Voice of Asia News

فوج نے روہنگیا کے دیہات مٹا کر وہاں چھاؤنیاں بنا لیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل

ینگون(وائس آف ایشیا)عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہے کہ میانمار کی فوج ملک کی مشرقی ریاست راکھین میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہاکہ اس نے ان مقامات پر اپنی چھاؤنیاں بنا لی ہیں جہاں پہلے روہنگیا مسلمانوں کے گاؤں آباد تھے۔لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق راکھین میں اٴْن مقامات پر نئی فوجی چھاؤنیاں، ہیلی پیڈز اور سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے جہاں پہلے روہنگیا کے گاؤں تھے اور جنہیں جلا دیا گیا اور بلڈوزروں کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔یہ رپورٹ عینی شاہدین کے بیانات اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کے تجزیے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں اور اقوام متحدہ کی طرف سے کہا جا چکا ہے کہ سات لاکھ کے قریب روہنگیا کو زمین ہتھیانے کے لیے میانمار کی فورسز کی طرف سے زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔ میانمار کی فوج کی طرف سے روہنگیا کے خلاف اس کارروائی کا آغاز گزشتہ برس اگست میں کیا گیا تھا۔اس کی وجہ ایک روہنگیا عسکری گروپ کی طرف سے میانمار کی فورسز پر مبینہ حملوں کو قرار دیا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کرائسس ریسپونس ڈائریکٹر ترانہ حسن کے مطابق ہم ریاست راکھین میں جو دیکھ رہے ہیں وہ فوج کی طرف سے ڈرامائی سطح پر زمین ہتھیانے کا عمل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ انہی سکیورٹی فورسز کو وہاں رکھنے کے لیے نئی چھاؤنیاں بنائی جا رہی ہیں جنہوں نے روہنگیا کو نشانہ بناتے ہوئے انسانیت کے خلاف جرائم کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے