Voice of Asia News

دمشق کے مضافات میں شدید لڑائی اور فضائی حملے

دمشق(وائس آف ایشیا ) دمشق میں افواج اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔امریکی خبررساں ادارے کے مطابق القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسندوں کے ہمراہ باغیوں نے فوج پر دھاوا بول دیاجس کے نتیجے میں فوجی تنصیب کے کچھ حصوں اور اندر پھنس کر رہ جانے والی فورس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔برطانیہ میں قائم سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کے سرگرم کارکن، مازن الشامی نے بتایا ہے یہ لڑائی حرستا کے مضافات کے نزدیک واقع فوجی تنصیب کے اندر لڑی جاتی رہی، جہاں سرکاری فوج پھنس کر رہ گئی تھی۔آبزرویٹری نے کہا ہے کہ شامی فضائی فوج نے حرستا کے قرب و جوار میں کم از کم ایک درجن فضائی حملے کیے۔اٴْنھوں نے کہا ہے کہ حکومت نے رات گئے اضافی کمک پہنچائی جس نے گھیرے میں پھنسنے والی فوج کی مدد کی۔دمشق کے مضافات میں مشرقی غوطا کے قرب و جوار میں تشدد کی کارروائیاں جاری رہیں، جس دوران 35 شہریوں کے ساتھ ساتھ فوج کے 24 اہل کار اور 29 باغی ہلاک ہوئے۔انتہائی قدامت پسند، ’الاحرار الشام‘ باغی گروپ سے وابستہ ایک اہل کار نے کہا ہے کہ فوجی تنصیب کے اندر پھنس کر رہ جانے والے اٴْس کے لڑاکوں کو محفوظ گزرگاہ دینے کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔اہل کار، جنھوں نے مذاکرات کی رازداری کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہیں کیا، بتایا ہے کہ یہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے