میرے ابو سے کہا کہ ’’انکل آپ ایک مرتبہ یاسر کو کرکٹ کھیلتے ہوئے خود دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کتنا اچھا کرکٹر ہے‘‘ ایک مرتبہ ابو میرا میچ دیکھنے کیلئے صوابی آئے تو میں نے اس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو اس کے بعد میرے ابو نے مجھے کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی اور پھر اکثر میرے ابو میرا میچ دیکھنے کیلئے صوابی آتے تھے اور اچھی کارکردگی دکھانے پر میرا حوصلہ بڑھاتے تھے۔ میں کرکٹ کے آف سیزن میں اپنے ابو کے ہمراہ کھیتی باڑی کیا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ مجھے سخت محنت کی تلقین کیا کرتے تھے۔
سوال: 2001 میں پہلی مرتبہ پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں منتخب ہونے پر آپ کے کیا احساسات تھے؟
یاسر شاہ: میں بہت زیادہ خوش تھا اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کی وجہ سے میں انڈر 19 میں سلیکٹ ہوا تھا۔میں اس وقت خوشی سے پھولا نہیں سماء رہا تھا میری جو اس وقت کیفیت تھی وہ بیان سے باہر تھی میں صوابی کا پہلا لڑکا تھا جو کہ اس مقام تک پہنچاتھا۔
سوال: آپ کے ذہن میں کوئی آئیڈیل بھی تو ہو گا یا گیند ہاتھ میں آتے ہی آپ نے لیگ اسپن باؤلنگ شروع کر دی تھی؟
یاسر شاہ: میں جب بچپن میں ٹی وی پر میچز دیکھتا تھا تو اس وقت آسٹریلوی لیگ اسپنر شین وارن کی باؤلنگ کا چرچا تھا مجھے ان کی باؤلنگ کرانے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا اور پھر جس تکنیک سے وہ بیٹسمینوں کو غلطی کرنے پر مجبور کرتے تھے مجھے وہ بے حد پسند تھا اس لیے شین وارن ہی میرے آئیڈیل ہیں جن کو محض دیکھ کر میں نے بہت کچھ سیکھا اور وہ مجھے اس قدر پسند تھے کہ میں بچپن میں ان کی طرح بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ سوال: آپ کے خیال میں ایک اچھے اسپن باؤلر کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہوتی ہے جو اسے کامیابی سے ہمکنار کراتی ہے؟
یاسر شاہ: میرے خیال میں لیگ اسپن باؤلر کے لیے سب سے اہم چیز اس کی لائن و لینتھ ہوتی ہے جب تک لائن اور لینتھ اچھی نہ ہو تو آپ کامیابی کے ساتھ باؤلنگ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے میں اپنی لائن اور لینتھ کی جانب خاص توجہ رکھتا ہوں۔
سوال: لیگ اسپن باؤلر کیلئے گوگلی، فلپر اور بعض دوسری تراکیب بہت ضروری ہوتی ہیں کیا آپ نے اس جانب بھی توجہ دی ہے؟
یاسر شاہ: میں بالکل پرفیکٹ طریقے سے گوگلی او ر فلپر کر سکتا ہوں بلکہ میرا خیال ہے کہ گوگلی میری اسپیشل گیند ہے جسے صرف بہت اچھے بیٹسمین ہی درستگی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ میں لیگ بریک یا گوگلی کو بالکل ایک جیسے ایکشن سے کر سکتا ہوں۔ تاہم حالیہ عرصے میں اپنے فلپر پر خاصی محنت کر رہا ہوں یہ بہت ہی مفید گیند ہے لہٰذا میں اس پر مسلسل محنت کر رہا ہوں اور اب اس میں خاصی حد تک بہتری پیدا ہو چکی ہے جبکہ میں ٹاپ اسپن بھی مہارت کے ساتھ کر سکتا ہوں۔ میری باؤلنگ میں نکھار پیدا کرنے میں مشتاق احمد صاحب کا بنیادی کردار ہے۔ مشتاق بھائی نے میرے ایکشن کی درستگی پر بہت زیادہ کام کیا۔ پہلے میں گیند ڈیلیور کرنے میں بہت تیزی کرتا تھا لیکن مشتاق بھائی نے نیٹ پریکٹس کے دوران میری باؤلنگ ایکشن کو درست کرانے پر سخت محنت کی۔ اب گیند ڈیلیور کرتے ہوئے میرا ایکشن سلوہو گیا ہے۔ جس سے میرے لیے مد مقابل بیٹسمین کو لائن و لینتھ پر باؤلنگ کرنے میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ مشتاق احمد کی کوچنگ نے میری باؤلنگ میں نکھار پیدا کیا ہے۔
سوال:کیا آپ نے نئی گیندوں پر کام کیا ہے؟
یاسر شاہ: ایک اسپنر کی حیثیت سے میرے اندر تحمل موجود ہے تاہم میں وکٹیں لینے والی مزید گیندوں پر کام کرنا چاہتا ہوں جبکہ میں نے اپنے گگلی کو 70 فیصد تک بہتر بنایا ہے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میں نے فلپر اور ٹاپ اسپن پر توجہ دی ہے موجودہ دور میں کوئی بھی ایک قسم کی ڈیلیوریز پر انحصار نہیں کر سکتا مختلف ورائٹیز کسی بھی اچھے باؤلر کی اہم صلاحیت ہوتی ہیں۔
سوال: فاسٹ باؤلنگ کے اس دور میں جب وکٹیں بھی اسپنرز کے لیے اتنی زیادہ سازگار نہیں ہوتیں آپ کا اسپن باؤلنگ کرنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے؟
یاسر شاہ: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ لیگ بریک باؤلنگ کرنے والا کیسی بھی وکٹ ہو، کیسے بھی حالات ہوں کامیابی حاصل کر سکتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی نقصان یا گھاٹے کا سودا نہیں ہے بلکہ ایسے حالات میں ہمارے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اضافی محنت کریں نت نئی تراکیب سیکھیں اور انہیں استعمال کریں اور جب بھی ساز گار ماحول میسر آئے تو بڑی کامیابی حاصل کریں۔
سوال: قومی ٹیم کی طرف سے آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو پر آپ کے کیا احساسات تھے؟
یاسر شاہ: پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا اتنا آسان کام نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے مجھے پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹرز کی صف میں شامل کروایا یہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار اور یادگار ترین دن تھا۔ اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔مجھے قومی ٹیم کے کوچ وقار یونس نے میچ سے ایک دن قبل ٹیسٹ میچ کیلئے تیار رہنے کو کہا تھا۔ میں نے رات کو شکرانے کے نوافل ادا کئے اور کامیابی کیلئے دُعائیں کیں۔ میں رات کو دیر تک آسٹریلوی بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے کی پلاننگ کرتا رہا۔میچ سے قبل قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق، کوچ وقار یونس، منیجر معین خان اور سینئر بیٹسمین یونس خان نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لائن و لینتھ پر باؤلنگ کرنے کی تلقین کی تھی۔مجھے ابتدائی تین اوورز میں 19 رنز پڑ گئے تھے تو میں بہت زیادہ نروس ہو گیا تھا لیکن پھر مشتاق بھائی نے مجھے سمجھایا کہ ڈیوڈ وارنر آپ سے ڈر کر آپ کی گیندوں پر ہٹنگ کر رہا ہے۔ لہٰذا تم اس طرح باؤلنگ کرو جس طرح تم کسی فرسٹ کلاس میچ میں کرتے ہو۔ تو میں نے پھر مشتاق بھائی کی ٹپس پر عمل کرتے ہوئے باؤلنگ کی۔ تو میں آسٹریلین بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہا۔ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو پر سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا میرے لیے باعث فخر ہے۔
سوال:: جب قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے آپ کو گیند تھما دی اور جب آپ پہلا اوور کرنے کیلئے اپنے باؤلنگ نشان پر گئے تو آپ کی کیا حالت تھی؟
یاسر شاہ: ظاہر ہے جب بندہ کسی بڑی ٹیم کے خلاف پہلی مرتبہ کھیل رہا ہو تو تھوڑا بہت پریشر تو ہوتا ہی ہے میں نے سوچا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے تو وہ عزت بھی ضرور دے گا۔اللہ تعالیٰ کے پاک نام سے میں نے باؤلنگ شروع کی تھی۔ اسمتھ کو آؤٹ کر کے کیریئر کی پہلی وکٹ حاصل کی تھی جو ہمیشہ یادگار رہے گی۔
سوال: لیگ اسپن باؤلر کی حیثیت سے آپ کا سب سے اہم ترین ہتھیار کون سا ہے؟
یاسر شاہ: ذہنی مضبوطی، سخت محنت، صبر اور بہترین لائن ولینتھ پرثابت قدمی سے باؤلنگ کرنا میرا سرمایہ ہے میرے ترکش میں وہ تمام تیر موجود ہیں جو کسی مخالف بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کیلئے ایک لیگ اسپن باؤلر کے پاس ہونے چاہیں۔ میرے ترکش میں گوگلی، فلپر، فلائٹ، سمیت ٹاپ اسپن اورقدرے تیز پھینکی جانے والی گیندیں موجود ہیں، میں مختلف زاویوں سے لوپ کو کم یا زائد کر کے سامنے آنے والے بیٹسمین ٹریپ کر کے آؤٹ کرتا ہوں۔
سوال: آپ مخالف بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے اور کامیابی کے حصول کیلئے خود کو کس طرح تیار کرتے ہیں؟
یاسر شاہ: اس کا انحصار بہت سی باتوں پر ہوتا ہے آپ کی فارم، وکٹ کی کنڈیشن، کھیل کا ماحول، مختلف بلے بازوں کی فارم اورپھر یہ کہ تمام بلے باز ایک جیسے نہیں ہوتے ہر ایک کی مختلف کمزوریوں پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے یہ ایک سخت، مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ میں ٹھنڈے دماغ کے ساتھ پر سکون انداز سے مخالف بلے باز کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مدِ مقابل بیٹسمین کو اپنی گیندو ں کی ڈائریکشن کی تبدیلی سے بے وقوف بنایاجا سکتا ہے کہ یہ کس طرح گھوم رہی ہیں اگر آپ عمدہ لائن ولینتھ کے ذریعے سے رنز کم کر دیں تو وکٹیں خود بخود آپ کی طرف آنا شروع ہو جاتی ہیں مدِ مقابل بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کیلئے مجھے اپنی گیندوں پر ثابت قدم رہنے کیلئے ٹیم کے کپتان اور دیگر کھلاڑیوں کی طرف سے حوصلہ افزائی بھی ملتی رہتی ہے جو کہ زیادہ بہتر باؤلنگ پر اکساتی ہے میر ی اولین کوشش یہی ہوتی ہے کہ مخالف بیٹسمین پر دباؤ بڑھاؤ اور اسے ٹریپ کر کے پویلین کی راہ دکھاؤں۔
سوال: آپ کے خیال میں اسپن باؤلرز کی تیاری میں وکٹوں کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے؟
یاسر شاہ: میر ے خیال میں وکٹوں سے زیادہ اس بات کاانحصار آپ کی اپنی صلاحیتوں اور اہلیت پر ہوتا ہے اگر آپ میں خدا داد صلاحیتیں موجود ہیں تو آپ سازگار حالات نہ بھی ہوں تو اپنی خدا داد صلاحیتوں کے بل بوتے پر مخالف بلے بازوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔ البتہ اگر وکٹیں سازگار ہوں تو اسپنر زیادہ اچھے طریقے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتا ہے۔
سوال: آپ کی کامیابی کے پیچھے کیا راز ہے؟
یاسر شاہ: میری کامیابی کے پیچھے کوئی راز نہیں بلکہ یہ اللہ کا مجھ نا چیز پر خاص فضل وکرم ہے کہ اس نے میری انتھک محنت کا صلہ مجھے کامیابی کی صورت میں دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسپنرز کرکٹ کے کھیل کاحسن ہیں بالخصوص لیگ اسپن باؤلرز اور میں لیگ اسپن باؤلنگ کے فن کو نیا رخ اور نئی جہت عطا کرنا چاہتا ہوں۔ اسپن باؤلرز کھیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خواہ وہ وکٹیں حاصل کریں یا رنز روکیں۔ آج کے دور میں جب ہرچیز بلے بازوں کے حق میں ہے ۔ اسپن باؤلرز کو ہمہ وقت مخالف بلے بازوں کی سوچ میں خلل ڈالتے ہوئے سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور کامیابی حاصل کرنے کیلئے راستے تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اسپن باؤلرز کے طور پر آپ کو مختلف نوعیت کے بہت سارے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے اورمیں ذاتی طور پر چیلنجوں کو پسند کرتا ہوں خواہ وہ فیلڈنگ کی پابندیوں کے ساتھ دائرے میں باؤلنگ کرنا ہو یا پھر درمیانی اوور میں یا پھر اختتامی اوورز میں جب مار دھاڑ ہوتی ہے ہر قسم کے حالات میں اسپن باؤلرز کو اپنی باؤلنگ میں مختلف تبدیلیاں کرنا ہوتی ہیں مختلف ایڈجسٹمنٹ درکار ہوتی ہیں اس کے ساتھ ہی مکمل طورپر الرٹ رہتے ہوئے مختلف متبادل منصوبے بنانے کیلئے تیار رہنا پڑتا ہے کیونکہ بڑی بہتری سے آگے بڑھنے والے کھیل میں آپ کو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر خود کو ماحول سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنی موجودگی ثابت کرنا ہوتی ہے۔
سوال: اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ شہرت ملنے کے بعد انسان کا دماغ بھی ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے؟
یاسر شاہ: اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے عزت، شہرت اور دولت سے نوازا ہے لیکن میں آج بھی پہلے کی طرح دوسروں سے ملتا ہوں لوگوں کی عزت کرتا ہوں۔ میں غرور اور تکبر نام کی کسی چیز کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا۔ شہرت ملنے پر پہلے سے زیادہ عاجز ہو گیا ہوں میں اپنے پر ستاروں میں خوشیاں بانٹ کرسکون محسوس کرتا ہوں۔
سوال:اب آپ اپنے کیرئیر کو کس طرح سے دیکھ رہے ہیں؟
یاسر شاہ:میں تو ابھی تک سیکھنے کے مراحل سے گزر رہا ہو ں ۔ میرا اولین ٹارگٹ یہی ہے کہ میں اپنی باؤلنگ ،بیٹنگ اورفیلڈنگ میں مزید بہتری پیدا کروں میری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مخالف بلے بازوں پر دباؤ بڑھا کر وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلواؤں۔میں ذہنی طورپر ایک مضبوط شخص ہوں اور یہ میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب میں جتنی کرکٹ لکھی ہوئی ہے وہ مجھے ضرور ملے گی اور میں ملنے والے ہر موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔
سوال:کیا آپ نے اپنی منزل کا تعین کر لیا ہے؟
یاسر شاہ: میں صرف یہ چاتا ہوں کہ میدان کے وسط میں جا کر مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو اچھی لائن ولینتھ پر باؤلنگ کرتا رہوں اورحالات کو اس حد تک کنٹرول کروں جس کی میرے اندر سکت ہے میں مخالف بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کیلئے ہر قسم کے حربے استعمال کرتا ہوں میں وکٹوں کے حصول کی خاطر بڑی ذمہ داری اور ثابت قدمی سے باؤلنگ کرتا ہوں میری اولین کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں مخالف بلے بازوں کوجلد از جلد پویلین لوٹنے پر مجبور کروں تاکہ پاکستانی ٹیم کی فتح کا پرچم بلند کیا جا سکے۔ میں کرکٹ کے کھیل سے جنون کی حد سے محبت کرتا ہوں۔ میری اولین ترجیح یہی ہے کہ میں پاکستانی ٹیم میں خود کو میچ ونر باؤلر کے طور پر مستحکم کروں مجھے جو مواقع ملیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھاؤں اوراپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کرکھیلوں اور اپنی عمدہ پرفارمنس کے ذریعے پاکستانی ٹیم کا لازمی حصہ بن جاؤں۔
سوال: اس مقام تک پہنچنے میں کن لوگوں نے آپ کی حوصلہ افزائی کی؟
یاسر شاہ: سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کا خاص کرم پھر والدین کی دعائیں پھر بڑے بھائی مطیع اللہ اور کزن رحیم اللہ، طارق شاہ کی بھرپور رہنمائی اور فل سپورٹ ان کے علاوہ امیر نواب کلب کے کوچ اور اپنے فائیٹر کلب کے سینئر لیگ اسپنر جاوید حسین کی بھرپور حوصلہ افزائی اورڈاکٹر طارق جو کہ مردان ایسوسی ایشن کے صدربھی رہے ہیں نے میری ہر قدم پر بھرپور مدد کی اور انہوں نے بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی ان کے علاوہ یونس خان، اعجاز احمد، مشتاق احمد،مصباح الحق، محمد حفیظ، اظہر علی، شاہد آفریدی، عمر گل، یاسر حمید، وجاہت اللہ واسطی، باسط علی نے بھی مجھے آگے بڑھنے میں میری بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی۔میں ان سب کا شکر گزار ہوں جن کی بھرپور حوصلہ افزائی کی بدولت میں آج اس مقام پر ہوں۔
سوال: مختلف طرز کی کرکٹ میں کھیلتے ہو ئے آپ کو مختلف رنگ میں نہیں ڈھلنا پڑتاہے کیا ذہنی کیفیت بار بار تبدیل نہیں ہوتی؟
یاسر شاہ: ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ کرکٹ خواہ 5دن کی ہویا چار روزہ ۔پچاس اوورز کی ہو یا پھر 20اوورز کی بہر حال کرکٹ ہے جس میں آپ کو ہمہ وقت مثبت رہنا ہوتا ہے لائن مختلف ہوتی ہے، مائنڈ مختلف ہوتا ہے مگر باؤلنگ کی بنیاد وہی رہتی ہے پانچ روزہ میچوں میں فیلڈ مختلف ہوتی ہے اور ون ڈے میں الگ جبکہ ٹی20کرکٹ میچ تو بالکل مختلف ہوتا ہے لہٰذا ہرانداز کی کرکٹ میں اپنا تجربہ جھونکنا پڑتا ہے تب جا کر کامیابی ملتی ہے میچ کے دوران حالات دیکھتے ہوئے پلان تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ نئی تراکیب لڑانا پڑتی ہیں تب کہیں جا کر معاملات قابو میں آتے ہیں۔
سوال: 2001میں آپ نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈیبیو کیا تھا جبکہ 2014 میں طویل عرصے کے بعد آپ کو ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا، آپ کو ٹیسٹ کرکٹ تک پہنچنے میں آخر 14 برس کا طویل عرصہ کیوں لگا؟
یاسر شاہ: پہلے دانش کنیریا اور شاہد خان آفریدی اور پھر بعد میں سعید اجمل اور عبدالرحمن جیسے بہترین باؤلرز کی موجودگی میں میری ٹیسٹ ٹیم میں جگہ نہیں بن رہی تھی۔ پھر ڈومیسٹک کرکٹ میں میری باؤلنگ بہت اچھی نہیں ہو رہی تھی۔ ایک اہم مسئلہ جو مجھے میرے کیریئر کے آغاز میں درپیش تھا کہ میری گگلی کوئی بہت زیادہ اچھی نہیں تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں لیگ اسپنر بہت اہم ہوتا ہے لیکن چار روزہ کرکٹ میں میری کچھ زیادہ دھوم نہیں تھی۔ میں نے ٹیم میں آنے کے لیے بہت محنت کی اور اس کا مجھے صلہ ملا خصوصا یہ بھی میرے لیے اعزز کی بات ہے کہ جب میرا ڈیبیو ہوا تو میرے آئیڈیل باؤلر شین وارن نے میری بہت تعریف کی اور پھر اب تک تو میری ٹیسٹ میں کارکردگی بہت اچھی جا رہی ہے لیکن میں مطمئن نہیں میں بہت کچھ اس سے زیادہ کرنا چاہتا ہوں۔
سوال: آپ کی شین وارن سے ملاقات ہوئی تھی تو کیا آپ نے ان کے مشوروں کے مطابق بھی کچھ عمل کیا ہے؟ جس سے آپ کی باؤلنگ میں بہتری آئی ہے؟
یاسر شاہ: میری آسٹریلیا میں دو بار شین وارن سے ملاقات ہوئی۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ شین وارن نے میری تعریف کی۔ شین وارن نے میرے ایکشن اور باؤلنگ سے زیادہ مجھے میرے رویے کے بارے میں مشورے دیئے انہوں نے مجھے سمجھایا کہ جب آپ کو بہت مار پڑ رہی ہے تو آپ کو کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے چہرے کے تاثرات کو کیسا رکھنا چاہیے اور حریف بیٹسمین کو کسی طرح خود پر حاوی نہیں کرنا چاہیے۔ اس ملاقات میں بریٹ لی اور مشتاق احمد بھی موجود تھے اس کے علاوہ انہوں نے مجھے ایک ہی ایکشن سے مختلف گیندیں کرانے کی ٹپس بھی دیں اور اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔
سوال: متحدہ عرب امارات میں پاک انگلینڈ سیریز کے دوران جب شین وارن نے قومی ٹیم ے ساتھ نیٹ پریکٹس کی تھی تو شین وارن نے آپ کو کیا خصوصی ٹپس دیئے تھے؟
یاسر شاہ: اپنے آئیڈیل شین وارن کے ساتھ پریکٹس کرنے کی خواہش پوری ہو گئی ہے۔ میں نے شارجہ اسٹیڈیم میں تقریباً 90 منٹ تک شین وارن کے ساتھ پریکٹس کی تھی۔ میرے آئیڈیل نے مجھے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جلد بازی میں اپنی توانائیاں ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے مجھے ڈرفٹ، باؤنس، باؤلنگ راؤنڈ دی وکٹ اور اوور دی وکٹ باؤلنگ کرنے کے باے میں بتایا۔میں نے اپنے آئیڈیل کے مشورہ پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جس سے میرے کھیل میں مزید بہتری پیدا ہوئی ہے۔
سوال: آپ شین وارن سے بہت متاثر ہیں بلکہ آپ انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں تو کیا ان کی طرح آپ حریفوں پر زبانی حملوں کے بھی قائل ہیں اور کیا کبھی کسی بیٹسمین پر ایسے زبانی حملے بھی کئے ہیں؟
یاسر شاہ: زبانی حملے بازی مجھے بالکل پسند نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض موقعوں پر باؤلرز حریف بیٹسمینوں کے خلاف اسے ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ کچھ زیادہ کام نہیں کرتے کبھی کبھی حریف بیٹسمین جملے بازیوں کے بعد آپ کے خلاف زیادہ ہی جلاؤ بن جاتے ہیں اور آپ کے خلاف بہت جارحانہ انداز اپنا لیتے ہیں تو بھائی میری کوشش تو ہوتی ہے کہ حریف بیٹسمینوں کو اپنی اسپن سے ہی ڈراتا رہوں کیونکہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور آپ کے پاس جو گیندیں ہوتی ہیں ان سے ہی آپ حریف بیٹسمین کو تنگ کر سکتے ہیں۔
سوال: اس وقت آپ پاکستان کے نمبر ون ٹیسٹ اسپنر ہیں تو کیا اس کا آپ پر کوئی دباؤ بھی ہے کہ اب لوگوں کی آپ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں؟
یاسر شاہ: نہیں۔۔۔ میں کوئی دباؤ تو محسوس نہیں کرتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ شائقین یہ چاہتے ہیں کہ میں ہر گیند پر وکٹ اڑاؤں اور میری بھی ایسی کوشش ہوتی ہے لیکن ایسا ہوتا تو نہیں ہے پھر بھی میں عوام کیلئے کھیلتا ہوں اور یہ عوام ہی ہیں جن کی پذیرائی کی وجہ سے ہم سب کرکٹرز اپنی کارکردگی میں نکھار لانے کی کوششوں میں مصروت رہتے ہیں۔ میں تو خاص کر کے کوچز سے بہت مشورہ کرتا ہوں اور جہاں بھی جاتا ہوں وہاں سینئرز کرکٹرز کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتا ہوں اور ان سے کوئی نہ کوئی ٹپس ضرور لیتا ہوں کیونکہ سینئرز کے مشورے ہمیشہ ہی کام کے ہوتے ہیں۔
سوال: اسپن وکٹوں پر تو آپ کامیاب رہتے ہیں کیا آپ انگلش وکٹوں پر بھی موثر رہنے کیلئے کچھ کر رہے ہیں کیونکہ 2016 کے وسط میں پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کرنا ہے جہاں آپ کا ٹیم کے لیے آپ کا کردار بہت اہم ہو گا؟
یاسر شاہ: جی بالکل۔۔۔ انگلش وکٹوں کے بارے میں مجھے مشتاق احمد اکثر مشورے دیتے رہتے ہیں ورلڈ کپ میں بھی مجھے ایسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور میں اسی لیے پریکٹس سیشن میں اکثر ایسی وکٹوں پر باؤلنگ کراتا ہوں جہاں اسپنرز کیلئے کوئی بھی مدد موجود نہ ہو اور مجھے مشتاق احمد بھی ایسی وکٹوں پر خاص کر کے پریکٹس کراتے ہیں۔ صرف یہ نہیں بلکہ انگلینڈ میں چمپئنز ٹرافی اور پھر ورلڈ کپ بھی ہو گا میں ناسازگار وکٹوں پر باؤلنگ کرانے اور ایسی وکٹوں کے حساب پر کام کر رہا ہوں تاکہ میں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کٹیں حاصل کر سکوں اور یہ بھی مریی خوش قسمتی ہے کہ آئی سی سی کے قوانین میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کی وجہ سے بھی لیگ اسپنرز کی مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں دوبارہ شمولیت کے راستے کھل گئے ہیں۔
سوال: آپ مصباح الحق کی کپتانی میں کھیل کر کیسا محسوس کرتے ہیں؟
یاسر شاہ: تسلیم کرتا ہوں کہ خوش قسمت ہوں کہ مصباح الحق کی زیر قیادت ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع ملا جو کہ مقامی ایونٹس میں بھی طویل عرصے سے سوئی ناردن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے کپتان ہیں یقیناًمیں کہنا چاہتا ہوں کہ میرے انٹرنیشنل کیریئر کا مصباح الحق کی کپتانی میں آغاز کسی رحمت سے کم نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ میری کمزوریوں اور طاقت سے واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ جب میں باؤلنگ کر رہا ہوں تو صورتحال کو کیسے ہینڈل کرنا چاہیے میں اور مصباح سوئی گیس کیلئے طویل عرصے سے اکٹھے کھیل ہے ہیں اور آپ کو ایسا کپتان چاہیے ہوتا ہے جو آپ کے مزاج اور صلاحیتوں سے واقف ہو۔
سوال:گراؤنڈ میں آپ اکثر ہی مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں کیاآپ کس سے نہیں گھبراتے یا پھر یہ جو آپ مسکراتے ہیں وہ گھبراہٹ ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے؟
یاسر شاہ: ایسا نہیں کہ مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا یا میں گراؤنڈ میں ہنستا مسکراتا رہتا ہوں تو میرا مقصد اپنی گھبراہٹ چھپانا ہوتا ہے بلکہ مسکرانے سے میں کسی حد تک خود کو صورتحال کے مطابق ڈھال لیتا ہوں اور اس سے میری کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔ یہ سمجھ لیں کہ میرا ایک نفسیاتی حربہ ہوتا ہے کہ میں حریفوں سے ڈرنے اور دبنے والا نہیں ہوں۔ میں حریف کھلاڑیوں کو ہمیشہ مسکرانے سے یہ پیغام دیتا ہوں کہ ابھی میرے پٹارے میں بہت سی گیندیں ہیں اگر ایک دو چوکے ، چھکے لگا دیئے ہیں تو کوئی مجھ پرحاوی نہیں ہو گیا اور یہ مسکراہٹ میرے بہت کام آتی ہے۔
سوال:آپ کی کوئی خواہش؟
یاسر شاہ: ملک میں ہوم کراؤڈ کے سامنے شاندار کارکردگی دکھانے کا خواہش مند ہوں۔ لیکن یہ ہمارے بس میں نہیں کہ ہم کسی ٹیم کو پاکستان لے آئیں اس وقت ہمیں جہاں بھی کرکٹ مل رہی ہے ہم کھیل رہے ہیں اور کافی عرصے سے یو اے ای ہی ہمارا ہوم گراؤنڈ بن گیا ہے وہاں بھی پاکستانی بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور ہماری بھرپور حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں لیکن ہماری دُعا ہے کہ جلد از جلد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو جائے تاکہ ہم بھی اپنے عوام کے سامنے کھیلیں اور ہمیں بھی وہی مزا آئے تو جو دوسرے ملکوں کی کھلاڑی انجوائے کرتے ہیں۔
سوال: اگر آپ کرکٹر نہ بنتے تو پھر کیا ہوتے؟
یاسر شاہ: اگر میں کرکٹر نہ بنتا تو کھیتی باڑی کرتا کیونکہ میرے ابو کسان ہیں میں بچپن میں اپنے ابو کے ہمراہ کھیتی باڑی میں ان کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔
سوال: آپ کے نزدیک کیا چیز کھیل میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟
یاسر شاہ: میرے نزدیک ٹیم کی کامیابی ہی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے میرا اولین مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ میں اپنے کپتان کے اعتماد کو نہ ٹوٹنے دوں جو اس نے مجھ سے سے وابستہ کیا ہوتا ہے میرے نزدیک اپنے پیارے وطن پاکستان کا وقار سب سے اہم ہوتا ہے اور میں پیارے وطن پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو دنیائے کرکٹ کے میدانوں میں بلند کرنے کا عزم کیے ہوئے ہوں۔
سوال: کرکٹ آپ کو کس حد تک پسند ہے؟
یاسر شاہ: کرکٹ میرے خون میں رچ بس چکی ہے میرا اوڑھنا بچھونا کرکٹ ہی ہے۔ کرکٹ کے کھیل نے ہی مجھے شہرت سے نوازا ہے اللہ تعالیٰ مجھے ہمت عطا فرمائے کہ میں کرکٹ کے کھیل میں پاکستان کا نام مزید روشن کروں۔
سوال: دنیا کے کس کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلنے کی خواہش ہے؟
یاسر شاہ: آسٹریلیا کے خلاف سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ٹیسٹ میچ کھیلنے اور 10سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کی خواہش ہے۔اسی طرح بھارت کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ، جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ اور انگلینڈ کے خلاف لارڈز کی تاریخی گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے میچ میں 10 سے زائد کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کا خواہشمند ہوں۔
سوال: کرکٹ کے علاوہ کون سے کھیل پسند ہیں اور دیگر کھیلوں کی پسنددیدہ شخصیات کون سی ہیں؟
یاسر شاہ: ہاکی اور ٹیبل ٹینس بڑے شوق سے کھیلتا ہوں جبکہ شہباز سینئر اور سہیل عباس میرے فیورٹ کھلاڑی ہیں۔
سوال:فلمیں وغیرہ دیکھنے کا شوق ہے؟
یاسر شاہ: فلمیں بہت ہی کم دیکھتا ہوں شاہ رخ خان اور عامر خان پسندیدہ اداکار ہیں۔
سوال:میوزک کیسا سننا پسند کرتے ہیں؟
یاسر شاہ: سلو میوزک کو زیادہ پسند کرتا ہوں جگجیت سنگھ ، چترا سنگھ اور کمار سانو میرے فیورٹ گلوکار ہیں۔
سوال: شاعری کا شوق کس حد تک ہے؟
یاسر شاہ: تھوڑا بہت شوق ہے ٹائم ملے تو شاعری کی کتابیں وغیرہ پڑھ لیتا ہوں میرے فیورٹ شاعروں میں ڈاکٹر علامہ اقبال، مرزا غالب اور پروین شاکر ہیں۔
سوال:: آپ قسمت پر کتنا یقین رکھتے ہیں؟
یاسر شاہ: قسمت پر بہت زیادہ یقین رکھتا ہوں وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو میری قسمت میں لکھ دیا ہے وہ مجھے ضرور ملے۔
سوال:آپ کے پسندیدہ کرکٹرز کون سے ہیں؟
یاسر شاہ: شین وارن، رکی پونٹنگ، انضمام الحق، وسیم اکرم، جونٹی رہوڈز، جیک کیلس، ثقلین مشتاق، بریٹ لی، ہرشل گبز،اے بی ڈویلیئرز،ز محمد یوسف، اور وقار یونس میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔
سوال:کھانے میں کیا شوق سے کھاتے ہیں؟
یاسر شاہ: جو بھی ملے کھا لیتا ہوں لیکن سبزیاں کھانے کا زیادہ شوقین ہوں۔
سوال: پھلوں میں کیا شوق سے کھاتے ہیں؟
یاسر شاہ: سیب اور کیلا بڑے شوق سے کھاتا ہوں۔
سوال:کس قسم کے لوگ پسند ہیں؟
یاسر شاہ: جو لوگ جھوٹ نہ بولتے ہوں ایماندار اور مخلص ہوں۔ خوش اخلاق اور خوش گفتار ہوں ایسے لوگ مجھے بڑے اچھے لگتے ہیں۔
سوال: زندگی کا اصول؟
یاسر شاہ: میں نے سخت محنت کو اپنی زندگی کا اصول بنا رکھا ہے۔ وقت کی پابندی کرتا ہوں، سچ بولتا ہوں، والدین سمیت بڑوں کی عزت کرتا ہوں اور ہمیشہ پاکستان کی فتح کیلئے سوچتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے