Voice of Asia News

کافی پینے سےشریانوں میں پیدا ہونے والی ایسی رکاوٹوں سے بچا جا سکتا

لاہور(وائس آف ایشیا)کافی پینے سے دل کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس پر باہم مخالف خیالات ظاہر کیے جاتے ہیں جنوبی کوریا کے محققین کا خیال ہے کہ دن میں چند پیالی کافی پینے سےشریانوں میں پیدا ہونے والی ایسی رکاوٹوں سے بچا جا سکتا ہے جو کہ دل کی بیماریوں کی اہم وجہ ہیں۔انھوں نے25 ہزار ایسے مرد اور خواتین ملازموں کا مطالعہ کیا جو اپنے دفاتر میں مستقل طور پر طبی معائنہ کرواتے ہیں۔اس تحقیق میں یہ پایا گیا کہ جو لوگ دن میں معتدل مقدار میں یعنی تین سے پانچ پیالی کافی پیتے تھے ان میں دل کی بیماری کا ابتدائی رجحان کم پایا گیا۔اس دریافت نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کردیا ہے کہ آیا کافی دل کے لیے بہتر ہے؟بہر حال جب دل کی صحت پر کافی کے اثرات کی بات ہوتی ہے تو اس معاملے میں بہت پیچیدگیاں ہیں۔بعض مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ کافی پینے سے دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جیسے کہ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ دوسرے بعض مطالعے میں کہا گیا ہے کہ اس مشروب سے دل کی حفاظت ہو سکتی ہے۔
دل کی صحت کے لیے صاف و شفاف شرائین کا اہم کردار ہےلیکن ان کے حق میں کوئی فیصل شواہد نہیں ہیں اور ہارٹ نامی جرنل میں شائع ہونے والی جنوبی کوریا کی اس تحقیق سے اس بحث میں اضافہ ہی ہوا ہے۔اس مطالعے میں تحقیق کرنے والوں نے دل کی صحت کا تجزیہ کرنے کے لیے طبی سکین کا سہارا لیا۔ انھوں نے اس میں دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں کا بغور مطالعہ کیا۔دل کی شریانوں کے متعلق بیماری میں عام طور پر رفتہ رفتہ رگ و ریشے پر چربی چھانے لگتی ہے اور اس سے خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔سکین میں محققوں نے دل کے قریب کی شریانوں کی دیواروں پر کیلشیم کے معمولی سے بھی جمنے کا مطالعہ کیا تاکہ بیماری کے ابتدائی رجحان کی نشاندہی کی جا سکے۔جن لوگوں کے طبی معائنے کا مطالعہ کیا گیا ان میں سے کسی کو بھی دل کا کوئی عارضہ نہیں تھا لیکن دس میں سے ایک کے سکین میں یہ پایا گیا کہ ان میں واضح طور پر کیلشیئم اکٹھا ہو رہا ہے۔
امریکہ میں 400 ملی گرام کافی کو دل کے لیے محفوظ تصور کیا جاتا ہے
اس کے بعد ان لوگوں نے اس کا موازنہ لوگوں کی کافی پینے کی عادت سے کیا اور دوسرے عوامل جیسے سگریٹ نوشی، ورزش اور خاندانی طور پر دل کی بیماری کا بھی خیال رکھا۔انھوں نے پایا کہ جو لوگ دن بھر میں چند پیالی کافی پیتے تھے ان کی شریانوں میں کیلشیئم کے اکٹھا ہونے کے خطرات کم تھے ان کے مقابلے جو زیادہ کافی پیتے تھے یا بالکل نہیں پیتے تھے۔برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی وکٹوریہ ٹیلر نے کہا کہ اس مطالعے سے کافی پینے اور دل کی شریانوں میں رکاوٹ کے درمیان واضح رشتہ نظر آتا ہے تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے