Voice of Asia News

زینب قتل کیس: مجرم عمران کی اپیل ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور

لاہور(کرائم رپورٹروائس آف ایشیا جمال احمد) ہائی کورٹ نے زینب کے قاتل علی عمران کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرلی‘ ملزم نے موقف اختیار کیا ہے کہ اعترافِ جرم کو مدِ نظررکھتے ہوئے سزا میں نرمی کی جائے ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی ‘ عدالتی سماعت کے موقع پر زینب کے والد حاجی امین بھی پیش ہوئے سماعت کے دوران مجرم عمران کے وکیل اسد جمال نے استدعا کی کہ انہیں تیاری کے لئے تین ہفتوں کی مہلت چاہئے‘ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ منگل تک تیاری کر کے آئیں ورنہ ملزم کی طرف سے سرکاری وکیل فراہم کیا جائے گا۔ اس موقع پر عدالت نے اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس بھی جاری کر دیے۔مجرم عمران کی جانب سے دائر کردہ تین صفحات پر مشتمل جیل اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ دورانِ ٹرائل اس نے عدالت کا قیمتی وقت بچانے کے لئے عدالت کے سامنے اقرار جرم کیا ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اقرار جرم کرنے والے مجرموں کے ساتھ عدالتیں نرم رویہ اختیار کرتی ہیں مگر انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کیا اور اسے سزائے موت اور دیگر سزاؤں کا حکم سنایا۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ اس کے اعتراف ِ جرم کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی کا حکم دے ۔ یاد رہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مجرم عمران کو چار مرتبہ سزائے موت، عمر قید، سات سال قید اور 32 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھیںانسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے عمران کو اغوا اورزیادتی کا جرم ثابت ہونے پر2 بارپھانسی سنائی تھی جبکہ مجرم کو کم سن بچی کے ساتھ بدفعلی پرعمرقید اورلاش مسخ کرنے پر7سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔ خیال رہے کہ زینب قتل کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے مختصرٹرائل تھا، چالان جمع ہونے کے سات روز میں ٹرائل مکمل کیا گیا۔یاد رہے کہ پنجاب کے شہرقصور سے اغوا کی جانے والی 7 سالہ ننھی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا تھا تھا، زینب کی لاش گزشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔ زینب کے قتل کے بعد ملک بھرمیں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور قصور میں مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔بعدازاں چیف جسٹس نے زینب قتل کیس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران کیس کی تحقیقات کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے