Voice of Asia News

ایجادات کی رجسٹریشن کرانے والوں کی فہرست میں ایک تہائی خواتین شامل، رپورٹ

اقوام متحدہ(وائس آف ایشیا) اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رجسٹر کرائی جانے والی ایجادات کی عالمی فہرست میں خواتین کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی تعداد کل تعداد کے ایک تہائی تک پہنچ گئی ہے۔تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایجادات کے شعبے میں صنفی تفریق بدستور باقی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق متاع دانش کے تحفظ کی عالمی تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ سال اپنی ایجادات کے حقوق رجسٹر کرانے کے لیے دو لاکھ 24 ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں خواتین کی تعداد 31 فیصد ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ ایک عشرے پہلے تک یہ تعداد صرف 23 فیصد تھی۔متاع دانش سے متعلق ادارے کے سربراہ فرانسس گورے نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ تخلیق، ایجاد اور اختراع کے شعبے میں آپ کو دنیا کے ہر حصے میں خواتین کی نمائندگی نظر آئے گی۔رجسٹریشن سے متعلق عالمی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ایجادات و اختراعات کے شعبے میں صنف کے لحاظ سے جنوبی کوریا میں خواتین کی کارکردگی سب سے بہتر رہی۔جب کہ چین کی خواتین دوسرے نمبر پر آئیں۔اپنی ایجادات کی رجسٹریشن میں دنیا بھر میں سب سے آگے رہنے والے ملک امریکا میں موجد خواتین کی شرح 33 فیصد رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بائیوٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل اور کیمسٹری کے شعبوں میں ایجادات واختراعات میں خواتین کی نمائندگی نمایاں طور پر زیادہ ہے، خاص طور پر بائیو ٹیک کی 58 فیصد ایجادات کا سہرا خواتین کے سر رہا۔دوسری جانب مکینکل کے شعبے میں نمائندگی کے لحاظ سے عورتوں کی شرح سب سے کم تھی،جو کہ 14 فیصد رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے