Voice of Asia News

معاشی ترقی کیلئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کو فروغ دیا جائے : محمدقیصرچوہان

اگر اقوام عالم کی تاریخ پر نظر ڈالی جاتے تو پتہ چلتا ہے کہ جن قوموں نے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا، ترقی نے ان کے قدم چومے اور خصوصاً فنی تعلیم کے حوالے سے جب بات ہوتی ہے تو معلوم ہوتاہے کہ آج کے سائنسی و ترقی یافتہ دور میں ان ممالک کی معیشت میں واضح تبدیلی آئی ہے جنہوں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن پر خصوصی توجہ دی۔اسی لیے ماہرین ٹیکنیکل ایجوکیشن کوکسی بھی ملک کے معاشی استحکام کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں فنی تعلیم پر توجہ عمومی تعلیم سے کہیں کم ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز میں فنی تعلیم کی شرح صرف 4 سے 6 فیصد جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے پاکستان میں تعلیمی اور معاشی اجتماعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو یہ صورتحال سامنے آتی ہے کہ ملک میں 17 سے 23 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد اڑھائی کروڑ ہے جن میں سے صرف 4 فیصد کالج جاتے ہیں جبکہ 96 فیصد اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں باقی 4 فیصد میں سے 70 فیصد آرٹس اور 30 فیصد سائنس مضامین رکھتے ہیں ڈگری ہولڈرز میں سے 40فیصد سے زائد بیروزگار ہیں اور جو برسر روزگار ہیں ان کی آمدن بھی اخراجات کی نسبت لگ بھگ 70 فیصد کم ہے ہمارے 70 لاکھ افراد دوسرے ممالک میں ملازمتیں کر رہے ہیں جن میں سے کم از کم 60 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے یہ نوجوان زیادہ تر فنی تعلیم کے کم مدت دورانیے کے کورس کر کے بیرون ممالک اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں بلاشبہ جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی عمومی تعلیم کا حصہ بنا کر اس پر توجہ دی وہاں معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہے ہمارے ہاں بھی ارباب اقتدار اختیار اس امر کا اعتراف تو کرتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل فنی تعلیم سے جڑا ہے اور نوجوان نسل کو فنی علوم سے آراستہ کر کے نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے فروغ کیلئے قابل ذکر پیش رفت نہیں کر پائے۔دنیا میں انہی قوموں نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں جنہوں نے اپنی نوجوان نسل کو عہد حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ کیا ہے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے انہیں جدید علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مختلف فنون و شعبہ جات میں تربیت دے کر ملک کی تیز رفتار ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے ملک میں فنی تعلیم کے موجودہ اداروں کی تعداد نوجوانوں کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی ہے کیونکہ ہر سال سکول اور کالج کی سطح سے نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر روزگار کی تلاش میں نکلتی ہے جن میں سے اکثر تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے مسترد ہو جاتے ہیں اگر ان کے نصاب میں کوئی ایک بھی فنی کورس شامل ہوتا تو انہیں مایوسی کا سامنا ہرگز نہ کرنا پڑتا بد قسمتی سے ملک کی مجموعی آمدنی کا صرف 1.7 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں یہ 7 سے 9 فیصد ہے ہمارے ملک کے 51 فیصد بچے پرائمری سے آگے تعلیم حاصل نہیں کرتے اور صرف 6 سے 7 فیصد نوجوان فنی تعلیم کی دسترس رکھتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ان کی تعداد 60 فیصد ہے فنی تعلیم و تربیت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ فنی تعلیم و تربیت کے اداروں کی انتظامیہ کو صنعتی اداروں کے آجروں سے نہایت قریبی تعلق قائم کرنا چاہیے جس سے فنی تعلیم و تربیت یافتہ نوجوانوں کو لیبر مارکیٹ میں روزگار کے مواقع ملیں صنعت و حرفت کی مانگ اور بیرون ممالک میں فنی کاریگروں کی مانگ پوری کر سکیں ان اداروں کی پالیسیوں کی تربیت میں دوسرے ممالک کی طرح ٹریڈ یونین تنظیموں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اس قومی کام میں ممدو معاون ہوں اور کارکنوں کو بہتر فنی تعلیم و تربیت کی فراہمی کیلئے ترغیب دیں تعلیم و تربیت میں کاریگروں کو صرف ایک ٹریڈ کا ماہر ہی نہیں کرناچاہیے بلکہ انہیں مختلف کام بمعہ الیکٹریشن، مکینک وغیرہ کی اجتماعی اہلیت ہوتا کہ لیبر مارکیٹ میں انہیں روزگار کی فراہمی میں آسانی ہو، نصاب کو موجودہ دور کے مطابق ریوائز کیا جانا چاہیے اور ڈپلومہ کورسز جو پاکستان میں 50 سال سے زائد عرصہ سے ہو رہے ہیں ان کے استحکام کیلئے ٹیکنیکل ٹیکسٹ بک بورڈ بنایا جائے جو کورس کی تکنیکی تبدیلیوں کے حوالے سے پیش رفت کرے اور طلبا کے نتائج کو دیکھتے ہوئے کورسز کو ان کی ذہنی استعداد کار کے مطابق ڈھالنے میں معاون ہو فنی تعلیم کے شعبے کا فروغ اور آگہی کیلئے ایک طویل المدت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اس ضمن میں ایک فعال، آزاد اور خود مختار بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے جو مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہو اور ایک ایسا روڈ میپ وضع کرے جو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیزی سے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کیلئے اقدامات کرے ایک ایسا ماڈل تیار کیا جائے جس کے تحت پرائیویٹ سیکٹر میں فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو سبسڈی اور پرائیویٹ سیکٹر کو مراعات دی جائیں اسی طرح دور دراز علاقوں میں فنی تعلیم کے فروغ کے اقدامات کرتے ہوئے خواتین، معذور افراد اور چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں کی فنی تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے حکومت اگر ملک بھر میں بے کار پڑی سرکاری عمارات کو فنی تعلیم کے مراکز کے طور پر استعمال کرے تو اس سے نہ صرف آگہی میں اضافہ ہو گا بلکہ تعلیم و تحقیق کے فروغ کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم کے رجحانات میں بھی اضافہ ہوگا دوسری جانب ٹیکنیکل کورسز کا موجودہ سلیبس بھی تبدیل کرتے ہوئے اسے دور حاضر کی جہتوں اور طلبا کی ذہنی صلاحیتوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے وقت کا تقاضا ہے کہ فنی کاریگروں کی محنت کی قومی و صنعتی سطح پر ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ نوجوانوں کو کلرکوں کی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے فنی تعلیم و تربیت کے حصول کاشوق بڑھے ان حالات میں فنی تعلیم و تربیت کی فراہمی کیلئے کم ازکم قومی آمدنی کا 8 فیصد خرچ کیا جانا گزیر ہے۔اس کے علاوہ طلبا کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب کی دستیابی اور عملی طور پر صنعتی ماحول میں کام کے مواقع اور عملی تربیت کے دوران استعمال ہونے والے اوزاروں اور مواد کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ اور معیاری فنی تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کر کے فنی ماہرین کو قومی و صوبائی سطح پر کوریا، جاپان، جرمنی کی طرح سالانہ مقابلہ منعقد کر کے ماہرین کی حوصلہ افزائی کی جائے ان کی کم از کم اجرتیں معقول رکھی جائیں تاکہ ان کے فن و علم کی قدر افزائی ہو، نوجوانوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے حکومتی کاوشوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت بے حد اہمیت کی حامل ہوتی ہے نجی سیکٹر اپنے تئیں یہ فریضہ انجام دے رہا ہے لیکن جب تک حکومت کی شراکت داری اور سرپرستی نجی سیکٹر کے ساتھ نہ ہو اس سلسلے کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا نوجوانوں کی فنی تعلیم و تربیت سے نہ صرف ملک کی صنعت و حرفت اور زراعت کی ترقی میں قابل قدر اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کو فنی تعلیم سے مرضع ہونے پر اندرون اور بیرون ملک میں روزگار کے مواقع میں بے حد وسعت پیدا ہو سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ فنی تعلیم سے آگہی، فروغ اور اس جانب رجحان کیلئے مڈل اور میٹرک کی سطح سے ہی ایک یا دو ٹیکنیکل کورس لازماً نصاب میں بطورلازمی مضمون شامل کئے جانے چاہئیں تاکہ طلبا کو ڈاکٹر اور انجینئر کے علاوہ بھی کوئی ایسا شعبہ دکھائی دے جو بعدازاں انہیں معاشی سہارا دے سکے۔
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے