Voice of Asia News

جناب! ایک کہانی یہ بھی ہے :خواجہ جمشید امام

یہ تحریر دو دن پہلے آپ کے پاس ہونی چاہیے تھی لیکن میرے بچپن کے دوست اور ماموں زاد بھائی تنویر بٹ کی اچانک وفات نے تمام شیڈول تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ۔ بہر حال روز گار حیات کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں یہ سلسلہ تھوڑی دیر کیلئے موخر ہو گیا تھا ۔ برادرم روف کلاسراکا کالم ’’ کہانی اگلے پچاس برسوں کی !‘‘ انتہائی غور سے پڑھا بلکہ بار بار پڑھا اور پھر یقین کر لیا کہ یہ کلاسرا صاحب نے ہی لکھا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں پایا کہ اس تحریر کا مقصد کیا تھا ؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کہانی گزرے ہوئے وقت کی ہوتی ہے نہ کہ آنے والے زمانے کی ۔ آنے والے دنوں کا یا تو تجزیہ ہوتا ہے یا پھر پیشین گوئی ! لیکن اگر برادرم روف کلاسرا آنے والے دنوں کی کوئی کہانی سنا کر ادب میں نیا اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو میں اُسے سننے کیلئے بھی تیار ہو ں لیکن ماننے کیلئے ہرگز نہیں ۔ صحافی اور سیاسی ورکر میں ایک بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ صحافی تبدیلی کا تعین اپنی عمر کے ساتھ کرتا ہے جبکہ حقیقی سیاسی ورکر ارتقاء کے نظریے پر یقین رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ درخت لگانے اور پھل کھانے والی نسلیں الگ الگ ہوتی ہیں اور لیہ کے رہائشی تو یہ بات دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں کہ یہ کہانی بچپن سے اُن کے شعور کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہے ۔ بہرحال جو شخص دوسرو ں کی تاک میں رہتا ہے وہ اپنے گردو نواح میں بہت کچھ بھول جاتا ہے ۔
جہاں تک ٹرمپ کے صدر بننے کی بات ہے تووہ جمہوریت پسندوں کا نہیں عالمی سرمایہ داروں کاگماشتہ ہے جو متبادلہ بیانیہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی بار صدر منتخب ہو سکتا ہے ۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو پاکستانی عوام نے آج تک ایک لمحے کیلئے جمہوریت نہیں دیکھی اور جسے ہم لوگ جمہوریت یعنی ڈیموکریسی سمجھتے ہیں وہ دراصل ایجنٹوکریسی ہے ۔ جب ایجنٹوکریسی کا تجزیہ ڈیموکریسی کے اصولوں پر ہو گا تو نتیجہ سوائے مایوسی کے اور کچھ برآمد نہیں ہو گا ۔میرے لیے حیران کن بات تو یہ ہے کہ آپ نے جن لوگوں کی سیاست اور تقاریر کا ذکر کیا ہے اُن میں سوائے اعتزاز احسن کے کسی کو بھی رعایتی نمبر نہیں دیئے جا سکتے ورنہ آپ خود ہی ’’کہانی گزرے پچاس برسوں کی !‘‘ لکھ کر دیکھ لیں ۔ سب کردار برہنہ آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ صحافی کے دلوں میں جب صحافتی اصولوں کے بجائے سیاسی افراد کا رومانس جنم لے لے تو وہ کوئی بھی حقیقی تجزیہ کرنے کی صلاحیت کھوبیٹھتا ہے ۔رپورٹر جب رپورٹنگ میں اپنی خواہش اور تحقیق کرنے والے دورانِ تحقیق اپنے پسندیدہ کرداروں کو چھپا لے تو پھر حالات ایسے ہی ہوں گے جیسے آ ج آپ کے سامنے ہیں ۔ پرویز مشرف کی آمریت تو انتہائی ہومیو پیتھک تھی ٗ مجھے معلوم نہیں کہ ضیا ع الحق کے دور میں آپ کہاں تھے اور جتنی جرات سے آپ نے مشرف دور میں لکھا ہے اور بلاشبہ لکھا ہے اگر ضیاع دور میں ایسا سوچتے بھی تو آج آپ کی اپنی کہانی دہائیوں پرانی ہو چکی ہوتی ۔ جو بات لوگوں کے ذہن میں واقعی آپ کا کالم پڑھنے کے بعد آنی تھی یعنی ’’مشہوری آپ کے دماغ کو چڑھ گئی ہے‘ ٗ’’ اب آپ بند ے کو بندہ نہیں سمجھتے‘ ٗ’’ یقیناًسیاستدانوں نے بھی کچھ ایسا کیا ہے کہ ہم نے اُن کی عزت کرنا چھوڑ دی ہے ‘ٗ’’ جنرل مشرف کے دور میں ہم ان کی عزت کیوں کرتے تھے‘‘ تو یہ آپ کو ضرور سوچنا چاہیے ٗ عزت واقعی بھیک میں نہیں ملتی اور کمائی سے بھی نہیں ملتی ورنہ پاکستان میں سب سے زیادہ قابل عزت و احترام مزدو اورکسان ہوتے جو پاکستان میں سب سے زیادہ کمائی کرتے ہیں اور سب سے زیادہ بے آبرو بھی ہیں ۔مزدور جس عمارت کو دن رات کی محنت سے بناتا ہے تعمیر مکمل ہونے کے بعد اُس عمارت کے تھڑے پر اُسے رات کو سونے کی اجازت بھی نہیں ہوتی اور کپاس اگانے والا کسان اُسی کپاس سے بنا گل احمد کی کاٹن کا سوٹ اپنی بیٹی کو بھی نہیں لے کر د ے سکتا ۔
عزت مآب کلاسرا صاحب ! جمہوریت ناکام نہیں ہوئی کیونکہ جمہوریت تو آئی ہی نہیں اور جس ملک میں ابھی سرچ نہیں ہوئی وہاں ریسرچر کا موجود ہونا کیا کسی معجزے سے کم نہیں؟ لیکن سیاست اور صحافت کی آنکھوں کو دوسرے کی آنکھوں کا تنکا نظر آ جاتا ہے لیکن اپنی آنکھوں میں گرے شہتیر دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں ۔ آپ نے انتہائی غلط اور ناقص لکھا کہ ’’یہ زوال پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہواجب کئی ریاستی ادارے ایک ایک کرکے کرپٹ اور تباہ ہونا شروع ہو گئے ‘‘۔کاش آپ نے یہ تجزیہ بھی ضیاع دور سے شروع کیا ہوتا تو اداروں کی تباہی اور کرپشن کی داستانیں آپ کے سامنے پڑی ہوتیں لیکن حیرت ہے کہ آپ نے ’’کہانی اگلے پچاس برسوں کی ‘‘ لکھ کر گزشتہ پچاس برسوں کے تمام مجرموں کو معاف فرما دیا ہے جو میرے نزدیک انتہائی صحافتی بدیانتی کے زمر ے میں آتا ہے ۔آپ نے خود لوگوں پر اعتماد کیا اور جب وہ لوگ آپ کے معیار پر پورے نہ اترے توآپ اُن سے مایوس ہو گئے
لیکن آپ کے کالم کا آخری پیراگراف میرے لیے انتہائی تکلیف کا باعث بنا جس میں آپ نے جہانگیر ترین اور عبد العلیم خان کے نام بغیر کسی وجہ کے ڈال دیئے ۔ چیئرمین تحریک انصاف کو مشورہ دینا آپ کا حق ہے لیکن کسی کی کردار کشی کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا ۔ جہاں تک جہانگیر خان ترین کی بات ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب سیکرٹری جنرل تھے اور جب سپریم کورٹ نے اُن کے خلاف فیصلہ دیا تو انہوں نے خود ہی اپنے عہدے سے استعفا دے دیا اور ری ویو میں چلے گئے ۔ نیب نے بلاشبہ عبد العلیم خان کو بلایا ہے او ر اُن سے کچھ دستاویزات طلب کی ہیں جو انہوں نے پیش بھی کردی ہیں ۔اُن کا معاملہ نیب خود دیکھ لے گی ۔ کیا پاکستان کے ادارے طلب کریں تو وہاں پیش ہونا توہین ہے ؟ عمران خان پر دہشتگردی کے مقدمات ہیں لیکن آپ نے چیئرمین تحریک انصاف کا ذکر نہیں کیا ۔چیئرمین کو عدالت نے صادق و امین اس لیے قرار دیا کہ وہ عدالت میں پیش ہوتے رہے ۔ اُس وقت آپ کو یہ لکھنا چاہیے تھا کہ یہ کیسا لیڈر ہے جو وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے لیکن آپ نے ایسا نہیں لکھا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ چیئرمین تحریک انصاف ہرمعاملے میں سرخرو ہو ں گے اور پھر عمران خان تو عمران خان ہے جسے پاکستانی نوجوان دیانتداری کی علامت سمجھتے ہیں ۔آپ نے عبد العلیم خان کے بارے اپنا تجزیہ نہیں بلکہ بغض کا اظہار کیا ہے جو کسی صورت آپ جیسے اچھی شہرت رکھنے والے صحافی کو زیب نہیں دیتا تھا۔ کیا عبد العلیم خان کے اوپر کوئی مقدمہ کسی عدالت میں چل رہا ہے ؟ کیا وہ کسی مقدمہ میں پاکستان کی کسی عدالت کو مطلوب ہیں ؟ کیا پاکستان کے کسی ایک شہری نے بھی اُن کے خلاف کہیں کوئی درخواست دے رکھی ہے ؟ کیا اُن کا نام پاکستان کا قومی خزانہ لوٹنے والوں کی فہرست میں شامل ہے ؟ کیا وہ ہر وقت خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کیلئے تیار نہیں ؟ عبد العلیم خان پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے صدر اورعمران خان کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں سے ایک ہیں ۔ آپ تحریک انصاف کے باہر کے لوگ ہیں اور اندر سے ملنے والی خبر بھی آپ کے پاس ناقص ہوتی ہے کہ آپ نے ایک نجی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک بار پھر جہانگیر خان ترین ٗ عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی کے بارے میں کہا کہ انہوں نے چوہدری سرور کے کچھ ووٹوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کی ہے ۔ میرے نزدیک ایسا بیان بغیر کسی ثبوت کے کسی سیاسی کارکن کو داغ دینا انتہائی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ میں نے عمر بھر صحافی کے بجائے سیاسی ورکر کہلانے پر فخر محسوس کیا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ میں یہ سب کچھ نہیں کرسکتا جو مجھے آپ اور دوسرے لوگوں کی طرف سے ابھرتے سورج کے ساتھ ایڈیٹوریل پیچ پر پڑھنے کو ملتا ہے اور ڈھلتے چاند کے ہمراہ میری سماعتوں پر اتنی گہری خراشیں ڈال دیتا ہے کہ ہفتوں کچھ بھی سننے کو جی نہیں چاہتا ۔ پاکستانی آمروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ تھوڑے عرصے بعد جمہوریت پسند بننے کی کوشش کرتے ہیں اور صحافیوں کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ سیاسی ورکر سے زیادہ باشعور اور جانتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے