Voice of Asia News

توہینِ انصاف :عنصر اقبال

جمہوریت بمقابلہ آمریت کی لاحاصل اور لامتناہی بحث میں الجھے ہوئے پاکستان میں گزشتہ چند ماہ سے ایک تیسری طاقت بڑی شدت سے زیرِبحث ہے ۔ جس طرح سے میڈیا پر عدلیہ کو زیرِبحث لایا جا رہا ہے میں اس سے قطعی اتفاق نہیں کرتا۔ تاہم جب یہ بات شروع ہو ہی گئی ہے تو اسے سمجھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ۔
ہماری ملکی تاریخ میں توہین عدالت کی کاروائی اس تعداد میں شاید پہلے دیکھنے میں نہیں آئی ۔حال ہی میں مسلم لیگ( ن )کے رہنما نہال ہاشمی اس جرم میں قید کاٹ کر رہا ہوئے ہیں البتہ یہ بات الگ ہے کہ وہ جس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ توہین عدالت کی سزا کس طرح اچھے خاصے نہال کو نو نہال بتا دیتی ہے ۔ماضی میں ایک وزیرِاعظم بھی اسی جر م میں گھر جا چکے ہیں ۔
اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ہمیں عدالت کے مفہوم کو سمجھنا ہو گا ۔ رہا سوال توہین کا تو ہر عام شہری اس کا ہر روز سامنا کرنے کی وجہ سے اس کے مفہوم سے با خو بی آشنا ہے ۔
کچھ ماہرینِ قانون کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی بھی عدالتی فیصلے پر تنقید کر سکتا ہے مگر کسی جج پر تنقید کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ۔یہ بات میرے جیسے کم پڑھے لکھے شہری کے فہم سے بلاتر ہے ۔ مثلاََ اگر میں عرض کروں کہ نیلسن منڈیلا عظیم لیڈر تھے لیکن ان کا اپنی قوم کو آزاد ی دلانے کا فیصلہ غلط تھا تو کیا یہ نیلسن منڈ یلا کی ازخود توہین کے مترادف نہیں ۔ ہم نے تو یہ بھی سن رکھا ہے کہ جج خود نہیں بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں تو تنقید فیصلے پر کی جائے یا منصف پر کیا فرق پڑتا ہے ۔
عدالت کا لفظ عدل سے آیا ہے جس کے معانی انصاف کے ہیں ۔ جس جگہ انصاف کیا جائے وہ عدالت جبکہ انصاف کرنے ولا منصف ،عادل یا جج کہلاتا ہے ۔ یہ اتنا اعلی و ارفع مقام اور کام ہے کہ آئینِ پاکستان عدالت اور جج دونوں کی عزت و ناموس کانا صرف ضا من ہے بلکہ اس کی خلاف ورزی قابل تعزیر جرم ہے ۔ عدالت ، منصف ، آئین و قانون ان سب کا مقصد محض انصاف ہے ۔ اب فرض کریں کہ کہیں انصاف کی ہی توہین ہو جائے تو ہمارا آئین ہمارا قانون اس ضمن میں کیا رہنمائی کرتا ہے ۔ میں اپنی گزارش کو چند مثالوں سے واضح کرنے کی جسارت کرنا چاہوں گا ۔
پاکستان میں آج بھی لاکھوں لوگ ذوالفقارعلی بھٹو کی سزاِموت کو عدالتی قتل کہتے ہیں ۔کیا عدالتی قتل توہین انصاف نہیں ؟ ۔اگر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی عدالتی قتل نہیں تو ایسا کہنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت کی کاروائی کیوں عمل میں نہیں لا ئی گی ۔ پاکستان کے معروف ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے بدنامِ زمانہ آرڈینینس جاری کیا جسے NRO کہتے ہیں ۔ یہ کالا صدارتی حکم نامہ قانون نہ بن سکا اور زائد المیاد ہونے کی وجہ سے اپنی طبعی مو ت مر گیا ۔اس زائدالمیاد حکم نامے کی مدت میں توسیع اسمبلیوں میں اس پر بحث اور اسمبلیوں کی طرف سے اس کی قانون سازی نہ ہونے کے بعد اسے عدالت کی طرف سے کالعدم قرار دیا جانا ۔ سوال یہ ہے کہ اسمبلی اگر اس غیر اخلاقی NROکو قانون قرار دے دیتی تو کیا یہ توہینِ انصاف نہ ہوتی ؟۔ ایسا حکم نامہ جس کے غیر قانونی ، غیر فطری اور غیر اخلاقی ہونے پر مجھ جیسے کم پڑھے لکھے شہری کو بھی کوئی شک نہیں اس پر دوبارہ بحث قوم اور عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرنا اگر توہینِ انصاف نہیں تو انصاف کے ساتھ مذاق ضرور ہے ۔ ماہرینِ قانون کے مطابق اسمبلیوں میں موجود ہماری سیاسی اشرافیہ اگر NROکو قانون کا درجہ دے دیتی تب بھی سپریم کورٹ کے پاس اسے کالعدم قرار دینے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں تھا ۔ جیسا کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں نا اہل شخص کو پارٹی صدارت پر فائز کئے جانے کے فیصلے کو بجا طور پر مسترد کر دیا ہے ۔ کیوں کہ اسمبلی کو ہر گز یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آئینِ پاکستان کے وضع کر دہ آئینی ڈھانچے کے خلاف قانون سازی کرے ۔
میرے خیال میں توہینِ انصاف کی سب سے سخت مثال عدلیہ کی جانب سے ایک ڈیکٹیٹر کو وردی میں صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت دینا تھا ۔
ہمارے نظام انصاف پر ایک اور الزام دہرا معیار بھی ہے کچھ دوستوں کے بقول جن خامیوں کے باعث نواز شریف عدالت کے فیصلے میں صادق اور امین نہیں رہے ان ہی خامیوں کے ساتھ عمران خان عدالت کی نظر میں صادق اورامین کے عہدے پر براجمان ہیں ۔کوئی بھی شخص Amnesty Scheme کے تحت اپنا کالا دھن تو سفید کر سکتا ہے لیکن کیا اسے اپنا کالا کردار سفید کرنے کے لیے کسی ایسی ہی سکیم کی سہولت میسر ہے ؟اگر ایسا نہیں تو عمران خان کی صداقت اور امانت دہایوں تک زیرِ بحث رہے گی۔اور اگر سوال الیکشن لڑتے ہوئے حقائق چھپانے کا ہے تو یہ بحث محترم خان صاحب کے 1997میں لڑے گئے الیکشن پر بھی سیر حاصل طور پر کی جا سکتی ہے ۔ اگر واقعی اسے دوہرا معیار مان لیا جائے تو کیا دوہرا معیارِ انصاف توہینِ انصاف نہیں ؟
اسی کی ایک اور مثال نظریہ ضرورت بھی ہے جسے خود سپریم کورٹ نے خلافِ انصاف قرار دیتے ہوئے ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے ۔لیکن کیا اس کے تحت ماضی میں کئے گئے فیصلے توہینِ انصاف کے زمرے میں نہیںآ تے؟
چنانچہ میر ی گزارش ہے کہ آئین کا چہرہ بگاڑ تے ہوئے آمروں اور نام نہاد جمہوری رہنماؤں نے جہاں بہت سی آئینی ترامیم اپنے مفاد میں کی ہیں ایک ترمیم ملکی مفاد میں بھی کر دیں جس میں توہینِ انصاف کی سزا بھی مقرر ہو ۔
ansariqbalpost@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے