Voice of Asia News

قیام امن کیلئے پاک فوج کا تاریخی کردار:تحریر: جمال احمد

افواج پاکستان کا شمار دنیا کی چند انتہائی طاقتوراورمنظم ترین افواج میں ہوتا ہے جس کے جوانوں اور آفیسرز نے پاکستان بننے کے بعد ایک مرد مجاہد کی طرح پاک سر زمین کے دفاع اور سلامتی کیلئے ناقابل فراموش داستانیں رقم کیں۔افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت ہی پوری قوم ان پر ناز کرتی ہے۔جذبہ ایمانی سے لیس پاک فوج کا سب سے بڑا مقصد ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے تاہم بہت سے عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت اور پاکستان کے دشمن پاک فوج کو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ سمجھتے ہیں۔ پاک فوج اس وقت دنیا کی بہترین فوج ہے جس نے نہ صرف اپنے ملک میں دہشت گردوں کا صفایا کیا بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مشکلات میں گھرے لوگوں کو زندگی کی نئی راہ دکھائی۔ پاک فوج اپنی بہترین عسکری صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے اور قیام امن کیلئے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ افواج پاکستان اپنے ملک کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں امن کے قیام کیلئے بھی شاندار خدمات سرانجام دے چکی ہیں اور اب بھی دے رہی ہیں۔ جب سے اقوام متحدہ ادارے کا قیام عمل میں آیا ہے جہاں دنیا میں قیام امن کے لئے بہت سے دیگر ممالک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہیں پاکستان کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہمیشہ دنیا میں قیام امن کی کوششوں میں اس کا حصہ سب سے زیادہ اور نمایاں رہا ہے۔ عالمی امن کے لیے پاک فوج کی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے پاکستان نے اقوام متحدہ میں عالمی امن کے لئے انتہائی فعال کردار ادا کیا اسی طرح پاک فوج مختلف مواقع پر اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ رہی اور اس نے ملک و قوم کیلئے قابل فخر کامیابیاں حاصل کیں پاکستان کا حصہ نظم و ضبط اور تربیت کے لحاظ سے بھی زیادہ نمایاں رہا ہے۔ افواج پاکستان سے محبت کی بے شمار وجوہات ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی ملک کسی قدرتی آفت کی زد میں آتا ہے افواج پاکستان کے جوان اور افسران اپنی جانوں اور آرام کی پرواہ کئے بغیر عوام کی مد کو آتے ہیں ان کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں، لاکھوں لوگوں کی دعائیں لیتے ہیں اور ملک بھر کے عوام کی محبتیں سمیٹتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی بحالی، بھتہ خوروں، دہشت گردوں اور دیگر ملک دشمن عناصر سے نمٹنے کے لئے افواج پاکستان ملک کے دیگر سول اداروں کے ساتھ مل کر شاندار خدمات سرانجام دے رہی ہیں جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
آئی ایس آئی پاکستان کا وہ شاندار اور باوقار ادارہ ہے جس پر پوری قوم ناز کرتی ہے افواج پاکستان کے دیگر شعبوں کی طرح آئی ایس آئی بھی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکتی ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس کے خلاف دشمن جتنا پروپیگنڈا کرتے ہیں اتنا ہی اس سے محبت بڑھتی چلی جاتی ہے کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ دشمنان پاکستان آئی ایس آئی کے شاندار کردار کی وجہ سے خوف زدہ ہیں اور دشمنوں پر اس کا رعب ودبدبہ قائم ہے اس لیے وہ اس کا پیشہ وارانہ مقابلہ کرنے کے بجائے پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں۔ ملکی سا لمیت کا مسئلہ ہو یا دہشت گردوں کے خلاف جنگ ہر موقع اور ہر محاذ پر الحمد اللہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے اپنی بہادری کی مثالیں رقم کی ہیں ان دنوں بھی افواج پاکستان آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشت گردوں کا قلع قمع کیاہے۔جس طرح پاک فوج کے جوان جرأت و بہادری سے یہ کام سر انجام دے رہے ہیں وہ دن دور نہیں کہ جب ارض پاک سے ناپاک لوگوں کا پوری طرح سے صفایا ہو جائے گا اور پاکستان پھولوں اور خوشبوؤں سے مہکتا ہوا پرُامن ملک کہلائے گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس جنگ میں مسلح افواج کی دلیری اور شجاعت قابل دی رہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ متعدد بار ملک کی سا لمیت کے خلاف دشمن ایجنسیوں کی سازشیں ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ آج ارض وطن جا بجا اندرونی ، بیرونی خطرات کا شکار ہے ہر سواک نیا محاذ اور افواج پاکستان نبرد آزما ہیں۔ جبکہ پاک افواج کے جوان گزشتہ تین سال سے جاری ریاستی دشمنوں کے خلاف ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد جیسے کامیاب مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں اب تک سیکنڈوں کی تعداد میں دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب پاک فوج کی کمان سنبھالی ہے تو وطن عزیز جو سرحدوں کے اندر اور باہر مشکلات کا شکار تھا اس بہادرسپہ سالار نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکرملک کو بحران سے نکالنے کیلئے تمام تر پیشہ وارانہ صلاحیتیں، توانائیاں صرف کر دیں۔ کئی برسوں بعد پاکستان میں اب امن کا سورج طلوع ہو رہا ہے ۔ امن کے اس سفر میں بلاشبہ جنرل قمر جاوید باجوہ کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ انڈیا کو نفسیاتی شکست دے چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت سپہ سالار انڈین میڈیا پر چھایا ہوا ہے جب چلتا ہے تو ہر پاکستانی کو فخر محسوس ہوتا ہے کہ ’’ہمارا سپاہ سالار ہے‘‘ نہایت مستعد، سخت محنتی، سخت محب وطن، انتہائی فرض شناس، نہایت جنگجو ایک سچا اور کھرا سپاہی۔
اسلامی جنگوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو جنگ بدر کی مثال اس سلسلے میں نمایاں طور پر دی جاسکتی ہے جس میں اعلیٰ درجہ جنگی سازو سامان سے آراستہ ایک ہزار کے قریب کفار کے لشکر کو صرف تین سو تیرہ مجاہدین نے ناک رگڑنے پر مجبور کر دیاتھا جبکہ اسی طرح دیگر کئی مزید معرکوں کی مثالیں بھی سامنے موجود ہیں۔ سو بات کرنے کا مقصد یہ کہ اللہ کے سپاہیوں پر مشتمل پاک فوج اپنے ایک ایسے ’’خاص ہتھیار‘‘ سے میدان جنگ میں اترتی ہے جس کا نام ’’جذبہ ایمانی‘‘ ہے جو دوسری کسی غیر اسلامی فوج قوت یا طاقت جو بھی کہا جائے کو حاصل نہیں اور نہ ہی وہ اسے دنیا کی کسی بھی جنگی سازو سامان کی منڈی سے دنیا بھر کی دولت اکٹھی کرنے کے باوجود حاصل کر سکتی ہے۔ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کے دلوں میں بھی ہمیشہ یہ لازوال جذبہ موجزن رہا ہے مگر گزشتہ تین دھائیوں کے دوران الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے ہندوستانی کلچر کی رنگینی اس جذبہ کو نوجوان نسل کے دلوں میں ذرا سرد کرنے میں کامیاب دکھائی دی، بھارتی فلموں اور فنکاروں کو پاکستانی شائقین کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملنے لگی جبکہ دوسری طرف ایک خاص میڈیا ہاؤس بھی اسے اٹھانے لگے جس سے بھارت کے خلاف قومی غیض و غضب میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ مگر چونکہ قدرت کو یہ سب منظور نہ تھا اس لیے دہشت گردی کی نہایت کڑوی گولی ہی سے اس نے شاید اس قوم کے جذبہ حب الوطنی کو پھر سے تروتازہ کرنا چاہااور ہوا بھی ایسا ہی۔ عین ایسے وقت میں جب قوم خصوصاً نوجوان نسل بھارتی ثقافتی رنگ میں رنگی جارہی تھی کہ ملک میں دہشت گردی کی لعنت نے نیچے گاڑھنا شروع کر دیئے ہر طرف دہشت گرد پھیلنا شروع ہو گئے جن کی سفاکانہ کارروائیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ چل پڑا، بم دھماکے، خود کش دھماکے، قتل و غارت، لوگوں کو چوراہوں میں قتل کر کے لاشوں کو لٹکانا معمول بن گیا، تیرہ سال تک بڑھتے بڑھتے بات بالآخر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اہم ترین مراکز تک جا پہنچی، مذاکرات کی کمزور تدبیر کے نتیجے میں دہشت گردوں کی ہمت اتنی بڑھی کہ انہوں نے ملک کے اہم شہروں میں پولیس تھانوں سمیت دیگر پولیس ایف سی مراکز کو نشانہ بنانے کے بعد کامرہ، راولپنڈی اور کراچی میں اہم ترین حساس مرکز پر ہلہ بول دیا۔ کرتے کرتے وہ دن بھی آپہنچا، بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، دہشت گردوں نے آخر کار 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول پشاور کے 137 معصوم بچوں کو اپنی بربریت و سفاکی کا نشانہ بنا کر اپنی تباہی کی دعوت دے ہی دی۔اس وقت کے بہادر سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔اس کامیاب آپریشن کے نتیجے میں گو کہ آج سرزمین پاکستان دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک ہو چکی ہے اور امن بحال ہونے کے نتیجے میں قوم نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن یہ سب، تب ہوا جب پوری قوم اور پوری سیاسی و مذہبی قیادت سیسیہ پلائی دیوار کی طرح اپنی مسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہو گئیں اور ہر محب وطن کے دل میں وہی 1965 والا قومی جذبہ پھر سے موجزن ہوا جس کے بل بوتے پر ہماری دلیر و جری مسلح افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کو شرمناک شکست سے دو چار کر دیا تھا اور یوں اسی قومی جذبہ کی بدولت دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ بھی جیتنا نصیب ہوئی۔ آج ملک و قوم کو درپیش اندرونی و بیرونی حالات کے علاوہ ملکی سرحدوں کی نازک صورتحال خصوصاسیاسی و مذہبی قیادتوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ خدارا اب بھی وقت ہے کہ آپس میں ارض وطن کی سلامتی، دفاع اور تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی تعمیر و ترقی و خوشحالی کیلئے ایک صف میں کھڑے ہو جائیں اگر ہم متحد ہو گئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
jamalahmad50000@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے