Voice of Asia News

چیف جسٹس نے سول اسپتال کوئٹہ کے ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال ختم کرادی

کوئٹہ(وائس آف ایشیا) سول اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار  کی ہدایت پر ہڑتال ختم کردی۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کوئٹہ رجسٹری میں اسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے، صحت کے شعبے میں وفاق سے جو مدد چاہیے ہمیں بتائیں، ماضی میں کیا ہوا اس کو چھوڑیں اور دیکھیں آگے کیا کرنا ہے، اگر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں تو مریضوں کو کون دیکھے گا۔ کیس کی سماعت کے فوری بعد چیف جسٹس ثاقب نثار وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزرا اور چیف سیکرٹری کے ہمراہ  سول اسپتال کوئٹہ پہنچے اور مختلف شعبوں کا دورہ کیا، جب کہ  ینگ ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کے احتجاجی کیمپ میں بھی گئے۔  چیف جسٹس نے ہڑتالی ڈاکٹرز کے مطالبات سنے اور انہیں مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کراتے ہوئے ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے سول اسپتال کے چیف ایگزیکٹو سے ڈاکٹرز کے مطالبات سے متعلق رپورٹ 4 دن کے اندر طلب کرلی۔ چیف جسٹس کی ہدایت پر ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس نے فوری طور پر ہڑتال ختم کردی۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ جہاں بنیادی حقوق کا استحصال ہوگا وہاں عدلیہ مداخلت کرے گی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کوئٹہ رجسٹری میں اسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس سجاد علی شاہ اور سید منصور علی شاہ شامل ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے میڈیکل کالجز معیاری نہیں، ہمیں اپنی نسلوں کیلئے مسائل نہیں پیدا کرنے، آئین کے ارٹیکل 199 اور 184 کے تحت اختیار حاصل ہے کہ جہاں بنیادی حقوق کا استحصال ہو عدلیہ مداخلت کرے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے، صحت کے شعبے میں وفاق سے جو مدد چاہیے ہمیں بتائیں، ماضی میں کیا ہوا اس کو چھوڑیں اور دیکھیں آگے کیا کرنا ہے، اگر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں تو مریضوں کو کون دیکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے