Voice of Asia News

خواتین کو صنفِ نازک کے طور پر لینے کی ضرورت نہیں، جرمن عدالت

برلن(وائس آف ایشیا)جرمن عدالت نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ خواتین اکاؤنٹ ہولڈرز کے ساتھ صنفی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بینک میں اکاؤنٹ رکھنے والے کو صنفی اعتبار سے ترجیح دینا بھی ضروری نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف نے اٴْس اسی برس کی خاتون کی اپیل خارج کر دی ہے، جس میں اٴْس نے بینک کے خلاف کیس کیا تھا کہ اٴْس کے ساتھ ایک خاتون کے مطابق سلوک نہیں کیا گیا۔بینک نے اس اسی سالہ خاتون کو محض اکاؤنٹ ہولڈر کے طور پر لیا اور اٴْس کی جنس کی وضاحت نہیں کی تھی۔اس مقدمے کی مدعیہ مارلیز کریمر نے عدالتی فیصلے کے ساتھ عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف جرمنی کی اعلیٰ ترین دستوری عدالت میں اپیل دائر کرے گی اور اگر وہاں سے بھی اٴْس کی داد رسی نہ ہوئی تو وہ یورپی یونین کی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔بزرگ خاتون کریمر جرمنی کے جنوب مغربی شہر زاربرٴْوکن کی رہائشی ہے اور اٴْس کا اکاؤنٹ اشپارکاسے بینک میں ہے۔ یہ بینک جرمنی کے بڑے اور اہم بینکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔وفاقی عدالت انصاف کے تین رکنی بینچ میں دو خواتین ججز بھی شامل تھیں۔ تین رکنی بینچ نے فیصلے میں واضح کیا کہ ریاست کے صنفی مساوات کے قوانین کسی خاتون کو یہ حق تفویض نہیں کرتے کہ اٴْسے ایک خاتون ہی کے طور پر لیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بینک کے معیاری فارم درست ہیں اور اٴْس پر مرد یا عورت کا ظاہر کیا جانا ضروری نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے