Voice of Asia News

قرار داد کی منظوری کے بعد تحریک پاکستان میں نئی روح آگئی:تحریر: عنصر اقبال

قرار داد کی منظوری    14اگست 1947 کو ہمیں انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی۔ برصغیر پاک و ہند پر اس سے قبل مسلمانوں نے تقریباً 800 سال تک حکومت کی، انگریز یہاں تجات کے بہانے داخل ہوا اور آہستہ آہستہ یہاں اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے یہاں مکمل قبضہ کر لیا۔ ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد تھیں، ایک ہندو اور دوسرے مسلمان۔ کافی عرصہ تک یہ دونوں انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد میں اکٹھے رہے، لیکن مسلمانوں نے محسوس کیا کہ ہندو انگریزوں کے جانے کے بعد یہاں اپنا قبضہ جمانے کا خواب دیکھ رہا ہے تو انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے علیحدہ سیاسی جدوجہد شروع کر دی۔ 1937 کے اجلاس لکھنو نے ثابت کر دیا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے قائد محمد علی جناح کی ذات پر پورا بھروسہ ہے اور وہ ان کے حکم کی تعمیل میں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ مسلم رہنماؤں میں علامہ اقبالؒ ، مولانا محمد علی جوہرؒ ، لیاقت علی خانؒ ، چوہدری رحمت علی، نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، محترمہ فاطمہ جناح، مولوی فضل حق و بے شمار دیگر رہنما شامل تھے۔ 1940 میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس لاہور کے وسیع گراؤنڈ منٹوپارک میں منعقد ہوا جس کا نام آج کل اقبال پارک ہے۔ اس اجلاس میں مسلمانو ں کیلئے ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ تجویز ’’قرارداد لاہور‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ’’مسلمان اپنے مخصوص فلسفہ زندگی کے نشوو ارتقاء او بقا و استحکام کیلئے ایک الگ الگ اور علیحدہ فضا چاہتے ہیں ، لہٰذا اگر مسلمان ہندوستان میں ایک تمدنی قوت کی حیثیت سے زندہ رہنے کے آرزو مند ہیں تو ضرورت ہے کہ وہ ایک الگ اسلامی ریاست کا قیام کا مطالبہ کریں۔ جہاں وہ ہندوؤں سے الگ رہ کر اپنی قومی اور ملی شخصیت کو قائم رکھ سکیں۔ 1942تک اس قرار داد پاکستان کا نام نہیں دیا گیا تھا مگر غیر مسلم اخبارات اس کو پاکستان کا نام دے کر اس کی پرزور مخالفت کر رہے تھے۔ یکم مارچ 1942 کو قائداعظم نے اسلامیہ کالج لاہور کے میدان میں قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’ہم نے قرار داد لاہور کو پاکستان کا نام نہیں دیا تھا لیکن اگر ہمارے دشمن ہمیں چڑانے کیلئے اس نام کو استعمال کر رہے ہیں تو ہم اس سے چڑیں گے نہیں بلکہ اب اس سے اس کو قرار داد لاہور کے بجائے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کے نام سے ہی پکارا کریں گے۔
اس قرار داد کی منظوری کے بعد پاکستان بننے کی تحریک میں ایک نئی روح آگئی اور تحریک نے شدت اختیار کر لی۔ ایک موقع پر کانگریس نے محسوس کیا کہ اگر مسلم لیگ مجلس دستور ساز اسمبلی میں شریک نہ ہوئی تو مجلس کی نمائندہ حیثیت قانوناً ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ کانگریس نے وزیراعظم کے اس اعلان پر پیدا شدہ صورتحال کے متعلق مسلم لیگ کو دعوت غور فکر دی، لیکن قائداعظم چونکہ ہندو ذہنیت سے خوب واقف تھے اور آئے دن کے تجربات نے ثابت کر دیا تھا کہ یہ مسلمانوں کو اٹھنے نہیں دیں گے اور ہندو سامراج کے خواب دیکھ رہے ہیں، اس لیے انہوں نے اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اب کانگریس نے ایک اور چال چلی اور پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا مطالبہ پیش کر دیا۔ نیز مسلمانوں کو مرغوب کرنے کیلئے سکھوں کے سامنے ایک الگ سکھ ریاست کا تصور پیش کیا، اگرچہ پنچاب میں خضر حکومت نے ہر طرح کی سختی سے پاکستان تحریک کو دبانے کی کوشش کی، مگر اس میں کامیاب نہ ہوئی ہزاروں آدمی ہنسی خوشی جیلوں میں چلے گئے، مردانہ وار سینوں پر گولیاں کھائیں، لاٹھی چارج ہوئے، آنسو گیس پھینکی گئی، اس کے علاوہ ہندوؤں نے ہر مرحلہ پر ہندو مسلم فساد پر برپا کرنے کی کوشش کی، مگر مسلمانوں نے اس تحریک کو بڑے ہی پر امن طریق پر چلایا، بچے بچے کی زبان پر ایک نعرہ تھا۔
تقسیم ہند کیلئے انگریز نمائندہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس رہنما پنڈت نہرو میں پہلی ملاقات ہوئی تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائداعظم کے متعلق کانگریس کا نقطہ نظر معلوم کرنے کیلئے چند ایک سوالات کیے جن کے جواب میں پنڈت نہرو نے کہا کہ آخری عمر میں ان کو کامیابی کے آثار نظر آرہے ہیں، تاہم پنڈٹ نہرو کو یہ کہنا پڑا کہ جناح 1935 سے اس مقصد کیلئے لڑ رہے ہیں۔ جب قائداعظم لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملے تو آپ نے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر گفتگو میں شریک ہو سکتا ہوں لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ میں کسی بھی شرط پر گفتگو نہیں کر رہا۔ میں صرف آپ کے خیالات معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ گفتگو کے بعد لارڈ موصوف کو کہنا پڑا ’’جناح کس قدر ٹھنڈے دل و دماغ کے مالک ہیں۔‘‘ گفتگو کا سلسلہ جاری رہا مگر کوئی قابل قبول حل برآمد نہ ہوا۔ ملک میں ہندو مسلم فسادات شدت اختیار کرتے جارہے تھے سیوک سنگھ کے منظم دستے منظم طریق سے مسلمانوں پر حملے کر رہے تھے اس موقع پر پنڈت نہرو نے دھمکی دی کہ اگر کوئی فیصلہ نہ ہوا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ دوسری طرف قائداعظم کا ایک ہی مطالبہ تھا ’’پاکستان‘‘ ملک کی حالت بد سے بدتر ہورہی تھی۔ قتل و غارت گری، لوٹ مار اور آتش زئی کی فضا نے شہروں سے نکل کر پرامن قصبات اور دیہات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 2 مئی کو لارڈ اسکیم وائسرائے کا منصوبہ لے کر لندن گئے۔ جہاں 10 مئی کو پارلیمنٹ نے اس منصوبہ کو منظور کر لیا۔ 17 مئی کو وائسرائے نے ہندو، مسلم اور سکھ لیڈروں کی ایک کانفرنس طلب کی جس میں اس سکیم کو ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد وائسرائے ہند اب کے خود لندن گئے اور برطانوی حکومت کے سامنے تقسیم ملک کی اسکیم کھی جسے حکومت نے تسلیم کر لیا۔
ہر جگہ ’’لے کر رہیں گے پاکستان، بن کر رہے گا پاکستان‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے۔ آخر مسلمانان ہند کا یہ مطالبہ 14 اگست 1947 کو پورا ہو گیا اور پاکستان دنیا کے نقشہ پر بڑے اسلامی ملک کی حیثیت سے ظاہر ہوا۔
یہ وطن بڑی قربانیوں اور انتھک کوششوں کے بعد حاصل ہوا تھا جو مسلمانان ہند کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص انعام تھا۔ اس پاک سرزمین کی بدولت مسلمانوں کو ہندوؤں کے غاصبانہ حملوں اور سازشوں سے نجات مل گئی اور وہ اپنے الگ وطن میں مکمل آزادی سے مرضی کی زندگی بسر کرنے کے قابل ہو ئے، مگر افسوس کہ آج اس پاک سر زمین کو 1947 سے بھی بڑھ کر مشکل حالات درپیش ہیں مسلمانوں کے دشمن ہماری اس دھرتی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں، معصوم پاکستانیوں کو بم دھماکوں کے ذریعے خون میں نہلایا جا رہا ہے بستی بستی خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی گئی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ وہی جذبہ، وہی ارادہ اور ویسا ہی اتحاد قائم کیا جائے جو پاکستان بنانے کیلئے قائم کیا گیا تھا تاکہ آج پھر پاکستان کی بقا اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہمارا ملک تاابد قائم و دائم رہے۔ آمین۔

ansariqbalpost@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے