Voice of Asia News

پاکستانی کی لاش پی آئی اے کی منتظر ہے خواجہ جمشید امام

کویت سے محبت کی ایک ہی وجہ ہے کہ والد مرحوم 1952 ء میں تلاش روزگار میں کویت تشریف لے گئے اور پھر 1979ء تک یہ خدمات سرانجام دیتے رہے ۔اس دوران کویت 1962 ء میں آزاد ہوا بزرگوں کا تعلق قائد اعظم کی مسلم لیگ سے تھا اور 2001ء تک دنیا سے رخصت ہونے پر یہ تعلق منقطع ہوا ۔والد مرحوم بتایا کرتے تھے کہ جب وہ پہلی بار کویت گئے توبحری جہاز پروہاں پہنچے ا ور جہاز نے بھی بندرگاہ سے کچھ دور ہی اتار دیا اورہم لوگ سروں پر اپنے اسباب اٹھائے سمندر میں چلتے ہوئے ساحل پر پہنچے اور جن خیموں میں ٹھہرایا گیا وہاں پھرنے والے بچھو اتنے خوفناک تھے کہ اونٹ کو ڈستے تو وہ بھی عالم فانی سے کوچ کرجاتا ۔اُس زمانے میں کویت میں انڈین کرنسی ہی چلتی تھی ۔1962 ء میں کویت کو آزادی نصیب ہوئی تو والد صاحب کو کویت میں رہتے ہوئے 10 برس بیت چکے تھے انہیں شہریت آفر کی گئی لیکن پکے لاہوریے تھے سو زندگی گزارنے کے اُس آسان ترین رستے کو یا تو سمجھ نہیں پائے یا پھر وطن سے محبت نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا بہرحال دوسری بات زیادہ قابلِ قبول ہے کیونکہ یہی محبت میرے ڈی۔ این ۔اے میں بھی اُسی شدت کے ساتھ موجود ہے ۔ بڑے بھائی اس وقت کویت میں ہیں اور بچوں کی روزی کما رہے ہیں ۔سب سے پہلی تکلیف دہ بات تو یہی ہے کہ کوئی اپنا تلاشِ معاش کیلئے وطن سے دور چلا جائے اور اُس پر ظلم یہ کہ اپنے ملک کا جابر نظام پردیس میں بھی اُس کا تعاقب کرنا شروع کردے اور نا اہل حکمرانوں کو اہل کرنے کیلئے تو قومی اسمبلی راتوں رات قانون سازی کردے لیکن اہل پاکستانی جو ہمارے خزانے کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں خزانہ خالی کرنے والوں کے ہاتھوں خوار ہوتے رہیں ۔
نااہل نواز شریف نے پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول سیان نامی سابق مستعفی بیوروکریٹ کو مقرر کیا اور مسٹر مشرف کویت میں بسنے والے میرے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں جو پرویز مشرف نے نواز شریف کے ساتھ کیا تھا ۔ کویت میں تقریبا سواء لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جن کیلئے ہفتے میں پانچ فلائٹس 2 لاہور سے اور 5 سیالکوٹ سے اڑان بھرتی تھیں ۔اب مسٹر سیان نے اِن فلائٹس کی تعداد 2 کردی ہے ایک لاہور سے اور دوسری سیالکوٹ سے اور اُس پر ظلم یہ ہے کہ یہ فلائٹس صرف اُن پاکستانیوں کو واپس کویت پہنچا رہی ہے جو پاکستان آئے ہوئے ہیں جبکہ واپسی پر کویت سے خالی کراچی پہنچ رہی ہیں ۔اب ان خالی فلائٹس کو لے جانے میں مسٹر سیان کی کیا حکمت ہے جنہوں نے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اوراُن کی ماسٹر بھی ڈویلپمنٹ منجمنٹ میں ہے اور وہ بھی یونیورسٹی آف لندن سے ۔ مسٹر سی ای او کے علم میں ہونا چاہیے کہ 55 سال سے جاری کویت میں پی آئی اے کی فلائٹس کویت میں مزدوری کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے جسد خاکی بلا معاوضہ وطن واپس لاتی رہی ہے ۔ اب بدمعاشی کی انتہا یہ ہے کہ بغیر اعلان کے یہ افواہ پھیلا دی گئی ہے کہ 20 مارچ کے بعد یہ دو فلائٹس بھی بند کردی جائیں گی ۔ اگر یہ پی آئی اے کا بیانیہ نہیں ہے تو اس پروپگنڈہ کا کوئی تدارک کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ پی آئی اے کی پروگرامنگ کا حصہ ہے تو پھر اس کا کوئی اعلان پی آئی اے نے کیو ں نہیں کیا ۔ 12 فروری کو ایک پاکستانی کویت میں جاں بحق ہو گیا اور سی ای او مسٹر مشرف رسول سیان کے خالی طیاروں میں اُس پاکستانی شہری کے جسم کو واپس لانے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ۔یقیناًمرحوم کے ورثہ کے گھر میں لاش کی تدفین تک ماتم کا سماں رہے گا لیکن نواز شریف اور پی آئی اے کی کسی اتھارٹی یا وزیر اعظم پاکستان جو خود اس کام کے ایکسپرٹ ہیں اس معاملے سے لا تعلق ہیں ۔ بہرحال کویت کے سرد خانے میں پڑی پاکستانی شہری کی لاش اپنے نا اہل اور اہل حکمرانوں کی منتظر ہے ۔
جہاں تک مجھے یا د ہے 2004 ء پاکستان میں پی آئی اے کا آخری منافع بحش سال تھا اور پھر اُس کے بعد دنیا کی بہترین ائر لائن روز بروز نواز شریف کی طرح پستی کی طرف جانا شروع ہو گئی ۔ ویسے ایک بات آج تک میری سمجھ سے باہر ہے کہ نواز شریف کے والد بھی لوہے کا کام کرتی تھے اور اپنی ملیں چلاتے رہے ہیں جنہوں نے اتنا منافع دیا کہ قارون کے خزانے کو مات ہو گئی لیکن تین بار وزیر اعظم رہنے کے باوجود اُن سے ریاستِ پاکستان کی سٹیل مل نہیں چل سکی ۔ موجودہ عباسی وزیر اعظم کی اپنی ائر لائن ہے اور وہ اس کام کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں او ر اُن کی ائر لائن منافع میں جا رہی ہے لیکن ریاستِ پاکستان کی ائر لائن نقصان میں ہے یہ بات میں کسی دن ڈاکٹرمشرف رسول سے سمجھنے کی کوشش ضرور کروں گا کیونکہ اُن کی کتاب "Texation For Pakistan`s Revival” پڑھنے کے بعد مجھے تو کچھ پلے نہیں پڑا ۔دوسری طرف جناب بیرسٹر امجد ملک چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اورممبر اوپیک برائے کویت بھی میاں نواز شریف کے منظور نظر ہیں لیکن اس کھیل میں وہ بھی شامل ہیں اور ایک لاکھ پچیس ہزار پاکستانیوں کو بے یقینی اور تذبذب میں مبتلا کررکھا ہے ۔
کویت میں مقیم پاکستانی اس سروس کے بند ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ وزیر اعظم سے لے کر پی آئی اے کویت میں پی آئی اے کا معمولی سے معمولی کارکن اس کھیل تماشے سے واقف ہے لیکن اگر کوئی اس سے لا علمی ظاہر کررہا ہے تو وہ ہمارے وزیر اعظم کا رویہ ہے ۔ دوسری طرف نواز شریف کے نامزد سی ای او ڈاکٹر مشرف رسول سیان ہیں جو انتہائی تعلیم یافتہ اور گرین کارڈ ہولڈہونے کے بعد وجود جٹ ہونے کا مظاہر ہ کررہے ہیں جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان سے باہر تعینات بڑ ے عہدوں پر بیٹھے دوہری شہریت رکھنے والے شیش ناگوں بار جو سو موٹو لے رکھا ہے اُس کا بھی کوئی اطلاق کویت کے گرین کارڈ ہولڈپر نہیں ہو رہا اوروہ وزیر اعظم اورنااہل وزیز اعظم کی ملی بھگت کے ساتھ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ پاکستان اور پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ۔ پھر یہ لوگ جلسوں میں عوام سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ’’ مجھے کیوں نکالا ‘‘؟ جناب کویت میں پڑی پاکستانی کی لاش آپ کی بے جان اور نا قابلِ عمل پالیسیوں اور آپ کی لوٹ مار کی وجہ سے اپنے عزیز و اقارب تک نہیں پہنچ رہی اوریہ لاش آپ کی منتظر ہے بالکل انہیں لاشوں کی طرح جو آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ نے مل کو کتنا نقصان پہنچایا ہے ۔ کویت میں پڑی یہ لاش جس کا امکان ہے کہ اتوار کو پاکستان پہنچ جائے گی یہی پوچھ رہی ہے کہ مجھے کیوں نہیں دفنایا گیا ۔میرا اپنے اُس دنیا سے چلے جانے والے بھائی کو صرف اتنا ہی جواب ہے کہ بہت سی لاشیں ہم دیر تک یا تو سرد خانوں میں رکھتے ہیں یا پھر انہیں کھلا چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ تعفن معاشرے میں پھیلا سکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے