Voice of Asia News

سی پیک منصوبہ ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی کاضامن:تحریر: محمدقیصرچوہان

پاک چین دوستی ایک زندہ وجاوید حقیقت ہے جورسمی معاہدوں اور اتحادوں سے بالاترہے۔ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں پاکستان اورچین کے روابط بے مثال ہیں جو ایک تسلسل کے ساتھ ہم آہنگی اورمضبوط ساکھ کے حامل ہیں۔ دونوں ممالک اس نوعیت کے تعلقات کے رشتے میں منسلک ہیں جودونوں ملکوں کے عوام پراثرانداز ہوتے ہوئے مثبت طورپر اپنا فطری رنگ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان اور چین دوستی اتنی پائیدار ہے کہ اسے محض سمندروں سے گہری، ہمالیہ سے بلند اورشہد سے میٹھی کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے کیونکہ یہ دوستی ان تمام استعاروں سے بلندترہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کاایسا گہرا روحانی ناطہ ہے کہ حالات کیسے ہی ہوں یہ رشتہ بہت ہی مضبوط ہے۔ہرقسم کے گرم سرد حالات کے باوجود نہ تو کسی دشمن کے منفی پراپیگنڈے نے اس رشتے کو نقصان پہنچایا ہے اور نہ ہی کوئی سازش دونوں دوستوں کے درمیان دیوار کھڑی کر سکی ہے۔عوامی جمہوریہ چین نے 1949 میںآزادی حاصل کرنے کے بعد اپنی انتھک محنت سے ترقی کی منازل طے کر کے خود کو معاشی طور پر اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ آج اس کا شمار دُنیا کی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے ۔چین کا رقبہ 6.9 ملین اسکوائر کلو میٹر اور آبادی ایک ارب 39 کروڑ ہے اس کے 23 صوبے ہیں جبکہ 33 انتظامی ڈویژنز اور 116 شہری حکومتیں ہیں ۔کرنسی یوآن ہے ،صرف ایک سیاسی جماعت ہے جس کا نام کمیونسٹ پارٹی ہے ،چین میں الیکشن نہیں ہوتے ،صدر اور وزیراعظم کا انتخاب پارٹی کرتی ہے ۔چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں ایک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہوا ہے جہاں صدر ،وزیر اعظم،وزیر اور مشیر تیار کےئے جاتے ہیں ۔پورے ملک میں ایک زبان بولی جاتی ہے جس کو منڈین کہتے ہیں ۔تعلیم ،میڈیا ، سوشل میڈیا ، انٹر نیٹ ہر چیز ان کی اپنی زبان میں ہی ہے۔ چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جس کی آبادی دو کروڑ بیس لاکھ کے فریب ہے،شہر میں دو رویہ سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے ، سائیکل اور موٹر سائیکل کیلئے الگ الگ ٹریکس ہیں ، سٹرک کے دونوں اطراف پیدل چلنے والوں کیلئے کشادہ فٹ پاتھ ہے جبکہ صفائی کا بہیرین انتظام ہے ۔چین کی ترقی میں تعلیم ،وقت کی پابندی اور کفائیت شعاری کا اہم ترین کردار ہے ،چینی لوگ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں جبکہ چائے نہیں پیتے بلکہ سبز قہوہ پیتے ہیں۔
اب ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی کا رشتہ کتنا گہرا ہے کہ تاریخ میں یہ تعلق کبھی بھی کمزور نہیں پڑا۔سب سے پہلی بات تویہ ہے کہ چین اورپاکستان کے عوام ایک دوسرے کیلئے محبت اور احترام کاباہمی جذبہ رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کو چین جانے کا موقع ملاہے وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ چینی باشندے پاکستان کیلئے ایسے پیار کا رشتہ رکھتے ہیں جیسے دونوں جڑواں بھائی ہوں۔ چین کے موجودہ سیاسی لیڈر دونوں ملکوں کے عوام کو ’’آئرن یا سٹیل برادرز‘‘ کہتے ہیں اوروقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی دوستی پرکسی موسم نے کوئی برااثرنہیں ڈالا۔وقت نے یہ ثابت کیاہے کہ دونوں ممالک کی دوستی لازوال ہے۔پاکستان اورچین کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز 1950 میں ہوا تھا۔ پاکستان اسلامی دنیاکا پہلاملک تھا جس نے عالمی برادری کے دیگرچند ممالک کے ساتھ 1950 کے تائیوان، چین تنازع کے فوری بعد چین کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا تاہم دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات 31 مئی 1951 میں قائم ہوئے۔ پاکستان نے چین کو اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمز کارکن بننے میں مدد فراہم کی اور اس کے اسلامی دنیا کے ساتھ روابط اورتعلقات کے فروغ کیلئے اہم خدمات انجام دیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962 کی چین بھارت سرحدی جنگ کے بعد پیداہوئی۔
1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی چین نے پاکستان کو بھرپور مدد فراہم کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادت رابطوں میں گہرائی پیدا ہوئی۔ 1970 میں پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر کے خفیہ دورۂ بیجنگ کے انتظامات کیے اور چین اورمغربی دنیا کے درمیان براہِ راست رابطوں کو ممکن بنایا جس کے نتیجے میں 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن چین کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے مغربی رہنما بنے۔ 1978 میں چین اور پاکستان کے درمیان پہلے اوراب تک کے واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہو گیا۔1980 کی دہائی میں افغانستان میں روسی افواج کے داخل ہونے کے بعد چین نے پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے خطے سے روسی انخلا کا مطالبہ کیا اورافغان جنگ کے پورے دورانیے میں چین بظاہر غیرجانبدار رہا۔
گزشتہ 28 برسوں میں چین اورپاکستان کے درمیان تعلقات اورتعاون میں کئی گنا اضافہ ہواہے اورکئی مشترکہ فوجی اوراقتصادی منصوبوں پرکام کیاجارہاہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں2001 میں الخالد ٹینک، 2007 میں لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر، 2008 میں ایف 22 پی فریگیٹ اورکے 8قرارقرم ایڈوانسڈ تربیتی طیاروں کی تیاری اور دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک شامل رہا۔ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرچکی ہیں۔دفاعی تعاون کے سمجھوتوں کی بدولت 2007 میں چین پاکستان کوہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان جوہر ی توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984 میں دستخط کئے گئے تھے جس کے بعد سے دونوں ممالک اس معاملے پرایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کرتے آرہے ہیں۔ 1999 میں چین کے تعاون سے چشمہ میں 300 میگا واٹ کا جوہری بجلی کاپلانٹ پایہ تکمیل کو پہنچا، اس سلسلے کاایک اورپراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اسی عرصے میں چین نے پاکستانی شہر خوشاب کے نزدیک واقع جوہری مرکز کی تعمیر میں بھی تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
امریکا نے پاکستان کے ساتھ بھارت کی طرز پرسویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کامعاہدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا، جس کے بعد چین نے جوہری توانائی کیلئے دو پلانٹس کی تعمیر میں پاکستان کومدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہرکی، جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان کے خلائی پروگرام میں چینی ٹیکنالوجی اورتعاون کا بڑاعمل دخل ہے۔ 1990 میں پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ایک چینی اسٹیشن سے ہی خلا میں بھیجا گیاتھا، جس کے بعد سے باہمی تعاون کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھی دونوں ممالک میں کئی منصوبوں پرقریبی تعاون جاری ہے۔یہ قریبی تعاون اقتصادی میدان میں بھی جاری ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی اورمعاشی لحاظ سے اہم ترین بندرگاہ گوادر بھی چینی تعاون سے ہی تعمیر کی گئی۔ اس کا آغاز 2002 میں ہوا تھا اوراس پر 248 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جس میں چین نے 198 ملین ڈالرفراہم کئے، تعمیرکے تمام مراحل میں چین کی تکنیکی اورافرادی مدد شامل رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان2008 میں فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کئے گئے، جس کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگائے گا۔ دونوں ممالک کی جانب سے کسی بھی ملک کے ساتھ کیاجانے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ تھا۔ 2008 میں ہی دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے کے ساتھ ساتھ ریل روٹ بچھانے پربھی اتفاق کیا۔ ریل کے اس رابطے سے چینی مصنوعات کو براہِ راست گوادر پورٹ تک رسائی ملے گی۔ اس کے علاوہ چین اپنے صوبے سنکیانگ سے منسلک پاکستانی علاقے گلگت، بلتستان میں بھی ہائی ویز اور کئی دیگرپروجیکٹس کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بے شمار منصوبوں میں بھی بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کر رہاہے، جس کاحجم گزشتہ کچھ برسوں میں 13 ارب ڈالرز تک پہنچ گیاہے۔ ان اہم ترین پروجیکٹس میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاورپراجیکٹ، 500 ملین ڈالر کی مالیت سے قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈنگ اورپاک چین فرینڈ شپ سینٹر کی تعمیرشامل تھی۔ اس وقت بھی کئی چینی کمپنیاں پاکستان میں آئل اینڈ گیس ، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، پاور جنریشن، انجینئرنگ، آٹو موبائلز اور انفراسٹرکچر مائننگ کے شعبوں میں کام کررہی ہیں۔ان شعبوں کے علاوہ بھی کئی دیگر پراجیکٹس میں چین کی سرمایہ کاری جاری ہے۔اس کے علاوہ دونوں ممالک قدرتی آفات اوردیگرمشکل وقتوں میں بھی ایک دوسرے کاساتھ دیتے آئے ہیں۔ نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے فوری بعد چین کا دورہ کیا جہاں 5 جولائی 2013 کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے تاریخی مفاہمتی یادداشت پردستخط کئے گئے۔ اس طرح پاکستان اور چین کے وزراء اعظم کی موجودگی میں اقتصادی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہواجو کہ پورے خطے بھر میں تبدیلی لاسکتا ہے اورمشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور چین کے تقریباً تین ارب افراد کی زندگیوں میں ترقی و خوشحالی لا سکتا ہے۔چین کی بے لوث اورہمہ جہت امداد اورتعاون نے ثابت کیاہے کہ چین پاکستان کو خطے میںیا ایشیاء میں اکنامک ٹائیگر کی حیثیت میں دیکھناچاہتا ہے۔

اقتصادی راہداری مغربی چین کے علاقہ کا شغر کوعالمی سطح کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ، ایئرپورٹ، کمرشل سمندری راستوں، ریلویز، فائبر آپٹیکل اورگیس پائپ لائنز کے وسیع و عریض نیٹ ورک کے ذریعے گوادربندر گاہ سے ملائے گا۔ چین کے لیے اقتصادی راہداری وسیع وعریض مغربی علاقہ کی ترقی کیلئے ایک روڈ، ایک پٹی بنانے کی حکمت عملی کا ایک حصہ اور 21 ویں صدی کی ترقیاتی ضروریات کو پوراکرنے کیلئے شاہراہ ریشم کواہم راہداری کی حیثیت رکھتاہے۔ چین کے صدر ڈی جن پنگ نے 19 فروری 2014 کو پاکستان کے صدر ممنون حسین کے ساتھ اپنی ملاقات میں پاکستان اور چین کی کمیونٹی کی مشترکہ تقدیر بنانے کی تجویز پیش کی۔ پاکستان کیلئے اقتصادی راہداری وژن 2025 کے سات ستونوں میں سے ایک اس ایک ستون کو عملی جامہ پہنانے کی حیثیت رکھتی ہے جس کاتعلق آئندہ ایشیائی ٹائیگر بننے کیلئے علاقائی روابط قائم کرنا ہے۔یہ دن اس بڑے پراجیکٹ کو تاریخ میں چینی صدر ذی چن پنگ کے دورہ کے حوالہ سے اہم باب کے طور پر لکھا جائے گا۔چین اور پاکستان کی سیاسی اور تاریخی الائنس پر مبنی گہری اور سدا بہار دوستی کی تاریخ کئی نسلوں پرمحیط ہے تاہم اقتصادی راہداری دوطرفہ ایجنڈا کے وسط میں اقتصادی تعاون اور روابط لاتے ہوئے ان تعلقات کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ اقتصادی شراکت داری کی ایک حکمت عملی ہے جس سے پاکستان چین جنوبی ایشیاء، مشرق وسطیٰ ایشیاء کو آپس میں ملانے والا جغرافیائی اقتصادی سرگرمیوں کا گڑھ بن جائے گا اور پاکستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے سرمایہ کاری کے بڑے مواقع پیش کرنے والا ملک ہوگا۔جولائی 2013 کی مفاہمت کی یادداشت کامقصد دونوں حکومتوں کو اقتصادی راہداری کی منصوبہ بندی اوراسے بنانے کیلئے تعاون کے قابل بنانا۔اس کے علاوہ اقتصادی سرگرمیوں میں پیش رفت اورمنصوبہ بندی کوتیزکرنے کیلئے سہولت فراہم کرنا تھا۔ اس مقصد کیلئے وزارت منصوبہ بندی ترقی اوراصلاحات کو فوکل وزارت قرار دیاگیا جس نے دونوں ممالک کے تعاون کیلئے جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ کمیٹی چین کے ہم منصب ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) کے ساتھ مل کر تشکیل دی گئی ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری کا طویل مدتی منصوبہ موجودہ دور سے لے کر 2030تک کیلئے اقتصادی تعاون، اغراض، مقاصد، اہداف اورمجموعی سمت کا تعین کرتا ہے جس سے تحقیق، منصوبوں کے قابل عمل ہونے کے مطالعاتی جائزہ،درمیانی اورطویل مدتی اہداف کے پورے ہونے کا سلسلہ شروع ہو گا۔ جولائی 2013 کی مفاہمت کی یادداشت کے بعد دونوں اطراف سے ماہرین پرمشتمل توانائی ڈھانچہ جات اورگوادر کے مختلف شعبوں کیلئے علیحدہ علیحدہ جوائنٹ ورکنگ گروپس بنائے گئے ان جوائنٹ ورکنگ گروپس اور جوائنٹ کو آپریشن کمیٹیوں کے منصوبوں کی حکمت عملی بنانے کیلئے گزشتہ چار سال میں کئی اجلاس منعقد ہوئے۔ دونوں ممالک کی قیادت، سفارتکاروں اور حکام کی محنت سے ریکارڈ مدت میں پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت 45 ارب ڈالرز کے منصوبے منظور کئے گئے۔
پاک چین، اقتصادی راہداری توانائی کے شعبہ میں کئی منصوبوں وسیع تر ریلوے اور سڑکوں کے نیٹ ورک کے ذریعے وفاقی اکائیوں کی ضروریات پوری کرے گی۔راہداری منصوبہ ٹرانسپورٹیشن نظام پرمشتمل ہے جوکہ مغربی چین کے علاقہ کا شغر کو شمال میں خنجراب کو کراچی اور جنوبی پاکستان میں کئی راستوں کے ذریعے گوادر کو آپس میں ملائے گا۔پاکستان کی تیزتر ترقی اورشرح نمو میں اضافہ کیلئے توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے توانائی کے شعبے کو پہلی ترجیح پہ رکھا گیا ہے۔اقتصادی راہداری میں توانائی کے منصوبوں میں ابتدائی طور پر34 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو گئی اورانفراسٹرکچر کے شعبہ میں تقریباً 11 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
دونوں ممالک نے جلد از جلد توانائی پیدا کرنے والے منصوبوں کے ذریعے 10,40میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے منصوبوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ بجلی کے یہ منصوبے پورے ملک میں پھیلے ہوں گے اور یہ منصوبے 2018 تک مکمل کر لئے جائیں گے۔ مزید برآں توانائی کے کئی منصوبوں میں6645 میگاواٹس کامنصوبہ بھی فہرست میں ہے۔ توانائی کے تمام منصوبے سرمایہ کاری کی شکل میں تجارتی بنیادوں پر ہوں گے۔ تمام انتظامی تقاضے پورے کرنے اوردرکار دیگر سہولیات کی فراہمی کے بعددونوں ممالک ہو اسے 260 میگا واٹ بجلی کے منصوبوں کوئلہ سے 5580 میگاواٹ بجلی کی تیاری اور 1590 پن بجلی کے منصوبوں کیلئے پیسہ کی فراہمی آخری مرحلہ میں ہیں ان تمام منصوبوں کے ساتھ ساتھ 13.8 ایم ٹی پی اے معدنی کوئلہ کے پراجیکٹس صدر ذی جن پنگ کے دورہ کے دوران شروع کئے جائیں گے دیگر منصوبے ضروری طریقہ کار کی تکمیل پر شروع کئے جائیں گے۔
گوادر بندرہ گاہ کا منصوبہ پاک چین اہم شراکت داری کا طرہ امتیاز ہے اس کے تزویراتی محل وقوع اور مستقبل میں توانائی اور اقتصادی گڑھ ہونے سے پاکستان اور چین کے سٹرٹیجک اقتصادی تعلقات کا نیا باب کھلے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت بننے والے ہر ترقیاتی منصوبے سے گوادر کی ترقی کی رفتار تیز ہو گی۔اس بندرگاہ کو عالمی پائے کی سیاسی و تجارتی سرگرمیوں کاحامل بنانے کی کوششیں تیز ترہوں گی اور یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ آئندہ عشرہ کے دوران گوادر میں مربوط انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری سے دورس تبدیلیاں رونماہوں گی۔پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت تکمیل پانے والے منصوبے مکران، گوادر اور بلوچستان کی بالخصوص ترقی اور پاکستان کی عمومی ترقی کا عمل تیز کرنے کا آلہ کار ثابت ہو گی۔
پاک چین اقتصادی راہداری کسی ایک راستہ یادائرے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامع تعاون کیلئے متعدد اقدامات اور پراجیکٹس پرمشتمل ایک پیکیج ہے جو کہ علاقائی روابط، انفارمیشن نیٹ ورک، انفراسٹرکچر، توانائی میں معاون صنعتوں اور صنعتی پارکس، زرعی ترقی اور تخفیف غربت، سیاحت اور مالی تعاون جیسے اقدامات اورپراجیکٹس پرمحیط ہے اوراس اقتصادی راہداری کے دائرہ کار روزگار کے مواقع میں بہتری سمیت میونسپل ڈھانچہ جات، تعلیم، صحت عامہ اور عوام سے عوام کی سطح پررابطوں تک محیط ہے اس سے ملک کے ہر حصہ میں لاکھوں روزگار اور ترقی و خوشحالی کی ہزاروں نئی راہیں پیدا ہوں گی۔
پاک چین اقتصادی راہداری سے تمام صوبے مستفید ہوں گے اور پورے ملک میں امن و ہم آہنگی تعاون اوراقتصادی ترقی آئے گی۔ یعنی صوبائی دارالحکومتوں کوئٹہ، پشاور،کراچی اور لاہور کو اس پراجیکٹ کے ذریعے ملایا جائے گا جبکہ ملک سے کم ترقی یافتہ علاقے بشمول قبائل علاقہ جات (فاٹا) خیبرپختونخوا، آزاد جموں کشمیر،گلگت، بلتستان ،جنوبی پنجاب، تھر، اندرون سندھ اور بلوچستان کو فعال ترین ترقی کے دائرہ میں لایا جائے گا اور گزشتہ 70سال سے تھر کے نظرانداز کوئلہ کے ذخائر کو دولت میں تبدیل کیا جائے گا جس سے خشک سالی کی علامت تھردنیا کے توانائی کے مرکز میں بدل جائے گا۔
پاک چین اقتصادی راہداری دنیا کے مختلف حصوں کے سرمایہ کاروں کو بھی سرمایہ کاری کیلئے پاکستان کی راہ دکھائے گی جو کہ 20 کروڑ سے زائد افراد پرمشتمل محل وقوع کے لحاظ سے مفید ترین مارکیٹ ہے جہاں پربہت زیادہ باصلاحیت افراد اور بھرپور وسائل موجود ہیں۔ قوم کی تقدیر بدلنے کے اس تاریخی موقع پرکسی قسم کے تضادات پیدا کرنا، اختلافات ابھارنا اورگمراہ کن تعصبات پیدا کرنے سے ملک کی کوئی خدمت نہیں ہو گی۔ ہم چین کے تجربے سے سبق سیکھ سکتے ہیں جو جنگ سے تباہ حال اورافیون زدہ ملک سے ترقی کرکے دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت بنا۔ یہ سب سماجی یکجہتی اور سیاسی استحکام کے اصولوں سے ممکن ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہی اصول پاکستان میں ایک سراب بنے رہے جس کی ترقی کے کئی منصوبے بار بار رسول ملٹری چپقلش اور پالیسیوں میں عدم تسلسل سے تعطل کاشکار ہوئے اورہم ابھی تک کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ہیں۔
آج تاریخ نے ہمیں استحکام اوراصلاح کے درمیان توازن پیدا کرتے ہوئے ایک اور موقع دیا ہے اور ڈلیور کرنا ہی کسی بھی ملک کی کامیابی کی اہم کلید ہے شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’آدمی کے معاملات میں ایک لہر ہوتی ہے جو کہ سیلاب میںآتی ہے جو کہ قسمت بنانے یا بگاڑنے کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘ قطع نظراس بات سے کہ زندگی میں چھوٹی بڑی مشکلات آتی رہتی ہیں اب ہم پورے سمندرمیں تیر رہے ہیں اور اب ہم اس لہر کوضائع نہیں کر سکتے۔ آئیں اس اہم تاریخی موڑ پرہم ایک قوم کے طور پرمتحد ہوکر چینی ہم منصوبوں کا پرجوش اور پرتپاک خیرمقدم کریں اور پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے ایسی فضاء پیدا کریں جس میں ہم 21 صدی میں معاشی کامیابی حاصل کرکے ایشین ٹائیگر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکیں گے۔
پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ایک طرف تو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنائے گا تو دوسری طرف چین کو نمبر ون معاشی قوت بھی بنادے گااور یہ وہ عظیم منصوبہ ہے جس کے ذریعے چین اپنی مصنوعات کے لیے نہ صرف نئی منڈیاں بنانا چاہتا ہے بلکہ دیگر ممالک میں اثر و رسوخ بھی بڑھانے کا خواہشمند ہے اس منصوبے کا آغاز 2013 میں چینی صدر شی چن پنگ نے کیاتھا۔ انہوں نے ایشیاء یورپ اور افریقہ کے 60 سے زائد ممالک میں ’’شاہراء ریشم اقتصادی زمینی پٹی‘‘ اور اس کی سمندری ساتھی اکیسویں صدی کی ’’بحری شاہراہ ریشم‘‘ پر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مالی سرمایہ فراہم کرنے میں چین کے رہنما کردار کا تصور پیش کیا ان علاقوں کی مشترکہ آبادی ساڑھے 4 ارب بنتی ہے چین کاوسط ایشیا اور جنوب مشرق ایشیا میں ریلویز شاہراہوں اور پائپ لائنز اور بندرگاہوں کا جال بچھانے کے اس عظیم الشان منصوبے سے نئی دہلی میں بے چینی اوراضطراب بڑھتا جا رہا ہے بھارت کوسی پیک کے منصوبے سے سب سے زیادہ پریشانی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے خلاف روز اول سے سازشوں میں مصروف ہے ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پاکستانی حکومت کو مزید موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
سی پیک میں گوادر پورٹ میں توسیع اوراپ گریڈیشن، گوادر شہر میں ایئرپورٹ سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی، انڈسٹریل پارک کا قیام، مغربی اورمشرقی روٹس پر گوادر سے لے کر چینی سرحد تک موٹر وے نیٹ ورک، بڑے شہروں کیلئے رابطہ سڑکیں، ریلوے ٹریکس میں توسیع و انقلابی اپ گریڈیشن اور تیل کی پائپ لائنز وغیرہ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے متعلقہ علاقوں میں لا محالہ معاشی اورسیاسی اثرات ہوں گے۔ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر ان علاقوں میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں، ترقی کے ایک نئے دور کے آغاز کا سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہونے کے بھی امکانات ہیں۔غربت کے خاتمے کیلئے یہ مواقع لاکھوں خاندانوں کوغربت کی بیڑیوں سے آزاد کر سکیں گے۔ اگرتمام منصوبے پروگرام کے مطابق مکمل ہو گئے تو زیادہ ترعلاقوں میں کاروبار، صنعت اور تجارت کا روایتی انداز اورطرز ہمیشہ کیلئے بدل جائے گا۔
ترقی اور خوشحالی کے عظیم منصوبے کا روٹ گوادرسے شروع ہو گا وہاں سے ہوشاب،پنجگور،ثوراب ،کوئٹہ، ژوب، دریا خان(بھکر) ڈیرہ اسماعیل خان، میانوالی، تلہ کنگ، فتح جنگ، اسلام آباد، پشاور موٹروے، یہاں سے ہری پور، حسن ابدال، تھاکوٹ، گلگت، خنجراب اور آگے کا شغر (چین) مشرقی روٹ: مشرق روٹ مغربی روٹ سے طویل ہے۔ لاہور سے ملتان سڑک پرکام ہو رہا ہے، ملتان کوسی پیک کے تحت سکھرسے جوڑ دیاجائے گا، وہاں سے رتوڈیرو خضدار اور ہوشاب سے گوادر۔ یہ روٹ گوادر سے ہوشاب، پنجگور، خضدار،ر توڈیرو،سکھر، ملتان، خانیوال، فیصل آباد،ملتان سے لاہور، لاہور سے موٹرے وے برہان، ہری پور، ایبٹ آباد ، تھاکوٹ، گلگت،خنجراب اورآگے کاشغر (چین)تک ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا سب سے اہم حصہ مغربی روٹ کو کوئٹہ سے ثوراب کے درمیان 650 کلو میٹر شاہراہ ہے۔اسی طرح خضدار تار توڈیروکا سیکشن بھی مکمل کر لیا گیاہے ۔اب گوادر کی بندرگاہ کا پورے ملک سے فوری رابطہ ممکن ہوجائے گا اور گوادر کی بندرگاہ مکمل آپریشنل ہونے کے سبب بلوچستان میں بھی معاشی سرگرمیوں تقویت ملے گی ۔ ڈیرہ اسماعیل خان تا برہان اور گوادر تک ایسٹرن روٹ پرکام شروع ہے اوریہ منصوبہ رواں برس کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔
پختونخوا میں مانسہرہ، حطار، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کرک، کوہاٹ اور غازی ہیں۔ جبکہ بلوچستان میں خضدار، تربت، قلعہ سیف اللہ ، ژوب،دشت اور بوستان ہیں۔ حکومت کے مطابق مختلف علاقوں کو باہم ملانے کیلئے سڑکوں پرکام جاری ہے۔ علاوہ ازیں اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت توانائی کے منصوبوں میں گڈانی پاور پارک پراجیکٹ، حبکو کول پاور پلانٹ ،سالٹ رینج مائن پاور پراجیکٹ و دیگرمنصوبے شامل ہیں۔اقتصادی راہداری ایک سڑک نہیں بلکہ معاشی ترقی کا پورا نظام ہے۔ اس میں چھتیس ارب ڈالر کی خطیررقم توانائی کے منصوبوں کیلئے مختص ہے۔ گوادر سے کاشغر تک یہ اقتصادی راہداری تقریباً تین ہزار کلو میٹر پرمحیط ہے۔ تعمیر و ترقی کا یہ میگا پراجیکٹ گوادر پورٹ کو سنکیانگ کے ساتھ سڑکوں، ریلوے ٹریک اور ایئر پورٹ کے ذریعے منسلک کرے گا۔ اقتصادی راہداری کے اس عظیم منصوبے میں گوادر پورٹ پر ایک ہوائی اڈے کی تعمیر متعدد، توانائی کے منصوبے، اقتصادی زونز، خشک بندرگاہیں اور دیگربنیادی ڈھانچے بھی شامل ہیں۔ سی پیک کی تکمیل سے خطے کی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور ایک سال کے دوران سی پیک روٹ پرتقریباً 1.25 ملین کنٹینرز کی آمدورفت سے سالانہ 30 تا 40 ارب ڈالر کی کاروباری سرگرمیاں ہوں گی۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق سی پیک کی تکمیل سے چین سمیت خطے کے دیگر ممالک میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کے پیش نظر کئی مقامی بینک دوسرے ممالک اوربالخصوص چین میں اپنی برانچز کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ جبکہ یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان سمیت دیگر کئی بینک دوسرے ممالک میں اپنے کاروبار کے آغاز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ مقامی وغیر ملکی تاجروں کو بینکاری کی سہولیات فراہم کی جا سکیں جس سے 30 تا 40 ارب ڈالر کی کاروباری سرگرمیاں پیداہوں گی جو نہ صرف ملکی معیشت کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی بلکہ اس سے خطے کی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں کے عوام کیلئے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور رواں سال کے آخر تک چینی کمپنی پاکستان میں گلاس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 90 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ جبکہ سمیڈا جیسے سرکاری ادارے مفت کاروباری مشاورت و معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے ملک کے تمام صوبوں کو یکساں فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے۔
قراقرم ہائی وے کو بہتر بنانے کے ساتھ ایم فورنیشنل موٹروے پربھی چینی انجینئر زدن رات کام میں مصروف ہیں۔ ریل وے اور لائٹ ریلز کی اپ گریڈیشن بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ منصوبے کا محور گوادر ہے جہاں سی پیک منصوبہ بحیرہ ہند سے ملتا ہے، یہیں سے تمام وسائل پاکستان کے مرکز اورمغربی چین کو جائیں گے جبکہ پاکستان اور چین میں تیار ہونے والا مال دنیا بھر میں بھیجا جائے گا۔ گوادر میں فری ٹریڈ زون، سپیشل اکنامک زون، کوسٹل ہائی وے اور بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے یوں 2013 میں شروع کیا جانے والا یہ منصوبہ گوادر کومچھیروں کے گاؤں سے جدید شہر میں بدل دے گا۔ پاکستان کے چین کے ساتھ سیاسی تعلقات سٹرٹیجک اکنامک تعلقات میں تبدیل ہوچکے ہیں جس سے ہماری ترقی اورخطے کے مستقبل پرمثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر سی پیک کاگیٹ وے ہوگا۔ خطے کے تین ارب عوام کو اس کا فائدہ ہوگا۔ منصوبے کے تحت تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے جس سے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی اور مقامی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک فوری رسائی ممکن ہوگی، مقامی آبادی کی اقتصادی حالت مزید بہتر ہو گی جبکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا خواب پوراہوگا۔واضح رہے کہ پاک چائنہ معاہدوں سے جہاں چینی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے لگے ہیں وہیں پاکستانی عوام بھی چائنہ کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں پروان چڑھاتے ہوئے چائینز کمپنیوں کے ساتھ ڈائریکٹ سودے کر رہے ہیں دوسری جانب پاک چین چیمبر کے زیر اہتمام چینی زبان سیکھنے کے لیے ورکشاپس کاانعقاد شروع کررکھا ہے اور چینی زبان سیکھنے والے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں چینی تجربات کے ساتھ مل کر پاکستان میں ایک جدت پسند کاروباری کلچر کو تشکیل دے سکیں گی۔ پاکستان میں بے روزگاری پر قابو پانے کیلئے سب سے زیادہ کارگر نسخہ یہی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان، ملازمتوں کی بجائے کاروبار کی طرف آئیں تاکہ نوجوان طبقہ نوکریاں لینے کے بجائے نوکریاں پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت نوجوانوں میں کاروباری رجحانات کو تقویت دینے کیلئے متعدد اہم اقدامات کر رہی ہے جس میں کاروباری تربیت کے علاوہ بینکوں سے قرضوں کااجراء بھی شامل ہے۔ لہٰذا پاکستانی تاجر چینی زبان سیکھ کر چین کا دورہ کریں اور وہاں کے کاروباری کلچرکا مطالعہ کریں۔ نیز وہاں کے نوجوان تاجروں اورصنعتکاروں کے ساتھ تبادلہ خیالات کریں۔ اس طرح انہیں دنیا کی ابھرتی ہوئی بڑی معیشت کی کامیابی کا راز سمجھ آجائے گا اوروہ اپنے ملک میں کاروباری کلچر فروغ دینے میں وہی راز لاگو کر سکیں گے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ یہ چین اور پاکستان کی معیشتوں کو آپس میں جوڑنے کا ایک جامع فریم ورک ہے جس میں پاکستان اور چین دونوں کی حکومتوں کو اپنا مثبت کردار ادا کر کے معیشت کو پروان اور خطے میں خوشحالی لانے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
تجزیہ کاراس امر پر متفق ہیں کہ سرد جنگ کے بعد بین الاقوامی حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور ان حالات کے تناظر میں پاکستان کو ایسی سمت جانے کی ضرورت ہے جس سے قومی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو یقین بنایا جا سکے اس حوالے سے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر بین الاقوامی سطح پر حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
سی پیک کی تکمیل سے ملک کا گروتھ ریٹ دس فیصد سے بھی بڑھ سکتا ہے چین پر امریکا کا دباؤ بڑھ رہا ہے لہٰذا سی پیک کی تکمیل میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے چین کیلئے مشرق وسطیٰ اور یورپی یونین تک رسائی کیلئے گوادر کی بندرگاہ بہت اہم ہے چین کی90 فیصد صنعت ایسٹ کوسٹ جبکہ 50 فیصد تجارت بھی اسی طرف ہے اس سے معاشی فوائد کے حصول کیلئے پاکستان کو قابل عمل کوسٹل سیکٹر ڈیویلپمنٹ سٹریٹجی بنانے کی ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق اگر چینی برآمدات کا 5 فیصد بھی پاکستان حاصل کر لے تو 250 ارب ڈالر منافع کمایا جا سکتا ہے خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس سے خوشحالی اور ترقی کا ایک سنہرا موقع مل رہا ہے چنانچہ اب حکومت کو ہر صورت سی پیک منصوبے کو متنازع ہونے سے بچانے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی۔

qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے