Voice of Asia News

داعش کو شکست دینے کے لیے تین سال تک طویل جنگ لڑی،عراق

بغداد(وائس آف ایشیا)عراقی حکومت نے کہاہے کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کو شکست دینے کے لیے تین سے زیادہ برس تک طویل جدوجہد کی ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی کابینہ کے وزرا ء کی کمیٹی کے سربراہ، مہدی العلیک نے کہا کہ حکومت نے اہم اور خطرناک چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔اٴْنھوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کو شکست دینے کے لیے ملک نے تین سے زیادہ برس تک طویل جدوجہد کی ایک مرحلے پر داعش نے عراق کے ایک تہائی علاقے پر قبضہ جما رکھا تھا۔علیک نے توجہ دلائی کہ اس کے نتیجے میں معاشی اور ترقیاتی عمل تہ و بالا ہوچکا تھا، خاص طور پر ملک کو شدید دہشت گرد حملے لاحق تھے، جس کے باعث حکومت نے اپنی ترجیحات بدلیں، تاکہ ملک کی آزادی پر توجہ دی جاسکے۔اٴْسی وقت، تیل کے عالمی نرخ تیزی سے گرے، جس کے نتیجے میں عراق کی معیشت کو شدید دھچکا لگا۔عراقی حکومت اور عالمی بینک کی جانب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق، داعش کے ہاتھوں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ 45.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔وصولی اور تعمیرات نو کی ضروریات 88ارب ڈالر سے بھی زائد ہیں، جب کہ حکومت اس بات کی کوشاں ہے کہ اگلے ایک عشرے تک کام جاری رکھنے کے لیے 100ارب ڈالر اکٹھے کیے جائیں۔بڑے عطیات کی توقعات معدوم ہو چکی ہے، ایسے میں جب گذشتہ ہفتے اِن رپورٹوں کی تصدیق ہوئی کہ امریکہ اضافی چندہ دینے کا کوئی وعدہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح، خلیج کی دولت مند عرب ریاستوں کی جانب سے بھی کوئی خاص عطیات کی امید نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے