Voice of Asia News

حکومت آتی جاتی ہے ۔۔۔جنگ صرف طبقاتی ہے خواجہ جمشید امام

عمر بھر سیاسی ورکر رہنے کا تہیہ شاید اسی تذلیل کی وجہ سے کیا تھا جو ہر قدم پر عام پاکستانیوں کا مقدر ہے ۔ چاہتے تھے اور چاہتے ہیں کہ عام انسان کو اس تذلیل کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ یہ انتہائی کربناک ہوتا ہے ۔احسن اقبال اور نواز شریف پر ارادہ کرکے جوتوں سے حملہ کرنے والے افراد اور خواجہ آصف کے بال اور چہرے پر روشنائی پھینک کر اُسے سیاہ کرنے والے فرد کی مذمت تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے کیں ۔سیاسی ورکروز بھی اسے موقف پر دو حصوں میں تقسیم ہیں ۔ایک گروہ اسے درست جبکہ دوسرا نا جائز او ر انتہاء پسندی سے تعبیر کررہا ہے ۔ یہ تینوں واقعات انتہاپسندی اور تذلیل کی ہر شکل جو اس سماج میں رائج ہے اُس تذلیل سمیت قابلِ مذمت ہے اس ملک کی رولنگ ایلیٹ کے ہاتھوں روزانہ تھانوں ٗ کچریوں ٗ عدالتوں اور ہرسٹرک پرعوام آدمی کو برداشت کرنا پڑتی ہے ۔
شہباز شریف نے پاکستان کو قائد کا پاکستان بنانے کا عہد کیا ہے اور اشرافیہ کو لعن طن بھی ۔ گزشتہ 71 سال میں یہ قائد کا پاکستان کیوں نہیں بن سکا ؟ یہ سوال الگ سے جواب طلب ہے لیکن یہ قائد کا پاکستان کیسا ہے جسے بنانے کے دعوی تو ہر کوئی کر رہا ہے لیکن بنا کوئی نہیں پا رہا ۔ دو تاریخی دستاویزات قائداعظم کی 11 اگست 1947 ء کو مجلس دستور ساز سے پہلی تقریر اور قائد کی وفات کے بعد 1949 ء میں میں تخلیق شدہ قرارداد مقاصد میں الجھاقائد کا پاکستان آج 70 سالوں میں یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہا کہ اس کے خدو خال قائد کے لبرل پاکستان کے ہوں گے یا قرار داد مقاصد کے اذاہان کی تخلیق شدہ قرارداد پاکستان کے۔ یہی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اوریہی دو گروپاکستان ہیں جنہوں نے ریاست کو الجھ کر رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا ۔جب تک آپ ریاستی بیانیہ واضح نہیں کریں گے اتنی دیر تک اگلے کاموں کے بارے میں سوچنا بھی پاگل پن کے سوا کچھ نہیں ۔ انتہا پسندی ٗ دہشتگردی ٗ عدم برداشت اور ایسی لاتعداد بیماریاں کسی پھل یا سبزی کے کھانے سے انسانی ذہنوں میں نمو نہیں پاتیں ۔ جب اقتدار کی سب سے اوپر والی کرسی پر لبرل آ جائے تو نیچے ریاست کو لبرل کرنے کی کوشیش شروع ہو جاتی ہے اور جب مذہبی خیالات یا انتہا پسند مذہبی خیالات رکھنے والا حکمران آ جائے تو پھر ملک میں ہر سو عرب کلچر کو اسلامی نام دے کر پرموٹ کرنے کی ریاستی کاوشیں شروع ہو جاتی ہیں ۔ جن لوگوں نے کل اس ملک میں انتہا پسندی کا پودا لگایا تھا آج وہ اتنا چھتناور ہوچکا ہے کہ اُس کی جڑیں اور شاخیں اُن کے اپنے گھروں تک پہنچ گئی ہیں لیکن گزشتہ 70 سال سے جاری کھیل تماشے میں ٗ رجعت پسند اور ترقی پسند دونوں اپنے اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں ۔ جو سائنسی علم رکھنے کے دعویدار تھے انہیں نہ صرف غیر سائنسی بلکہ سائنس دشمن گروہ سے بدترین شکست ہوئی ۔جس کی زندہ مثال آج کا سماج آپ کے سامنے ہے ۔
مذمت کرنے والوں کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی ایک طرف وہ نبی ؐ پر ماں باپ اور اولاد قربان کرنے کیلئے تیار ہیں اور دوسری طرف نواز شریف پرجوتے سے ہونے والے حملے کی مذمت بھی کر رہے ہیں ۔ یہ دوہرا معیار میری سمجھ سے باہر ہے ۔اگر تو یہ سب کچھ اُس سازش کا ردعمل ہے جو ناموس رسالت ؐ کے حوالے سے قومی اسمبلی میں ہوا تو پھر اس ردعمل کو ذہن میں رکھنا چاہیے تھا۔ نواز شریف کے ساتھ یہ واقعہ جامعہ نعیمہ میں پیش آیا ہے جن سے اُن کے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ پروگرام چند بندوں نے بنایا اور وہ نواز شریف کے اتنے قریب بیٹھا تھا کہ جوتا مارنے کے علاوہ بھی جو چاہتا کرسکتا تھا ۔ اس کیلئے اُسے سہولت دی گئی اور جوتے سمیت اُس مقام تک پہنچایا گیا ۔ اب جامعہ نعیمہ میں یہ کارنامہ کس نے سرانجام دیا ہے یہ بات سوچنے والی ہے ۔ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے ایک بڑے شوشل میڈیا جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کو رسالت ؐ مآب سے اورخود کو سیدہ فاطمہ سے تشبیہ دی اور پاکستانیوں کی بڑی اکثریت کو کفار قرار د ے کر اسلام بارے اپنی معلومات کا کھل کر اظہار کیا ۔ میں حیران ہوں کہ کس شخص نے اس کی مذمت نہیں کی اور اگر آپ محترمہ مریم بی بی کی باڈی لینگوئج اور چہرے کے تاثرات دیکھیں تو وہ رسالت ؐمآب کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے یہ ثاثر دے رہی ہیں کہ ’’ مجھے بھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہے ‘‘ ۔ یہ بات میں کسی مخاصمت یا سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نہیں لکھ رہا جسے شک ہے وہ یہ ویڈیو کلپ خود ملاخظہ فرما سکتا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ ایسے انگنت تذلیلی واقعات سے اٹی پڑی ہے ۔ کیا قائد اعظم کیلئے ایمبولینس کا تاخیر سے پہنچنا بانی پاکستان اور تمام پاکستانیوں کی توہین نہیں تھی ؟ کیا شیر بنگال اے ۔ کے فضل حق پر دہشتگردی کا مقدمہ بنانا اورتشدد کرنا تحریک پاکستان کے ہیرو کی تذلیل نہیں تھی ؟ کیا لیاقت علی خان کا قتل اس ریاست کے چہرے پر آج بھی سیاہ دھبہ نہیں ؟ کیا مادرِ ملت کے ساتھ ایوب دور میں ہونے والا تذلیلی رویہ قابل مذمت نہیں تھا ؟ کیا مولانا بھاشانی پرجمعیت کے ہاتھوں ہونے والا رویہ قابلِ ستائش تھا ؟ جناب 1970/71 میں بنگالیوں اور بلوچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی کس کس نے مذمت کی ؟ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بننے والے دلائی کیمپ کیا انسانیت کی تذلیل نہیں تھی ؟ کیا ضیاع الحق کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو اور وعدہ معاف گواہوں کے پھانسی لگنے کا واقعہ قابلِ مذمت نہیں تھا ؟ کیا محترمہ نصرت بھٹو پر ہونے والے تشدد پرکسی نے مذمت کی ؟ جناب اسی ملک میں نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طویل قید پر کسی نے مذمت کی ؟سمری ملٹری کورٹس کی سزائیں اور ملک میں انتہا پسندی ٗ منشیات فروشی اور کلاشنکوف کلچر کے خلاف کس نے مذمتی بیان دیا ؟ جسٹس نسیم حسن شاہ لاہور ہائی کورٹ میں بھٹو کو پھانسی دینے والے ججوں میں شامل ہوتے ہیں اور نواز شریف کی اسمبلی بحال کرتے وقت چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر براجماں ہوتے ہیں لیکن کوئی مذمت نہیں کرتا ۔نواز شریف کی اسمبلی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو یلیو کیب کہا جاتا ہے لیکن کوئی مذمت ؟ محترمہ بے نظیر بھٹو کی فحاش تصاویر ہیلی کاپٹروں سے گرائی گئیں لیکن مذمت نہیں ہوئی؟ ۔ عمران خان کے حوالے سے نون لیگ نے کون سے بد اخلاقی نہیں کی اور اُس میں پرنٹ میڈیا نے اُس کا کونسا ساتھ نہیں دیا لیکن مذمت ؟ اسلامی جمعیت طلبا ء کے ہاتھوں چیئرمین تحریک انصاف پر پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے تشدد پر کس کس نے مذمت کی ؟ میاں حمزہ شہباز کی غیر اعلانیہ زوجہ عائشہ احد کو لاہور کے ایک مردانہ تھانہ میں چھترول کروائی گئی لیکن مذمت ؟۔
چھوڑیں جنا ب!
ڈبل سٹینڈڈ ہیں غریب آدمی دوست بھی ہو تو اُس پر ہونے والے ظلم پر مذمت کرنے کیلئے دوست پیروں سے نکل جاتے ہیں اور امیر آدمی مخالف بھی ہوتو مذمتی بیان آ ہی جاتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ حکومت آتی جاتی ہے ۔۔۔جنگ صرف طبقاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے