Voice of Asia News

خواتین میں پیدل چلنے کے اضافی فوائد

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)ماہرین کے مطابق ہفتے میں صرف پانچ دن محض تیس منٹ ایک آسان سی ورزش میں حصہ لے کر خواتین نہ صرف اپنی صحت بہتر کرسکتی ہیں بلکہ ان کے نفسیاتی مسائل بھی بڑی حدتک کم ہوسکتے ہیں ۔اس ورزش کیلئے انہیں صرف ایک اچھے جاگنگ شوکی ضرورت ہوگی ،انٹرنیشنل میڈیکل سنٹر ،جدہ کی غذائی اورماہرروزان زومئی نے کہا ہے کہ تیز قدمی ہرعمر کی خواتین کیلئے مناسب ورزش ہے ، خواہ وہ دبلی ہوں یاان کا جسم موٹا پے کی وجہ سے بدنما نظر آرہاہو۔انہوں نے بتایا کہ تیزقدمی سے بلڈپریشر کم ہوتاہے ،خون میں کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے دل کی دھڑکن مناسب سطح پررہتی ہے پٹھے مضبوط ہوجاتے ہیں اورچھاتی کے سرطان کا خطرہ بھی کم ہوجاتاہے اس ورزش سے خاص طورپر وہ خواتین زیادہ فائدہ اٹھاسکتی جن کی عمر تیس سال سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیدل چلنا حاملہ خواتین کیلئے بھی اچھی ورزش ہے کیونکہ اس سے ان کا جسم مضبوط ہوتاہے اورزچکی کی تکلیف بڑی حدتک قابل برداشت ہوجاتی ہے ، ایسی خواتین میں وضع حمل سے پہلے کی علامات مثلاً بلند فشار خون ، متلی قئے (Pre-eclmpsia) اوردوران حمل کی ذیابطیس کی پچیدگیاں دور ہوجاتی ہیں انہوں نے بتایا کہ جو لوگ ضعیف العمری کی وجہ سے پارک یا باغ میں تیزقدمی نہیںکرسکتے اگر گھر پر سہولت ہوتو وہ وہاں بھی اس ورزش کے ذریعے نسیان کے مرض (الزامئر) اورگھٹنوں کے جوڑوں کے درد سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
روز انکے مطابق اکنگ کا بہترین وقت صبح سورج نکلنے سے پہلے تک ہوتاہے اس سے جسمانی توانائی کی سطح بلند ہوتی ہے ، غذا کے جسم میں انجذاب کی رفتار بہتر ہوتی ہے اورورزش کی وجہ سے رات کو نیند بھی پرسکون آتی ہے ، تیز قدمی کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ دن کا جو بھی وقت اس کام کیلئے مقررکیاجائے اس پر مسلسل عمل کرناچاہئے ، امریکن میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے ایک جائزے میں بتایاگیا کہ ۵۰ سے ۷۹ سال کی عمر کی ۷۴ ہزار ۱۷۱ خواتین جو ہفتے میں تین سے پانچ دن روزانہ تیس منٹ تک تیز قدمی میں حصہ لے رہی تھیں ان میں ورزش نہ کرنے والی خواتین کے مقابلے میں بریسٹ کینسر کا امکان بہت کم دیکھا گیا امریکی فیملی فزیشن میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایاگیا ہے کہ دوران حمل آسان قسم کی اس ورزش سے نہ صرف نیندبہتر ہوتی ہے بلکہ زچکی کادوانیہ کم ہوجاتاہے اوراس مرحلے پر کسی قسم کی کوئی طبی پیچیدگی پیش نہیں آتی ۔ ماہر امراض نسواں ڈاکٹرسلوا العداوی نے کہا ہے کہ حاملہ خواتین کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے جس سے انکی زچکی آسان ہوجائے ۔ایک خاتون خانہ میسون المصری بتایا کہ پارک میں چھل قدمی کے بعد میرا پورا دن بہت اچھا گزرتاہے میں ہفتے میں چھ مرتبہ صبح سات بجے اپنے شوہر کے ساتھ واکنگ کے لئے نکلتی ہوں تازی ہواسے اپنے پھیپڑے بھر لیتی ہوں ۔ جس سے میرا دوران خون بہتر ہوتاہے میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ واکنگ کی وجہ سے میری ٹانگوں کی رگوں میں انجماد خون کی شکایت دورہوگئی اورصرف پانچ ماہ بعد میرا وزن ۹۲ کلو گرام سے کم ہوکر ۷۲ کلو گرام ہوگئی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے