Voice of Asia News

پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے بلا امتیاز احتساب ناگزیرہے: محمدقیصرچوہان

قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ سولہ نومبر 1999 کو کرپشن کے خلاف تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا یہ آئینی طور پر کام کرنے والا ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس کا کام سرکاری اور متعلقہ محکموں کے علاوہ نجی اداروں میں بھی مالی بد عنوانیوں کا جائزہ لینا اور مالی دہشت گردی میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لاکر سزائیں دلانا ہے۔ پاکستان کے بد عنوان سیاسی کلچر میں یہ ادارہ خود بھی کارکردگی اور بد عنوانی کے لحاظ سے اکثر زیر بحث آتا رہا ہے۔ تاہم پاناما کیس کی تحقیقات کے دوران اس نے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں بھرپور تعاون کر کے مثالی کردار ادا کیا تھا۔ نیب پر ایک الزام یہ ہے کہ اس نے کرپشن میں ملوث سابق فوجی افسروں کے معاملات میں دلچسپی نہیں لی۔ اس کی کارکردگی بس صرف سیاسی افراد تک محدود ہے جبکہ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ فوج کا اپنا احتسابی نظام موجود ہے جس کے تحت حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کے معاملات کی تحقیق و تفتیش کر کے سزاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن ان کی سیاستدانوں اور عام شہریوں کے معاملات کی طرح تشہیر نہیں کی جاتی اس لیے حکومتیں اور سیاسی جماعتیں یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ فوجی تمام قوانین اور سزاؤں سے محفوظ رہتے ہیں سزائیں صرف سیاستدانوں کا مقدر ہیں۔ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو یا نیب آئین پاکستان کے تحت وجود میں آیا تھا اور یہ اسی کے ماتحت رہ کر کام کرنے کا پابند ہے۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال بطور چیئرمین نیب چار برس تک اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال یکم اگست 1936 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے تھے نہایت صحت مند اور چاق و چوبند پبلک پراسیکیوٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1981 میں محکمہ قانون میں ڈپٹی سیکریٹری اور 1982 میں قائم مقام سیکریٹری کے فرائض انجام دیئے۔ ان کے عدالتی کیریئر کا آغاز 1982 میں بطور سیشن جج ہوا۔ 1993 میں انہیں ہائیکورٹ کا جج بنا دیا گیا۔ انہوں نے 1999 میں پرویز مشرف کے نافذ کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ تاہم نومبر 2007 میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی کے تحت انہوں نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ عدلیہ بحالی کے بعد وہ جولائی 2011 کو سپریم کورٹ کے سینئر جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ موجودہ حالات میں چیئرمین نیب کا عہدہ ان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ملک بھر میں ہر طرف کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ ہو رہا ہے اور اس میں ملوث بڑے بڑے مگرمچھوں کے منہ میں ہاتھ ڈالنا بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔ اہل وطن دُعا گو ہیں کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال عظیم قومی فریضے کی انجام دہی میں سرخرو ہوں۔
مالی دہشت گردوں اور قومی دولت کے لٹیروں کے گرد سپریم کورٹ ، ہائی کورٹس اور احتساب عدالتوں کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قومی احتساب بیورو کی کارکردگی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں، سیاستدانوں، نوکر شاہی کے کارندوں، سرمایہ داروں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف احتساب کا شکنجہ روز بروز سخت تر ہوتا جا رہا ہے جسے پاکستان کے بیس کروڑ سے زائد مجبور، مظلوم باشندے خوش ہو کر خدا کی گرفت قرار دے رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اس گرفت میں آنے والے اب نہ بچ سکیں گے۔ جب نواز شریف اور ان کے خاندان کے لوگ اپنی تمام تر قوت اور اقتدار کے باوجود سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیئے جا سکتے ہیں تو دوسرے لٹیرے اور دہشت گردوں کے سہولت کار احتساب سے کیونکر بچ پائیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اعلیٰ عدالتیں پوری طرح آزاد ہیں۔ وہ نہایت فرض شناسی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور کوئی بھی دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ عدلیہ کی آزادی اور فرائض کی انجام دہی میں فوج سمیت کوئی دوسرا ادارہ وسیع تر قومی مفاد میں مداخلت نہیں کر رہا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کئی بار فوج کا یہ اصولی موقف بیان کر چکے ہیں کہ وہ سیاست میں دخل دینے کے بجائے جمہوریت اور حکومت کو آئین و قانون کے تحت اپنے اختیارات و فرائض انجام دینے کی قائل ہے۔ اس کا ارادہ سیاستدانوں سے مفاہمت کا ہے نہ مارشل لاء لگانے کا ۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے خلاف توقع نیب کے ہر چھوٹے بڑے افسر پر واضح کر دیا ہے کہ وہ کوئی دباؤ، سفارش اور جانبداری قبول نہ کریں بلکہ دیانتداری کے ساتھ قومی دولت کے تمام لٹیروں کو احتساب اور قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزاؤں کے منطقی انجام تک پہنچائیں۔ وہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت وطن واپس لانے کے لیے مکمل طور پر پر عزم ہیں۔
مجرموں کو سزائیں دلانے سے زیادہ عوام کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ لوٹی گئی قومی دولت جلد از جلد پاکستان واپس لائی جائے تاکہ قومی معیشت کو بیرونی قرضوں سے نجات دلا کر عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کئے جا سکیں۔ وہ گزشتہ 70برسوں سے شدید زبوں حالی اور کسمپری کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ اس کے برعکس خائن، لٹیرے اور بددیانت حکمران، سیاستدان، سرمایہ دار اور نوکر شاہی سمیت بد عنوان افسران و حکام انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاناما پیپرز کے انکشافات سے معلوم ہوا تھا کہ پاکستان کے چار سو سے زائد مقتدر و متمول افراد نے ٹیکسوں سے بچنے کیلئے پاناما اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان میں لگائی جانے والی رقوم کا بڑا حصہ قومی دولت کا ہے جو با اثر و رسوخ پاکستانیوں سے لوٹ کر بیرون ملک بھیجی تھیں۔ یاد رہے کہ قومی دولت لوٹنے والے لٹیروں کے خلاف سب سے پہلے امیر جماعت اسلام پاکستان سراج الحق اور غریب آدمی پارٹی پاکستان کے صدر شہباز ابن علی نے آواز اٹھائی تھی لیکن بعد میں سارا کریڈٹ عمران خان لے گئے۔
سیاسی و جسمانی دہشت گردوں کی پکڑ اور سزاؤں کے بعد مالی دہشت گردوں کی گرفت کا نمبر آیا تو قانون قدرت اور اسلامی ضابطوں کے مطابق یہ سلسلہ نیچے کے بجائے اوپر سے شروع ہوا۔ گزشتہ35 برسوں سے ملک اور پنجاب پر حکمرانی کرنے والا شریف خاندان اپنے بے پناہ اختیارات کو بے جا استعمال کرتے ہوئے اس مدت میں بہت مال و دولت اور اثاثے جمع کر کے اور اندرون و بیرون ملک کئی کمپنیاں قائم کر کے اصلی اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان کا کثیر سرمایہ دوسرے ممالک میں منتقل کر چکا تھا۔ لوگ کا مال بیرون ملک پہنچا کر وطن عزیز کو کنگال اور عوام کو بے حال کرنے میں زرداری خاندان کا ریکارڈ شریف فیملی سے بھی زیادہ خراب ہے لیکن فی الحال وہ احتساب اور قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک دھڑے کی سربراہی کرنے والے آصف علی زرداری کو اندازہ ہے کہ وہ خود ان کے خاندان کے افراد اور دوست احباب کے گرد بھی جلد ہی شکنجہ سخت ہونے والا ہے۔
شریف خاندان قانونی اداروں کے خلاف اپنا پروپیگنڈا جاری رکھ کر خود اپنا ہی نقصان کررہا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فوج آئین و قانون کے مطابق قومی اداروں کی پشت پر کھڑی ہے جس کی وجہ سے اعلیٰ عدالتیں خود کو مضبوط و مستحکم تصور کر کے پوری دیانتداری اور بے خوفی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اہل وطن البتہ اس امر کے منتظر ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بد نام زمانہ انتہائی کرپٹ ٹولے کو بھی جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ سیاسی معاملات اور شخصیات کے بارے میں عدلیہ ازخود نوٹس لینے کے بجائے چاہتی ہے کہ ملک کو لوٹ کر کھوکھلا کر دینے والوں کے خلاف سیاسی ، مذہبی اور معاشرتی شخصیات ، محب وطن کلا کی مدد سے عدالتوں میں مقدمات لے کر جائیں تاکہ کوئی بے ایمان، بد دیانت اور بد عنوان شخص سزا سے بچ سکے اور آئندہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ جبکہ جمہوریت کا اولین درس یہی ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری یکساں اور برابر ہیں۔ کسی بھی معاشرے اور مملکت کو اس وقت تک مہذب کہلانے کا حق حاصل نہیں جب تک وہاں قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ زندہ معاشروں میں قانون کی حکمرانی، عدلیہ کے احترام، جمہوریت کے استحکام اور اداروں کے مابین مفاہمت کی عظیم روایات کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ اصل چیز قانون کی بالادستی ہوتی ہے نہ کہ افراد کی۔ مہذب قومیں اشخاص کی بالادستی کے بجائے قانون کی بالادستی ہی کو ریاست کی بقاء استحکام اور سلامتی کا حتمی ضامن تصور کرتی ہیں۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ اس کے قیام کے روز اول سے تادم تحریر احتساب کا کوئی موثر اور مربوط نظام قائم نہیں ہو سکا۔ حکومت جرنیلوں کی رہی ہو یا منتخب سیاستدانوں کی ، سب نے احتساب کے ادارے کو اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ لفظ احتساب بد نام تو ہوا، اپنے معنی سے بھی محرو م ہوگیا۔ لازم ہے کہ پارلیمنٹ احتساب کا ایسا کڑا نظام وجود میں لائے جس کے تحت ہر کہ ذمہ دار سے پوچھ گچھ کی جا سکے۔۔۔ خواہ وہ اپنے تئیں مقدس گائے کا درجہ رکھتا ہو یا سیاسی مخلوق میں سے ہو۔ اگر وہ قصور وار قرار پائے تو اسے قرار واقعی سزا دینے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہ کی جائے۔ مہذب معاشروں میں قوموں اور حکومتوں نے اس طرز عمل کو اختیار کر کے لائق رشک کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اور ترقی کے آسمانوں کو بھی چھوا ہے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ ہم مہذب معاشروں سے کیوں کوسوں پیچھے رہ گئے پسماندگی نے ہمیں بد حالی کی دلدل میں کیونکر دھکیلا۔ اگر ہم احوال وہ قائع کا غیر جانبدارانہ تجزیہ تحلیل کریں تو بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی رویوں میں آئین و قانون کی حکمرانی کا تصور راسخ ہو سکا نہ ہماری مروجہ سیاست تہذیب اور شائستگی سے آشنا ہو پائی۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے ہمار کام صرف سر پھٹول اور میڈیا ٹرائل رہ گیا ہے۔ اگر ہم نے اس سے نجات نہ پائی تو یہ کہنا یقیناًمبالغہ نہ ہو گا کہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔
ہمارے نزدیک اس ناگفتہ بہ صورتحال کا موثر اور واحد علاج یہ ہے کہ مملکت خدا داد پاکستان میں ایک بے لاگ ، شفاف اور ہر قسم کے امتیاز سے بالا احتساب کا نظام قائم کیا جائے جو بد عنوانی کے مرتکبین کو خواہ وہ صدر، وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر، بڑے سے بڑا جنرل، صنعت کار یا اربوں میں کھیلنے والا تاجر ہو یا اعلیٰ ترین عدالت کا جج، ان سب کو محسوس ہوکہ احتساب کی تلوار ان کے سروں پر لٹک رہی ہے اور انہیں اپنے جرائم کا حساب کتاب دینا ہو گا۔ یہ تو طے ہے کہ حکمران جماعت خواہ وہ وفاق کی ہو یا کسی صوبے کی اسے کسی بھی فرد یا محکمے کے بارے میں بھی الزامات کے حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردینے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح اداروں کے افراد کو بھی جن کے خلاف الزامات ہوں احتساب کے کٹہرے میں آنا چاہیے۔ حقیقی احتساب وہی ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں بلا امتیاز اور بلا تخصیص ہو۔میرے نزدیک آئینی حدود کی خلاف ورزی کا مرتکب خواہ سوملین ہو یا غیر سو ملین ہر قسم کے رسوخ کی پروا کئے بغیر قومی خزانے پر شب خون مارنے والے قابل گرفت کو کلیدی جرائم پر کسی قسم کی رعایت بروئے کار نہ لائی جائے۔ لہٰذا ایسے آئینی و قانونی اور حکومتی بحرانوں سے نبٹنے کیلئے بے لاگ احتسابی قوانین سازی کی جائے اور ان قوانین پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔ اب بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بلا تاخیر قومی احتساب کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ایک با اختیار ، خود مختار اور فعال قومی احتساب کمیشن ہی کرپشن کے خاتمے کی حتمی ضمانت ہے۔ اس کمیشن کے اقدامات ایسے شفاف ہوں کہ کسی کو انگنت اعتراض بلند کرنے کا موقع میسر نہ ہو۔ یہی جمہوریت کے شایانِ شان اور حق میں بہتر، مفید اور افادہ رساں ہو گا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر احتساب بلا امتیاز نہیں ہو گا تو کرپشن کے سیلاب کے آگے بند نہیں باندھا جا سکے گا۔ پوری قومی کی نظریں اس وقت نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سمیت نیب کے دیانتدار افسروں اور اعلیٰ عدالتوں پر لگی ہوئی ہیں تاہم انصاف میں تاخیر کے باعث انہیں پریشانی کے علاوہ مختلف خدشات بھی لاحق ہیں۔ مقام شکر ہے کہ افواج پاکستان آئین و قانون کے تحت اعلیٰ عدالتوں کی پشت پر ہیں ورنہ قاتل ، لٹیرے ،دہشت گرداور کرپٹ مافیا انہیں کبھی آزادی سے کام نہیں کرنے دیتا۔
qaiserchohan81@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے