Voice of Asia News

رواں سال بھی جرمنی میں پناہ کی متلاشی افرادمیں شامیوں کا پہلا نمبر

برلن(وائس آف ایشیا)جرمنی میں مہاجرین اور تارکین وطن کو سیاسی پناہ ملنے یا نہ ملنے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ان کی پناہ کی درخواست کس جرمن صوبے میں جمع کرائی گئی۔ مختلف جرمن وفاقی ریاستوں میں پناہ دیے جانے کی شرح بھی مختلف ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن ریاستوں میں سیاسی پناہ کی شرح سے متعلق یہ اعداد و شمار ایک مقامی جرمن اخبارنے وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرت و ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے حوالے سے جاری کیے گئے۔جاری اعدادوشمارمیں بتایاگیا کہ گزشتہ برس کے دوران وفاقی جرمن ریاست زارلینڈ میں سیاسی پناہ کی تہتر فیصد درخواستیں منظور ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں جرمن صوبے برانڈنبرگ میں محض 24.5 فیصد تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں قبول کی گئیں۔جرمن ریاستوں میں سیاسی پناہ کی شرح سے متعلق یہ اعداد و شمار ایک مقامی جرمن اخبارنے وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرت و ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے حوالے سے جاری کیے ہیں۔بی اے ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس بھی پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ شامی شہری ہیں۔ فروری کے مہینے میں بائیس سو سے زائد شامی مہاجرین نے جرمنی میں پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ شامی مہاجرین کے بعد عراق اور نائیجیرین باشندوں کی تعداد نمایاں رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے