Voice of Asia News

جادو ایک شیطانی عمل:تحریر : محمد قیصر چوہان

جادو ایک قدیم ترین علم ہے جسے صدیوں سے انسان سیکھتا چلا آرہا ہے۔ لفظ جادو کو بہت سے معنوں میں لیا جاتا ہے۔مثلاً ٹونہ ’’سحر‘‘، منتر، جنتر، پراسرار اشاروں اور علامات کا استعمال کرنا تاکہ چڑیلوں اور بد روحوں کو بلایایا بھگایا جا سکے۔ جادو ہزاروں سال قدیم علم ہے جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، شرک، کفر، برائی اور گناہ پر رکھی گئی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موت، بیماری، زہر، جراثیم اور بہت سے کبیرہ و صغیرہ گناہ تخلیق کئے ہیں اسی طرح ان میں ایک جادو بھی ہے۔ چونکہ جادو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اثر کرتا ہے جس طرح دو ا اپنا اثر مریض پر مرتب کرتی ہے جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ جس طرح آگ جلاتی ہے، کینسر سے انسان سے مر جاتا ہے۔ دل کا دورہ پڑ جاتا ہے، اسی طرح جادو کے ذریعے انسان متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس امر کے واقعہ ہونے کو تسلیم کر لینا چاہیے۔
جادو دنیا کی سب سے موثر قوت ہے جو غائبانہ بلاتجدید زمان و مکان انسانی مزاج اور جسم بلکہ زندگی پر کامل دسترس رکھتی ہے۔ یعنی جادو کے زیر اثر انسان کی بسا اوقات موت واقع ہو جاتی ہے۔ جادو کے لیے عربی زبان میں لفظ ’’سحر‘‘ استعمال ہوا ہے۔ سحر وہ عمل ہے جس میں پہلے شیطان کا قرب حاصل کیا جاتا ہے اور پھر اس سے مدد لی جاتی ہے۔ سحر دراصل کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پھیر دینے کا نام ہے۔ ساحر (جادوگر) جب باطل کو حق بنا کر پیش کرتا ہے اور کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پلٹ کر سامنے لاتا ہے تو گویا وہ اسے دینی حقیقت سے پھیر دیتا ہے۔ سحر تفریق کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، مثلاً بیماری میں مبتلا کرنا، مار ڈالنا، رشتے داروں میں پھوٹ ڈلوانا، مالی حالت برباد کر دینا، ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا، باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا، دو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا، دو شریکوں میں جدائی ڈالنا، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا اور یہ آخری شکل زیادہ عام ہے اور سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
جادو کے قدیم ترین شواہد زمانہ قبل از تاریخ میں بھی ملتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی علم ہے۔ پرانے زمانے کے بادشاہ جادوگروں کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اپنی رسالت کے ثبوت کے طور پریدبیضا اور لاٹھی کے معجزے پیش کئے تو فرعون پکارا اٹھا کہ یہ تو جادو ہے۔ کئی دن فرعون اور حضر ت موسیٰ علیہ السلام میں تبادلہ خیال ہوتا رہا آخر کار فرعون نے فیصلہ کیا کہ ان کا جادوگروں سے مقابلہ کرایا جائے۔ قرآن پاک نے اس مقابلے کو متعدد مقامات پر بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔
ترجمہ: موسیٰ علیہ السلام نے کہا ’’اے فرعون‘‘ میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں، میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں۔ میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔ فرعون نے کہا ’’اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے اسے پیش کر۔ ’’موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتاجاگتا اژدھا تھا۔ اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا، یقیناًیہ شخص بڑا جادو گر ہے۔ چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ انہوں نے کہا، اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟ فرعون نے جواب دیا، ہاں اور تم مقرب بارگاہوں گے۔ پھر انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا ’’تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں‘‘؟ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا’’ تم ہی پھینکو۔‘‘ انہوں نے جو اپنے آنچھ پر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلو ں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑی ہی زبردست جادو بنا لائے۔ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اشارہ کیا کہ پھینکے اپنا عصا۔ ان کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔ (سورۃ الاعراف)
جادو کا علم حقیقت میں موجود ہے۔ جادو کی طاقت کا انحصار جادوگر عامل کی طاقت پر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالا علم کیا ہے؟ کالے علم کا رنگ کالا نہیں ہوتا، بلکہ کالا کہتے ہیں ظلمت، گھپ اندھیرا، کفر، شرک اور اللہ کی ذات کو چھوڑ کر غیراللہ کی مد د کو پکارنا، دراصل کالا علم اور جادو ایک ہی بات ہے۔ جادو ایک علم کے پاس اپنی حاجات لے کر جانے والے اور پھر ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے والے اپنے آپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں۔
جو لوگ جادو کے علم کا انکار کرتے ہیں انہیں شاید قرآن مجید میں موجود بے شمار واقعات کا علم نہیں، جیسا کہ قصہ ہاروت و ماروت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے جادوگروں کا مقابلہ۔شریر جنات اور شیاطین کے تعاون کے بغیر یہ عامل، جادو گر کوئی کارروائی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ جنات ان سے تعاون کرنے کیلئے اس وقت تک تیار نہیں ہوتے جب تک ان سے کفر یہ اور شرکیہ کام نہیں کروا لیتے۔ چنانچہ انہیں جات کو تابع فرمان بنانے کے لیے اپنے ایمان کا سودا کرنا پڑتا ہے۔ جادو گر شیاطین کو راضی کرنے کیلئے ایسے منتر اور کلمات ادا کرتے ہیں جن میں کفر و شرک ہوتا ہے۔ شیاطین کی تعریف کی جاتی ہے کوا کب و نجول کی عبادت کی جاتی ہے۔ جادو گر ہر وہ کام کرتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے اور شیاطین خوش ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ عام طور پر گندے اور ناپاک رہتے ہیں۔ دراصل جادو، جادوگر اور شیاطین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے ا نام ہے۔ شیاطین کو راضی کرنے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کیلئے جادو گروں کے مختلف شیطانی اعمال اور ناپاک وسائل ہیں۔ کچھ ہمیشہ ناپاک رہتے ہیں اور کچھ جادوگروں کو شیاطین کے لیے جانور ذبح کرنے پڑتے ہیں وہ بھی بسم اللہ پڑھے بغیر اور ذبح شدہ جانور کو ایسی جگہ پھینکنا پڑتا ہے جسے شیاطین خود طے کرتے ہیں۔ بعض جادو گر ستاروں کو سجدہ کرتے ہیں اور ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیاطین جادوگروں سے پہلے کوئی حرام کام کرواتے ہیں پھر اس کی مدد اورخدمت کرتے ہیں۔
اسی لیے کہا گیا ہے کہ جادو گر نجاست کا پلند ہ ہوتا ہے۔ جب تک وہ گندہ نہیں ہو گا اس وقت تک اس کا جادو اثر انداز نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ جتنازیادہ عقیدہ اس کا غلط ہو گا، کفر زیادہ ہو گا، اتنا اس کا جادو موثر ہو گا اور جتنی اس کی گندی حالت ہو اس کا جادو تیز ہو گا، کیونکہ جادو شیطانیت اور شرارت کا اثر ہے جس وقت اس کی شرارت عروج کو پہنچے گی اتنا ہی اس کاجادو بھی تیز ہو گا۔
جن شیطان اور جادو کے درمیان بہت گہرا تعلق ہوتا ہے بلکہ جادو کی بنیاد ہی جنات اور شیاطین ہیں۔ جس طرح کچھ لوگ جادو کا انکار کرتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ جنات کے وجود سے بھی انکار کرتے ہیں قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں: اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا جنوں پر حکومت کرنے کا ذکر تفصیل سے آیا ہے۔ قرآن مجید کی ایک مکمل سورت ’’سورۃالجن‘‘ میں بھی جنات سے متعلق بیان ملتا ہے۔قرآن و سنت کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جنات انسانوں کے جسم میں بھی داخل ہوتے ہیں۔ جنات مختلف انسانوں اور جانوروں کا روپ دھار کر انسانوں کے سامنے آتے ہیں۔ جانوروں کی شکل میں اکثر کالی بلی، بکرے کا بچہ، سیاہ کتا، بطخ، بچوں کو لے کر پھرنے والی مرغی، بھینس، لومڑی، انسانوں کی شکل میں، معمولی قد کے آدمی، بونے، بڑے لمبے قد کے آدمی، بڑے بڑے میناروں اور کھمبوں کی طرح دراز قد نظر آتے ہیں۔ بعض لوگوں کو چھوٹے بچوں کی شکل میں بھی نظر آتے ہیں۔ قرآن مجید میں جادوکی تعلیم کو کفر اور جادو سیکھنے کو حرار قرار دیا گیا ہے۔ اسے فتنا قرار دیاگیا ہے۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں جبکہ انسان مریخ سے بھی آگے جانے کی سوچ رہا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک گاؤں کی مانند کمپیوٹر سکرین پر لا کر رکھ دیا ہے، مگر جدید علوم کے ساتھ آج بھی قدیم علوم اتنی ہی قدر رکھتے ہیں جتنی اپنے دور میں رکھتے تھے۔ دینی اور روحانی علوم میں پوری قدرت رکھنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔ سفلی یا کالا جادو عام طورپر بعض دین سے گمراہ مرد یا عورتیں ’’اپنوں‘‘ کو قابو کرنے یا انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے کرواتے ہیں۔مگر بعد میں جب یہی کالے علم کے شکار ’’مریض‘‘ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک اور پرہیز گار بندے کے پاس پہنچتے ہیں تو وہ اُس شیطانی کالے علم کے اثرات کو ’’مریض‘‘ پر سے بالکل ایسے صاف کر دیتے ہیں، جیسے کوئی مکڑی کاجالا صاف کردے۔یہ حقیقت ہے کہ کالا جادو کیسی ہی خوف ناک تباہی کیوں نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نیک اور پرہیز گار بندے قرآن مجید کی مدد سے ’’کالے جادو‘‘ کو ختم کر دیتے ہیں۔ بے شک اللہ کا علم ہی حق اور طاقت ور ترین ہے اور شیطانی علم (کالا جادو) بہرحال ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ باطل ہے۔اللہ تعالیٰ کے نیک اور پرہیز گار بندے صوفیائے کرام گلستان اسلام کے وہ مہکتے پھول ہیں جنہوں نے ہر سو محبت کی خوشبوئیں بکھیریں، یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے امن کے دیپ چلائے اور قرآن و سنت کے ذریعے اسلام کا علم بلند کیا۔ تصوف کی راہ وہی شخص پا سکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں سنت مصطفیؓ ہو اور وہ ان دونوں شمعوں کی روشنی میں قدم بڑھاتا جائے ،صوفیاء کرام علوم قرآن،فقہ، حدیث اور تفسیر میں امام ہوا کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نام مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں رہنے والے محترم جناب سید اسد شاہ صاحب کا بھی ہے جو قرآن و سنت کے روشن راستے پر چلتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں جدید دورکے سب سے بڑے فتنے ’’کالے جادو‘‘ کے سحر میں مبتلا لوگوں کو اس لعنت سے فی سبیل اللہ نجات دلانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ محترم جناب سید اسد شاہ صاحب اب تک 20 لاکھ سے ذائد لوگوں کو فی سبیل اللہ ’’کالے جادو‘‘ کے سحر سے نجات دلا چکے ہیں۔ محترم جناب سید اسد شاہ صاحب پاکستانی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت اور عمر دراز فرمائے۔ ان کو صحت و تندرستی دے اور ان کا سایہ تادیر مصیبت زدہ لوگوں کے سرپر قائم و دائم رکھے۔(آمین)
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے