Voice of Asia News

گوادر بندرگاہ سے تین چار سال میں آمدن شروع ہو جائے گی،

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) وزیر مملکت برائے پورٹ و شپنگ چوہدری جعفر اقبال نے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ سے آئندہ تین چار سالوں میں آمدن شروع ہو جائے گی۔ وفاق کی جانب سے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 15 ارب روپے کی سڑک سمیت دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مسرت احمد زیب کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پورٹ و شپنگ چوہدری جعفر اقبال نے بتایا کہ 2006-07ء میں پرویز مشرف کے دور میں گوادر بندرگاہ کو سنگاپور کو دیا گیا تاہم اس نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا پھر ہم نے آکر اسے چین کو دیا۔یہاں پی ایس ڈی پی کے تین منصوبے ہیں۔ 15 ارب روپے کی لاگت سے زیرو پوائنٹ تک سڑک بھی زیر تعمیر ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین کے ساتھ کوئی رعایتی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ دو کنٹینر ایک بلوچ تاجر کے گئے ہیں۔ کنٹینر لائن آچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس کی تین ماتحت آپریٹنگ کمپنیاں رعایتی عرصہ کے دوران اپنے مجموعی محاصل پر ٹرمینل آپریٹنگ کمپنی 9 فیصد‘ مائرین سروس کمپنی 9 فیصد اور فری زون کمپنی 15 فیصد ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر تین چار سال بعد نفع کمانا شروع کردے گا۔ آمدن کا نو فیصد گوادر پورٹ اتھارٹی کا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے