Voice of Asia News

جلتا ہوا کشمیر اور بے حس عالمی ضمیر:تحریر : جمال احمد

جلتا ہوا کشمیر اور بے حس عالمی ضمیر      70برس سے کشمیر میں بھارتی ظلم اپنے عروج پر ہے۔جنت نظیر سرزمین پھولوں کی رنگینی کی بجائے کشمیریوں کے خون سے رنگین ہو چکی ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کی جانب سے حالیہ احتجاجی مظاہروں میں پیش کی جانے والی شہادتیں کوئی نئی بات نہیں بلکہ گذشتہ 70سالوں میں ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں لیکن ان قربانیوں سے ہمیشہ کشمیر کا زکوتقویت ہی حاصل ہوئی ہے۔ کشمیریوں کے خون کی آبیاری سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کا پودا اب تک تناور درخت بن چکا ہے۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر بن چکی ہے کیونکہ حق اور سچائی کو جبر و تشدد دیا دیگر ہیرا پھیروں سے کچھ عرصے کیلئے آنکھوں میں دھول جھونک کر اوجھل تو کیا جا سکتا ہے مگر ہمیشہ کیلئے چھپایا نہیں جا سکتا۔ اب تحریک آزادی کشمیر جس طریقے سے پروان چڑھ رہی ہے محسوس ہوتا ہے کہ عنقریب کشمیریوں کی قربانیاں ثمر آور ہونے والی ہیں۔ آزادی کشمیر کی جدوجہد میں ان دنوں زیادہ تیزی دکھائی دیتی ہے۔پورا پاکستان اورکشمیر ’’ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج رہا ہے ۔پاکستان بھر میں ’’کشمیریوں سے رشتہ کیا، لاالہ الا اللہ‘‘ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔ اس سے بڑی حقیقت کوئی نہیں کہ جب تحریک پاکستان کو ’’پاکستان کا مطلب کیا، ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کا نعرہ ملا تولوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور اس کلمے کی بنیاد پر ہی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں میں نیا عزم اور ولولہ پیدا ہوا۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہمیشہ متحدہوئے اورکسی مشکل گھڑی اور بد ترین دور میں بھی یہی کلمہ ان کو مضبوط مستحکم کرنے کال سبب بنی اور اس کی بنیاد پر انہوں نے سخت ترین مہمات بھی سر کر لیں۔ آج اگر اہل پاکستان اور ان سے آگے بڑھ کردنیا بھر کے مسلمان ’’کشمیریوں سے رشتہ کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ بلند کر کے کشمیر کو بھارت کی غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والوں کا ساتھ دیں تو بھارت اس کا زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ قیام پاکستان کے قوت تو انتہا پسند ہندوؤں کے ساتھ برطانوی سامراج کی قوت بھی تھی لیکن کرشمہ وقوع پذیر ہو کر رہا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نظریے کی بنیاد پر نئی مملکت نمودار ہو گئی۔ پاکستان بننے کے بعد کشمیریوں کیلئے آزادی کی منزل کا حصول زیادہ آسان تھا مگر کچھ اپنوں کی کمزوری اور کچھ غیروں کی سازشوں نے اسے 70 برس گزرنے کے بعد ابھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ مذاکرات کے نام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلاجانے والے کھیل سراسر بھارت کے مفاد میں ہے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھا کرمقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو زمینیں الاٹ کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی اقتصادی ناکہ بندی کی جارہی ہے تاکہ وہ بھوک اور بیماریوں سے تنگ آکر اپنی جدوجہد کو ترک کر دیں۔
بابائے پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے تھا ،قائد اعظم ایک با اصول اور صاف سیاست دان تھے ،ان کی دیانتداری کی شہادت ان کے مخالفین بھی دیتے تھے، وہ سیاسی مقصد کے حصول کی خاطر کسی غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے پر چلنے کے خلاف تھے ، ان کا مزاج بہت ٹھنڈا تھا اور ہر معاملے کو وہ مرحلہ وار دیکھنے کے قائل تھے ۔سیاست میں عدم تشدد کے حق میں تھے اور سیاسی جنگ کو مکمل تیاری اور جانفشانی سے لڑتے تھے ، بات دلیل کے ساتھ کرتے تھے اور اپنے روز مرہ معمولات کو اس طرح ترتیب دیتے کہ ان کے ملاقاتیوں کو ذرا دقت پیش نہ آتی تھی ۔ محنت پر یقین رکھتے تھے، حق تلفی کی قانونی جنگ سے تلافی کے حق میں تھے ، وقت کے پابند تھے ۔ وہ بر صغیر کے پہلے شخص تھے جنہوں نے ہندووں کے قانونی اور سماجی نظام کو سمجھا اور اس کے غیر ہندووں پر پڑنے والے اثرات کو محسوس کیا،پھر ہندوستان کے معاشی، سماجی ، سیاسی ، ثقافتی اورمذہبی مسائل کا حل بھی پیش کیا ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر انگریزوں سے آذادی حاصل کر لی گئی تو مسلمان ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوں گے ۔ یہ غلامی کے ایک کنویں سے نکل کر دوسرے میں گرنے کے مترادف ہو گا اور یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہ ہوگا۔لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ انگریزوں سے آذادی حاصل کرنے کے حق میں نہ تھے ۔ قائد اعظم نے ایک ایسے پیشے کا انتخاب کیا تھا جس کا سیاست اور قانون سے براہ راست تعلق تھا ۔
جب انگریزوں نے مسلمانوں سے اقتدار حاصل کیا تو ہندوؤں کو یقین تھا کہ اب انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے کے بعد حکومت ان کی ہو گی ۔ انگریزوں نے چونکہ اقتدار مسلمانوں سے حاصل کیا تھا اس لیے وہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے تھے ۔ انگریزوں کا یہ رویہ ہندوستان کی تقسیم تک برقرار رہا ۔ تقسیم سے چند ماہ پہلے اور تقسیم کے دوران انگریز کے اندر مسلم لیگ اور قائد اعظم کے خلاف پائی جانے والی عداوت اور نا پسندیدگی سامنے آنے لگی ۔ تقسیم کے دوران، الگ وطن کا مطالبہ کرنے والوں کو، ایک ایسا ملک دیا جو ہر وقت بھارت کے نشانے پر ہو۔قائد اعظم نے تقسیم پر عملدرآمد کے لیے اقوام متحدہ کو ثالث مقرر کرنے کی تجویز دی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا ۔ آزادریاستوں کے متعلق قائد اعظم کا موقف تھا کہ وہ چاہیں توکسی ایک ملک سے الحاق کر سکتی ہیں یا آزاد اور خود مختار حیثیت سے رہ سکتی ہیں ۔ اس کے برعکس کانگرس کا اعلان تھا کہ ایسی ریاستوں کا آزاد حیثیت میں رہنا بھارت کے خلاف جنگ کے مترادف ہو گا ۔کیوں کہ بھارت جونا گڑھ ،منادر، حیدر آباد دکن ، کشمیر اور ایسی ہی کئی ایک دیگر ریاستوں پر ماؤنٹ بیٹن اور ریڈکلف کے ’’تعاون ‘‘سے قبضے کا منصوبہ بنا چکا تھا ۔ قائد اعظم کی شدید خواہش اور کوشش تھی کہ کشمیر پاکستان میں شامل ہو جائے لیکن آپ یہ خواہش سینے میں لیے دنیا کو خدا حافظ کہہ گئے ۔ قائد اعظم پہلی مرتبہ1926میں اپنے اہلیہ کے ہمراہ کشمیر گئے ۔ انہوں نے اس نجی دورے کے دوران بھی کشمیر کے حالات میں گہری دلچسپی لی ۔ دوسری مرتبہ قائد اعظم 1936میں کشمیر گئے ،اس موقع پر انہوں نے مجاہد منزل سری نگر میں عید میلاد النبیؐ کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر مسلم کانفرنس نے استقبالیہ خطبے میں ’ ہند مسلم اتحاد کے داعی ‘ کے طور پر قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کیا تو قائد اعظم نے کہا کہ ’’ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انہیں ہندو اقلیت کے ساتھ انصاف اوراچھا برتاؤ کرنا چاہیے ‘‘۔انہوں نے اپنی اس تقریر میں کہا کہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کی قیادت مسلمان اقلیت کو ایسی یقین دہانی کرانے سے قاصر ہے وہ ہندو ذہنیت اور تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ہندوستان میں ان دوقوموں کا ایک ساتھ رہنا مسائل کی دلدل میں ہمیشہ پھنسے رہنا ہے۔دونوں کے تہذیبی اور تاریخی اختلاف کے تناظر میں ہی وہ آخر تک ہندو مسلم تعلقات کو دیکھتے رہے۔
1939میں مسلم کانفرنس ’نیشنل کانفرنس‘ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس کایا کلپ کی وجہ نیشنل کانفرنس کی قیادت کا نہرو کے ’’قوم پرستی‘‘ کے پُر فریب ‘ نعرے کی حمایت میں ’ہندو مسلم اتحاد‘ کا داعی بن کر سامنے آنا تھا۔قائد اعظم کشمیر کے ان بدلتے ہوئے حالات سے باخبر تھے ۔ مسلمانوں کی اکثریت کی سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں اور انہوں نے جس جوش اور عقیدت سے شیخ عبداللہ کو اپنا لیڈر منتخب کیا تھا ، اس کا خون ہوتا ہوا دیکھ کر تڑپ رہے تھے ،لیکن وہ بے بس تھے ۔جن ہندو استبداد ی ہتھکنڈوں کے خلاف انہوں نے1931میں ہری پربت جیل کے احاطے میں جانیں قربان کی تھیں ،ان کے ساتھ شیخ عبداللہ کا گٹھ جوڑ ان کو ذرا پسند نہ آیا ۔بعدازاں چوہدری غلام عباس کو تین سال بعد اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور وہ مسلم کانفرنس کی طرف لوٹ آئے ۔ شیخ عبداللہ نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے قائد اعظم کا سہارا لیا اور انہیں مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کے اختلافات ختم کرانے کے لیے کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی لیکن قائداعظم کے سمجھانے کے باوجود شیخ عبداللہ نے مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار نہ کی ۔ قائد اعظم نے 17جون1944کو اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ’’ جس طرح ہندوستان میں ’’کانگرس‘‘ ہندو مسلم اتحاد سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے دھوکہ دے رہی ہے اسی طرح کشمیر میں’’ نیشنل کانفرنس‘‘ بھی کشمیری مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے اورمسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔’کشمیر میں ایک ہی آواز‘کے سلسلے میں انہوں نے سری نگر میں کشمیر سٹوڈنٹ یونین اور مسلم کانفرنس کے ایک جلسے سے خطاب میں کہا ’’ اے مسلمانوں ہمارا خدا ایک، ہمارا رسولؐ ایک ، ہمارا قرآن ایک اس لیے ہماری آواز اور پارٹی بھی ایک ہونی چاہیے‘‘۔ جامع مسجد مسلم پارک میں مسلم کانفرنس کے سالانہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کشمیری مسلمانوں کو خبرداد کیا کہ وہ ’’ کانگرس کے سیکولرازم اور قوم پرستی کے لائے گئے برانڈ سے ہوشیار رہیں‘‘۔
قائد نے کشمیر میں دو ماہ اورایک ہفتہ قیام کیا جس سے ان کے کشمیر کے معاملات میں گہری دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے ۔ وہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے تھے ۔کشمیر میں ان کی موجودگی مسلم کانفرنس میں مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کا باعث بنی رہی اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی ۔قائد اعظم یقینِ اول کیساتھ کشمیر کو پاکستان کا ہی حصہ قرار دیتے تھے ۔ 17مئی1947کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ایک مکالمے میں انہوں نے پاکستان کے حروف میں لفظ ’’ک‘‘برائے کشمیر کہا۔قائد کے کشمیر کا پاکستان کا حصہ بننے کے یقین کی دوسری اہم وجہ یہاں کی مسلم آبادی کی اکثریت اور پنجاب سے متصل ہونا تھا جو مسلم آبادی کا صوبہ تھا۔ تیسری وجہ کشمیر کی معیشت کا دارومدار اور بیرون دنیا سے تجارت ان علاقوں سے ہو کر گزرنا جو پاکستانی ہیں ۔چوتھی وجہ پاکستان کی زرعی زندگی کا انحصار جن دریاؤں کے پانیوں پر ہے وہ ( چناب، جہلم اور دریائے سندھ) ہیں دریائے سندھ جو کہ1800میل ہے کا بیشتر حصہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسی طرح جہلم اور چناب کے پانیوں کا دارومدار ریاست کشمیر سے پگھلنے والی برف پر ہے ۔ٹرانسفر آف پاوران انڈیا میں درج ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے4اگست1947کو بھوپال اور الور کے راجاؤں کو بتا دیا تھا کہ گورداسپور کو مشرقی پنجاب میں شامل کرنے سے مہاراجہ کشمیر کے لیے بھارت کے ساتھ الحاق کو آسان بنایا جا سکتا ہے ۔ آخری وقت میں جب ریڈکلف کی طرف سے نقشوں میں تبدیلی کی گئی اور گورداسپور کی مسلم اکثریت والی دو تحصیلیں بھارت میں شامل کرنے کی سازش کا قائداعظم کو علم ہوا تو انہوں نے اسے ہندوؤں اور انگریزوں کی کارستانی اور تقسیم کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی و نا انصافی قرار دیا اور فوری طور پر محمد علی کو لارڈ اسماعیل جو کہ ریڈ کلف کا سیکر ٹری تھا کے دفتر روانہ کیا ۔ محمد علی نے تصدیق کی کہ واقعی کشمیر پر بھارتی قبضے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے ۔اس پر قائد نے کشمیر میں فوجی کارروائی کا حکم دیا جس پر انگریز کمانڈر ان چیف نے عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے میں انگریزوں نے بھی ہندوؤں جیسا ہی کردار ادا کیا ۔
مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے وہ پوری دنیا کی فوری توجہ کا مستحق ہے کیونکہ آگے چل کر اس کے اثرات بین الاقوامی برادری پر ہی مرتب ہوں گے۔ پاکستان روز اول سے جموں کشمیر کے عوام کے استصواب رائے کے ذریعے ان کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کاحق دینے کے مطالبہ پر قائم ہے جیسے اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا نے تسلیم کر رکھا ہے لیکن 70سال گزر جانے کے بعد باوجود بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکاہے اوربھارت کشمیری عوام پر جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کے لیے فوج کے بے دریغ استعمال سمیت ہر قسم کے غیر قانونی اور غیر انسانی حربے استعمال کررہا ہے اگر بھارتی دعوے کے مطابق واقعی جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو گزشتہ 70 برسوں سے آج تک کشمیری عوام نے اس بات کو کیوں تسلیم نہیں کیا؟ اورکیوں اپنی جانوں کے نذرانے دے رہیں ہیں؟بھارت کے دوسرے صوبوں یا ریاستوں میں ایسی صورت حال کیوں نہیں ہے۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ریاست کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا ہے اوراس کا طریقہ استصواب رائے ہی ہے جسے اقوام متحدہ نے خود بھارت کی پیش قدمی پر قبول کیا تھا۔ بد قسمتی سے اقوام متحدہ طویل عر صہ گزر جانے کے باوجود مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دلوا سکاجو کسی المیے سے کم نہیں ہے۔
کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کسی طاقت سے نہیں دبایاجا سکتا ہے۔ بھارتی مظالم اس تحریک میں نئی روح پھونکنے کا سبب بن رہے ہیں اور اس طرح جدوجہد آزادی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ حالیہ جدوجہد آزادی میں تیزی پر بھارت کی اس تشویش سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایک طرف پاکستان کو اہل کشمیر کی اخلاقی و سفارتی حمایت کا سلسلہ تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھارت کو اس مقام پر لے آئیں جہاں وہ تنازع کشمیر کو منصفانہ طورپر طے کرنے کیلئے آمادہ ہو جائے۔ دوسری جانب یہ ایک اچھا موقع ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر عالمی برادری کو بھرپور طریقے سے متوجہ کیاجائے۔ اس سلسلے میں اٹھاون مسلما ن ممالک کی اسلامی کانفرنس تنظیم کو بھی جگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر اپنا کردار ادا کرنے میں دلچسپی لے تو اس تنظیم کو فعال و مستعد کر کے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرائے ورنہ جنوبی ایشیا میں امنڈنے والے خطرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
jamalahmad50000@gmail.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے