Voice of Asia News

بے اولادی کی چند اہم بنیادی وجوہات

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، جسے چاہتا ہے اسے دیتا ہے۔ ایسے ہی جیسے رزق دیتا ہے، بغیر حساب کے۔ جسے نہیں دیتا اس کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور بعض انبیاءؑ سمیت انہیں بھی اولاد دیتا رہا ہے، جو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ گئے ہوں اور جن کی بیوی بانجھ پن کا شکار ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق حقیقی نے مایوسی کے دروازے بند کر دئیے ہیں اور امید کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اس سے امید رکھنی چاہیے، وہ امید بَر لائے گا۔ اس کے گھر میں دیر ہو سکتی لیکن اندھیر نہیں۔ اسی طرح دیر آئے، درست آئے بھی ہو سکتا ہے۔سائنس کے حوالے سے دیکھا جائے تو کبھی مرد میں کمی ہو سکتی ہے اور کبھی عورت میں۔ اس ضمن میں جدید میڈیکل سائنس کوئی حل نہیں نکال سکی بلکہ اسے کسی حیاتیاتی کمی کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس کے نام پر قائم ادارے شاذ و نادر ہی بے اولاد جوڑوں کی کوئی مدد کر پاتے ہیں، جب کہ ان سے بھاری رقوم وصول کر لی جاتی ہیں۔ حالانکہ ٹیسٹ ٹیوب کی ایک شکل نکالی گئی ہے جسے صرف مرد کی کمی کا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے۔ عورت میں پائے جانے والی کمی ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے پوری نہیں ہوتی۔ ویسے بھی یہ طریقہ محض نمائشی ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں اسے پزیرائی حاصل نہیں ہو سکی بلکہ خود مغربی ممالک کے باشندے بھی اس کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ خاوند یا بیوی میں پائی جانے والی کسی کمی کو پورا کرنا ہی بے اولادی کے مسئلے کا حل ہے اور طبِ نبوی اس سلسلے میں بہترین رہنمائی مہیا کرتی ہے۔ قرآن پاک کی سورہ طارق کی روشنی میں یہ اصول طے کیا جاسکتا ہے کہ مرد یا عورت کو دمے کی بیماری ہو تو اولاد نہیں ہوتی۔ جدید سائنس دانوں کا خیال ہی اس طرف نہیں جاتا۔ ان کے مطابق 20 فیصد عورتوں کے ماں نہ بننے کی وجہ ہی معلوم نہیں ہو پاتی۔

بعض خواتین کا حمل مدت پوری نہیں کر پاتا اور مِس کیرج ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ مرد میں بھی ہوسکتی ہے اور عورت میں بھی۔ اس وجہ کو ختم کرنا حمل کی مدت پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ شادی کے بعد کچھ جوڑوں کے ہاں جلدی اولاد ہو جاتی ہے اور کچھ کے ہاں کچھ دیر سے۔ اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ تشویش اس وقت شروع ہوتی ہے جب مرد کے والدین اور عورت کی سہیلیاں اولاد کے نہ ہونے کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ یہ ان کا حق نہیں ہوتا اور نہ ہی نو بیاہتے جوڑے کا کوئی قصور ہوتا ہے۔ اس کے باوجود لڑکے کے والدین لڑکی کو طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں، خواہ نقص ان کے لڑکے میں ہی کیوں نہ ہو۔ اگر مرد میں نقص ہو تو اس کیلئے بھی مدد حاصل کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں جھجک یا ہٹ دھرمی علاج سے دور ہوجاتی ہے، لیکن سارا ملبہ عورت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ مناسب نہیں بلکہ اس کیلئے دیانتدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ میاں بیوی میں سے جس میں نقص ہو اس کا علاج کرایا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے میاں بیوی میں باہمی احترام اور اتحاد و اتفاق بہتر نتائج لا سکتا ہے۔

بعض میاں بیوی میں سے کسی میں زیادہ عرصہ بعد اولاد ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، ان کے ہاں شادی کے فوراً بعد اولاد نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں بعض اوقات سات سات سال گزر جاتے ہیں اور بعض اوقات ایک بچے کے بعد دوسرے بچے کی ولادت کے درمیان بھی اتنا ہی عرصہ آجاتا ہے۔ دراصل یہ اولاد پیدا کرنے کے نظام میں پائی جانے والی رکاوٹوں کا نتیجہ ہوتا ہے، جو بعض اوقات علاج سے دور ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات نظام خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی مرد یا عورت کے جسم میں پیدا ہونے والی کوئی انفیکشن بھی بچہ ہونے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ کوئی آپریشن، سوکھا پن، ایڈز، کینسر، کیموتھراپی، شوگر، سگریٹ نوشی، ذہنی دبائو اور ٹیوبوں میں خلا، بہت زیادہ ورزش کرنا یا بالکل بھی ورزش نہ کرنا بھی اولاد نہ ہونے کی وجوہات میں شامل ہے۔

حضرت لقمانؑ نے فرمایا ” کھٹے کی کثرت مرد کو مرد اور عورت کو عورت نہیں رہنے دیتی”۔کھٹا کھانے کو دل کیلشیم کی کمی کی وجہ سے چاہتا ہے۔ اس لئے دودھ پینا چاہیے۔ دودھ سے کیلشیم کی کمی پوری ہوجائے تو کھٹا کھانے کو دل نہیں چاہے گا۔ بچپن میں کنپیڑے نکلے ہوں تو خون میں موجود منفی جراثیموں کی وجہ سے شادی کے بعد اس کی بیوی کا گائنی سسٹم خراب ہو جاتا ہے اور اس کے باعث اولاد نہیں ہوتی۔ کنپیڑے والے بچوں میں بڑے ہو کر معیاری مادہ ، تولیدی مادہ پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے ہاں بچے ہوں بھی تو وہ یا مر جاتے ہیں یا مِس کیرج ہو جاتا ہے یا ابارشن کرانا پڑتا ہے یا پھر بچے پیدا ہوکر فوت ہوجاتے ہیں۔ مِس کیرج ہیپاٹائٹس اور کینسر کا باعث بن جاتا ہے۔ خاوند کے مادے میں پیپ ہو تو بیوی کے جسم میں رسولیاں بنتی ہیں۔ بچہ دانی پر رسولیاں ہوں تو ماہواری نہیں آتی۔ خاوند کڑاہی گوشت اور دیگر گرم کھانوں کا عادی ہو تو بھی بیوی کے بچہ دانی میں رسولیاں بنتی ہیں۔پچانوے فیصد عورتوں کو شوگر بچہ دانی کی خرابیوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بچہ دانی خراب ہو تو عورت کے بال جھڑتے ہیں۔ مرد کے جسم میں ریشہ بلغم زیادہ ہو تو بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں، بیٹے نہیں ہوتے یا پھر ماں کے پیٹ میں پیدا ہوکر فوت ہو جاتے ہیں۔ عورت میں خون کی کمی سے بچے ضائع ہو سکتے ہیں۔ گائنی کی دیگر بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ عورت کی خاندانی منصوبہ بندی کے مصنوعی طریقے اختیار کرنے سے بچہ دانی کا کینسر بھی ہو سکتا ہے۔ گھنٹیا اورمتعدد دیگر بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ بچی دانی اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہو تو ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان گیپ آجاتا ہے۔ بچوں کے درمیان پانچ چھ سال کا وقفہ ہوتو وہ خواتین میں خون کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔بواسیر کے موہکے مرد کے تولیدی جراثیم کو مار دیتے ہیں۔ اندر والے موہکے جلدی اور باہر والے دیر سے ٹھیک ہوتے ہیں۔ مقعد میں مسلسل خارش سے مردانہ جراثیم ختم ہو جاتے ہیں اور مرد نا مرد ہوجاتا ہے۔
انجیر قوتِ جماع میں اضافہ کرتی ہے۔ (حدیث شریف)
خربوزہ مادہ منویہ اور قوتِ جماع بڑھاتا ہے۔ (حدیث شریف)
پاکیزہ خوشبو دل کو قوی کرتی ہے اور قوتِ جماع میں اضافہ کرتی ہے۔ (حدیث شریف)
پیاز آبِ کمر کو بڑھاتا ہے۔ (حدیث شریف )
جس مرد کی اولاد نہ ہو وہ دودھ میں شہد ملا کر پیا کرے۔ (حضرت امام موسیٰ کاظم )
زیتون کا تیل مادی منویہ میں اضافہ کرتا ہے۔ (حضرت امام جعفر صادق)
ورس مقئوی باہ ہے۔ قسط البحری شیریں اعضاء ریئسہ و باہ کو طاقتور بناتی ہے اور قوتِ باہ میں تحریک پیدا کرتی ہے (حضور رسولِ کریمؐ نے ان دو چیزوں کو دیگر کئی بیماریوں کیلئے بھی علاج قرار دیا ہے)۔ ادرک مقئوی باہ ہے (بوعلی سینا)۔ سونٹھ مردانہ کمزوری ختم کرتی ہے۔ اس مقصد کیلئے ادرک کا قہوہ زبردست ٹانک ہے۔کھانے پینے کی ایسی بہت سی چیزیں ہیں، جو اولاد کی نعمت کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ بہت سی ادویہ بھی موثر ہوسکتی ہیں۔لاہور کے سرکاری ہسپتال کی ڈاکٹر صاحبہ اسی کمی کے حوالے سے میرے زیر علاج رہیں، مگر علاج کی طوالت سے ان کا پیمانئہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے آنا چھوڑ دیا۔ ایسا دیگر بے اولاد جوڑوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ شوگر کا مرض کئی برسوں تک کے ایلوپیتھک علاج پر آمادہ ہوتا ہے۔ بلڈ شوگر کا مریض بھی کئی سال گولی کھاتا رہتا ہے مگر بلڈ شوگر کے چنگل سے نہیں نکلتا، اس کے باوجود وہ علاج جاری رکھتا ہے۔ بے اولاد جوڑوں کا معاملہ عموماً اس سے مختلف دیکھنے میں آتا ہے حالانکہ یہ قسمت بدلنے والی بات ہوتی ہے اور اس کا تعلق روحانیت کے ساتھ بہت زیادہ ہے۔ بے اولاد جوڑوں کو چاہیے کہ بے اولادی کے معاملے کو سنجیدگی اور صبروتحمل سے لیا کریں۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے، جو خالق حقیقی ہی دے سکتا ہے۔ اس کا فرمان ہے ”اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے