Voice of Asia News

تحریک حریت کی جیلوں میں بند رہنمائوں کی نظربندی کو طول دینے کی شدید مذمت

سرینگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموںو کشمیر نے طویل عرصے سے جیلوں میں نظربند پارٹی رہنمائوںامیرِ حمزہ شاہ،ک بشیر احمد قریشی اور مفتی عبدالاحد کو ایک بار پھر جھوٹے کیسوں میں پھنساکر ان کی نظربندی کو طول دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میںجاری ایک بیان میںکہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ وادی کشمیر کی ساری آبادی کو جیلوں میں بند کرکے اقتدار پر براجمان رہنا چاہتی ہے اور وہ انتقام کی آخری حدوں کو بھی پار کرگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تین برسوں سے جیلوں میں نظر بند حریت رہنمائوں اور کارکنان کے خلاف ایک بار پھر جھوٹے کیس بناکر اُن کی رہائی میں ڑُکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اوران کو بار بار اُن ہی الزامات کے تحت جیلوں میں بند کیا جارہا ہے جن کی سزا وہ پہلے ہی بھگت چکے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ بشیر احمد قریشی کو کولگام کی پولیس نے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرکے کولگام سے مٹن جیل منتقل کیاہے جبکہ اس سے پہلے بھی ایک ماہ تک کولگام پولیس کی حراست میں رہنے بعد ان کومٹن جیل بھیجدیاگیا۔مٹن جیل سے ضمانت ملنے کے بعد اُن کو سرینگر لایا گیاجہاں سے اُن کودوبارہ کولگام پولیس کے حوالے کرکے ایک بار پھر مٹن جیل منتقل کیا گیا۔انہوںنے کہا کہ امیر حمزہ شاہ گزشتہ 3سال اور مفتی عبدالاحد 2سال سے جیل میں نظر بند ہیں اور اب ان کو ایک بار پھر جھوٹے لزامات کے تحت کپواڑہ جیل منتقل کیا گیاہے۔ ترجمان نے ضلع بڈگام کے علاقوں ہمہامہ حیدرپورہ اور ندرو میں بھارتی پولیس کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے علاقے کے نوجوانوں کا قافیہ حیات تنگ کررکھاہے۔دریںاثناء تحریک حریت جموںو کشمیر نے ضلع بارہمولہ میں پارٹی کے بزرگ رہنما غلام مصطفیٰ وانی کو گزشتہ گیارہ دنوں سے تارزو تھانے میں نظر بند رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ غلام مصطفیٰ وانی کو واگورہ میں شہید ہونے والے نوجوان کے گھر تعزیت کے لیے جانے پر گرفتار کیا گیا ہے حالانکہ شہید موصوف ان کا قریبی رشتہ دار تھا ۔ ترجمان نے بھارتی پولیس کی اس کارروائی کو اخلاق سوز اور انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ غلام مصطفیٰ وانی 80سال کے بزرگ ہیں جومختلف عارضوں میں مبتلا ہیں ۔ ترجمان نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ظلم وجبر سے کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے