Voice of Asia News

بچوں کی د یکھ بھال کیسے کی جائے؟

لاہور(وائس آف ایشیا)چھوٹی سے چھوٹی مشینری سے لے کر آسمان میں اڑنے والی جہاز تک مستقل توجہ اور دیکھ بھال کے محتاج ہوتے ہیں جبکہ انسان کو پیچیدہ ترین مشین تسلیم کیا گیا ہے لہٰذا اس کی مناسبت دیکھ بھال کئے بغیر اس کے درست چلنے کی توقع کرنا عبث ہے۔ انسان کا ابتدائی زمانہ بچپن کہلاتا ہے۔ اس زمانے میں اندورونی اور بیرونی نشوونما بنیادی اہمیت رکھتی اس لئے بچے کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ماں کا اولین فریضہ ہے۔ عام طور پر بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور اسے کسی مخصوص ٹائم ٹیبل کے مطابق غذا نہیں دی جاسکتی لہٰذا اس بارے میں ہر وقت محتاط رہیں۔ نومولود کی صفائی ستھرائی کابھی خیال رکھیں کیونکہ صاف ستھرا بچہ ہی صحت مند رہتاہے، بیمار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری مشورہ کریں تاہم پہلے کسی برزرگ سے بات چیت کریں کیونکہ دادی یا نانی کے پاس اس حوالے سے مفید معلومات ہوتی ہیں۔
٭ماں کی بھر پور ضرورت توجہ بچے کیلئے از حد ضروری ہے۔ ماں دیکھ بھال کرنے والی ہوگی تو وہ بچے کی ضرورت کا ہمہ وقت خیال رکھے گی۔ زیادہ بہتریہ ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے اور کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو ڈبے یا گائے کا دودھ اور بھینس کا دودھ استعمال کرواتے ہوئے صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں۔فیڈر کو کوگرم پانی میں ابال کر جراثیم سے پاک کریں اور دودھ پلانے کے فوراً بعد فیڈر کو اچھی طرح دھوکر رکھیں اور اس میں دودھ بچ گیا ہو تو اسے کسی برتن میں نکال لیا جائے۔ فیڈر کے نپل کو زیادہ پرانہ نہ ہونے دیں اور مکھیوں سے دور رکھیں۔
٭نومولود کی نگہداشت کیلئے ضروری ہے کہ ماں کو بچوں کی چھوٹی چھوٹی تکلیف کا اچھی طرح علم ہو۔ چھوٹے بچوں میں پیٹ کا درد اور دستوں کی بیماری عام ہے جو کہ بے احتیاطی یا صفائی کے فقدان کے باعث ہو سکتی ہیں۔ پیٹ کے درد کے صورت میں چنے کے برابر جائفل پیس کر شہد میں ملائیں اور بچے کو دیں۔ سینہ جکڑنے کی صورت میں یہ عمل دو سے تین مرتبہ دہرائیں۔ اگر پیٹ میں درد کا سبب دست ہے جائفل کی بجائے سفید زیرہ بھون کر پیس لیں اور شہد کے ساتھ استعمال کرائیں۔
٭چھوٹے بچوں کو جہاں تک ہوسکے ممکن ہوسکے چوٹ سے بچائیں بھی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ زیادہ بہتر ہوگا کہ بچے کو پالنے یا جھولے میں آرام کرنے دیں جہاں سے گرنے کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے، تاہم عام بستر پرلٹائیں تو دونوں طرف تکیہ رکھ کر رکاوٹ لگادیں تاکہ لڑھک کر نیچے گرنے کا احتمال نہ ہو۔
بچوں کو موسم کے مطابق کپڑے پہنائیں، گرمی کے موسم میں ہلکے اور سردی میں موٹے اور گرم کپڑے استعمال کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے لیکن سردیوں میں بھی اس بات کاخیال رہے کہ خیال رہے کہ بہت زیادہ رکھنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا ہے جیسے کہ اگر ہوا سے بچانے کے لئے ٹوپی پہنائی گئی ہے توموزے نہ پہنائے جائیں اور اگر پہنانا مقصود ہو تو وہ ادنی یا زیادہ گرم نہ ہوں۔ گھر سے باہر جاتے وقت بچے کو اچھی طرح ڈھانپ لیں لیکن گھر میں اپنے بستر پر موجود شیر خوار کو بہت زیادہ کپڑے اور سوئیٹر نہ پہنائیں کیونکہ اس طرح بھی اس کی طبیعت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
٭ ماں کو بچے کے نگہداشت کے ساتھ اپنی صحت کا خیال بھی رکھنا چاہئے ۔ ڈبے کے دودھ سے پرہیز کرکے اپنا دودھ پلانا چاہیے۔ جس سے بچہ صحت مند رہتاہے اور ماں بھی چھاتی کے سرطان سے محفوظ رہتی ہے ۔ ماں کادودھ بیماریوں کے خلاف دفاعی نظام کو مضبوط کرتاہے۔ گاہے بگاہے اپنا اور اپنے بچے کا طبی معائنہبے حد ضروری ہے، نیزماں اپنی خوراک کا بھی بہت خیال زیادہ خیال رکھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے