Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر کے وسیع علاقوں میں بھارتی قابض افواج کا آپریشن

سرینگر(وائس آف ایشیا )مقبو ضہ کشمیر کے وسیع علاقو ں کو قابض فوج نے محاصرے میں لے کر بڑا فوجی آپریشن شروع کردیا ہے ،چند گام پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اٹھا ، مشتعل ہجوم کومنتشرکرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ادھر شوپیاں کے 13دیہی علاقوں کو سیکورٹی فورسز نے محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جونہی چند گام پلوامہ کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی اس وران لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرئے کئے۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ٹیر گیس پاوا شلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے چند گام پلوامہ اور اْس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی پھیل گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ قابض فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا بعد میں سیکورٹی فورسز کی اضافی کمک طلب کرکے مزید کئی علاقوں کو محاصرے میں لے کر فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے گئے۔ ادھر پہاڑی ضلع شوپیاں میں اعلیٰ الصبح پولیس وفورسز نے تیرہ دیہی علاقوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ سیکورٹی فورسز نے شوپیاں کے بار بوگ ، کدگام ، بڈی گام، نل پوشواری ، کاشو ، مول چترا گام ، ترکہ وانگام ، سوگن ، چلی پورہ ، ہف شرمال ، میمندر اور مڈورا گاؤں میں گھر گھر تلاشی لی گئی جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے گئے۔ دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ چند گام پلوامہ میں مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فورسز نے تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران لوگوں نے فورسز پر پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق شوپیاں کے تیرہ دیہی علاقوں کی تلاشی لی گئی جس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی،گذشتہ شام شوپیان میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب بندوق برداروں نے عاشق حسین نامی ایک پی ایس او پر گولیاں چلائیں جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا ، اسے فوری طور سرینگر ریفر کیاگیا وہ شبیراحمد کلے نامی ایک سیاسی رہنما کا پی ایس او ہے بتایاجاتا ہے کہ وہ اسی کی گاڑی میں پیٹرول ڈالنے کیلئے شوپیان پیٹرول پمپ پر آیا تھا جہاں اسے گولیوں کا نشانہ بنایاگیا،علاوہ ازیں ہندوارہ قصبہ میں اس وقت لوگ سڑکو ں پر نکل آ ئیں اور احتجاجی مظاہرے کئے جب یہ خبر جنگل کی آ گ کی طرح پھیل گئی کہ براری پورہ ہندوارہ کی دو سگی بہنو ں کو اپنے ہی گھر سے اغوا کیا گیا۔احتجاجی لوگو ں نے سڑکو ں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور مطالبہ کیا کہ مغویوں کو فوری طور بازیاب کیا جائے ،بعد میں پولیس نے ا ن کو بازیاب کرانے کا دعوی کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے