Voice of Asia News

زیادہ کام کرنے والوں کو فالج کاخطرہ

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)ایک تازہ تحقیق سے معلوم چلا ہے کہ جو لوگ زیادہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے پانچ لاکھ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔ لینسٹ میڈیکل جرنل میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روایتی اوقات صبح9سے شام 5 بجے تک کے علاوہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ معلومات غیر یقینی ہیں لیکن تحقیق کے مطابق تناو¿ والے کام آپ کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں انھیں اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے میں 35سے40 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 48گھنٹے کام کرنے والوں میں یہ خطرہ ۱۰فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح 54گھنٹے کام کرنے والوں میں27 فیصد اور55 گھنٹوں سے زائد کام کرنے والوں میں اس کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔لندن کالج یونیورسٹی کے ڈاکٹر میکا کیویماکی کا کہنا ہے کہ 35سے40 گھنٹے کام کرنے والے گروپ میں دس سال کے دوران ایک ہزار افراد میں سے پانچ سے بھی کم افراد کو فالج ہوا۔ 55 یا اس سے زائد گھنٹے کام کرنے والیگروپ میں دس سال کے عرصے میں ایک ہزار افراد میں سے چھ لوگوں کو فالج ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے