Voice of Asia News

پاکستان کی ترقی کا رازقلم وکتاب کے کلچر کو فروغ دینے میں ہے ماہر تعلیم نبیلہ غفور کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو:محمد قیصر چوہان

پاکستان کی ترقی کا رازقلم وکتاب کے کلچر کو فروغ دینے میں پوشیدہ ہے
تعلیم عوام کا بنیادی آئینی حق ،ہر ایک تک پہنچاناحکومت کی ذمہ داری ہے
علم کی روشنی سے ہی جہالت کے اندھیرے ختم ہوں گے ،پاکستان کی نامور ماہر تعلیم نبیلہ غفور کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو

کسی بھی مہذب معاشرے کی تکمیل میں تعلیم و تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے خصوصاً اس وقت جب کسی ملک کے عوام اپنی اقدار کو بھول چکے ہوں ان کو راہ راست پر لانے کے لئے علم کی روشنی بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں اور تعلیمی پالیسی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم نجی تعلیمی اداروں کو بھی بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوتا ہے تاکہ علم و ہنر، تعلیم و تربیت اور تعلیم و تحقیق کے عمل کو جاری رکھ کر قوم کو اندھیروں سے نکا ل کر اُجالوں میں لایا جاسکے اور ہر معاشی، معاشرتی بحران سے بھی بآسانی بچایا جا سکے۔پاکستان کی نامور ماہر تعلیم نبیلہ غفور ایک ملنسار، خلیق اور نفیس عورت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے وقف کر رکھی ہے وہ سراپا عمل اور سراپا اخلاص ہیں پاکستان سے ان کی بے پناہ محبت ہر مصلحت سے بالاتر نظر آتی ہے۔ بلاشبہ نبیلہ غفور ان شخصیات میں سے ہیں جو کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ نبیلہ غفور پاکستان اور بیرون ممالک کے نامور تعلیمی اداروں کے ساتھ پرنسپل سمیت دیگر عہدوں پر منسلک رہے ہیں۔انہوں نے خصوصی بچوں کی تعلیم وتربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیاء‘‘نے پاکستان کی نامور ماہر تعلیم نبیلہ غفور سے ایک ملاقات کی اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ کے نزدیک تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟
نبیلہ غفور: علم کو روح کی غذا کہا گیا ہے۔ کائنات کے اسرار و رموز سے آگاہی کیلئے علم کی جو اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پہلی وحی نبیؐ کریم پر اتاری اس کے پہلے لفظ کا ترجمہ ہے ’’پڑھ‘‘ پڑھنے پڑھانے یعنی تعلیم کی حقیقت و اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ تعلیم اقوام کی اخلاقی، معاشی، سیاسی بلکہ ہر قسم کی ترقی کیلئے مسلمہ ہے۔ میرے نزدیک تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ تعلیم و تربیت ہی وہ زیور ہے جس سے آراستہ ہو کر ہم ملک و قوم کی اصلاح، ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہی وہ آلہ ہے جس کی مدد سے حق اور باطل کے درمیان تمیز ممکن ہے۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت غربت، جہالت، پسماندگی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اندھیروں سے قوم کو نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے سے انسان کو مسلسل تعلیم حاصل کرنے اور علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلائی ہے۔ قرآن پاک میں تعلیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے 100 کے قریب آیات کے ذریعے انسان کو تعلیم کی طرف گامزن کیا ہے۔ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے اتنا ہی افضل ہے جتنا دینی تعلیم حاصل کرنا ہے۔ اگر مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے تو تعلیم کے ہر شعبے میں مہارت حاصل کرنا ہو گی۔ جس طرح ستارے آسمان کی زینت ہیں اسی طرح تعلیم یافتہ لوگ زمین کی زینت ہیں جبکہ قلم و کتاب انسان کے بہترین دوست اور ترقی وخوشحالی کا زینہ ہیں لہٰذا معاشرے میں قلم و کتاب کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان کے نظام تعلیم کے زوال کے اسباب کیا ہیں؟
نبیلہ غفور: پاکستان کا نظام تعلیم بھی دیگر نظاموں کی طرح شروع ہی سے بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے جس تعلیم اور ترقی یافتہ ملک کی خواہش کی تھی معاملات اس سے برعکس نکلے یہ ملک وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ کاروں اور تاجروں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے تعلیمی شعبے کو دانستہ طور پر اس لیے نظر انداز کیا کہ اگر عوام با شعور ہو گے تو ان کی سیاسی دکانداری نہیں چمکے گی۔ہمارے ہاں تعلیم کے انحطاط کی ایک وجہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل قائم نہ رہ سکا۔ اور عدم تحفظ کے اس احساس نے بیشتر حکومتوں کو کرپشن کا راستہ دکھایا۔اور بیشتر سیاسی پارٹیاں جن کے منشور میں تعلیم سرفہرست تھی حکومت میں آنے کے بعد اسے پس پشت ڈالتی نظر آئیں۔ ہر آنے والی نئی حکومت چاہئے وہ عوامی ہو یا فوجی ہر دفعہ ایک نئی تعلیمی پالیسی وضح کرنے کا شوق بھی رکھتی ہے۔ مگر افسوس ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت کے فیصلوں پر یا پالیسیوں پر عمل کرنا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی نویں دسویں کا امتحان اکٹھا ہوتا ہے تو کبھی علیحدہ علیحدہ نصاب میں تبدیلی ایک معمول بن گئی ہے۔تعلیمی سال تو شروع ہو جاتا ہے مگر نصابی کتب مارکیٹ میں عدم دستیاب ہوتی ہیں۔ پاکستان میں نظام تعلیم کئی حصوں میں بٹا ہوا ہے اور یہ طبقاتی تقسیم نہ صرف احساس محرومی پیدا کر رہی ہے بلکہ نوجوانوں میں قومی اور دینی سوچ کی بیخ کنی بھی کر رہی ہے۔ ہر سکول کا اپنا علیحدہ نصاب اورطریقہ تعلیم ہے۔گورنمنٹ سکول صرف غریبوں کی درسگاہ سمجھے جاتے ہیں۔ حکومت اربوں روپیہ لگا کر بھی ان حکومتی سکولوں کے معیار کو بہتر بنانے سے قاصر ہے۔ کوئی حکمران ملک کے طول و عرض میں ایک جیسا نصاب اور نظام تعلیم رائج کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔ جب تک یہ ممکن نہ ہو طبقاتی کشمکش مٹائی نہیں جا سکتی ہمارے مغرب زدہ معاشرے نے بچوں کے ہاتھ میں آکسفورڈ اور امریکن سلیبس تو تھما دیا ہے مگر یہ بچوں کی نفسیات اور معاشرتی تقاضے سمجھنے سے قاصر ہے۔ دراصل ہمارے حکمرانوں کے لیے تعلیم کا شعبہ ترجیح نہیں ہے جس کے سبب نظام تعلیم میں بھی بے شمار کمزوریاں ہیں جن میں اساتذہ کی تربیت آئے دن نصاب کی تبدیلی، جدید سہولیات کی کمی، عملی تربیت، تجربہ گاہوں کی کمی، امتحانات کا نظام، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا غلط استعمال، رشوت، سفارش اور ان جیسی بے شمار کمزوریاں ہمیں ترقی سے دور کر رہی ہیں۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان میں تعلیمی نظام کے بگاڑمیں اُستاد کا بھی کوئی کردار ہے یا نہیں؟
نبیلہ غفور: پاکستان کے تعلیمی نظام کے بگاڑ کی بنیادی وجہ تعلیم کو اہمیت نہ دینا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد تو اس شعبے کے لیے توقع کے مطابق سرمایہ دستیاب نہیں تھا۔ ہم نے اس قلت کو 70برسوں تک پھیلا لیا۔ بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے بعد تعلیم کی طرف توجہ ہونی چاہیے تھی، ہمارے حکمرانوں نے اسے بالکل ہی نظر انداز کر دیا۔ جو تھوڑا بہت بجٹ تعلیم کے لیے مختص ہوتا ہے، اسے بھی پورا خرچ نہیں کیا جاتا۔ اس ناہلی کا سارا بوجھ استاد پر ڈالنامناسب نہیں ۔ تعلیمی پالیسی اور اس کے خدوخال بنانے میں استاد کہیں موجود نہیں۔ اب یہ تو مناسب نہیں کہ فیصلے وڈیرے، سردار ، جاگیردار اور اختیارات پر گرفت رکھنے والے کریں اور سارا ملبہ استاد پر گرا دیا جائے۔ بااثر لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر تعلیم عام ہوئی تو اقتدار پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی۔ اس لیے انہیں اس کے فروغ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ شخصی وفاداری کے خواہش مندوں کو جہالت راس آتی ہے جبکہ تعلیم تو پھیلاؤ کا نام روشنی کا نام ہے۔ ہمارا آئین اور ریاست شہریوں کو تعلیم دینے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر ا ریاست نے باقی ذمہ داریوں کی طرح اس فرض سے بھی ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ تعلیم کی نجکاری سے جو خلا پیدا ہوا، اسے سرمایہ داروں نے پرُ کر دیا۔ جنہیں تعلیم نہیں، اپنے منافع سے غرض ہے۔ اس لیے وہ کوئی سماجی یا اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک عمودی ترقی ہی سب کچھ ہے ۔ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پرائمری تعلیم کو نظر انداز کر دیا ہے۔ کس زبان میں تعلیم دی جائے یہ بھی اہم ایشو ہے۔ میرے خیال میں بچوں کوپرائمری تعلیم مادری زبان میں دینی چاہیے۔ چھوٹی عمر کا تقاضا ہے کہ بچے کے تصورات واضح ہوں۔ اس کے بعد بے شک آپ چاند کو مون کہہ لیں، ماہ تا ب یا قمر، بچے کو ماحول کے مطابق زبان ملے گی تو ہی اس کے تصورات شفاف اور واضح ہوں گے۔ پہلی جماعت سے انگریزی پڑھانے کا قصہ بھی عجب ہے۔ ہم بچوں کو تو انگریزی پڑھانے چلے ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ انہیں پڑھانے کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئے گی؟ ہم ایک قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں جو لمحہ بہ لمحہ جینے کا عادی ہو۔ معاشرہ شعوری طور پر حکمرانوں اور محکوموں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ سرکاری سکولوں میں محکوموں اور مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں حاکموں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہم نے تعلیم کو چند موضوعات تک محدود کر رکھا ہے۔ بچوں کو تاریخ، ادب فلسفہ، فائن آرٹس پڑھانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی حالانکہ یہ مضامین تخیل کو تحریک دیتے ہیں۔ مضامین رٹانے پہ زور ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی ڈھنگ کے دو جملے درست نہیں لکھ سکتے۔ ہمارے نظام تعلیم نے لوگوں میں مل جل کر رہنے کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ کامیاب معاشروں میں اقلیت اور اکثریت مل کر جیتے اور قومی ترقی میں حصہ لیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔
سوال: تعلیم جیسے بنیادی شعبہ کیلئے ہر سال جتنے بجٹ کا تعین کیا جاتا ہے کیا وہ پاکستان کے عوام کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے؟
نبیلہ غفور: ملک کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تعلیم کواولین ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ پاکستان میں تعلیم کے شعبہ کیلئے مختص کیا جانے والا بجٹ قومی ضروریات کی تکمیل کیلئے ناکافی ہے۔ حکومت تعلیم کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے برابر اہمیت دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تشکیل کردہ سفارشات کے مطابق تعلیمی بجٹ میں کم از کم آٹھ فیصد رقم مختص کرے تاکہ غربت کے باعث تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔
سوال: آپ کے خیال میں حکومت کو تعلیم کو فروغ دینے کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
نبیلہ غفور: پاکستان کے ہر شہری کو تعلیم کے بہتر مواقعوں کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن قیام پاکستان سے آج تک یہ ذمہ داری پوری نہیں کی گئی حکومت ہر بچے کے لیے تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ تعلیم کے لیے حکومت کا مختص بجٹ بہت ہی کم ہے اگر ہمیں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا کرنا ہے تو اس کے لیے پیٹ کاٹ کر مالی وسائل مہیا کرنا ہوں گے۔ تعلیم کوہنگامی بنیاد پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ تعلیم کو فروغ دے کرہی غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماں اور بچے کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر ملک سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ قلم اورکتاب ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے لہذا بچوں کو قلم وکتاب سے روشناس کرانے کیلئے عملی اقدامات کرناہوں گے جبکہ بچوں کے ہاتھوں سے قلم وکتاب چھین کرانہیں اوزار پکڑوانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ تعلیم عوام کا بنیادی آئینی حق ہے جسے ہر ایک تک پہنچانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ، علم کے ذریعے سے امن ،بھائی چارہ اور محبت کی شمع روشن کی سکتی ہے ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی امن اور تعلیم کے فروغ سے ہی وابستہ ہے ،علم کی روشنی سے دہشت گردی کے اندھیروں کو شکست دے کر امن قائم کیا جا سکتا ہے لہذا حکومت نوجوان نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید نصابی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے۔ علم کے فروغ سے معاشرے میں امن و استحکام آئے گا لہذا حکومت فوری طور پر ’’تعلیمی ایمرجنسی ‘‘ نافذ کرے، تعلیم کے بغیرکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ، شخصیت کی تعمیرصرف تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے ، علم کی روشنی سے ہی جہالت اوردہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے ،تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیارہے جس کے زریعے سے انتہا پسندی ،دہشت گردی اورجہالت کوشکست دی جاسکتی ہے، پاکستان کی ترقی اورعوام کی خوشحالی تعلیمی انقلاب سے ہی وابستہ ہیں لہذا حکومت جی ڈی پی کا 8فیصدبجٹ تعلیم کیلئے مختص کرے تاکہ ہرپاکستانی بچے کوتعلیم کے زیورسے آراستہ کیا جاسکے ۔اس کے علاوہ اسٹریٹ چلڈرن کیلئے ملک بھرمیں سکول قائم کیے جائیں جن میں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کیساتھ ساتھ کھانے پینے کی سہولیات سمیت بچوں کوماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے ۔ حکومت علم کی روشنی سے محروم بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے کیونکہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خو شحالی کا راز تعلیم کے فروغ میں ہی پوشیدہ ہے۔ اس وقت ملک بھرمیں 60 لاکھ سے زائد بچے اوربچیاں یتیم اوربے آسرا ہے ان میں بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت ،صحت اورخوراک کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں لہذا یتیم اوربے آسرا بچوں کی کفالت حکومت سمیت مخیرحضرات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔
سوال: آپ کے نزدیک خواتین کی تعلیم میں کتنی اہمیت ہے؟
نبیلہ غفور: ایک مثبت تعمیری اور جمہوری معاشرے کے قیام ،امن و آشتی اور تعمیر و ترقی میں خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ایک خاتون کو تعلیم دینے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ ایک خاتون کو تعلیم دینے کا مقصد پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ خواتین کی تعلیم بھی معاشرے کی ترقی کیلئے اہم جزو ہے اور اسلام میں بھی خواتین کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے اس لیے ہمارا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی کیونکہ تعلیم یافتہ اور نیک ماں ہی بچے کو معاشرے کا اچھا فرد بنا سکتی ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کسی بھی طرح سے مردوں سے کم نہیں ہیں۔ اگر خواتین کو یکساں مواقع دیئے جائیں گے۔ تو خواتین بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تعلیم و صحت حتی کہ انجینئرنگ کے شعبوں میں خواتین مردوں سے کم نہیں ہیں۔ سکول، کالج، یونیورسٹی امتحانات سے لے کر عملی زندگی تک خواتین نے اپنا لوہا منوایا ہے۔
سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آج کے دور میں اساتذہ ذہنی طور پر پرُسکون ہیں اور کیا انہیں دی جانے والی تنخواہیں اور مراعات ان کے سماجی مقام و مرتبہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ان کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں؟
نبیلہ غفور: دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ویسے تو ہر طبقہ زندگی کو متاثر کیا ہے لیکن اساتذہ کا حال سب سے برا ہے ۔ اساتذہ اپنی کم تنخواہوں کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ہمارے اساتذہ ذہنی طور پر پرسکون ہو ہی نہیں سکتے یہی وجہ ہے کہ اپنے گھر کے عام اخراجات پورے کرنے کیلئے بیشتر اساتذہ سکول ڈیوٹی کے بعد ٹیکسی یا رکشہ چلانے یا کسی دکان میں سیلز مین شپ کرنے پر مجبور ہیں۔ ان معاشی مشکلات میں تھوڑی بہت کمی کرنے والے عوامل کے فوائد سے بھی یہ اساتذہ محروم ہیں اساتذہ کو خوشحال بنائے بغیر ملک میں خواندگی کی شرح بڑھانے کے خواب کی تعبیر پانا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ذہنی پریشانی کے عالم میں کوئی بھی کام ڈھنگ سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ دوسرے پیشوں کی نسبت اساتذہ کے حوالے سے یہ بات اس لیے اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے کہ اگر ایک معمار کم آمدنی اور زیادہ گھریلو اخراجات کی وجہ سے پریشان ہو اور پریشانی کے عالم میں اپنا کام کر رہا ہو اس کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہو اپنے کام پر اس کی توجہ نہ ہو تو وہ ایک آدھ دیوار یا زیادہ سے زیادہ ایک آدھ عمارت ناقص بنا دے گا لیکن اگر ایک معمار قوم یعنی استاد کو مالی مشکلات کی وجہ سے پیدا شدہ ذہنی پریشانی کی حالت میں تعمیر ملت جیسا نازک اور حساس کام کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو وہ یقیناًملک و قوم کا بیڑا غرق ہی کر ڈالے گا لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے۔ دنیا بھر میں استاد کا بہت اعلیٰ مقام ہے۔ ایک دفعہ برطانیہ کی ایک عدالت میں ایک استاد گواہی کے لیے پیش ہوا جج نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا اور کہا ’’مجھے فخر ہے کہ آج ہماری عدالت میں ایک استاد موجود ہے‘‘ مگر ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ استاد کو ووٹ گننے کی مشین سمجھا جاتا ہے مردم شماری اساتذہ سے کروائی جاتی ہے پولیو مہم اور حفاظتی ٹیکوں کی ٹیموں کے ساتھ ان کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں پولیس فوج اور دیگر محکموں کی تنخواہوں اور مراعات میں تو اضافہ دیکھنے میں آتا ہے مگر اساتذہ کی تنخواہیں اس قدر کم ہیں کہ اس کو دیکھتے ہوئے اس پیشے کی طرف زیادہ پڑھے لکھے افراد راغب نہیں ہورہے۔
سوال: آپ کے نزدیک ذریعہ تعلیم اُردو ہونا چاہیے یا پھر انگریزی؟
نبیلہ غفور:ہمیں سب سے پہلے تعلیم کے بنیادی مقصد سے آگاہی ہونی چاہیے۔ تعلیم دراصل انسانوں کے اندر وہ صلاحیت پیدا کرتی ہے جس کے ذریعے سے وہ چیزوں کو سمجھتے بھی ہیں اور اپنے عمل میں بھی لے کر آتے ہیں۔ ابتدائی طور پر بچے کو زبان، اس میں دیئے جانے والا علم، چاہے وہ ریاضی کا علم ہے، چاہے وہ سائنس کی معلومات ہیں، چاہے اس کو سماجی اور معاشرتی حوالے سے کچھ معلومات دی جارہی ہیں، وہ ابتدائی طور پر اپنی زبان میں دی جائیں۔ ہم چونکہ گلوبل ویلیج میں آباد ہیں اور اس بچے نے مستقبل میں دنیا کے ساتھ مکالمہ بھی کرنا ہے تو ہم قومی لیول کے اوپر اس چیز کے اوپر اچھے طریقے سے غور و خوض کریں کہ اپنی زبان کے علاوہ ہم نے اپنے بچوں کو کون سی دوسری زبان سکھانی ہے، وہ زبان چاہے انگریزی ہو، چاہے کوئی اور ہو اس کو سکھایا جائے البتہ کوئی بھی تہذیب اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کی زبان کی حفاظت نہ کی جائے۔ اگر یہاں مکمل طور پر انگریزی آجائے گی تو یہ تہذیب ختم ہو جائے گی۔ اس تہذیب کی بنیادیں عربی، فارسی اور ہند ی پر ہیں، انگریزی پر نہیں ہیں۔ اگر آپ اپنی قومی زبان کو زندہ نہیں رکھیں گے تو آپ بحیثیت قوم کے بھی زندہ نہیں رہیں گے۔
سوال: اس وقت ہمارا جو معاشرہ ہے وہ ملٹی کلچر معاشرہ بن چکا ہے تو ایسی سوسائٹی میں یہ بات طے کر دینا کہ نظام تعلیم صرف اُردو زبان میں ہی ہونا چاہیے سٹوڈنٹس کے ساتھ زیادتی کے مترادف نہیں ہے؟
نبیلہ غفور: یہ حقیقت ہے کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں یہ گلوبلائزیشن کی دنیا ہے۔ اس میں ہم انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں، کمپیوٹر ز استعمال کر ہے ہیں، ان چیزوں کے بغیر ہم اپنے آپ کو نا مکمل سمجھتے ہیں تو ان حالات میں ہم انگریزی کو بطو ر میڈیم کے قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر کلچرل وار کھیلنی ہے تو وہ صرف زبان کے ذریعے نہیں کھیلی جا سکتی ہم نے جب دوسری قوموں سے اپنے آپ کو منوانا ہے تو اس وقت ہمیں انگلش کو ہی استعمال کرنا پڑے گا کیونکہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھتے۔لیکن اُردو زبان کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کیلئے انگلش اور اُردو دونوں زبانوں کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔
سوال: آپ کے خیال میں ہمارے معاشرے میں کتاب کی اہمیت کم کیوں ہو رہی ہے؟
نبیلہ غفور: گو کہ انٹرنیٹ کا دور آگیا ہے لوگ اب کمپیوٹر کے ذریعے کتابیں پڑھنے لگ گئے ہیں لیکن کتاب کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ یہ اہمیت ختم ہوئی ہے اور نہ ہی کبھی ہو گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ نوجوان نسل میں کتاب شاید اتنی مقبول نہیں رہی۔ اس کا سبب وقت اور ماحول کے اثرات بھی ہیں۔ آج کل نوجوان کو موبائل اور کمپیوٹر کی شکل میں اتنی مصروفیات مل گئی ہیں کہ اس کے پاس کتاب بینی کیلئے وقت ہی نہیں بچا۔ اس کے علاوہ اس میں ہمارے حکمرانوں کا بھی قصور ہے کہ انہوں نے وہ ماحول آج کے نوجوان کو نہیں دیا جو ان کو میسر تھا۔ ماضی میں جو لائبریری کا کردار تھا وہ آج نہیں ہے۔ آج وہ لائبریاں نہیں ہیں ان کی جگہ ویڈیوز اور میوزک لائبریئریوں ہیں ان میں بھی ایسا پر کشش ماحول نہیں ہے کہ نوجوان اس طرف متوجہ ہو سکیں۔ میرے خیال میں جہاں کھیل کے میدان یا سیر گاہیں بنائی چاہیں ان کے ساتھ لائبریئریاں بھی بنائی جانی چاہئیں۔ لائبرریوں میں رکھی کتابیں عام آدمی کی دسترس میں ہونی چاہئیں۔ میرے خیال میں تو اب بک سیلرز کو بھی اپنے گاہکوں کو لائبریریوں جیسا ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ بک ڈسپلے سنٹرز میں کسٹمرز کے بیٹھنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ وہاں وہ اپنی مرضی کی کتاب بیٹھ کر پڑھیں اچھی لگے تو خرید لیں وگرنہ ضرورت کے نوٹس بنا کر وہیں رکھ دیں ایسا دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔ ہمیں بھی کتاب کی مقبولیت کیلئے ایسے ہی اقدامات کرنے چاہئیں۔ مہنگائی اور دیگر مسائل کے سبب کتاب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے۔ حکومت کو کتاب کو عام آدمی کی دسترس میں لانا ہو گا۔
سوال: آپ کے نزدیک پرائمری تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
نبیلہ غفور: پرائمری تعلیم کسی بھی نظام تعلیم کی بنیاد ہوتی ہے یہ جتنی مضبوط ہو گی تعمیر اتنی دیر پا بھی ہو گی اور اسے زیادہ سے زیادہ بلندی تک بھی لے جایا جا سکے گا۔ ہمارے ہاں پرائمری تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہے بلکہ تعلیمی نظام میں سب سے زیادہ نظر انداز شعبہ یہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اعلیٰ تعلیم پر خاصے خطیر وسائل خرچ کئے گئے ہیں لیکن ان کے ویسے نتائج نہیں ملے۔ اس کی وجہ پرائمری تعلیم کا کمزور ہونا ہے۔ ہماری پرائمری تعلیم کا نظام اعلیٰ تعلیم کو تقویت نہیں دیتا۔
سوال: ہمارا تعلیمی نظام کلرک پیدا کر رہا ہے جبکہ ماضی کے تعلیمی نظام نے بو علی سینا جیسے سائنسدان، مذہبی سکالر، دانشور، ماہرین فلکیات پیدا کئے؟
نبیلہ غفور: پہلے زمانے میں تعلیم میں جدت تو نہیں تھی البتہ وہ دین اسلام کی روح سے سائنس کو پڑھتے تھے۔ آج کا طالب علم مذہبی تعلیم سے دور ہے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی جدوجہد میں اپنے مرکز سے ہٹ گیا ہے۔ جب تک اپنی تعلیم کے ہر پہلو کو قرآن پاک کی روشنی میں نہیں لے کر آئیں گے بو علی سینا جیسے لوگ پیدا نہیں ہوں گے۔
سوال: آپ کے نزدیک کوالٹی آف ایجوکیشن کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
نبیلہ غفور: کوالٹی آف ایجوکیشن کو بہتر بنانے کیلئے اساتذہ کے سماجی و معاشی مقام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خوشحالی اور ترقی کی منازل حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشرہ استاد کو اس کا جائز مقام دے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے کہ اعلیٰ قابلیت کے حامل لوگ اس پیشے کو اپنائیں اور یہ کہ معلمی کا پیشہ آج کے نوجوانوں کے لیے آخری انتخاب کی بجائے پہلی خواہش ہو۔
سوال: کسی بھی ملک کے لیے اعلیٰ تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟ ہائیر ایجوکیشن کی کارکردگی کو آپ کیسے دیکھتی ہیں اور اسے مزید کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
نبیلہ غفور: کسی بھی ملک کیلئے اعلیٰ تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے دنیا بھر ہر کامیاب ابھرتی ہوتی معیشت کا راز ان کی Resource based Economy سے (نالج بیسڈ اکانومی) میں تبدیل ہونا ہے جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ ہایئر ایجوکیشن کے سلسلے میں ایک عمومی تاثر کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کہ تعلیم کو (Expenditure) نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے کیونکہ ہایئر ایجوکیشن میں خرچ کرتے ہوئے دراصل ہم اپنے مستقبل پر خرچ کر رہے ہوتے ہیں ہمیں یہ بات اپنے صاحب اقتدار، عوام الناس اور پالیسی سازوں کو ذہن نشین کرانا ہو گی کہ اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری ہی سب سے بہتر انوسٹمنٹ ہے۔ ہایئر ایجوکیشن کے شعبے کو حکومت کی جانب سے مناسب توجہ نہ ملنے پر ناقابل تلافی نقصان ہوا، ہایئر ایجوکیشن کے لیے بجٹ بڑھا کر جامعات کو ملکی تعمیر و ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
سوال: ہائر ایجوکیشن کمیشن صوبوں کے حوالے کیا گیا ہے اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
نبیلہ غفور: ہائر ایجوکیشن کمیشن کی صوبوں کی منتقلی سے فرق ضرور پڑا ہے۔ صوبائی سطح کے اپنے معاملات ہوتے ہیں اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ صوبوں کی اپنی ضروریات کے حساب سے کام کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ ان کی پالیسیاں اپنی ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھیں تو فرق پڑرہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے مزید بہتری کے امکان پیدا ہوں۔ اگر ہم اس تبدیلی کو ایک واضح وژن کے ساتھ آگے لے کر چلیں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کی ذمہ داری اہل لوگوں کو سونپی جائے۔ حکومت ایک واضح پالیسی کے تحت اس شعبے کو متحرک کرے تو اس کے ثمرات سے نہ صرف صوبے کو بلکہ ملک کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے سنجیدگی کے ساتھ چلانا ہو گا۔ اللہ نہ کرے اگر ہائر ایجوکیشن کو بھی ہمارے مروجہ تعلیمی نظام کی مانند چلایا گیا تو اس کے نتائج مثبت کے بجائے منفی بھی ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں اس شعبے میں جو بہتری آئی ہے اس سے آگے کی بات کرنی ہو گی اس سے آگے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تب ہی ہم ترقی کی جانب سفر جاری رکھ سکیں گے۔
سوال: جامعات کے بارے میں یہ بات عام ہو گئی ہے کہ وہ تعلیم کو کاروبار بنا کر بیچ رہی ہیں جبکہ ہماری جامعات بین الاقوامی سطح پر موجود تحقیقی رجحان کی حامل بھی نہیں؟
نبیلہ غفور: نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس وقت ہماری تعلیم ایک کمرشل پراڈکٹ کے طور پر ہمارے معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے، ایجوکیشن کی آڑ میں سکول، ٹیوشن سنٹر اور اکیڈمیز بنا کر اپنے بزنس کو فروغ دینے والے عناصر نے تعلیم کو بہت متاثر کیا ہے ہمارے مذہب اور دنیاوی سطح پر بھی والدین کے بعد ایک استاد کی قربت کو طالب علم کی تربیت گاہ درس گاہ مانا جاتا ہے ، دماغ کو الفاظ سے بھرنا ہی کام یا علم نہیں۔تعلیم کا مطلب تبدیلی لانا ہے، جو انسان کے کردار اس کے عمل، اس کے قول، اس کے فعل کی تبدیلی سے ہے، اگر ایک استاد ایسا کرنے میں ناکام رہا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ تعلیم و تربیت کرنے میں ناکام ہو گیا، یہ فارمولا والدین پر بھی اپلائی ہوتا ہے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ تمام تر ذمہ داری استاد پرڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے، والدین اور بالخصوص والدہ بچے کی اولین درسگاہ ہے، بچے کی ابتدائی تربیت ماں ہی کرتی ہے جبکہ استاد اسے پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اچھے استاد کا رول کبھی ختم نہیں ہوتا، ایک استاد کے ہاتھوں طالبعلم کی صورت میں لگایا گیا پودا شب و روز کی محنت کے بعد تنا ور درخت بن کر آنے والی نسل کو پرسکون اور ٹھنڈی چھاؤں دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس کے ثمرات کبھی ختم نہیں ہوتے، میں ریڈی میڈ سبق دینے کے بھی قائل نہیں، جب تک ایک استاد اپنا علم طالبعلم کو نہیں دیتا اس وقت تک اس کا فرض پورا نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی اچھے اساتذہ موجود ہیں لیکن معاملات اس وقت خرابی کا شکار ہوتے ہیں جب غیر متعلقہ عناصر حقیقی ذمہ دار ان کی جگہ پر قابض ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم کمرشل پراڈکٹ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ میں آپ کوبتاؤں کہ اب والدین بھی سمجھدار ہو گئے ہیں وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم اپنے بچے کی تعلیم پر انویسٹ کر رہے ہیں تو کون سا ادارہ ہے جہاں سے تعلیم کے بعد بچے کا بہتر مستقبل یقینی ہو جائے گا۔ گھر کے قریب ہونے، کم فیس جیسی خوبیوں کو چھوڑ کر اب والدین نئی نسل کو اچھے اداروں میں بھیج رہے ہیں۔ جبکہ ہم غریب طالب علموں کو کروڑ روپے کی اسکالرشپ بھی دے رہے ہیں تاکہ انہیں بھی معیاری تعلیم مہیا کی جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہتر تعلیم کے ذریعے ہی اپنے ریسورسز میں اضافہ ممکن ہے۔
سوال: دنیا بھرکی طرح پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تحقیق کی صنعت کے ساتھ وابستہ کئے جانے کا رجحان کیوں نہیں ہے؟
نبیلہ غفور: ترقی یافتہ ممالک میں صنعتوں میں ریسرچ کیلئے یونیورسٹیوں کو مامور کیا جاتا ہے ان ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی ڈیپارٹمنٹ کو اپنے اپنے شعبے میں تحقیق کی اجازت دی جانی چاہیے۔ پاکستان میں صنعتی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کا فقدان نظر آتا ہے۔ دنیا میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو صنعتی تحقیق کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے اور کارخانہ دار اپنے صنعتی مسائل حل کرنے کیلئے ان سے مدد لیتے ہیں اس سلسلے میں مالیاتی اداروں کو پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والے تحقیقی کام کی مالی مدد کریں۔ ہماری نوجوان نسل میں قابلیت اور صلاحیت کی کمی نہیں ہمارے پاس ہر شعبے کے ماہرین موجود ہیں۔ متعدد شعبے ایسے ہیں جہاں تحقیق کے وسیع مواقع موجود ہیں مثلاً سولر انرجی میں بہت کام ہو سکتا ہے ہم سورج کی توانائی ضائع کرتے ہیں اسی طرح سے ملک کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے ذرائع بھی وافر مقدار میں موجود ہیں یونیورسٹیز میں ان تمام شعبوں میں ریسرچ سے معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انڈسٹری اور جامعات کے درمیان موجود خلاء کو ختم کرنے سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگر ہم پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو کام کرنے کا موقع دیں تو وہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ جو یونیورسٹی تحقیق کی طرف توجہ نہیں دیتی اسے جامعہ کہلانے کا حق ہی نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں جامعات میں تحقیق کا عمل انڈسٹری کے تعاون سے جاری رہتا ہے مگر پاکستان میں اس کا تصور ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے ریسرچ کے اثرات انڈسٹری کو نہیں مل رہے ہیں۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ تعلیمی ادارے تحقیق کے ذمہ دار ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانا انڈسٹری کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیر و ترقی، نیا علم اور تحقیقی رجحان پروان نہیں چڑھ رہا اور ہماری انڈسٹری کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ تحقیق کا تعلق صرف میڈیکل یا انجینئر میں جاری ریسرچ تک محدود نہیں، سوشل سائنسز میں تحقیق سے بھی انڈسٹری کو فائدہ ہو گا۔
سوال: پہلے جامعات میں نوجوانوں کی کردار سازی پر بھرپور توجہ ہوتی تھی وہ تعلیمی و سماجی زندگی میں اپنا حصہ ڈالتے تھے، مگر اب یہ رجحان کم ہو گیا ہے، اس حوالے سے نصاب میں کچھ شامل کیا جائے تو کیا اچھا نہ ہو گا؟
نبیلہ غفور: اچھا شہری کیسے بنا جائے، حب الوطنی کا جذبہ، نصاب میں شامل کر کے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں یہ خوبیاں پیدا کرنا ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جو ادارے ایسا نہیں کر رہے ہیں وہ بنیادی ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ ہم تو اس با ت پر زور دیتے ہیں کہ بچے کو نصابی تعلیم کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کارآمد شہری بنانے کیلئے بھی کام کیا جائے۔
سوال: تعلیم کے فروغ کیلئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے کردار پرآپ کیا تبصرہ کریں گے؟
نبیلہ غفور:کسی بھی مہذب معاشرے کی تکمیل میں تعلیم و تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے خصوصاً اس وقت جب کسی ملک کے عوام اپنی اقدار کو بھول چکے ہوں ان کو راہ راست پر لانے کے لئے علم کی روشنی بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں اور تعلیمی پالیسی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم نجی تعلیمی اداروں کو بھی بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے تاکہ جہاں علم و ہنر، تعلیم و تربیت اور تعلیم و تحقیق کے عمل کو جاری رکھ کر قوم کو اندھیروں سے نکا ل کر اُجالوں میں لایا جا سکتا ہے وہاں ہر معاشی، معاشرتی بحران سے بھی بآسانی بچایا جا سکتا ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے فروغ تعلیم کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن حکومت ان اداروں کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کر رہی۔ حکومت قومی یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کو یقینی بنائے تاکہ ہر طبقہ کے افراد قومی ترقی کے عمل میں یکساں طور پر حصہ لے سکیں۔
سوال:ہمارے ہاں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ تعلیم کے فروغ میں اہم وسیلہ اساتذہ ہیں اوروہ بے شمار موجود ہیں لیکن کیا وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے تعلیم کی صورت میں منتقل کر رہے ہیں یا نہیں؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ جامعات جو علم کی منتقلی کا فریضہ سر انجام دے رہی ہیں کیا وہ مستقبل کے سائنسدان، انجینئر، ڈاکٹر، استاد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سیرت و کردار میں نصابی عمل کے ذریعے ایسی چیزیں شامل کر پا رہے ہیں جن کی مدد سے ان میں سچ بولنے کی قوت پیدا ہو، ان کا کردار اور عمل ایک ہو، وہ دہری شخصیت کے حامل نہ ہوں، کیا ہمارا نصاب کردار کے اندر پائی جانے والی کمزوریوں کو ختم کرنے میں معاونت کر رہا ہے، کیا ہماری جامعات اس پہلو کو اہمیت دے رہی ہیں؟
نبیلہ غفور: ہم عالمی معاشرے میں رہ رہے ہیں جس میں ہمیں معاشی، تعلیمی، امن عامہ ، تحفظ اور ثقافتی میدانوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ان حالات میں ان تمام پہلوؤں کو جن کا آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا ہے کومدِ نظر رکھتے ہوئے طلباء و طالبات تیار کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے جو کہ زندگی کے میدان میں معیاری علم اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ قائدانہ اہلیت کے حامل ہیں تاکہ مستقبل میں ان چیلنجز سے موثر طریقے سے اور کامیابی کے ساتھ نمبرد آزما ہو سکیں۔ طلباء کی قائدانہ صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے ورکشاپ بھی منعقدکرائی جائیں۔
سوال: ایک وقت تھا کہ ہمارے نوجوانوں کے ہیروز قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، لیاقت علی خان، راشد منہاس اور میجر عزیز بھٹی شہیدہوا کرتے تھے مگر اب کرکٹرز اور فلمی ہیروز ہیں اس پستی کی وجہ کیا ہے؟
نبیلہ غفور: اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ دراصل ہمارے اردگرد ایسے ٹول آگئے ہیں جن کے مثبت استعمال کے اچھے اور منفی استعمال کے برے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ سماجی لحاظ سے ہم پستی کا شکار تو ہوئے ہیں اور یہ بدلاؤ سماجی سطح ہی سے آیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ سیاسی قیادت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا فوجی قیادت کو بھی اس کا ذمہ دار کہا جاتا ہے۔ ماضی کے نوجوانوں میں یکجہتی و حب الوطنی کے حوالے سے ایک جذبہ موجود تھا۔ آج کی نوجوان نسل میں ماضی والا جذبہ دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے ملک کی نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اس کے باوجود ہمارے ہاں آج تک کسی حکومت نے سنجیدگی سے نوجوانوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی نہ ہی ان مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس وجہ سے نوجوان جرائم مثلاً لوٹ مار، انتہا پسندی، منشیات ، رشوت، ملاوٹ، خودکشی جیسے اور دیگر سنگین برائیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد کا زیادہ ہونا پاکستان پر اللہ کی رحمت ہے اگر ان نوجوانوں کو روزگار دیا جائے ملکی ترقی میں پالیسی میں ان سے کام لیا جائے۔ نوجوانوں کے مسائل کے حل کیلئے نوجوانوں پر مشتمل کونسلز تشکیل دی جائیں۔ ہمارے ہاں نوجوانوں کو سیاسی نعروں کی حد تک قوم کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے۔ ایمان، اسلام اور ہماری آئیڈیالوجی ہی ہماری رہنما ہے جن اصولوں پر ہمارے قائدین کار بند رہے انہی کو ہی اپنا مشن بنا کر آگے بڑھنا ہو گا نوجوانوں کے مورال کو بوسٹ اپ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مورال بلند کرنے سے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ اپنے اندر کا خوف ختم کرنا ہو گا دل میں فقط اس پاک ذات کا خوف ہونا چاہیے اگر یہ اعتقاد دل و دماغ میں پختہ کر لیا جائے تو زندگی کا ہر میدان فتح کیا جا سکتا ہے۔
سوال: آپ ایجو کیشن کی بہتری کے حوالے سے مزید کوئی بات کرنا چاہیں گے؟
نبیلہ غفور: بہتر تعلیمی اور تدریسی نظام سے بہتر نتائج کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ ، والدین اور سول سوسائٹی کے درمیان باہمی تال میل اور رابطوں کو موثر بنایا جائے۔ طلباء اور اساتذہ کے درمیان فاصلوں کو بتددریج کم کرنے، طلباء کو رٹے کی عادت ڈالنے کی بجائے طالب علم کا کتاب اور استاد سے براہِ راست تعلق مضبوط و استوار کیا جائے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت و کتاب کے ساتھ تحقیق و جستجو اور ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے طلباء و طالبات کے درمیان مقابلہ و مسابقت کی فضاء قائم کی جائے۔تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں، بزم ادب تحریری و تقریری مقابلوں، حسن قرات و نعت اور دیگر تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کے نکھار کیلئے مناسب حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا اہتمام کیا جائے۔ تعلیمی شعبے کو ترقی دیئے بغیر ملک کو نہ تو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لاعلمی و پسماندگی ترقی پذیر ممالک کی خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور آئندہ وہی قومیں دنیا پر حکمران ہوں گی جو ٹیکنالوجی کے میدان پر عبور حاصل کریں گی۔’’تعلیم و تربیت کی اصلاح اور تحقیق پر توجہ بڑھانے سے ہی ملک و قوم کا مقدر سنورے گا۔ جو قوم اپنے اساتذہ کی تکریم اور وقار کو بھول جائے گی اس کا انجام مختلف بحرانوں کی صورت میں سامنے آتا ہے علم کا سرچشمہ استاد ہیں تو ہونہار طلبہ قوم کا چمکتا ستارہ ہیں علم کے حصول میں سمجھوتا ملکی پستی کا باعث بن سکتا ہے آج طلبہ و طالبات خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی دستیابی یقینی ہے ضرورت صرف سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ہے۔’’آج ملک و قوم کی ترقی کا انحصار صرف اور صرف علم و تحقیق کے فروق پر ہے اس لیے حکومتی سطح پر اس پر یعنی فروغ تعلیم پر جتنی بھی سرمایہ کاری کی جائے کم ہے تعلیم کا فروغ نتائج کے حصول کے لیے تو ہوتا ہی ہے تاہم اس کا مقصد علم کی ترویج ہونا چاہیے۔ اصل کام نوجوان نسل کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے ہمیں یقین ہے کہ حکومت اس معاملہ پر جہاں پرائمری ایجوکیشن کے فروغ کو مزید بہتر بنائے گی وہاں تحقیق کے عمل اور ہائر ایجوکیشن پر بھی خصوصی توجہ دے گی جس کیلئے جی ڈی پی کا 8 فیصد مختص کرنا ہو گا۔‘‘
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان کی ترقی میں بنیادی رکاوٹ کیا ہے اور پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے؟
نبیلہ غفور:سرفراز: پاکستان اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ اللہ نے پاکستان کو تمام قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ پاکستان ہماری شناخت ہے۔ ہماری آن، بان شان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے قول و فعل اور اپنے کردار سے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کیلئے متحدہ ہو کر کام کریں۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا خواب تھا جس کی تعبیر کے لیے آپس کے اختلافات بھلا کر ایک محب وطن قوم بن کر ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دے کر انتھک جدوجہد کرنا ہو گی۔ آنے والے وقتوں میں ہمارا مقابلہ مورچوں میں نہیں بلکہ کلاس روم، تجربہ گاہوں اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہو گا ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی و عروج حاصل کرتی ہیں جنہوں نے تعلیم کے شعبے پر بھرپور توجہ دی۔ آج جتنے بھی ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں ان کی ترقی کا اصل راز تعلیم کے شعبے کا فروغ ہے۔ تعلیم کے شعبے میں خرچ کی گئی ایک پائی بھی رائیگاں نہیں جاتی لہٰذا اس شعبے میں جتنا بھی خرچ کیا جائے کم ہے اس سے بڑی اور بہتر کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی۔ تعلیم کے شعبے کی مضبوطی ہمارے روشن مستقبل، قومی دفاع اور سلامتی کی ضامن ہے۔ لہٰذا تعلیم کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے ہمارے حکمرانوں کو زیادہ سے زیادہ وسائل وقف کرنا ہوں گے۔ کیونکہ جس طرح ستارے آسمان کی زینت ہیں اسی طرح تعلیم یافتہ لوگ زمین کی زینت ہیں جبکہ قلم و کتاب انسان کے بہترین دوست اور ترقی وخوشحالی کا زینہ ہیں۔ قلم اورکتاب ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے لہذا بچوں کو قلم وکتاب سے روشناس کرانے کیلئے عملی اقدامات کرناہوں گے جبکہ بچوں کے ہاتھوں سے قلم وکتاب چھین کرانہیں اوزار پکڑوانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ تعلیم عوام کا بنیادی آئینی حق ہے جسے ہر ایک تک پہنچانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ، علم کے ذریعے سے امن ،بھائی چارہ اور محبت کی شمع روشن کی سکتی ہے ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی امن اور تعلیم کے فروغ سے ہی وابستہ ہے ،علم کی روشنی سے دہشت گردی کے اندھیروں کو شکست دے کر امن قائم کیا جا سکتا ہے لہذا حکومت نوجوان نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید نصابی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے۔ علم کے فروغ سے معاشرے میں امن و استحکام آئے گا لہذا حکومت فوری طور پر ’’تعلیمی ایمرجنسی ‘‘ نافذ کرے، تعلیم کے بغیرکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ، شخصیت کی تعمیرصرف تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے ، علم کی روشنی سے ہی جہالت اوردہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے ،تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیارہے جس کے زریعے سے انتہا پسندی ،دہشت گردی اورجہالت کوشکست دی جاسکتی ہے، پاکستان کی ترقی اورعوام کی خوشحالی تعلیمی انقلاب سے ہی وابستہ ہیں لہذا حکومت جی ڈی پی کا 8فیصدبجٹ تعلیم کیلئے مختص کرے تاکہ ہرپاکستانی بچے کوتعلیم کے زیورسے آراستہ کیا جاسکے ۔میں سمجھتی ہوں کہ تعلیم بندوق کی گولی سے زیادہ طاقتور ہے اور ہم فروغ تعلیم، وسائل کی منصفانہ تقسیم، امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو کم اور نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کر کے دہشت گردی و انتہا پسندی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ تعلیم یافتہ معاشرہ کسی بھی قوم کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا راز بھی نوجوان نسل کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کرنے میں مضمر ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور عوام کوخوشحال بنانے کیلئے جہالت کے اندھیرے دور کرتے ہوئے گھر گھر علم کے چراغ روشن کرنا ہوں گے۔ معیاری اور بنیادی تعلیم ہی ترقی و کامیابی کا باعث ہے کرپشن اور دہشت گردی کی لعنت سے پاک پڑھا لکھا پاکستان ہمارے تمام سیاستدانوں کی منزل ہونی چاہیے۔ کیونکہ پاکستان کا روشن مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے اور قائداعظم محمد علی جناح کوبھی نوجوان نسل سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ قائداعظم نے جس طرح اپنی ذہانت اور حکمت عملی کے تحت بغیر جنگ کئے پاکستان کا حصول ممکن بنایا آج کے نوجوانوں کو بھی ان کے کردار کی روشنی میں اعلیٰ معیاری اور جدید تعلیم حاصل کر کے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہیے۔کیونکہ آج جو اقوام ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑی مسکراتی نظر آتی ہیں انہوں نے ترقی کی معراج تک پہنچنے، چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کیلئے کسی معجزے کا انتظار نہیں کیا بلکہ انہوں نے تعلیم و تحقیق پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسے ترقی و خوشحالی کے حصول کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا اور بالآخر علم دوستی کی بدولت ماضی بعید میں پسماندگی کے جوہڑ میں غوطے کھانے والی اقوام آج چاند کو مسخر کرنے کے بعد مریخ کی جانب پیش قدمی کرتی نظر آتی ہیں۔ امریکا کو اگر آج سپر پاور ہونے کا اعزاز حاصل ہے تو انہوں نے بھی تعلیم اور تحقیق کے شعبوں پر توجہ دے کر یہ مقام حاصل کیا ہے۔امریکہ اور برطانیہ سمیت یورپ نے جو برق رفتار ترقی کی ہے وہ تعلیم و تحقیق کو فروغ اور سائنس و ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر کے ہی ہمہ جہت ترقی اور برتری کو ممکن بنایا ہے۔ آج اگر مسلم اْمہ پسماندگی کا طوق اٹھائے ہوئے امریکا اور یورپ کی دست نگر دکھائی دیتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی اس تاریخی میراث کو فراموش کر دیا ہے جو کسی زمانے میں اہل مغرب کیلئے باعث تقلید تھی۔ قرون اولی کے زمانے میں مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی اور بالادستی کی وجہ علم و تحقیق سے دیرینہ وابستگی تھی۔ لیکن بد قسمتی سے جب مسلمانوں کا علم و تحقیق سے تعلق ناتواں ہو گیا اور مسلم حکمرانوں نے تعلیم و تحقیق کی بجائے عیاشیوں پر دولت صرف کرنا شروع کر دی تو رفتہ رفتہ مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا۔ مسلم اْمہ کو یہ تلخ حقیقت اب تسلیم کر لینی چاہیے کہ علم و تحقیق کو فروغ دیئے بغیر اور سائنس و جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کئے بغیر امریکا اور یورپ کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہونا ممکن نہیں۔ اگر ہمیں پسماندگی کے جوہڑ سے نکلنا اور ترقی کی معراج کو پانا ہے تو پھر نوجوان نسل کو جدیدتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے