Voice of Asia News

اسلام میں عورت کا مقام و مر تبہ:تحریر: محمد قیصر چوہان

دین اسلام فطرت انسانی کا مظہر ہے ، جس کی تعلیمات کے مظابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں۔ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے سب انسان اُولاد آدمؑ ہیں۔اس لحاظ سے اسلام میں جنس کی بنیاد پر عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں۔اللہ کے نزدیک دونوں ہی اسکی مخلوق ہیں،اسلام میں عمل اور اجر میں مرد و عورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کر دیا گیا ’’ مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ اور (دونوں ) اللہ سے اس کا فضل مانگو ‘‘قر آن و حدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکام و فرامین موجود ہیں جنسے اسلام میں عورت کے مقام ،مرتبہ ،اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے یہ واحدمذہب ہے جس نے عورت کو زلت و پستی سے نکال کر شرف انسانیت بخشا جبکہ دیگر مذاہب میں عورت کو زلت ،رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اہل ہنود میں تو خاوند کی موت کے ساتھ عورت کو بھی ستی کردیا جاتا تھایعنی اسے بھی زندہ جلا دیا جاتا تھا۔جبکہ دور جاہلیت میں لڑکی پیدا ہونے پر اسے زندہ در گو ر کر دیا جاتا تھا۔اسلام نے اس زلت و رسوائی سے عورت کو نجات دلائی اور اسے زندہ رہنے کا حق دیا۔اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق ،فرائض ودیگر مسائل کیلئے قرآن پاک کی سورۃ النسا میں تفصیلی احکام دئیے ہیں جس میں نکاح ،طلاق ،خلع،وراثت ودیگر صنفی مسائل میں رہنمائی کی گئی ہے۔عورت کی عزت وعصمت کی حفاظت کیلئے حجاب (پردہ) کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی و اخلاقی اقدار بر قرار رہیں۔مغربی معاشرے میں آزادی نسواں و مساوات مردوزن کے نعرے کے تحت عورتوں کا استحصال جاری ہے جبکہ دین اسلام نے عورت کو ماں ،بہن ، بیٹی ،بیوی اور بہو کے انتہائی قابل عزت واحترام درجے اور بلند مقام ومرتبہ عطاء کیا ہے۔
دین اسلام کا سورج طلوع ہونے سے قبل عورت کو جس عتاب اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا تھا آج اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی تھی وہ ہر صورت میں مرد کی زیر دست زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ اس کی نہ تو اپنی کوئی زندگی تھی اور نہ ہی اپنا کوئی گھر۔ مرد اپنے لیے بیٹی کا باپ ہونا باعث شرمندگی سمجھتا تھا۔ حتیٰ کہ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ لیکن جب معاشرہ اسلام کے نور سے منور ہوا تو عورتوں کو وہ حقوق عطا کئے گئے جن کا اس وقت کی عورت نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ عورت کو جس قدر حقوق اسلام نے دیئے اتنے دنیا کے کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیئے۔اللہ نے عورت کو اس کے حقوق کے ساتھ عزت و عظمت کا اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا۔ حضورؐ نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: ایک شخص نے نبی کریمؐ کی بارگاہ میں عرض کی، میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ فرمایا، تمہاری ماں، عرض کیا پھر کون ہے، فرمایا کہ تمہاری والدہ، عرض کیا پھر کون ہے فرمایا تمہاری ماں! پھر فرمایا تمہارا باپ۔ اسی طرح وہ معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب سمجھا جاتا تھا آپؐ نے بیٹی کو عزت و احترام کا مقام عطا فرمایا۔ اسلام نے نہ صرف سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا، بلکہ اسے وراثت کا حق دار بھی ٹھہرایا۔ ارشار بانی ہے کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) د و سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ دو تہائی حصہ ہے اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے (النساء) قرآن کریم نے بیٹی کی پیدائش پر غم و غصہ کو جہالت اور انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور فرمایا کہ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی (پیدائش) کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے اور وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی (اب یہ سوچنے لگتا ہے) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (النحل) اسی طرح قرآن کریم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی درجات کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے وہاں بطور بہن بھی اس کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے بطور بہن، عورت کی وراثت کا حق بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے فرمایا کہ اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ کوئی ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا ماں کی طرف سے ایک بھائی ہو یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے اس وصیت کے بغیر جو نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (ادائیگی کے) بعد (النساء) قرآن کریم نے نسل انسانی کے تسلسل و بقاء کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو اپنی نعمت قرار دیا ہے ارشاد ہے کہ اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے جوڑے بنائے اور تمہارے جوڑوں (بیویوں) سے تمہارے لیے بیٹے پوتے اور نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیں (النحل)
حضورؐ نے اپنی بیویوں سے حسن سلو ک کی تلقین فرمائی۔ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ کی خدمت اقدس میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہؐ ! میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، آپؐ نے فرمایا تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ قرآن کریم میں رب کائنات ارشاد فرماتا ہے ترجمہ! اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔ یہاں اللہ کریم نے ایمان والوں میں مرد و عورت دونوں کو مخاطب فرمایا ہے یعنی جس طرح کے نیک اعمال مردوں سے مطلوب ہیں اسی طرح عورتوں سے مطلوب ہیں۔ اس زمین و آسمان کے درمیان صرف اسلام ہی وہ واحد ترین حق ہے جس نے عورت کو اس کا حق دیا اور معاشرے میں اس کو جو عزت و بزرگی دی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن جب معاشرے میں بگاڑ کے سبب اسلامی اقدار کمزور پڑ گئیں جس کی وجہ سے ہر طاقتور نے کمزور کے حقوق کو غصب کرنا شروع کر دیا تو اس طرح ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ عورت،اس کی زد میں سب سے پہلے آیا ان کے حقوق پامال ہونے لگے۔ دنیا کے کئی معاشروں میں تو عورت کو ہر حق سے محروم کر دیا گیا یہاں تک کہ اس کی جان پر بھی اس کے شوہر کا یا دیگر مردوں کا حق کروانا جاتا ہے۔ یہ اعجاز صرف دین اسلام کا ہی ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق انسان ہونے کے ناطے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں عورت و مرد میں کوئی تخصیص نہیں۔ اسلام اس بات سے منع کرتا ہے کہ معاشرہ عورت کو جزوی انسان سمجھے بلکہ وہ ایک مکمل انسان ہے جس طرح مرد کو اپنی شخصیت کی تکمیل اور آزادی اظہار کے مواقع میسر ہیں اسی طرح عورت بھی برابر کی حق دار ہے جس طرح بیٹے اللہ کی نعمت ہیں اسی طرح بیٹیاں بھی اللہ کی رحمت ہیں جس طرح بیٹے سے خاندان کا حسب نسب قائم رہتا ہے اسی طرح بیٹی بھی نسل انسانی کو تربیت دے کر نیک راستے پر چلاتی ہے۔ چونکہ معاشرہ عورت کو اس کے حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہوتا اس لیے اسلام نے بیٹی کی قدر و منزلت، پرورش اور اس کی تعلیم و تربیت پر زیادہ زور دیا ہے۔ اگر بہتر تعلیم و تربیت اور اظہار کے مواقع میسر ہوں تو مرد و عورت دونوں مل کر پورے معاشرے کو ترقی یافتہ اور کامیاب معاشرہ بنا سکتے ہیں۔ اپنی محنت سے کمائے ہوئے رزق حلال کے حقوق ملکیت میں دونوں کا برابر حصہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا کہ مردوں نے جو کمایا اس میں ان کا حصہ ہے اور عورتوں نے جو کمایا ہے اس میں ان کا حصہ ہے۔ حضورؐ کے زمانے میں عورتیں کھیتی باڑی، مویشی پالنے، بیماروں اور زخمیوں کا علاج معالجہ، سلائی کڑھائی اور دیگر امور سر انجام دیا کرتی تھیں، لیکن اسلام نے عورت کو کمانے کا پابند نہیں کیا بلکہ مرد کو قوی ہونے کے سبب عورت کے نان و نفقہ کا پابند بنایا ہے کیونکہ جسمانی اعتبار سے مرد کو عورت پر فضیلت عطا ہوئی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ مرد عورت کے نگران ہیں۔ اسلام نے عورت کو وراثت کا بھی حقدار ٹھہرایا ہے اور اس کے لیے بیوی، بہن، بیٹی اور ماں کے الگ الگ حصے مقرر کئے ہیں۔ عورت کو اس کے حق وراثت سے محروم کرنا بہت بڑا ظلم اور گناہ ہے۔ انسان کی حقیقی آزادی اس میں ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق عورت کو اس کے حقوق دیے جائیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی دنیا کے اکثر ممالک بالخصوص پاکستان کے کئی علاقوں میں آج تک عورت اپنے بنیادی معاشرتی حقوق سے محروم ہے بعض علاقوں میں بچیوں کے سکول و کالج جا کر بنیادی تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی ہے مرد اپنی ذاتی خواہشات، جھوٹی انا اور شان و شوکت کی خاطر عورتوں پر مختلف الزامات لگا کر اور اس کی قرآن سے شادی اور دیگر گمراہ کن رسومات کے نام پر اسے زندہ درگور کر دیتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں جہالت اور روایات کے نام پر سب سے زیادہ استحصال خواتین کا کیا جاتا ہے حالانکہ اسلام میں خواتین کو ماں، بیٹی، بہن، بہو، بیوی اور ساس کی حیثیت سے جو بلند اور اعلیٰ مقام و مرتبہ حاصل ہے اس کی مثال کسی دوسرے معاشرے میں نہیں ملتی۔ دراصل ہمارے ہاں مغرب سے متاثر ایک مخصوص اور محدود طبقہ مغرب کے ہاتھوں خواتین کی بے توقیری اور اس کو ذلیل و رسوا کئے جانے کی واضح تصویر دیکھنے کے باوجود وہ فلم یہاں بھی چلانا چاہتا ہے جس کا بھیانک ردعمل مغربی معاشرہ مختلف صورتوں میں دیکھ اور بھگت چکا ہے۔ مخلوط جدید تعلیمی اداروں بشمول ملک بھر کے میڈیکل کالجز حتیٰ کہ ہمارے ہسپتالوں اور مخلوط سرگرمیوں کی تمام اداروں میں اباجیت اور بے حیائی اور فحاشی و عریانی اور بنت حوا کی بے عزتی اور اس کو رسوا کئے جانے کے جو واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں ان کی بنیادی وجہ مرد وزن کا اختلاط اور مرد وزن کو شانہ بشانہ دیکھنے کی خواہش اور سوچ کا نتیجہ ہے۔
ہمارے ذرائع ابلاغ روزانہ کی بنیاد پر مردوزن کے اختلاط سے ہونے والے معاشرتی نقصان کو جس بڑے پیمانے پر رپورٹ کر رہے ہیں ان کو دیکھ اور سن کر بھی اگر ہمارا معاشرہ اور متعلقہ ادارے حرکت میں نہیں آتے اور ا ن واقعات کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے اگر ان کے سدباب اور اپنی نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے آگے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات نہیں اٹھائے تو ایسے میں ہمارے اجتماعی خاندانی نظام اور ہمارے معاشرے کو منتشر ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس الارمنگ صورتحال سے نمٹنے کی کوئی سبیل بھی ہے یا نہیں۔ بظاہر تو اس سوال کاجواب انتہائی مایوس کن ہے اور بالخصوص اگر اس سوال کا جواب ہمارے ہاں کے نام نہاد ترقی یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے پوچھا جائے تو اس کا جواب اور بھی پریشان کن صورت میں سامنے آئے گا۔
اگر ہم اپنے معاشرے کو اباحیت، فحاشی و عریانی، بے حیائی اور مغربی تہذیب کے غلبے سے بچانا چاہتے ہیں اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ایک صاف ستھرا اخلاقی اور تہذیب یافتہ معاشرتی ماحول دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں واپس اپنے اصل اور حقیقی ماضی اور تاریخ کی طرف لوٹنا ہو گا جس میں خواتین کی تعلیم و ترقی پر توکوئی پابند یا روک ٹوک نہیں ہو گی لیکن ان کو یہ مواقع مخصوص ماحول میں فراہم کیے جائیں گے۔ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب خواتین کو تعلیم اور روزگار کے ایسے مواقع فراہم کیے جائیں گے جہاں انہیں اپنی استعداد اور صلاحیتوں کو باپردہ اور مخصوص ماحول میں بروئے کار لانے کے مواقع ملیں گے۔
مردوں کے شانہ بشانہ مخلوط ماحول میں خواتین کو نہ تو اپنی صلاحیتیں فروغ دینے کے مواقع دستیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی مغرب زدہ ماحول خواتین کی نفسیات اور ان کی نسوانیت کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔ رہایہ سوال کہ اس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے تو ہمارا آئین نہ تو ایسی کسی سوچ کو پروان چڑھانے اور اسے عملی شکل دینے کی مخالفت کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قدم اٹھانے کی راہ میں آئین کا کوئی آرٹیکل آڑے آتا ہے بلکہ ہمارے آئین کی روح کے مطابق ہمارا آئین تو قرآن و سنت کی روشنی میں اٹھائے گئے ہر قدم کو سپورٹ فراہم کرنے کا پابندی ہے۔اب تو یہ بات جدید تحقیق بھی ثابت کر چکی ہے کہ خواتین اپنی صلاحیتیں غیر مخلوط ماحول میں زیادہ بہتر طور پر بروئے کار لا سکتی ہیں۔ ہمارے مغرب زدہ طبقات کے لیے یہ بات زیادہ پریشان کن ہو گی کہ یہ تحقیق کسی مسلمان ادارے کے بجائے مغربی اداروں نے کی ہے اور اسی تحقیق کی بنیاد پر اب مغرب میں خواتین کے لیے تعلیم و تفریح کے الگ الگ اداروں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ خود ہمارے ہاں بھی ایسے کئی تجربات کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جن میں مرد و خواتین کو جب بھی الگ الگ ماحول میں کام کرنے کا موقع ملا ہے تو انہوں نے ایسے ماحول میں ہمیشہ بہتر کارکردگی اور نتائج کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں خواتین کے لیے الگ تعلیمی اداروں کے علاوہ کام کاج کے الگ اداروں کی صورت میں ان اداروں کے بہتر نتائج ہم مختلف صورتوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک وسائل کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے کہ محض اس کی وجہ سے اتنے بنیادی کام کو چھوڑ دیا جائے۔ وسائل کی تقسیم اور بہتر انتظام و انصرام (مینجمنٹ) سے وسائل کے مسئلے پر بآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔
اسلام جو صنف نازک کی حفاظت اور سلامتی کا ذمہ لیتا ہے لیکن آج اس کے پیرو کار عورت پر ظلم کرنا فخر سمجھتے ہیں وہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبیؐ ازواج مطہرات اور اپنی بیٹیوں سے کس قدر پیار کیا کرتے تھے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیں بھی عورتوں کا احترام اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ہم، ہمارا معاشرہ، عورتوں کو عدل و انصاف فراہم کرنے والے ادارے اور ہمارے حکمران سب ہی عورتوں
کے حقوق کی پاسداری میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ہمیں اپنی روش پر غور کرنا اور اسے بدلنا چاہیے۔ اسلام نے حقوق نسواں کی جو تلقین کی ہے اس پر عمل پیرا ہونے ہی سے ہمارے معاشرے کی بے چینی دور ہو سکتی اور خواتین میں احساس تحفظ پیدا ہو سکتا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے