Voice of Asia News

رواں برس عام انتخابات نہیں ہو ں گے ، عالمی شہرت یافتہ ماہر فلکیات خالد لطیف بٹ کا ’’ وائس آف ایشیاء ‘‘ کو خصوصی انٹرویو: محمد قیصر چوہان

جلد ہی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نگران حکو مت بنے گی
نواز شریف پابند سلاسل ہوتے نظر آ رہے ہیں
عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا کوئی چانس نہیں
رواں برس عام انتخابات نہیں ہو ں گے ،پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ماہر فلکیات

خالد لطیف بٹ کا ’’ وائس آف ایشیاء ‘‘ کو خصوصی انٹرویو: محمد قیصر چوہان

 

غیب کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے پاس نہیں ہے ستارہ شناس محض حساب کتاب پر مشتمل ایک دُنیاوی علم ہے ایک ستارہ شناس ماضی اور حال میں ستاروں کی پوزیشن کا موازنہ کرکے اپنا تجزیہ اور اندازہ بیان کرتا ہے لہٰذا ان کی پیش گوئیوں کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے ۔ضروری نہیں ہے کہ آسٹرالوجسٹ کی بیان کردہ تمام باتیں درست ہوں۔ خالد لطیف بٹ کا شمار عالمی سطح کے قابل اعتماد ماہرفلکیات میں ہوتا ہے۔جو30 سال سے زائد عرصہ سے علم فلکیات کے شعبے سے وابستہ ہیں اوراس فن میں ان کی کئی پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں ۔ نمائندہ ’’ وائس آف ایشیاء ‘‘ نے مارچ کے مہینے کی ایک شام کے کچھ لمحات ان کی محبت بھری خوشگوار محفل میں گزارے ۔ اس دوران ہونے والی گفتگو کا موضوع ان کی ابتدائی زندگی اور ان کی پیش گوئیوں سمیت دیگر باتیں تھیں۔ آئیے قارئین ہم آپ کودیدہ بینا، دل زندہ اور شعور زندہ رکھنے والے خالد لطیف بٹ کی خوبصورت ، دلکش، اچھی اور معلوماتی باتوں سے سجے گلستان میں لیے چلتے ہیں۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمیں اپنے خاندانی پس منظرکے بارے میں کچھ بتائیں؟
خالد لطیف بٹ: میرے آباؤ اجدادجنت نظیر وادی کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقے اسلام آباد کے رہنے والے ہیں لیکن وہ بٹوارے سے کئی برس قبل کشمیر سے ہجرت کر کے لاہور آکر آباد ہو گئے ۔ میرے والد محترم کا نام عبد الطیف بٹ تھا جبکہ خواجہ عبدالرحمن بٹ میرے دادا تھے ان کا شمار معروف مسلم لیگی کارکنوں میں ہوتا تھا۔ میرے پڑ دادا جی کا نام عبدالغنی بٹ تھا وہ اور شاعر مشرق علامہ اقبال آپس میں کزن تھے۔ میں اسلامیہ پارک چوبرجی لاہور میں پیدا ہوا۔ سات بہن بھائیوں میں میرا نمبر دوسرا ہے۔ ہمارے خاندان کے تمام لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ میرے والد محترم انگریز دورمیں برٹش آرمی میں آفیسرتھے ۔ اس کے بعد انہوں نے انڈین گورنمنٹ کوجوائن کرلیا۔ جب پاکستان بنا تو والد محترم پاکستان گورنمنٹ کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔
سوال: ہر انسان کے ساتھ اس کاماضی جڑا ہوتا ہے بچپن کی کچھ یادیں وابستہ ہوتی ہیںآپ کا بچپن کیساگزرا؟
خالد لطیف بٹ: بچپن کی سنہری یادیں آج بھی مجھے تڑپاتی ہیں۔ بچپن میں بڑا آزاد خیال تھا۔ دیگر بچوں کی طرح میں نے بھی لاہور کے روایتی کھیل کھیلے جن میں گلی ڈنڈا سر فہرست تھا ،کرکٹ کھیلنے کا بھی جنون تھا۔ ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز کے ساتھ مزنگ لنک جمخانہ میں خوب کلب کرکٹ کھیلی۔ ایک حادثے میں بازو ٹوٹنے کے ساتھ ہی کرکٹ سے بھی ناطہ ٹوٹ گیا۔ بچپن کا کچھ حصہ میانی صاحب کے قبرستان میں کھیلتے ہوئے اورکچھ حصہ مال روڈ پر سائیکل چلاتے ہوئے گزرا ۔ ابتدائی تعلیم سینٹ انتھونی سکول سے حاصل کی۔ آٹھویں کلاس کا امتحان گورنر ہاؤس میں موجود گورنمنٹ سکول سے پاس کیا۔ میٹرک کا امتحان پرائیویٹ اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ بچپن میں لابئریری میں بیٹھنے کی عادت تھی لائبریری سے محبت اور فلسفے کا جنون آج بھی برقرار ہے۔ میٹرک کے بعد دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا۔ ان دنوں مجھے شاعری سے بڑی دلچسپی تھی اس دلچسپی کی وجہ ایک تو میرے والد محترم کی ساعز صدیقی جیسے نامور شاعرکے ساتھ دوستی تھی میں اکثر ساعز صدیقی صاحب کو اپنے گھرلے کر آیا کرتا تھا۔ ساعز صدیقی صاحب بڑے شاعر تھے ان کا کلام کئی نامور شاعروں کی کتابوں میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ کالج کے زمانے میں باقاعدگی کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس جاتا تھا۔ وہاں پر کئی نامور شاعروں اور ادیبوں سے ملاقات ہوتی تھی۔ پاکستان کے مشہور نغمہ نگار خواجہ پرویز کے چھوٹے بھائی خواجہ انور میرے کلاس فیلو تھے۔ ہم دونوں نے بہت سی محفلوں میں شرکت کی۔
سوال: بچپن اور لڑکپن گزارنے کے بعد جب آپ نے جوانی کی دہلیز پرقدم رکھا تو کیا آپ کسی صنف نازک کی زلفوں کے اسیر ہوئے؟
خالد لطیف بٹ: مجھے کسی صنف نازک سے محبت کی فرصت ہی نہیں ملی کیونکہ میں ان دنوں لائبریری اور فلسفے کی محبت میں گرفتار تھا۔ شاعری بھی اچھی لگتی تھی۔ میں نے مرزا غالب، جگرمراد آبادی، ساعزصدیقی، میرتقی میر، مجید امجد، داغ، حالی سمیت دیگرکئی شاعروں کو پڑھا لیکن علامہ اقبال کو ان سب سے مختلف پایا ۔علامہ اقبال کی شاعری میں روحانی فلسفہ ہے، میرے نزدیک علامہ اقبال اس عہد کا سب سے بڑا شاعر ہے ۔ مجھے سر سید احمد خان کی تحریریں بھی بڑی اچھی لگی۔ علامہ لطیف انوراور شیر محمد اختر گمنام مگر بڑے شاعر تھے۔ اشفاق احمد صاحب میرے والد محترم کے بڑے اچھے دوست تھے ان کے ساتھ بھی میری بڑی عقیدت تھی۔ خالد عباس ڈار کے ساتھ بھی میری بڑی قربت تھی۔
سوال: تعجب ہے کہ ادیبوں اورشاعروں کی محفلوں میں بیٹھنے کے باوجود آپ کسی ہیر کے عشق میں مبتلا نہیں ہوئے؟
خالد لطیف بٹ: علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفے نے مجھے کسی ہیر کے عشق میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔ البتہ کئی’’ہیروں‘‘ نے رانجھا سمجھ کرمیرا پیچھا ضرور کیا لیکن ان کو ناکامی ہوئی۔
سوال: علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفے کا رانجھا فلکیات کے شعبے سے کس طرح منسلک ہوا؟
خالد لطیف بٹ: لائبریری سے محبت اور فلسفے کا جنون مجھے فلکیات کے شعبے کی طرف لے کر آیا۔ میرے چچا محمد نعیم بٹ (مرحوم) UNO میں چیف ایڈوائز ہونے کیساتھ ایک ماہر فلکیات بھی تھے۔ میں بچپن سے ہی ان کی پیش گوئیاں سچ ثابت ہونے کی وجہ سے ان کی شخصیت سے بہت زیادہ انسپائر تھا۔ پرنس کریم آغا خان اور پیرپگاڑا صاحب میرے چچا کے بہترین دوستوں میں سے تھے اور یہ دونوں شخصیات بھی فلکیات کی ماہرتھیں۔ ان کے علاوہ کاش البرنی کراچی والے بھی فلکیات کے ماہر تھے میری ان سب سے کافی قربت رہی۔ میں ان سب شخصیات کی شہرت سے کافی انسپائر تھا یہی وجہ تھی کہ میں جوں جوں بڑھا ہوتا گیا اس شعبے میں میری دلچسپی بڑھنے لگی اور بالآخر مجھے اس کا جنون ہو گیا۔
سوال: ان علوم کی مذہبی حیثیت پر روشنی ڈالیں؟
خالد لطیف بٹ :قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ اپنی نشانیوں کے ذریعے انسان کی خود رہنمائی کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کسی ریسرچ یا علمی تحقیق کو بری نظر سے دیکھے ۔ مسلہ یہ ہے کہ ہم لوگ اکثر مذہبی طور پر بھی پوری طرح کلےئر نہیں ہوتے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی کو شریک کرنا نا قابلِ معافی جرم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک کو سخت نا پسند کر تا ہے ۔غیب کا علم فقط اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن ہونے والے واقعات کی پیشن گوئی ہر گز غیب نہیں ۔محکمہ موسمیات کی پیشن گوئیاں، میڈکل سائنس کی ترقی کے باعث ڈاکڑوں کی مستقبل کے بارے میں پیش گوئی ہر گزغیب نہیں بلکہ calculations ہیں ۔کوئی انسان یا شعبہ جس قدر مہارت حاصل کرلے گا اسی قدر اچھی calculationکے قابل ہو جائے گا ۔اس صورتِ حال کو غیب کے ساتھ ملانا شاید جہالت سے زیادہ کچھ نہیں ۔زندگی اور موت کا علم فقط اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لہٰذا دنیا کا کوئی بھی علم اس کی درست پیش گوئی کر ہی نہیں سکتا ۔
سوال: مخفی علوم کے ماہرین مختلف علوم کے ذریعے پیشنگوئی کر تے ہیں، تو کیا ممکن ہے سب کا نتیجہ یکساں اوردرست ہو ؟
خالد لطیف بٹ:جی بالکل ایسا ممکن ہے ایک سوال کی کو حل کر نے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں مسئلہ تو سچائی کی تلاش ہے ۔ آپ کو ئی سا بھی راستہ اختیار کریں اگر راستہ علمی اعتبار سے درست ہو تویقیناًمنزل بھی درست ہی ہو گی ۔
سوال:کیا آپ فلکیات کو سائنس ثابت کر سکتے ہیں؟
خالد لطیف بٹ: سائنس کی تعریف یہ ہے کہ اگر ایک تجربے کے متعدد بار ایک سے نتائج حاصل ہوں تو وہ سائنس ہے۔ فلکیات کے مجوزہ قوانین کوہزارہاسال سے آزمایا جارہا ہے اوران کے رزلٹ ایک جیسے ہی ہیں مزید یہ کہ ان قوانین کا اطلاق دنیا کے ہر خطے پر یکساں ہے، کیایہ دلیل کافی نہیں۔ اس ضمن میں ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سائنس کی وہ تمام برانچیز جن کا تعلق Human behariorsسے ہے وہ کیمسٹری ، فزکس وغیرہ کی طرح فکس نہیں ہوتیں۔
سوال: کیا فلکیات کا روحانیت سے کوئی تعلق ہے؟
خالد لطیف بٹ: روحانیت کا تعلق تو تمام علوم کے ساتھ ہے فلکیات میں بھی روحانیت کا ایک باب موجود ہے۔ انسانی شخصیت پر ستاروں کے اثرات سے روحانی اورمادی رجحانات کی 100 فیصد درست عکاسی ممکن ہے۔
سوال: کیا یہ علم صرف انسانوں کے بارے میں پیش گوئی کرتا ہے یا کہ ملکی اور عالمی حادثات وغیرہ پر بھی اس علم کی گرفت ہے؟
خالد لطیف بٹ:اس علم کامحور کائنات ہے انسان بھی اس کائنات کا حصہ ہے اور اسی کے مقرر کردہ قوانین کے تحت زندگی گزارتا ہے۔اس لیے انسان سمیت کائنات میں رونما ہونے والے واقعات اور حادثات کی پیش گوئی ممکن ہے۔ انسانوں کی تاریخ پیدائش ہو تی ہے جس کی مدد سے ان کا زائچہ ترتیب دیا جا تا ہے۔ یہ سہولت چونکہ ملکوں کی صورت میں میسر نہیں ہوتی لہٰذا ملکوں کے ناموں کو علم العداد کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ علم نجوم بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ کسی ملک کی جغرا فیائی حیثیت اور اس پر جس اینگل سے مختلف ستارے (سیارے) اثر انداز ہوتے ہیں وہ بھی پیش گوئی میں سہولت فراہم کرتے ہیں ۔
سوال: اگر یہ مان لیاجائے کہ انسان قدرت کے معین قوانین کے تحت زندگی گزارتاہے یعنی تقدیر ہی سب کچھ ہے توپھرنجوم جیسے کسی علم سے رہنمائی کا فائدہ؟
خالد لطیف بٹ: اس میں کوئی شک نہیں کہ تقدیر ہماری زندگی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے اورمذہبی طور پراس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ رہی بات علم کی افادیت کی تو اس کو آپ ایک مثال سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ بارش کا ہونا اگر تقدیر پر ہے تو یقیناًآپ اْسے روکنے سے قاصر ہیں البتہ قبل ازوقت پتہ ہونے سے آپ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتے ہیں جس سے آپ کے نقصان میں واضح حد تک کمی ہو سکتی ہے۔ یعنی تقدیر پر اگر بارش سے تو فلکیات چھتری کی حیثیت ضرور رکھتی ہے۔
سوال: علم العداد کی اہمیت بھی بیان فرمادیں ؟
خالد لطیف بٹ: اعداد ہماری تمام زندگی پر محیط ہیں ۔ غور کیجئے دنیامیں آنے والی بڑی تبا ہیاں ، زلزلے ، سونامی وغیرہ 4یا 8 تاریخوں کو ہی کیوں وقوع پزیر ہوئے ؟۔پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ 8اکتوبر5 200کو آیا وغیرہ وغیرہ ۔انسانوں کے کردار اور مزاج شناسی علمِ العداد کے بغیر ممکن ہی نہیں یا یوں کہیں کہ انسانوں کا مزاج اور دیگر شخصی پہلوں میں فرق فقط اعداد کی وجہ سے ہے ۔
سوال: رمل، علم جفر وغیرہ کے بارے میں آپ کی رائے ہے؟
خالد لطیف بٹ :اس کے علاوہ بھی بہت سے علوم ہیں جیسے ٹیرو کارڈ ریڈنگ وغیرہ یہ سب وہ علوم ہیں جنہیں استعمال کرنے والے حقیقت قرار دیتے ہیں لیکن اپنی صداقت میں کوئی Data پیش نہیں کر پاتے مثلاََ دست شناسی کا تعلق براہ راست Anatomy سے ہے ۔کسی ایک بیماری کی علامت کو ثابت کرنے کیلئے دنیا بھر سے ہزاروں ہاتھوں کے پرنٹ دلیل کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں ۔جن علوم کے بارے میں آپ نے سوال کیا ہے ان کے ضمن میں ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا ۔
سوال:آپ کی ایسی پیش گوئیاں جو سچ ثابت ہوئیں؟
خالد لطیف بٹ: میری بہت سی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں اور غلام اسحاق خان صدر تھے میں نے ان کی حکومت کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ اگست 1990 میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت ختم ہوجائے گی۔ جو سچ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد میں نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم 1992 کا ورلڈ کپ جیت لے گی، وہ بھی درست نکلی۔ پھر میری پیش گوئی تھی کہ اکتوبر 1993 میں میاں نواز شریف صاحب کی حکومت نہیں رہے گی اور ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد میں نے پیش گوئی کی تھی کہ صدر پاکستان فاروق لغاری صاحب فروری 1996 میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ اور پھراسی طرح ہوا۔ جب 1996 کاورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ شروع ہوا تو میں نے پیش گوئی کی کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم یہ ورلڈ کپ جیتے گی ،تو میری یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی ۔ پھرمیں نے پیش گوئی کی کہ اکتوبر 1999 میں میاں محمد نواز شریف صاحب کی حکومت ختم ہوجائے گی اور مارشل لاء لگے گا اورایسا ہی ہوا۔ پھر میری پیش گوئی تھی کہ 1999 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا پاکستان کو شکست دے کرچمپئن بنے گا۔1998 میں جب فٹبال ورلڈ کپ شروع ہوا تو میں نے پیش گوئی کی تھی کہ فرانس عالمی چمپئن بنے گااور ایسا ہی ہوا۔ پھرمیں نے پیش گوئی کی تھی کہ 2002 کا فٹ بال ورلڈکپ برازیل کی ٹیم جیتے گی اور یہ پیش گوئی بھی درست نکلی۔ پھر میں نے پیش گوئی کی تھی کہ بلوچستان سے میر ظفر اللہ خان جمالی پاکستان کے وزیراعظم بنیں گے۔ اور یہ بھی سچ ثابت ہوا۔ پھر میں نے پیش گوئی کی تھی کہ 2006 کا فٹ بال ورلڈ کپ کا فاتح اٹلی ہو گا اوراس کو بھی وقت نے درست ثابت کیا۔ پھر میں نے پیش گوئی کی تھی کہ 2007 میں کھیلاجانے والا پہلا ٹونٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت کی ٹیم فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی اورایسا ہی ہوا۔پھر میں نے پیش گوئی کی تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان آئیں گی اوران پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہو گا یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی ۔ پھرمیں نے پیش گوئی کی تھی کہ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر منتخب ہوں گے۔ جب انگلینڈ کی سرزمین پر2009 میں ٹونٹی 20 ورلڈ کپ شروع ہوا تو میں نے پیش گوئی کی تھی کہ اس بار ورلڈکپ پاکستان ٹیم جیتنے میں سرخرو ہو گی۔ میری یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی۔2010 میں جب پھرٹونٹی 20 عالمی کپ شروع ہوا تو میری پیش گوئی کے مطابق چمپئن انگلینڈ تھا اوریہ بھی سچ ثابت ہوا۔ پھرمیں نے پیش گوئی کی کہ 2010 کا فٹ بال ورلڈ کپ اسپین جیتے گا اور میری یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی۔ 2005 میں میری پیش گوئی تھی کہ اکتوبر کے مہینے میں پاکستان میں بہت بڑی قدرتی آفت آئے گی جس سے جانی اور مالی نقصان ہو گا اور 8اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے نے میری اس پیش گوئی کو درست ثابت کیا۔ پھر میں نے پیش گوئی کی تھی کہ جولائی اوراگست 2010 کے دوران پاکستان میں سیلاب آئے گا جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوگا۔میری یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی۔اس کے بعد میں نے 2012 میں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے نااہل ہونے کی پیش گوئی کی تھی جو درست ثابت ہوئی۔ اس کے بعد میں نے 2017 میں وزیر اعظم نواز شریف کے نااہل ہونے کی پیشگوئی کی تھی وہ بھی درست ثابت ہوچکی ہے۔
سوال: فلکیات میں کس سیارے کے انسانی زندگی پرزیادہ اثرات ہیں؟
خالد لطیف بٹ: تمام سیاروں کی انسانی زندگی پراثرات ہیں۔ چاند پہلے آسمان کا سیارہ ہے اس کوروح کا سیارہ بھی کہتے ہیں۔ اس کے انسانی زندگی کے انتہائی اہم اثرات ہیں۔ مشتری چھٹے آسمان کا سیارہ ہے اس کی انسانی زندگی میں بڑی اہمیت ہے یہ دولت اور شہرت والا سیارہ ہے۔ زحل ساتویں آسمان کا سیارہ ہے۔ چاند، سورج، اور مشتری کی انسانی زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔اوران کے مختلف اثرات انسانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
سوال:علم فلکیات کے فروغ کیلئے آپ کیا اقدامات تجویز کرتے ہیں؟
خالد لطیف بٹ:فلکیات کے علم کوایک مضمون کے طورپرکالجوں کے سلیبس میں پڑھایا جاناچاہیے۔جس طرح Astronomy کو پڑھایا جاتا ہے۔ جب تک کسی علم کو As Subject نہیں پڑھایا جاتا اس علم کو ان پڑھوں سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔
سوال: آپ تحریک انصاف بالخصوص عمران خان کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں؟
خالد لطیف بٹ: تحریک انصاف اور عمران خان کا مستقبل بہت زیادہ تابناک دکھائی نہیں دیتا۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا کوئی چانس نظر نہیں آ رہا ہے ،پاکستان تحریک انصاف کا کردار ملکی سیاست میں محض پریشر گروپ کی حد تک محدود رہے گااور مستقبل میں پی ٹی آئی کی کمانڈ شاہ محمود قریشی سنبھال سکتے ہیں ۔یہ بات شاید عمران خان کے فہم سے بالاتر ہے کہ ملکی تبدیلی کا محور لیڈر کی ذاتی شادی نہیں ہوسکتی ۔
سوال: علم فلکیات کی روح سے آپ پاکستان کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں؟
خالد لطیف بٹ: پاکستان کے زائچے کے مطابق زحل اپنے ساڑھے 29 سالہ دور میں انتہائی اہم پیش رفت کا حامل ہے جس کے براہ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں،2016 کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا حکومت میں براہ راست کردار نظر نہیں آتا ۔2017 سیاستدانوں کیلئے حقیقی جمہوریت کے دوام کا سر چشمہ ثابت ہوسکتا تھا لیکن وہ کرپشن کی نذر ہو گیاجبکہ موجودہ حالات میں سیاروں کی چال سخت فیصلوں کی عکاسی کرتی ہے اسی لئے ملک میں تبدیلی اب صرف عدلیہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔طاقتور قوتوں کی طرف سے احتسابی عمل شروع ہوچکا ہے جو کہ ملک و قوم کی بقا کا ضامن ثابت ہوگا ۔ لہذا نواز شریف سمیت دیگر کئی سیاستدان جیل جا سکتے ہیں یہی صورتحال مختلف اداروں کے سر براہان پر بھی صادق نظر آتی ہے۔ آسمانی کونسل پر ستاروں کی جو پوزیشن بنی ہوئی ہے اس کے مطابق نگران حکومت کی مدت طویل ہو سکتی ہے اس کے نتیجے میں رواں برس ہو نے والے عام انتخابات خاصی تا خیر کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ عبوری حکومت کے دور میں دو وزیر اعظم بھی تبدیل ہونے کے امکانات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے