Voice of Asia News

واشنگٹن :4ٹریلین ڈالر کے امریکی بجٹ کا اعلان،عسکری بجٹ میں اضافہ

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر کے بجٹ منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق سماجی بہبود کے بجٹ میں کٹوتی کی تجویز کی گئی ہے جبکہ عسکری بجٹ میں مزید اضافہ ممکن ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدارتی دفتر اوول میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ ہم اپنی فوج کو اب تک کی مضبوط ترین فوج بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بجٹ میں امریکی فوج کا پہلے سے زیادہ خیال رکھیں گے۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کردہ بجٹ میں داخلی منصوبوں میں کٹوتی کی گئی ہے۔ کٹوتی کے نتیجے میں امریکا میں رہنے والا غریب اور متوسط طبقہ براہِ راست انداز سے متاثر ہوگا۔ مثال کہ طور پر رہائشی معاونت اور طالب علموں کے لیے تعلیمی قرضے کے پروگراموں میں واضح کٹوتی تجویز کی گئی ہے۔تاہم ملازمت ختم ہونے کے بعد ریٹائرمنٹ کے فوائد میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے وعدے کے مطابق طِبی سہولیات کے موجودہ منصوبوں میں چھ فیصد یعنی پانچ سو بلین ڈالر کی کٹوتی کی ہے۔بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ بھی پیش کیا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریباً ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔اس کے لیے حکومت اگلے دس برسوں میں صرف 200 بلین ڈالر مہیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ایک اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر کی باقی رقوم ریاستی اور مقامی حکومتوں کے علاوہ نجی سرمایہ کار مہیا کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں دستاویزات کانگریس میں پیش کر دی ہیں۔ امریکی سیاسی جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ بجٹ کی شدید مخالفت سامنے آ رہی ہے۔امریکی بجٹ ہاوس کمیٹی کے اعلٰی عہدیدار جون یارمتھ کا کہناتھا کہ صدر ٹرمپ کے بجٹ میں تجاویز نجی خواہشات کی عکاسی کر رہی ہیں، جیسے کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی صحت کی سہولیات میں کمی، غربت کے خلاف پروگرام میں کٹوتی اور امیر طبقے سے کم ٹیکس وصول کرنے کے لیے رعائت۔مجوزہ بجٹ میں ایک عشاریہ چھ بلین ڈالر امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے دوسرے مرحلے کے لیے متعین کیے گئے ہیں۔ واضح رہے گزشتہ سال صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی شہر سین ڈییگو اور ریو گرانڈ ویلی کے ساتھ ملنے والی میکسیکن سرحد پر 120 کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر ابھی تک قانون دان غور کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے