Voice of Asia News

ملک دشمن این جی اوز کا احتساب کون کرے گا۔۔۔۔؟محمد قیصر چوہان

پاکستان میں اس وقت خدمت خلق کے نام پر 26 ہزار سے زائد خیراتی ادارے اور این جی اوز کام کر ر ہے ہیں جو امریکا، کینیڈا، جرمنی، ناروے ،برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کی ڈونیشنز سے بنیادی انسانی، عورتوں، اقلیتوں اور بچوں کے حقوق کی بحالی اور بنیادی تعلیم کے فروغ کے نام پر معاشرے میں انا رکی پھیلا رہی ہیں۔ ان این جی اوز نے ہمیشہ پاکستان مخالف ان کے خلاف جب بھی مقامی سطح پر کوئی حکومت سرگرم عمل ہوتی ہے تو ان کے حق میں امریکی اور مغربی ممالک کے سفارتکار بیان بازی شروع کر دیتے ہیں۔یہ ایک ناقابل تردید زمینی حقیقت ہے کہ پاکستان میں80 کی دھائی کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی فنڈز سے ایسی این جی اوز قائم کی گئیں جن کا ایجنڈا فنڈ فراہم کرنے والے ممالک کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی دیواروں میں رخنے پیدا کرنا ہے۔ با شعور شہری حلقے گزشتہ کئی برسوں سے ایسی این جی اوز کے بارے میں انتباہ کرتے چلے آرہے ہیں جن کی سرگرمیاں دین اسلام مخالف اور وطن دشمن عزائم و اہداف کی آئینہ دار ہیں۔ نائن الیون کے بعد ایسی این جی اوز کی مذموم سرگرمیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جو پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کو چیلنج کرنے کی حد تک سامنے آیا۔ عوامی و شہری حلقے گزشتہ کئی برسوں سے شدومد کے ساتھ مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ وطن عزیز میں مسلکی، لسانی، صوبائی اور علاقائی انتہا پسندانہ رجحانات کے سیلاب کی راہ میں بند باندھنا ہے تو غیر ملکی فنڈ این جی اوز کے فنڈز کو مسدود کر دیا جائے اور جس طرح بعض تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان پر پابندی عائد کی جائے۔ ان کے دفاتر کو سیل کیا جائے ان کے عہدیداروں کی ڈی بریفنگ کی جائے۔ ان کو موصول ہونے والے فنڈز کی تحقیقات کی جائیں کہ وہ کس مد اور مصروف میں صرف ہوتے ہیں۔
2002 میںآمریت کی چھتری کے سائے تلے جنم لینے والی حکومت کے دوران قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک حکومتی ایم این اے نے مطالبہ کیا تھا کہ ایسی تمام این جی اوز کو ملنے والے فنڈز کا شفاف آڈٹ کیا جائے اور این جی اوز کو پابند کیا جائے کہ وہ بذریعہ اسٹیٹ بینک پاکستان اپنے فنڈز وصول کریں تاکہ حکومت کے علم میں رہے کہ انہیں کون کون سے مغربی ممالک یا ہمسایہ ممالک یا انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں سے پاؤنڈز، یوروز، ڈالرز اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی شکل میں کتنی امداد فراہم ہوتی ہے یہ مطالبہ عوامی اُمنگوں کے عین مطابق تھا لیکن اس وقت جمہوریت پر شب خون مارکر بر سر اقتدارآنے والے جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس پرکان نہیں دھرا گیا۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ غیر ملکی سرمائے کے بل بوتے پر کام کرنے والی این جی اوز نے فیس سیونگ کے لیے حقوق نسواں، آزادی نسواں، چائلڈ لیبر، شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے معتبر عنوانات کے پردے میں وطن دشمنی اور اقدار شکنی کا شرمناک و مذموم کھیل شروع کر رکھا ہے۔ غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی انہی این جی اوز میں سے ایک نے گزشتہ برسوں سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو بنا کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کردار کشی کی تھی۔ اصل ضرورت ایسی این جی اوز پر پابندی لگانے کی ہے جو پاکستان کی کردار کشی کے ایجنڈے کے تحت تمام بڑے شہروں میں سرگرم عمل ہیں۔ما ضی میں امریکی این جی او ’’آئی میپ‘‘ پر پاکستانی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر پاکستان حکومت کی طرف سے پابندی بھی عائد کی گئی تھی ۔ذرائع کے مطابق ’’حکومت نے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی تمام ملکی اور غیر ملکی این جی اوز پر یہ لازم قرار دیا تھا کہ وہ خود کو اکنامک افیئرز ڈویژن میں رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے بینک اکاؤنٹس ظاہر کرنے کے ساتھ اپنے امدادی اداروں (کنٹری بیوٹرز) کے نام ظاہر کریں لیکن قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ قانون کا مسودہ (فارن کنٹری بیوشنز ایکٹ) تیار کیا گیا تھا لیکن اس کو بھی پارلیمنٹ سے منظور نہیں کرایا جا سکا۔
یاد رہے کہ میاں شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے پہلے دور میں پنجاب کے سماجی بہبود کے صوبائی وزیر پیر بن یامین نے ملک دُشمن این جی اوز کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا تھا اور متعدد کو ان کی گھناؤنی سرگرمیوں کی وجہ سے بلیک لسٹ کر دیا تھا جس کے بعد پاکستان میں این جی اوز کے کرتا دھرتا مردوں اور عورتوں نے پریس کلب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم حکومت پاکستان کی کسی بھی وزارت یا ادارے کو غیر ممالک سے ملنے والے عطیات کا حساب کتاب پیش نہیں کریں گے۔ حکومت پاکستان یا اس کا کوئی ادارہ ہمارا آڈٹ کرنے کا مجاذ ہی نہیں یہ اختیار ہمیں عطیات دینے والے انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں ہی کو حاصل ہے۔‘‘یہ این جی اوز کے بعد گزشتہ کئی برسوں سے آج تک کھلم کھلا غیر ملکی بالخصوص امریکا اور بھارتی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے