Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر یونیورسٹی میں آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرہ بازی پر طلباء کے خلاف مقدمہ درج

سرینگ (وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں قائم بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کے خلاف آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرہ بازی کرنے پر مقدمہ درج کرلیاہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق طلباء نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں حال ہی میںشہید ہونے والے کشمیری نوجوانوںکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی اوراس دوران ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے لگائے تھے۔راجوری کے سینئر سپر انٹنڈنٹ پولیس کشور منہاس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلباء پیر کی صبح کیمپس میں جمع ہوئے اور بھارت کے خلاف اور آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانا شروع کئے ۔انہو ںنے کہا کہ پولیس نے اس سلسلے میں طلباء کے ایک گروپ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور جلد گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ ایک طالب علم نے کہاکہ ہم نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور اس کے فور۱ً بعد کلاسوں میں چلے گئے۔انہو ںنے کہا نماز جنازہ میں نہ صرف کشمیری بلکہ ضلع پونچھ کے طلباء نے بھی شرکت کی ۔ انہوںنے کہا کہ شہید ہونے والا نوجوان عیسیٰ فاضلی اس یونیورسٹی کا طالب علم رہا ہے اور یہاں کے طلباء اس کو جانتے ہیں کہ وہ کیسا طالب علم تھا۔پیر کو عیسیٰ فاضلی کی شہادت کی خبر یونیورسٹی میں پھیلتے ہی طلباء آدھی رات کے قریب اپنے ہوسٹلوں سے باہر نکل آئے اور بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق نعرے بلند کئے۔یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر محمد اصغر کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ صبح ادا کی گئی اور شام کو صورتحال معمول کے مطابق تھی ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس کو اس سلسلے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور وہ احتجاج میں اہم کردار ادا کرنے والے طلباء کی شناخت کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ان کو گرفتار کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے