Voice of Asia News

ویلنٹائن ڈے:تحریر: محمد قیصرچوہان

پروفیسرمنیر نے قیصر کو ڈانتے ہوئے کہا: تمہیں بہر صورت ویلنٹائن ڈے پر منعقد ہونے والی تقریب کی کمپئرنگ کرنا ہو گی‘‘۔۔۔ ’’لیکن لڑکی کے ساتھ۔۔۔ ’’بس کہہ دیا نا تمہیں کمپئرنگ کرنی ہے۔‘‘قیصر کا آخری احتجاج بھی پروفیسرمنیر کی ڈانٹ کے قدموں تلے دم توڑ گیا۔ وہ بے شک کالج کا سب سے ذہین طالب علم تھا فن تقریر و تحریر میں مہارت اُسے ہم مکتب دوستوں پر امتیاز بخشتی تھی لیکن اس کا شرمیلا پن اس وقت آڑے آرہا تھا جب اُسے اسٹیج پر کھڑے ہو کر کسی دوسرے کالج کی دوشیزہ کے ہمراہ بولنے کیلئے کہا جا رہا تھا۔۔۔! کتنا مشکل ہو گا اس نے سوچا اور آخری بار پروفیسرمنیر کی جانب دیکھا جو اُس کی ان نگاہوں میں چھپی التجا کو نظر انداز کر کے کلاس روم سے نکل گئے۔ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ میں صرف چھ دن باقی تھے اور اسے بھرپور طریقے سے تیاری کرنا تھی سب سے بڑھ کر خود کو کسی اجنبی لڑکی کے پہلو میں کھڑے ہونے کیلئے تیار کرنا تھا۔ یہ چھ دن اُس نے کتابی کیڑا بن کر گزارے اس دوران اُسے کہیں سے کوئی بھی اچھا جملہ، شعر یا کہاوت ملی، لکھ لی۔ تیرہ فروری کی رات اُس نے تقریباً جاگ کر گزاری لمحہ بھر کو آنکھ لگی بھی تو ساتھی کمپئر کا خیال اُسے یوں ڈرا دیتا جیسے کسی بچے کو اندھیرا۔ وہ تمام شب دُعا مانگتا رہا کہ موسم ایک دم بگڑ جائے مگر چودہ فروری کا سورج اُس کیلئے ایک نئی آزمائش لے کر زمین کی گود سے سر اٹھا رہا تھا۔ قیصر نے طلوع ہوتے سورج کے گہرے سرخ گالوں کو دیکھتے ہوئے کہا کہ کاش آج بارش ہو جاتی، آندھی آجاتی، کالج کے میدان میں لگے سب شامیانے اکھڑ جاتے۔ لیکن سورج کو دیکھتے ہی کاش، کاش ہی رہ گیا۔ جو حقیت تھی وہ اُس کے سامنے چمک رہی تھی اور جو سچ نہیں تھا وہ کل تک محض اس کے تصورات ہی میں تھا اور اب تو دم بھی توڑ چکا تھا۔ بادل نخواستہ نہا دھو کر کھانا کھایا، کپڑے تبدیل کیے۔ وہ سیاہ رنگ کی پینٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ میں خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ اپنی فائل سینے سے لگائے سہما سہما سا اور اُسی راہ پر چل نکلا جس پر وہ ہر روز خوشی خوشی جاتا تھا۔ تمام رستے یہی سوچتا رہا کہ کیا دوسرے کالج کی لڑکی کے ساتھ وہ کمپئرنگ کر بھی پائے گا۔ لڑکی بھی ایسی جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اور پھر ریہرسل کیلئے صرف ایک گھنٹہ۔۔۔ اُسے کالج انتظامیہ پر خوب غصہ آیا لیکن حوصلہ نہ ہارا خود ہی اپنے آپ کو تسلیاں دیتا رہا، کالج کا مرکزی گیٹ عبور کرتے ہی اس نے پروفیسرمنیر جو پروگرام ڈائریکٹر بھی تھے کو اپنا منتظر پایا۔ چلو قیصر جلدی سے آجاؤ میں تمہیں سکرپٹ سمجھا دوں۔ انہوں نے اُسے اپنے ساتھ لیتے ہوئے کہا۔ پنڈال میں ابھی کوئی نہیں تھا کرسیاں خالی تھیں اور سامنے اسٹیج تھا جسے نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھابیک گراؤنڈ میں بڑا سا بینر جس پر خوبصورت سرخ گلاب پینٹ تھا جس کے نیچے درج تھا۔۔۔ ’’محبت محبت اور محبت۔‘‘ اسٹیج کے دائیں کونے پر ڈائس پر دو مائیک لگاے گئے تھے۔ یہی وہ سولی تھی جس پر دو گھنٹے کے بعد قیصر کو چڑھنا تھا۔ ابھی کچھ ہی لمحات گزرے ہونگے کہ فضاء کو ایک خوبصورت آواز نے معطر کر دیا۔
السلام علیکم! پروفیسرمنیر نے مڑ کر دیکھتے ہوئے سلام کا جواب دینے کے بجائے تقریباً ڈانٹ کے لہجے میں کہا ’’اتنالیٹ۔۔۔ جانتی ہو کیا وقت ہو رہا ہے‘‘ سوری سر نسوانی آواز ایک بار پھر ابھری۔ او لڑکے ذرا جلدی سے آؤ پروفیسرمنیر نے قیصر کو تحکمانہ انداز میں بلایا۔ جونہی قیصر نے مڑ کر دیکھا تو اُس کے سامنے پروفیسرمنیر کے ہمراہ ایک نازک خوبصورت لڑکی کھڑی تھی۔ جو گہرے سیاہ رنگ لباس میں وہ کوئی اپسراء معلوم ہورہی تھی۔وہ اُسے دیکھتا چلا گیا اُس نے پہلے کسی لڑکی کو اتنا خوبصورت نہیں دیکھا تھا یا پھر یوں نہیں دیکھا تھا۔ ’’جی سر‘‘ اس نے پروفیسر کے قریب آتے ہوئے کہا۔ ’’مسٹر یہ راحیلہ ہیں۔اسلام آباد ڈگری کالج میں فورتھ ایئر کی طالبہ ہیں اور راحیلہ‘‘ اس سے پہلے کہ پروفیسرمنیر کچھ کہتے وہ بول پڑی ’’قیصر ہیں ناں جو میرے دو گھنٹے کیلئے ہمسفر ہونگے۔‘‘ جی ہاں یہی قیصر ہے اور چلو جلدی سے پروگرام کے حوالے سے آپس میں گپ شپ کر لو اور یہ پھر وہ لسٹ جس میں پروگرام کے فنکاروں کے نام درج ہیں۔ پروفیسر نے ایک کاغذ کا ٹکڑا قیصر کو تھماتے ہوئے کہا۔ ’’آئیے قیصر کہیں الگ بیٹھتے ہیں‘‘ راحیلہ نے اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولی۔ قیصر نے پہلی بار لڑکی پر بھرپور نظر ڈالی۔ سیاہ زلفوں کے سائے تلے چاند چہرہ خوبصورت پیشانی جھیل سی گہری آنکھیں کھنچے کھنچے ابرو اور پیاری پیاری پلکیں، گلابی رخسار، جنہیں ہوا کے جھونکے چھو جائیں تو معطر ہوں۔ گلاب کی پنکھڑیوں سے ہونٹ جنہیں تتلیاں اگر دیکھ لیں تو پھولوں کو چھوڑ کر ان پر آبیٹھیں، لمبی سی بے داغ گردن۔ پتلی کمر اور بھرا بھرا سا جسم ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے قدرت نے کئی سیاہ فارم بنانے کے بعد اس وجود کو تخلیق کیا ہو۔ وہ اجنتا کی مورتی دکھائی دے رہی تھی لیکن مورتی وہ جو باتیں کرتی ہے اور باتیں بھی ایسی جو بے جان جذبوں کو نئی زندگی کی تازگی دیں۔ قیصر ابھی اس کے سراپے میں محو تھا کہ وہ بولی ’’کہاں کھو گئے مسٹر قیصر‘‘ ۔۔۔ کک کک کہیں بھی تو نہیں۔ تو پھر یوں کیا دیکھ رہے ہو۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ گارڈن میں چلتے ہیں دونوں کالج کے باغیچے کی طرف چلے گئے۔ قیصر حیران تھا کہ کوئی لڑکی اتنی خوبصورت بھی ہو سکتی ہے شاید یہ وہ آخری پری ہے جو واپس پرستان نہ جا سکی۔ خیر جو بھی ہے بڑی خوبصورت ہے۔ دونوں باغیچے میں جا پہنچے سورج اب ذرا اوپر آچکا تھا دھوپ بھلی بھلی سی لگ رہی تھی بالکل ایسے ہی جیسے اُسے راحیلہ دونوں بنچ پر بیٹھ گئے۔ ’’قیصر کیسی تیاری ہے آپ کی تقریب کیلئے‘‘ راحیلہ نے دلکش لہجے میں پوچھا۔’’بس کوئی خاص نہیں‘‘ کیا مطلب آپ نے کوئی تیاری نہیں کی۔ دکھاؤ تو لسٹ اس نے پروفیسرمنیر کا دیا ہوا صفحہ تقریباً چھینتے ہوئے کہا اس چھیننے میں راحیلہ کا بڑھا ہوا ناخن قیصر کے ہاتھ کی پشت کو چیر گیا۔ قیصر کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اس نے جلدی سے زخم کواپنے دوسرے ہاتھ سے دباتے ہوئے کہا ’’کیسی لڑکی ہو تم اتنے بڑے ناخن؟‘‘ سوری قیصر میں نے جان بوجھ کر تو نہیں کیا نا، اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی جسے دیکھ کر قیصر کو اس پر ترس سا آگیا۔ اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا ’’تمہاری کیسی تیاری ہے‘‘ بس ٹھیک ہے لیکن میں تو تمہارے آسرے پر آئی تھی کہ تم اپنے کالج کے اچھے مقرر ہو میری مدد کرو گے لیکن تم توبہت مختلف نکلے اتنے خشک مزاج۔ اتنا خشک مزاج بھی کوئی ہوتا ہے کب سے میں باتیں کیے جا رہی ہوں اور تم ہو کہ بت بنے بیٹھے ہو بارہ جملوں کے جواب میں صرف تین جملے اور وہ بھی بے معنی ،راحیلہ جیسے پھٹ پڑی۔قیصر نے اُس کو ایک بار پھر غور سے دیکھا اور راحیلہ کی گہری آنکھوں میں ڈوبتاچلا گیا جانے کتنی گہری آنکھیں تھیں کہ وہ کسی بھاری پتھر کی طرح ڈوبتا ہی گیا۔ ’’کیا سوچ رہے ہو‘‘ اسے راحیلہ کی آواز نے چونکا دیا‘‘ کچھ بھی تو نہیں یہ بتاؤ اسٹیج پر کیا بولوگی‘‘ قیصر نے پوچھا وہی جو منہ میں آئے گا وہ مسکرائی، تھوڑے وقفے کے بعد راحیلہ نے پوچھا ’’قیصر محبت کے بارے میں کیا جانتے ہو۔ محبت۔۔۔محبت کے بارے میں یہی جانتا ہوں کہ یہ فضول لوگوں کا شغل ہے جو وقت ضائع کرتے ہیں تو خود بھی رسوا کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں تم کہو‘‘ ۔۔۔ ’’میرے خیال میں تو محبت نہ کرنے والے فضول ہوتے ہیں جو اپنے وقت کو محبت کا پہناوا نہیں پہنا سکتے وہ بے وقوف احمق ہوتے ہیں‘‘ راحیلہ نے جواباً کہا۔ قیصر نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا اور بولا’’محترمہ پروگرام کا وقت ہونے کو ہے صرف یہ یاد رکھو کہ اسٹیج پر میری بات کو مکمل ہونے دوگی پھر بولو گی اسی طرح میں بھی تمہاری بات سنوں گا تو ہی بات کروں گا۔ باقی ہم بیک اسٹیج پر طے کر لیں گے‘‘ وہ باتیں کرتے ہوئے ہال کی طرف چل دیئے جہاں فنکاروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ ہال میں بچھی کرسیوں پر لوگ آن بیٹھے تھے اور اسٹیج کے ایک طرف بیٹھے میوزیشن تیاریاں تقریباً مکمل کر چکے تھے دونو ں بیک اسٹیج پر اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں میوزیشن حضرات نے وائلن پر دھن بجانی شروع کی ’’جلے تو جلاؤ گوری۔‘‘
دھن کے ساتھ ساتھ قیصر کی نگاہیں بھی جھوم رہی تھیں اور کبھی راحیلہ کے چہرے پر پھسلتی اور کبھی اس کے سراپے پر جا ٹھہرتیں وہ قدرت کے شاہکار کو دیکھتا رہا اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی آنکھیں صحرا ہیں اور راحیلہ کا حسین مکھڑا بادل کا ٹکڑا، دید کی جتنی بارش برسے گی اس صحرا کی پیاس بڑھتی جائے گی۔حسن کی دیوی کے سامنے جوگی کی طرح بیٹھے قیصر کو پروفیسرمنیر کی آواز نے چونکا دیا اُسے پروفیسر پر بہت غصہ آیا بالکل ایسے ہی جیسے کسی کی شب بھر کی عبادت محض اس لیے رائیگاں چلی جائے کہ لمحہ بھر کو اس کی توجہ بٹ جائے۔ پروفیسرمنیر کہہ رہے تھے’’ چلو بھئی اسٹیج پر تقریب کا آغاز کرو۔‘‘ راحیلہ نے قیصر کو مخاطب ہوتے ہوئے بالکل یوں اپنے ہمراہ آنے کیلئے کہا جیسے وہ اسٹیج پر دو گھنٹے نہیں بلکہ دو جنموں کیلئے اُس کی ساتھی بن گئی ہو۔ اسٹیج پر جاتے ہی حاضرین نے ان کا خوب تالیوں سے استقبال کیا۔ پہلے قیصر حاضرین سے مخاطب ہوا۔ ’’اچھے سننے والو! آج محبت کا دن ہے، جی ہاں محبت کا دن نفرتوں کو مٹا دینے کا دن۔ اپنے ہی وجود میں سے ایک نیا وجود تلاش کرنے کا دن اور پھر اُس وجود کی انگلی تھام کر چاہت کے راستوں پر چلنے کا تہیہ کرنے کا دن‘‘ وہ لمحے بھر کیلئے خاموش ہوا تو راحیلہ پہلی بار بولی۔ ’’اچھے دوستو! محبت وہ معجزہ ہے جو خدا نے ہم سب کو عنایت کیا ہے اس سے ہم نا صرف پوری کائنات کو تسخیر کر سکتے ہیں بلکہ اس معجزے سے ہم ایسے دلوں کو بھی زندہ کر سکتے ہیں جنہیں زمانے بھر کی اداسیوں نے مردہ کر کے رکھ دیا ہو اس محبت کا پیغام گیت کی صورت میں لے کر آرہے ہیں۔ ماڈرن کالج کے فورتھ ایئر کے طالبعلم امتیاز۔‘‘ یہ دعوت دینے کے بعد دونوں بیک اسٹیج پر آگئے۔امتیاز نے آلاپ کے بعد مہدی حسن کی غزل ’’زندگی میں تو سبھی پیار کیاکرتے ہیں۔‘‘ گانا شروع کیا خوبصورت لہجے اور آواز کا قیصر پر جادو کی طرح اثر ہو رہا تھا اس وقت قیصر پروگرام کو بھول کر صرف راحیلہ کو دیکھے جا رہا تھا اس کی نظریں راحیلہ کے رخساروں پر یوں سجدہ ریز تھیں جیسے کوئی نمازی صدیوں سے قضا نمازیں ایک ہی بار میں پڑھنے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہو۔ نظروں کی اس چوٹ کو راحیلہ نے بھی محسوس کیاوہ عورت تھی اور عورت مرد کی آنکھوں میں جھانک کر دل کا حال جان لیتی ہے راحیلہ سب جان کر بھی انجان بنی ہوئی تھی شاید وہ چاہتی تھی کہ قیصر اسے یو نہی دیکھتا رہے اور ایک ایک لمحے میں صدیاں گزریں۔ لیکن وقت کس کے اختیار میں ہوتا ہے غزل ختم ہو چکی تھی اور دونوں کو ایک بار پھر اسٹیج پر جانا تھا۔ مائیک کے سامنے آکر راحیلہ بولی۔ ’’محبت وہ بینائی ہے جیسے پالینے سے نابینا بھی بینا ہو جاتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج کے معاشرے کے اکثر لوگ بینا ہونے کے باوجود نابینا ہیں’’ قیصر بولا‘‘خدا کو صرف لوگوں سے محبت کر کے ہی پہچانا جا سکتا ہے کیونکہ خدا محبت ہی کا دوسرا نام ہے اگر اس میں رتی برابر بھی ملاوٹ آجائے تو وہ عبادت جس میں چاہے صدیاں لگی ہوں شرک کہلاتی ہے۔ ’’راحیلہ نے یہ سنتے ہی کہا کہ اب آپ کے سامنے گیت لے کر آئیں گی نمرہ۔نمرہ کے آتے ہی دونوں واپس آگئے۔ ہال میں خوبصورت آواز گونجی ’’میرا دل بھی کتنا پاگل ہے جو پیار تمہی سے کرتا ہے‘‘ ادھر قیصر پر دیوانگی طاری تھی ہر گیت اس کے اندر محبت کے جذبات کو بیدار کئے جا رہا تھا اس کی نگاہیں راحیلہ کے دلکش پاؤں پر تھیں جو خوبصورت مہندی سے سجے ہوئے تھے اُس نے دل ہی دل میں سوچا کہ کاش وہ راحیلہ کے راستے میں پڑی دھول ہوتا اس بہانے سے کبھی کبھار اس کے ہونٹ اِن خوبصورت پاؤں کو بوسے تو دے لیتے راحیلہ کے پاؤں کی پتلی پتلی سی انگلیاں اُسے زندگی کا حاصل معلوم ہو رہی تھیں وہ راحیلہ کے حسن میں محو تھا جبکہ راحیلہ اگلی اناؤنسمنٹ کے بارے میں سوچ رہی تھی پروگرام چلتا رہا دونوں وقتاً فوقتاً اسٹیج پر جاتے اور فنکاروں کو دعوت دیتے لیکن اس سارے معاملے میں راحیلہ چھائی رہی اسٹیج پر بھی اور دل پر بھی۔قیصردل ہار چکا تھا وہ جان گیا تھا کہ یہ محبت ہے لیکن کہہ نہیں سکتا تھا، کیونکہ یہ اس کی پہلی محبت تھی اور پہلی محبت کا اظہار ہو یا پہلی محبت سے جدائی کا لمحہ دونوں پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہوتے ہیں پروگرام ختم ہونے کو تھا آخری گیت چل رہا تھا۔‘‘ آنکھوں کے ساگر، ہونٹوں کے ساغر لے ڈوبے ہمیں‘‘ اورسچی بات یہی تھی کہ وہ ڈوب چکا تھا راحیلہ کی آنکھوں میں۔ اب اُسے دنیا کی کوئی طاقت اس بھنور سے نہیں نکال سکتی تھی راحیلہ کے ہونٹوں کے ساغروں نے اُس کو یوں مدہوش کر کے رکھ دیا تھا کہ اُسے اپنے اردگرد تک کے ماحول کا علم نہ رہا تھا، سب سے بیگانہ ہو کر صرف اُن لفظوں کی تلاش میں تھا کہ وہ راحیلہ کو کیسے کہہ دے کہ وہ اُسے اپنے دل کے مندر میں مورتی کی طرح سجا چکا ہے پروگرام ختم ہوچکاتھا قیصر نے راحیلہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ’’تم جا رہی ہو؟‘‘ نہیں تو یہاں دیر تک میری یادیں رہیں گی اور جب تک میری یادیں زندہ رہیں میرا وجود بھی یہیں پر رہے گا۔ وہ راحیلہ سے کہہ دینا چاہتا تھا کہ ان دو گھنٹوں میں اس کی زندگی بدل چکی ہے لیکن یہ کہنا کتنا مشکل تھا۔ پھر اُس نے سوچا ویلنٹائن ڈے کی تقریب ہے راحیلہ کو سرخ گلاب کا پھول ہی دیا جائے، وہ سب سمجھ جائے گی راحیلہ اپنے کالج کے ساتھیوں کی طرف جا چکی تھی جو اُسے خوب داد دے رہے تھے، وہ باغیچے کی طرف دوڑا۔ باغیچے میں جا کر گلاب کا خوبصورت پھول توڑنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اُسے اپنے ہاتھ کی پشت پر آئی خراش کا دھیان آیا اُس نے مسکرا کر اپنے ہاتھ پر کھینچی اس تازہ لکیر کو چوم لیا اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی تقدیر کی لکیر ہتھیلی کی بجائے ہتھیلی کی پشت پر بن گئی ہو۔ اس نے گلاب کی شاخ سے پھول توڑا اور جلدی سے ہال کی طرف دوڑا جہاں پر سب لوگ موجود تھے۔ ہال کے اندر آتے ہی اس کی نگاہیں راحیلہ کو تلاش کرنے لگیں آخر ایک کونے میں کھڑی وہ پری زاد دکھائی دی اُس کے ہمراہ ایک خوبصورت نوجوان بھی تھا جو کسی صورت بھی کسی شہزادے سے کم نہ تھا۔قیصر راحیلہ کی طرف بڑھا جو اُس نوجوان سے مسکراتے ہوئے باتیں کر رہی تھی قیصر راحیلہ کے بہت قریب پہنچ چکا تھا اب وہ دونوں کی باتیں سن بھی سکتا تھا، لیکن یہ کیا اُس نوجوان نے گلاب کا پھول راحیلہ کی طرف بڑھایا جسے راحیلہ نے محبت کے ساتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے لمحہ بھر کیلئے پھول اور ہونٹوں میں فرق مٹ گیا، بہت شکریہ جمال آپ نے دوستی کا حق ادا کر دیا راحیلہ نے اس نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ قیصر دونوں کو دیکھ رہا تھا جیسے اُس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہو ایک ایسے جواری کی طرح جس نے کچھ ہی لمحے پہلے سب کچھ جیت کر سب ہار دیا ہو۔ اُس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پھول مٹھی میں دبا کر مسل دیا۔ راحیلہ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولی ’’آؤ قیصر ان سے ملو یہ میرے سب سے پیارے دوست جمال ہیں اورجمال یہ ہیں قیصر جن کا ابھی میں نے تم سے ذکر کیا تھا۔‘‘ قیصر کیلئے یہاں ٹھہرنا عذاب سے کم نہ تھا وہ اپنی آنکھوں میں حسرت لیے پلٹا۔ ایک آنسو اس کی پلکوں کو چھوتا گال پر بہتا زمین میں کہیں جذب ہو گیا ،آج قدرت نے اُسے جتنی خوشیاں دی تھیں اتنے ہی غم دے دیئے تھے۔ اُس نے سوچا پھولوں کی طرح خوشیوں کی عمر بھی کتنی کم ہوتی ہے مرجھا جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ قیصر ہال کے دروازے سے نکل جاتا راحیلہ نے اُسے پیچھے سے جا لیا اور بولی ’’ارے میاں کدھر کو جاتے ہو، ٹھہرو تو ذرا۔‘‘ قیصر نے بمشکل اپنی آنکھ کے آنسو چھپاتے ہوئے کہا ’’دل کا ضدی بچہ جس گڑیا کو خرید کے دینے کیلئے ضد کر رہا ہے اُسے کوئی اورخرید چکا ہے۔ اسے بہلانے جا رہا ہوں۔‘‘راحیلہ یہ سن کر مسکرائی اور بولی ’’دیر کر دینے سے اکثر نقصان ہوتا ہے آپ کے دل کے ضدی بچے کو اُسی وقت اُس گڑیا کی قیمت ادا کر دینا چاہیے تھی جب پسند آئی تھی لیکن کیا کریں اس کم بخت بچے کا جس نے مول بھی نہیں لگایا اور قیمت بھی مسل کر زمین میں پھینک دی۔‘‘ ’’کیا مطلب جمال میرا اچھا دوست ہے یہ بھی درست ہے کہ یہ پھول میرے کہنے پر اُسی نے مجھے دیا ہے لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ یہ پھول کس لیے دیا ہے۔‘‘ کس لیے دیا ہے؟ قیصر نے حیرانگی سے پوچھا ’’تمہارے لیے۔‘‘ راحیلہ بولی ’’کیا؟‘‘ اُسے یقین نہ آیا۔ ’’ہا مسٹر قیصر میں سب جان گئی ہوں تمہاری نگاہوں میں چھپے سوال اور تمہارے دل کی بات یہ اُنہی سوالوں کا جواب ہے میں جانتی تھی کہ تم سے یہ نہیں ہو پائے گا اسی لیے میں نے جمال سے پھول منگوایا لیکن تم نے غلط اندازہ کر لیا۔‘‘ قیصر نے اپنی آنکھوں کی نمی پونچھتے ہوئے راحیلہ سے پھول لے لیا اور مسکرا کر کہا ’’محبت کا دن زندہ باد۔‘‘
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے