Voice of Asia News

بھارتی فورسز نے بنت کشمیر کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنارہے ہیں ‘میر واعظ

سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیرمیں حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے خواتین کے حقوق اور ان کی عزت نفس کی پاسداری کے تئیں دنیا بھرمیں سرکاری اور عوامی سطح پر بڑھتے جارہے غیر ذمہ دارانہ رویوں کو صنف نازک کے ساتھ نا انصافی قرار دیاہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے عالمی یوم خواتین کے موقعہ پرسرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ آج جبکہ پوری دنیا سائنس اور دیگر شعبوں میں ترقی کی منازل طے کررہی ہے وہیں انسان کی سماجی ، معاشرتی اور سماجی زندگی میں بنیادی کردار کی حامل عورت کے ساتھ ہر سطح پر ناروا سلوک اور جرائم کا شدت کے ساتھ ارتکاب ہورہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ دین اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف خواتین کے حقوق کا تعین کیا ہے بلکہ ان کے حقوق کے تحفظ اور پاسداری کو لازمی قرار دیا ہے اور اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس نے ہر مرحلے پر عورت کے وقار اور عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے سماج میں ایک جائز اور باعزت مقام عطا کیا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ دنیا میں آئے روز خواتین کیخلاف مجرمانہ حملے، بدسلوکی، ان کے حقوق کی پامالی اورسماجی سطح پر انکا استحصال جیسے واقعات نہ صرف مسلمہ انسانی قدروں کو زوال سے دوچار کررہے ہیں بلکہ صنف نازک کے تئیں غیر انسانی سلوک کے اس عمل نے پوری سماجی زندگی کو شدید اضطراب اور تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے نامساعد حالات کی بنا پر جس بے دردی کے ساتھ کشمیری خواتین کو اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے حقوق کا پاس و لحاظ کئے بغیر ان کے ساتھ بے رحمانہ سلوک روا رکھا گیا وہ نہ صرف حقوق انسانی کی شدید پامالیوں کی ایک سیاہ تاریخ ہے بلکہ کشمیری خواتین کے ساتھ اس قسم کے برتائو نے ہزاروں کشمیری خواتین کو کئی نفسیاتی امراض اور مایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی فوجی کشمیری خواتین کی بے حرمتیوں کو ایک جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہے ہیں ۔انہوںنے کشمیر ی معاشرے میں خواتین کیخلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور مجرمانہ حملوں پر فکر اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں تعینات بھارتی فورسز نے بنت کشمیر کواپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا ہے اور کنن پوشپورہ سے لیکر شوپیاں اور کولگام کے تازہ واقعات اور حال ہی میں کٹھوعہ میں ۸ سالہ ننھی آصفہ کے ساتھ پیش آئے المناک واقعات خواتین کے ساتھ ظلم وزیادتیوں کی واضح مثالیں ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ خواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات اور نفس کے تئیں شائستگی اور پر وقار طریقہ کار کواپنی زندگی کا لازمی جزو بنا کرایک بہتر اور پرسکون سماج کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے